جماعت کے احکام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
غیر عالم دین کی اقتداء کرنانماز آیات

سوال ۲۷۲۔ بعض مساجد میں اعتکاف کے لئے مسجد کی دوسری منزل میں مخصوص کردی جاتی ہے، نماز جماعت کے وقت مردوں کا اوپری منزل پر ہونے کا کیا حکم ہے جبکہ عورتیں نیچے کی منزل پر ہوں؟

جواب: اگر ان کے درمیان کوئی حجاب ہوتو مانع نہیں ہے ۔

سوال ۲۷۳۔ ہمارے شہر کی جامع مسجد میں عورتوں کے نماز پڑھنے کی جگہ اوپری منزل اور مردوں کے لئے نیچے کی منزل مخصوص ہے ان دونوں منزلوں کے درمیان ۷۰ سینٹی میٹر اونچی اور ۴۰ سینٹی میٹر موٹی دیوار حائل ہے، کیا یہ مقدار عورتوں اور مردوں کی صفوں میں اتصال کے لئے مانع ہے؟

جواب: اگر قیام کی حالت میں عورتیں نماز جماعت کی صفوں میں سے کچھ صفوں کو دیکھ رہی ہوں اور دونوں جگہ ایک ہی شمار ہوتی ہوں تو کوئی ممانعت نہیں ہے ۔

سوال ۲۷۴۔ اگر امام اجارہ کی نماز پڑھ رہا ہے تو کیا مامومین اس کی اقتداء کرسکتے ہیں؟

جواب: اگر نماز اجارہ ایسے شخص کی ہو کہ جس کی نماز قطعی طور سے قضا ہوئی ہے تو ایسے امام کی اقتداء میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۲۷۵۔ اگر امام جماعت اور ماموم کے مراجع تقلید مختلف ہوں اور نماز کے بعض مسائل میں ان مراجع کے درمیان اختلاف نظر پایا جاتا ہو، اس صورت میں ماموم کا کیا وظیفہ ہے؟

جواب: اگر یہ بات نہیں جانتا کہ اس کے مرجع تقلید کے فتوے کے مطابق امام کی نماز باطل ہے تو اس کی اقتداء کرسکتا ہے ۔

سوال ۲۷۶۔ اُن مساجد کے سلسلے میں جن میں کوئی امام جماعت نہیں ہے اور بعض اوقات یہاں کے منومنین کے پاس ہدیہ دینے کے لئے بھی کچھ نہیں ہوتا، طلاب دینی کا کیا وظیفہ ہے؟

جواب: طلّاب کے لئے بہتر ہے کہ اس جیسے موارد میں نماز جماعت برپا کریں ۔

سوال ۲۷۷۔ معمول کے مطابق مجالس ترحیم، مسجدوں میں انجام دی جاتی ہیں اور بعض اوقات وہ دن جمعہ کا ہوتا ہے؛ جبکہ مسجد سے مصلیٰ شہر (وہ جگہ جہاںپر جمعہ ہوتا ہے) کا فاصلہ ایک کلو میٹر ہے، اُن تحقیقات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو حاضرین سے کی گئی ہیں ان میں سے کوئی شخص بھی نماز جمعہ میں شرکت کا قصد نہیں رکھتا ہے اور نہ ہی ان کا قصد نماز جمعہ کی تحقیر ہوتا ہے ۔ کیا ایسی صورت میں نماز ظہر کو اول وقت جماعت کے ساتھ نماز پڑ ھا جاسکتا ہے؟

جواب: مذکورہ شرائط میں نماز جماعت کے پڑھنے میں کوئی اشکال نہیں ہے؛ لیکن بہتر ہے کہ نماز جمعہ کے احترام کی خاطر جمعہ کے وقت جماعت کو ترک کردیں ۔

سوال ۲۷۸۔ مہربانی فرماکر مندرجہ ذیل سوالات کے جواب عنایت فرمائیں:
۱۔ اگر کوئی امامِ جماعت، اعتراض کی وجہ سے نماز جماعت کو ترک کردے اور مسجد کی کمیٹی کے افراد نیز مومنین کے مکرر اصرار کے باوجود بھی مسجد آنے پر راضی نہ ہو جبکہ مسجد خصوصاً محرم اور صفر کے تبلیغی ایّام میں تعطیل ہوجائے کیا مسجد کی کمیٹی کسی دوسرے جامع الشرائط امام جماعت کو مسجد میں نماز جماعت کرانے کے لئے دعوت دے سکتی ہے؟
۲۔ اگر پہلا امام جماعت کہے: ”میں راضی نہیں ہوں کہ کوئی دوسرا امام جماعت اس مسجد میں جماعت کرائے“ کیا اس کی یہ بات مانی جائے گی؟
۳۔ کیا امامِ جماعت، مسجد کی کمیٹی سے ماہانہ تنخواہ کا مطالبہ کرسکتا ہے؟

جواب: جب بھی کوئی امام جماعت کسی بھی وجہ سے مسجد کو چھوڑدے، اور وہاں پر نماز جماعت کرانے کے لئے آمادہ نہ ہو، تو اس صورت میں دوسرے جامع الشرائط امام جماعت کے ذریعہ نماز جماعت برپا کرنے میں اس کی رضایت شرط نہیں ہے ۔ امام جماعت تنخواہ کا مطالبہ بھی نہیں کرسکتا، لیکن سزاوار ہے کہ مومنین اس کا انتظام کریں، بہرحال بہتر ہے کہ اختلافات کو مصالحت سے دور کرلیا جائے ۔

سوال ۲۷۹۔ ایک عرصہ سے ہمارے گاوٴں کی مسجد کا مکبّر نماز کی تکبیرات کو لاوٴڈاسپیکر سے کہتا ہے، ایک شخص، کچھ مامومین کے ذہن میں یہ بات ڈال دیتا ہے کہ وہ نماز جماعت، جس کی تکبیریں لاوٴڈاسپیکر سے کہی جاتی ہیں باطل اور اس کی قضا بھی واجب ہے! اسی وجہ سے کچھ مامومین جماعت کے وقت فرادیٰ نماز پڑھتے ہیں، حالانکہ جب سے نماز جماعت لاوٴڈاسپیکر سے پڑھائی جارہی ہے تو نمازیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے نیز لاوٴڈاسپیکر کے استعمال کا مقصد فقط نماز کی تبلیغ اور مومنین کی تشویق کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے لہٰذا ذیل میں تحریر شدہ امور کے سلسلے میں اپنی نظر مرقوم فرمائیں:
۱۔ وہ جماعت جس کی تکبیریں لاوٴڈاسپیکر سے کہی جائیں اس کا کیا حکم ہے؟
۲۔ اس شخص کی نماز کا کیا حکم ہے جو نماز جماعت کے وقت فرادیٰ نماز پڑھتا ہے؟
۳۔ اس شخص کا کیا حکم ہے جو مذکورہ مطلب کو لوگوں کے ذہنوں میں ڈال کر جماعت میں تفرقہ اور جدائی کا باعث ہوا ہے؟

جواب: ۱۔ اگر نماز کی تکبیریں لاوٴڈاسپیکر سے کہی جائیں تو جماعت کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے، لیکن لاوٴڈاسپیکر کی آواز کو اس طرح منظم کریں کہ جس سے دوسروں کے لئے مزاحمت ایجاد نہ ہو، خصوصاً نماز صبح کے اوّل وقت؛ بہرحال اگر تکبیر کہنے والا اس دستور کی مخالفت بھی کرے تو بھی نماز جماعت کو کوئی نقصان نہیں ہے ۔
۲۔ وہ مومنین جو جماعت کے وقت اپنی نمازوں کو فرادیٰ پڑھتے ہیں اگر ان کی نمازیں جماعت کی توہین امام جماعت کی ہتک حرمت کا باعث ہوں تو ان کی نمازوں میں اشکال ہے ۔
۳۔ مومنین کو مسئلہ کے جانے بغیر اپنی طرف سے ایسے کسی اظہار نظر کرنے کا حق نہیں ہے جو مومنین کے درمیان تفرقہ کا باعث بنے ۔

سوال ۲۸۰۔ قرائت قرآن کے بہت سے جلسے ہفتہ میں ایک بار دائمی طور سے گھروں میں رکھے جاتے ہیں، مغرب سے پہلے شروع اور مغرب کے بعد ختم ہوتے ہیں، اس جگہ کے امام جماعت، جلسہ کے اہتمام کرنے والی کمیٹی سے درخواست کرتے ہیں کہ احترام مسجد کی خاطر اور اس وجہ سے کہ یہ طریقہ ہمیشہ کے لئے رائج نہ ہوجائے جلسوں کے وقت کو اس طرح منظم کریں کہ مغرب سے پہلے ختم ہوجائیں یا ان کو نماز جماعت کے بعد شروع کریں، لیکن وہ اس بات کو قبول نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ”ہم کمیٹی کے کسی رکن کی اقتداء میں نماز کو وہیں پر ادا کرلیں گے“، حضور کی نظر میں حق کس طرف ہے؟

جواب: بہتر نہیں ہے کہ قرائت قرآن کے جلسے، اوّل وقت نماز کے مزاحم ہوں؛ لیکن اگر اذان کے وقت جلسہ کو روک دیں اور نماز جماعت قائم کریں اور جماعت کے بعد دوبارہ جلسہ شروع کریں تو کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن اگر نماز جماعت کی رعایت کی جائے تو بہت اچھا ہے ۔

سوال ۲۸۱۔ واقف چاہتا ہے کہ ہمارے پیش نماز اعلم اور مقامی ہونے چاہیے، لیکن حال حاضر میں جو امام جمعہ والجماعت ہیں وہ اس شہر کے رہنے والے نہیں ہیں، ایسے امام کی اقتداء میں نماز جماعت کا کیا حکم ہے؟

جواب: امام جماعت کو معیّن کرنے میں واقف کی رائے شرط نہیں ہے ۔

سوال ۲۸۲۔ ایگ جگہ کے امام جماعت نے اپنی تقریر میں فرمایا: ”انسان اپنے ہر روز کے مستحبّی اعمال کو ائمہ معصومین علیہم السلام میں سے کسی ایک کو ہدیہ کرسکتا ہے تاکہ قبول ہوجائیں“ اس سلسلے میں حضور کی کیا نظر ہے؟

جواب: مستحبی اعمال کا معصومین علیہم السلام کو ہدیہ کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے، بلکہ مسحتب ہے؛ لیکن اگر خود اعمال میں اشکال ہو تو ہدیہ کرنا اس کو برطرف نہیں کرسکتا ۔

غیر عالم دین کی اقتداء کرنانماز آیات
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma