ولایت فقیه

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
خرید و فروخت کرنے والوں کے احکاممعامله میں سود کی مقدار

سوال ۵۱۴۔ دور حاضر میں مہم ترین گفتگو، مطلقہ ولایت فقیہ یا غیر مطلقہ ولایت فقیہ کے بارے میں چل رہی ہے ، جنابعالی نے بھی اپنی فقہی کتابوں میں اس بحث کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا ہے لفظ مطلقہ کے معنی معلوم ہونا چاہیے، بندہٴ ناچیز اس لفظ کے لئے ایک معنی عرض کررہا ہے البتہ اس بات سے قطع نظر کہ آپ ان معنی کو قبول کرتے ہیں یا نہیں (اگرچہ قبول نہ کرنے کی صورت میں بہت زیادہ شکرگزار ہونگابلکہ میری خواہش ہوگی کہ اس کی دلیل بیان فرمائیں تاکہ مزید راہنمائی ہوسکے) کیا آپ اس معنی میں ولایت فقیہ کو قبول کرتے ہیں؟
آپ کو معلوم ہے کہ یہ بحث امام خمینی رحمة الله علیہ کے ذریعہ اس طرح مفصل پیش کی گئی لیکن اس سلسلہ میں مرحوم امام خمینیۺ نے بھی جو کتاب تحریر کی ہے اس میں ہمیں ”ولایت مطلقہ“ کا عنوان نظر نہیں آتا ہے، وہ چیز جو وہ مرحوم فرماتے تھے یہ تھی کہ ولی فقیہ وسعت کے اعتبار سے وہی معصومین علیہم السلام کے اختیارات کا مالک ہے، لہٰذا یہ معنی (ولایت مطلقہ، ان مرحوم کے بعد یا ان ہی کے زمانے میں لیکن دوسروں کے ذریعہ، پیش ہوئے بہرحال اس سلسلہ میں تین نظریہ پیش کئے جاسکتے ہیں:
۱۔ ولایت فقیہ کو معصومین علیہم السلام کے تمام اختیارات حاصل ہیں مگر وہ اختیارات جو دلیل خاص کے ذریعہ مستثنیٰ (علیحدہ) قرار دیئے جائیں ۔
۲۔ ولایت فقیہ کو معصومین علیہم السلام کے تمام اختیارات حاصل نہیں ہیں اور حکومت کے بنیادی قانون کے دائرے میں بھی نہیں ہے بلکہ یہ پوری حکومت ولی فقیہ کی حقوقی (فقہی اور صاحب تقویٰ) شخصیت کے اختیار میں ہے اور جہاں پر بھی امر ونہی اور اصلاح کرنا ضروری سمجھیں، انھیں مداخلت کرنے کا حق ہے ۔
۳۔ ولایت فقیہ حکومت کے بنیادی قانون کے دائرے میں ہے ۔
تیسرے نظریہ پر متعدد اشکالات ہیں؛ لیکن اب اس وقت سیاسی میدان میں پہلا اور تیسرا نظریہ رائج ہے، برائے مہربانی منظور نظر معنی اور یہ کہ ان معنی کو دلیلوں سے کیسے حاصل کیا جائے، اس سلسلہ میں وضاحت فرمائیں ۔

جواب: نظاہر وہ سب حضرات جھنوں نے ولایت فقیہ کے بارے میں بحث کی ہے، یہاں تک کہ امام خمینیۺ، ان تمام حضرات نے ولایت فقیہ کے لئے مسلمانوں کی مصلحت کی مراعات کرنے کی قید لگائی ہے، یہ کوئی نہیں کہتا: ”اگر مسلمانوں کی مصلحت جنگ میں ہے فقیہ کو صلح کرنے کا حق ہے اور اگر مسلمانوں کی مصلحت، صلح میں ہے فقیہ کو اس کے برخلاف جنگ کرنے کا حکم دینے کا حق ہے“ اصل میں یہ ولایت ، اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کی حفاظت کے لئے ہے، اس کے خلاف نہیں ہے، اگر ہم اس اصل کو قبول کرلیں گے تو ولایت فقیہ کے اختیارات کی حد بھی مشخص ہوجائے گی اور مطلقہ سے مراد، وہی اسلام ومسلمین کی مصلحت کے دائرے میں مطلقہ ہے، یہاں تک کہ معصومین علیہم السلام کے بارے میں بھی مسئلہ کچھ اور نہیں ہے، امام حسن علیہ السلام نے اسلام ومسلمین کی مصلحت کی خاطر صلح کی، اور امام حسین علیہ السلام نے اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کی خاطر جنگ کی اور شہید ہوگئے، خداوندعالم نے حضرت یونس علیہ السلام کو ترک اولیٰ جو اُمّت کی غیر ضروری مصلحتوں سے مربوط ہوتا ہے کی وجہ سے شکم ماہی میں قید کیا، اور اس سے زیادہ تفصیلی گفتگو کرنے کی یہاں پر گنجائش نہیں ہے ۔

سوال ۵۱۵۔ استفتاء میں جو فتویٰ ولایت فقیہ کے سلسلے میں دریافت کیا گیا ہے، آپ نے اس کے جواب میں فرمایا ہے: ”علمی مسائل میں سے ہے“ (یعنی ولایت فقیہ علمی مسائل میں سے ہے) مسائل علمی سے کیا مراد ہے؟ ملحوظ رکھتے ہوئے کہ ولایت فقیہ ، امامت کی ایک شان اور حصّہ ہے کیا یہ بحث علم کلام یعنی عقائد سے مربوط نہیں ہوتی؟

جواب: اس بات پر توجہ رکھتے ہوئے کہ ولایت فقیہ یعنی فقیہ کے ہاتھ میں حکومت ہونا ہے اور حکومت کی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں کہ لوگوں کو ان کے مطابق عمل کرنا چاہیے، لہٰذا ولایت فقیہ عملی پہلو ہوجاتاہے، یہاں تک کہ امام علیہ السلام کی ولایت کے بارے میں بعض حصّہ عقیدتی پہلو کا حامل ہوتا ہے اور ولایت کا بعض حصّہ (جو حکومت سے مربوط ہوتا ہے) عملی پہلو رکھتا ہے ۔
خرید و فروخت کرنے والوں کے احکاممعامله میں سود کی مقدار
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma