خرید و فروخت کرنے والوں کے احکام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
عزاداریولایت فقیه

سوال ۵۰۹۔ میں ایسی کتابوں کی دکان پر نوکر ہوں جس کی بکری زیادہ ہوتی ہے، لیکن اس دکان کے اکثر خریدار بچّے ہوے ہیں، اکثر موقعوں پر مجھے زیادہ قوی گمان ہوتا ہے کہ بچوں کی خریداری کی ان کے والدین کو اطلاع نہیں ہے اور چونکہ نابالغ بچہ سے معاملہ (خریدو فروخت) کرنے میں اشکال ہے لہٰذا کیا اس صورت میں میرے لئے اس دکان پر کام کرنا جائز ہے؟ (ملحوظ رہے کہ دکان کے مالک کی فرمانبرداری کی وجہ سے میں ان بچوں کو واپس نہ کرنے پر مجبور ہوں)

جواب: عام طور پر بچوں کے والدین اپنے بچوں کو اس لئے پیسے دیتے ہیں کہ وہ اپنی ضرورت کا سامان خریدیں اور اُن کے اس طرح کے اکثر معاملات خصوصاً کتاب، قلم اور کاپی کی خریداری کے سلسلہ میں راضی ہوں، لہٰذا والدین کی وہی عام رضایت کافی ہے ۔

سوال ۵۱۰۔ ایک شخص کے گھر میں کچھ مقدار میں کوئی جنس ہے مثال کے طور پر اس جنس میں سے ایک کونٹل دوسرے کو فروخت کردیتا ہے، البتہ تولتا نہیں اور لین دین بھی نہیں ہوتا، کچھ مدّت گذرنے کے بعد اسی فروختہ شدہ جنس کو پہلا شخص زیادہ قیمت میں دوبارہ خرید لیتا ہے، کیا یہ معاملہ صحیح ہے؟

جواب: اگر دونوں معاملہ واقعی ہوں تو کوئی ممانعت نہیں ہے ۔

سوال ۵۱۱۔ ایک شخص (بیچنے والا) جسے پیسہ کی ضرورت ہے، اپنے مکان کو مشروط طریق سے فروخت کردیتا (یعنی بیعانہ کوفسخ کرنے کا اختیار اپنے ہاتھوں میں رکھتا ہے) لیکن واقعی طور پر مکان کو فروخت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا (چونکہ یہ معاملہ مکان کی اصل قیمت سے بہت ہی کم قیمت پر ہوتا ہے) بلکہ اپنی ضرورت پوری کرنے کی غرض سے اس معاملہ کو صورت ظاہری میں انجام دیتا ہے، کیا اس قسم کا معاملہ صحیح ہے؟

جواب: تمام ظاہری صورت والے معاملات واقعی اور جدّی ارادے کے بغیر، باطل ہوتے ہیں ۔

سوال ۵۱۲۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ خرید وفروخت کے معاملہ کے منعقد ہونے کے لئے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے ہوتا ہے، ایک قیمت اور دوسرے وہ چیز جسے خریدا جاتا ہے، جس میں لین دین کا شرعی کام انجام دینے کے ساتھ ساتھ خرید وفروخت کرنے والے بذات خود یا ان کی وکالت میں کوئی وکیل، خرید وفروخت کا مخصوص صیغہ جاری کرتا ہے، اب جنابعالی کی خدمت میں التماس ہے کہ درج ذیل دو سوالوں کے بارے میں اپنا نظریہ بیان فرمائیں:
الف)جب کوئی معاملہ، خرید وفروخت کے عقد میں انجام دیا جائے لیکن ظاہری صورت میں اور اس کی قیمت بھی ادا نہ کی جائے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب: عقد کو واقعی ہونا چاہیے اور ظاہری صورت میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔

ب) خرید وفروخت کے معاملہ کے واقع ہونے میں جبکہ فرض یہ ہے کہ اس میں عقد کا کوئی ایک جز جیسے قیمت مفقود ہوکیا رائج بیعانہ کوتحریر کرنے کا کوئی اثر ہوگا؟

جواب: اگر اس کو تحریر کرنے کا مطلب ابتدائی گفتگو نہیں بلکہ بیعانہ ہو، نیز قیمت اور وہ چیز یا جنس جسے خریدنا چاہتا ہے دونوں معیّن ہوں اور ان سے ایک نقد ہو تو اس صورت میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۵۱۳۔ ان معاملات میں جن میں جنس موجود ہے؛ لیکن بیچنے والا اور خریدار دونوں ہی جانتے ہیں کہ یہ معاملہ فقط اس لئے ہورہا ہے کہ جو رقم بیچنے والے کو دی جارہی ہے اس میں سے کچھ کم کرائی جائے اور دوبارہ اس کو ادا کی جائے اس صورت میں اگر پہلی خریداری کی قیمت، بیچنے والے کی جانب سے معلوم ہو لیکن دوسری بار خریداری کی قیمت جو خریدار کی طرف سے بیچنے والے کو دی گئی ہے، بعد میں معین کی جائے کیا اس قسم کا معاملہ حیلہ شرعی ہے یا اس میں کوئی اشکال نہیں ہے؟

جواب: اگر دونوں معاملے واقعی ہوں اور ان میں سے کوئی معاملہ بھی دوسرے معاملہ سے مشروط نہ ہو تب کوئی اشکال نہیں ہے ۔
عزاداریولایت فقیه
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma