مسجد کی عمرات کو گرانا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
موقوفات مسجداذان و اقامت

سوال ۲۰۸۔ یہ مقرر ہوا ہے کہ ہمارے شہر کی مسجد کی عمارت کو گراگر اس کی جگہ بڑی اور خوبصورت مسجد بنائی جائے کیونکہ اس مسجد کی مفید عمر پوری ہوچکی ہے لہٰذا ذیل میں مندرج سوالات کے جواب عنایت فرمائیں:
۱۔ کیا سابقہ مسجد کا حکم نئی مسجد کی نیچے کی اور اوپر کی منزل کے اوپر جاری ہے؟ کیا جدید مسجد کی اوپری منزل کے حصّے کوکہ جو قدیم مسجد کی جگہ بنایا گیا ہے نئے استفادہ جیسے کتب خانہ، درس وتدریس کے لئے مخصوص کیا جاسکتا ہے؟

جواب: مسجد کے احکام اس عمارت پر جاری ہوںگے جو قدیم، مسجد کی زمین کے اوپر بنائی گئی ہو، لیکن اگر اس کی زمین بڑھائی گئی ہو تو وہ وقف کے جدید صیغہ کے تابع ہوگی؛ لیکن کتب خانہ وغیرہ کا بنانا اگر نمازیوں کے مزاحمت کا سبب نہ ہو تو اشکال نہیں ہے ۔

۲۔ جدید مسجد کے لئے ضروری ہے کہ قدیم مسجد کے شبستان میں سے دیوار اٹھانے، یا ستون اکھاڑنے یا گلدستہ اذا ن بنانے، یا خطبہ کے لئے ممبر بنانے کے لئے، تھوڑا حصہ لیا جائے، کیا یہ تصرف جائز ہے؟

جواب: اس طرح کے تصرفات میں کیونکہ نمازیوں کے لئے مزاحمت کا سبب نہیں ہیں، کوئی حرج نہیں ہے ۔

سوال ۲۰۹۔ زمین کا ٹکڑا ایک معتبر اور مسلّم اسناد کے مطابق مسجد کے لئے وقف ہوا تھا، دوسری طرف سے یہ کہ مرور زمان کے ساتھ اس کے آثار کا ایک بڑا حصّہ ختم ہوچکا ہے لیکن ابھی کچھ آثار جیسے محراب وغیرہ باقی ہیں، اس چیز کو مدّنظر رکھتے ہوئے کہ یہ جگہ مسجد کی تھی لہٰذا موقوفات کا متولی پرانی مسجد کی جگہ نئی مسجد بنانے کا قصد رکھتا ہے؛ لیکن نئی مسجد بنانا اور واقف کی نیت پر عمل کرنا آثار قدیمہ کے قوانین کے بعض قوانین سے سازگار نہیں ہے؛ واقف کی نیت کا آثار قدیمہ کے قوانین سے ٹکراؤ کی صورت میں کون مقدم ہے؟ موقوفات کے متولی کی شرعی تکلیف کیا ہے؟

جواب: جہاں تک ممکن ہو اہل خبرہ اور اہل اطلاع کی مدد کے ذریعہ مسجد کے بنانے اور آثار قدیمہ کو باقی رکھنے میں ہماہنگی کی جائے اور اگر یہ ہماہنگی ممکن نہ ہو تو اولویت مسجد کو ہے ۔

سوال ۲۱۰۔ مسجد محمدیہ قم کے میوزم کے سہ راہ پر واقع تھی پھر وہ حرم حضرت معصومہ علیہاالسلام کو وسعت دینے کے ماسٹر پلان میں آگئی، یہ ادارہ مسجد کو گرانے اور اس کی جگہ دوطبقہ دوسری مسجد بنانے پر جبکہ حرم کی وسعت کی پلاننگ باقی رہے مجبور ہوگیا، اس مسجد کو حرم کے توسعہ میں دینے کی یہ تحریری شرط ہوئی کہ ہر حال میں مسجد کی حدود مسجدیت کے عنوان ہمیشہ کے لئے ثابت رہیں اور وہ مسجد مشخص بھی رہے، اس سلسلے میں جنابعالی کی کیا نظر ہے؟

جواب: اگر آپ مطمئن ہوں کہ مسجد دوبارہ بنائی جائے گی اور اس میں کوئی چیز بھی کم نہیں ہوگی اور وہ آفتیں جو دوسری مسجدوں پرلائی جاتی ہیں اس پر نہیں آئیں گی تو اس مسجد کے گرانے اور دوبارہ بنانے میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔مسجد کے دیگر احکام

سوال ۲۱۱۔ ایک امام جماعت سالہا سال سے مسجد کے موقوفہ مکان میں رہتے چلا آرہے ہیں، حالانکہ ان کے پاس اپنا ذاتی مکان بھی موجود ہے، کیا وہ اس مکان کو چھوڑنے اور اپنے ذاتی مکان میں جانے کے بعد، اس موقوفہ مکان کو کرایہ پردے سکتے ہیں اور خود کرایہ لے سکتے ہیں؟

جواب: اگر مکان کو امام جماعت کی سکونت کے لئے بنایا گیا تھا تو اس کو کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے؛ مگر یہ کہ امام جماعت اس کو استعمال نہ کرے اور معطّل پڑا رہے؛ اس صورت میں اس کو کرایہ پر دیا جاسکتا ہے اور اس کے کرایہ کو مسجد کی ضروریات میں صرف کیا جاسکتا ہے اور اگر امام جماعت مجبور ہے کہ دوسرا گھر کرایہ پر لے تو اس کے کرایہ کا پیسہ امام جماعت کو دیا جاسکتا ہے؛ لیکن اگر اس کا خود ذاتی مکان ہو تو کرایہ کے پیسہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ۔

سوال ۲۱۲۔ اگر عبور ومرور کو بہبود بخشنے کے لئے شہر کے ماسٹر پلان میں آئی مسجد کے شبستان کی دیوار پیچھے ہٹانا ڑجائے تو اس سلسلے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟

جواب: جب تک آپ مجبور نہ ہوں تو دیوارکو پیچھے نہ ہٹائیں ۔

سوال ۲۱۳۔ ہمارے محلّے میں ایک مسجد ہے پہلے اس کے آگے ایک عمومی حمام تھا اور مسجد اور حمّام کے درمیان ایک گلی تھی، حمام کے گرجانے اور سڑک کے چوڑی ہوجانے اور وہاں پر ایک میدان بن جانے کی وجہ سے حمام کی جگہ سڑک کا جزء بن گئی ہے اور مسجد کے سامنے والی گلی میدان کے کنارے پر آگئی، کیونکہ اب اس گلی کے استعمال کی کوئی جگہ نہیں رہ گئی ہے اور جائز ہونے کی صورت میں وہاں پر مسجد کے لئے جوتے رکھنے کی جگہ بنائی جاسکتی ہے ۔ یہ مذکورہ زمین کچھ ایسے اشخاص کی ملکیت ہے کہ یا تو وہ ملک چھوڑچکے ہیں یا اس کے وارثین کی تعداد اتنی ہے کہ سب کی رضایت کا امکان میسر نہیں ہے، دوسری طرف سے یہ کہ مسجد کی زمین، سابق حمام اور گلی اُن کے مالکین کی مرضی سے عمومی فائدہ کے لئے بنائے گئے تھے، مذکورہ وضاحت کے تحت کوچہ کو مسجد سے الحاق کے سلسلے میں کیا حکم ہے؟

جواب: اگر حال حاضر میں مذکورہ گلی سے آنے جانے کے لئے استفادہ نہ کیا جارہا ہو اور میدان اور سڑک آنے جانے کی مشکل کو کامل طور سے حل کررہے ہوں اور جیسا کہ آپ نے تحریر کیا کہ سابقہ گلی کا فائدہ اتنا ہے کہ اس کو مسجد کے لئے استعمال کیا جائے، ایسے حالات میں کوئی ممانعت نہیں کہ اس گلی کو مسجد کے نفع میں استعمال کیا جائے ۔

سوال ۲۱۴۔ ایک شخص نے اپنی زمینکے ایک گوشہ کو عبادت کے لئے منتخب کیا ہے اور وہاں پر ایک حجرہ بنایا ہے تاکہ عبادت کرتا ہے، تردیجاً اس کے ہمسایہ لوگ اس کے حال حیات میں وہاں پر نماز پڑھنے لگے تھے، لوگوں نے اس کی وفات کے بعد اس حجرہ کو گراکر وہاں پر مسجد بنادی ہے لیکن اس کے وارثین نہ ہی تو پہلے اس کام پر راضی تھے اور نہ ہی اب راضی ہیں، بلکہ وہ اس زمین کو غصبی کہتے ہیں، لوگ ان کی باتوں پر دھیان نہیں دیتے اور وہاں پر نماز پڑھتے ہیں ۔ اس مسجد کا اور اس نماز کا کیا حکم ہے جو بیس سال تک وہاں پڑھی گئی ہیں؟

جواب: اگر مسجد کے لئے اس جگہکا وقف ثابت نہ ہو اور مالک نے وصیت بھی نہ کی ہو، تو وہاں بغیر وارثین کی مرضی کے نماز پرھنا جائز نہیں ہے ۔

سوال ۲۱۵۔ اگر ایک غصبی زمین نے مرور ایّام کے ساتھ مسجد کی صورت اختیار کرلی ہو، کیا اس کے اوپر دوسرے طبقے بنائے جاسکتے ہیں؟ مثلا پہلے طبقہ پر رہائشی مکان، دوسرے طبقہ پر عمومی کتب خانہ اور تیسرے طبقہ پر اسپتال بنایا جاسکتا ہے؟

جواب: اگر یقینی طور پر زمین غصبی ہو تو ان میں سے کوئی بھی تصرف جائز نہیں ہے ۔

سوال ۲۱۶۔ بہت سے لوگوں کا یہ گمان ہے کہ خانقاہ کو دوسرے تمام مقامات مقدسہ پر ایک خصوصیت اور شرافت حاصل ہے، لہٰذا وہاں پر اکھٹا ہوتے، طلب حاجت کرتے اور تبرک تقسیم کرتے ہیں، جنابعالی کی کیا نظر ہے؟

جواب: خانقاہ صوفیوں کی پھیلائی ہوئی بدعت ہے، اور اسلام میں اس کا کوئی مقام نہیں ہے ۔ وہاں کے اجتماع میں شرکت سے پرہیز کریں ۔

سوال ۲۱۷۔ ہماری مسجد قدیمی ہونے کی وجہ سے گرنے کے قریب ہے، اسی وجہ سے مومنین چاہتے ہیں کہ اس کو دوبارہ سے تعمیر کیا جائے، اس کی تعمیر کے لئے ضروری ہے کہ وہا ںسے پانچ میٹر مٹی اٹھائی جائے اور اس کو کہیں اور ڈالا جائے کیا اس کام میں اشکال ہے؟

جواب: اگر اس مسجد یا دوسری مساجد کو اس مٹی کی ضرورت نہ ہواور بکنے کے قابل بھی نہ ہو تو اس کے قابل بھی نہ ہو تو اس کے کہیں اور ڈالنے میں ممانعت نہیں ہے ۔

سوال ۲۱۸۔ مسجد کے متولی کی کیا ذمہ داری ہے؟ مسجد کے متعلق اس کے کیا وظائف ہیں؟ کیا مسجد کو ادارہ کرنا اور اس کے منصوبے بنانا سب متولی کے کاندھوں پر ہے، یا یہ سب ذمہ داریاں مسجد کی کمیٹی کے اوپر ہیں؟

جواب: مسجد کے متولی کا وظیفہ ہے کہ اگر مسجد کے موقوفات وغیرہ ہوں تو ان کی حفاظت کرے اور ان کو مسجد کے کاموں میں خرچ کرے اور باقی کام نمازیوں سے مربوط ہیں ۔

سوال ۲۱۹۔ کیا مسجد بناتے وقت پہلے طبقہ کو مسجد اور دوسرے طبقہ کو عزاخانہ بنایا جاسکتا ہے؟

جواب: کوئی اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۲۲۰۔ معیّن متولی کے ہوتے ہوئے کچھ خیّر افراد نے بغیر متولی کی اجازت کے مسجد کو دوبارہ تعمیر کرادیا ہے، اس مسجد کی نئی عمارت میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: ایسے موقعوں پر محترم متولی کی اجازت سے کام کرنا چاہیے؛ لیکن اگر اس کی اجازت کے بغیر کام انجام پایا ہے تو مسجد میں نماز پڑھنا یہاں تک کہ مسجد کی نئی عمارتوں میں بھی نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

موقوفات مسجداذان و اقامت
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma