بیمار کیلیے ضرر کا تشخیص دینا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
روزه کا کفاره اور قضاروٴیت ہلال (چاند دیکھنا)

سوال ۳۰۰۔ ایک شخص کو ڈاکٹر حضرات روزہ رکھنے سے منع کرتے ہیں ؛ لیکن وہ جانتا ہے کہ اس کے لئے روزہ رکھنا نقصان دہ نہیں ہے، اس صورت میں اسے کیا کرنا چاہیے؟

جواب: اسے روزہ رکھنا چاہیے ۔

سوال ۳۰۱۔ بعض موقعوں پر ڈاکٹر حضرات بیماروں کے لئے اپنی رائے کا اس طرح اظہار کرتے ہیں :
”اس شخص کے لئے روزہ رکھنا ۸۰فی صد نقصان دہ ہے“ اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ ایک علمی سروے کے مطابق ایسے مرض میں مبتلا افراد نے اگر روزہ رکھا ہے تو ان میں سے ۸۰فی صد مریضوں کو نقصان ہوا ہے، اگر یہ اظہار رائے انسان کے لئے یقین آور ہو، لیکن اپنی حالت کو اس سروے پر تطبیق نہ دے تو اس کے لئے روزہ کا کیا حکم ہے؟

جواب: ایسے سروے اگر متدین اطبّاء سے سنے جائیں تو طبیعی طور پر ضرر کے خوف کا باعث ہوتے ہیں لہٰذا اس صورت میں روزہ واجب نہیں ہے ۔

سوال ۳۰۲۔ بدقسمتی سے میرا گردہ پتھری بناتا رہتا ہے ، اسی وجہ سے ڈاکٹر نے مجھے روزہ رکھنے سے منع کیا اور حکم دیا ہے کہ ہر روز کم سے کم دس گلاس پانی پیوں، کیا ڈاکٹر کی تجویز پر جو ایک متدین شخص ہے، میرے لئے عمل کرنا واجب ہے اور اگر میں روزہ رکھتا ہوں تو طبیب کی تجویز کے مطابق ماہ رمضان کے دنوں میں پانی نہ پینے کی وجہ سے میرے گردہ میں مشکل پیش آسکتی ہے، اس صورت میں کیا میں روزہ رکھنے سے گناہ کا مرتکب ہوا ہوں اور میرا روزہ باطل ہے؟

جواب: جب بھی کسی حاذق اور متدین طبیب کی تجویز کے مطابق آپ ضرر کا خوف محسوس کریں کہ روزہ آپ کے لئے نقصان دہ ہے تو روزہ نہ رکھیں اور اگر آپ رمضان کے المبارک کے بعد اپنے روزوں کی قضا نہ رکھ سکتے ہوں اور آپ کی بیماری اگلے سال کے رمضان تک باقی رہے تو آپ پر قضا بھی واجب نہیں ہے؛ بلکہ ہر روزہ کے بدلے کسی فقیر کو ایک مد طعام (۷۵۰گرام گندم یا اسی کے مانند کوئی اور غلّہ) دیدیں اور چونکہ آپ کو روزہ رکھنے کا زیادہ شوق ہے تو خداوندعالم آپ کو روزہ داروں کا اجر عنایت فرمائے گا ۔

روزه کا کفاره اور قضاروٴیت ہلال (چاند دیکھنا)
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma