غیر عالم دین کی اقتداء کرنا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
شرائط امام جماعتجماعت کے احکام

سوال ۲۶۷۔ اگر عالم دین کے ہوتے ہوئے غیر عالم دین کی اقتداء میں نماز پڑھی جائے تو صحت و بطلان کے لحاظ سے مامومین کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب: اس میں اشکال ہے ۔

سوال ۲۶۸۔ اگر کوئی دینی طالب علم، غیر منظم اور غیرمرتب طورپر کسی مسجد میں نماز جماعت پڑھاسکتا ہو، لیکن غیر عالم دین شخص کے لئے منظم صورت میں جماعت کرانے کا امکان ہو تو اس صورت میں مومنین کا وظیفہ کیا ہے کہ وہ کس امام کی اقتداء کریں؟

جواب: اس طرح کے مقامات پر اگر عالم دین موجود ہو تو وہی جماعت کرائے اور اگر وہ حاضر نہ ہو تو غیر عالم دین جماعت کراسکتا ہے ۔

سوال ۲۶۹۔ ایسی مسجدیں جن میں سال کے سال غیر عالم دین جماعت کراتا ہے اور تبلیغ کے خاص زمانے جیسے ماہ رمضان وغیرہ کہ جن میں علمائے دین تبلیغ کے لئے آتے ہیں، دونوں کے ہوتے ہوئے نماز جماعت کے لئے کس کو اولویت حاصل ہے؟

جواب: جامع الشرائط عالم دین کو فوقیت حاصل ہے ۔

سوال ۲۷۰۔ اگر ایک مسجد میں غیر عالم دین جماعت کرارہا ہو جبکہ دوسری قریب یا دور کی مسجدوں میں عالم دین کی اقتداء میں نماز جماعت برپا ہورہی ہو تو مذکورہ صورت میں اس مسجد میں نماز پڑھنے والوں کا کیا وظیفہ ہے جو غیر عالم دین کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے ہیں؟
کیا ان کا وظیفہ یہ ہے کہ اسی مسجد میں غیر عالم دین کی اقتداء میں نماز جماعت ہوتی رہے، یا اس مسجد کی جماعت تعطیل ہوجائے اور دوسری مسجد میں عالم دین کی اقتداء میں جماعت برقرار ہو؟

جواب: اگر دونوں مسجدیں زیادہ قریب نہ ہوں اور عالم دین امام جماعت پر دسترسی بھی ممکن نہ ہو تو واجد شرائط غیر عالم کی امامت میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔

سوال ۲۷۱۔ کیاایک دینی طالب علم اس وقت تک جب تک کہ امام جماعت نہ آئے نماز جماعت پڑھا سکتا ہے؟

جواب: جی ہاں، وہ امامت کراسکتا ہے تاکہ نماز جماعت کی تعطیل نہ ہونے پائے ۔

شرائط امام جماعتجماعت کے احکام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma