۲۔ خیار عیب

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
خیارات : 1. خیار شرط۳۔ خیار غبن

(خریدی ہوئی چیز کے عیبدار ہونے کی وجہ سے معاملہ کو فسخ یا ارش لینے کا اختیار)

سوال ۵۲۶۔ ایک صحیح السند رہائشی مکان کو اپنی بیوی کے ساتھ آدھے آدھے کی مشارکت میں خریدا تھا، معاملہ کے وقت پہلی دیکھ بھال میں تو گھر کے اندر کوئی ظاہری عیب دکھائی نہیں دیا، لیکن اس کے ۲۰ سال بعد جب گھر کی عمارت خراب ہونے لگی اور رنگ و روغن بھی پھیکا پڑگیا تو ہم نے اس کی مرمّت کا ارادہ کیا، اس کام کے لئے ہم نے پہلے چونے کا پلاستر اُکھاڑ دیا جب اینٹیں نظر آنے لگیں تو پتہ چلا کہ گھر کی ایک طرف کی تقریباً ۷ میٹر کی دیوار ہی نہیں ہے! اس طرح کہ دیوار زمین سے اٹھائی گئی ہے جو زیر خانہ کی چھت تک آئی ہے، اس کے بعد ساڑھے تین میٹر اونچی دیوار نہیں ہے اور چھت کے بیم کو پڑوسی کی دیوار پر رکھا گیا ہے! جبکہ مکان کا بیچنے والا، خود اس گھر کا معمار تھا اور اس پوشیدہ نقص کو جانتا تھا لہٰذا حضور اس وضاحت کو مدنظر رکھتے ہوئے بیان فرمائیں کہ کیا گھر کے مالک کے لئے اس نقص وعیب سے خریدار کو مطلع کرنا ضروری ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو کیا وہ ہمارا مقروض ہوگا؟

جواب: اگر علاقے کے ماہرین کی نظر میں یہ چیز عیب شمار ہوتی ہو، اوروہ اس کے عوض قیمت کے قائل ہوں تو خریدار حضرات اس عیب کے برابر قیمت واپس لے سکتے ہیں ۔

سوال ۵۲۷۔ ایک شخص اپنا مکان دوسرے شخص کو بیچ دیتا ہے، بیعنامہ کے بعد خریدار متوجہ ہوتاہے کہ مذکورہ مکان (مثال کے طور پر وہاں سے ہائی پاور بجلی لائن گزرنے کی وجہ سے) اس جگہ سے مکان گرائے جانے کے پروگرام میں شامل ہے، عام رواج اور ماہرین فن کی بتائی ہوئی قیمت کے مطابق اس قسم کے مکانوں کا نقصان، مالک ادا کرتا ہے، یہ بات ملحوظ رکھتے ہوئے اگر اس مکان کی قیمت، بیعنامہ کی قیمت سے کم ہو تو کیا اس صورت میں وہ مکان عیب دار شمار ہوگا؟ اور اگر دونوں قیمتوں میں کوئی فرق نہ ہو لیکن یہ بات ملحوظ رکھتے ہوئے کہ ممکن ہے مالک مکان کے لئے کچھ بھاگ دوڑ کرنا پڑے تو کیا یہ بات بھی عیب شمار ہوگی؟

جواب: بہرحال یہ عیب شمار ہوگی ۔

سوال ۵۲۸۔ اگر کسی بیعنامہ میں طرفین معاملہ، تمام اختیارات کو ساقط کردیں، اس صورت میں کیا خریدار، چیز کے معیوب ہونے کا دعویٰ کرکے، ارش (یعنی بے عیب اور عیب دار چیزوں کی قیمتوں میں جو فرق ہوتا ہے اس کے مطابق باقی رقم کو واپس لینے) کا مطالبہ کرسکتا ہے؟ دوسرے لفظوں میں کیا تمام اختیارات کو ساقط کرنے سے، خیار عیب کے ساقط ہونے کے علاوہ، ارش کا مطالبہ بھی ساقط ہوجائے گا؟

جواب: جی ہاں ارش کامطالبہ بھی ساقط ہوجائے گا ۔

سوال ۵۲۹۔ دوشخص کسی وسیلہٴ سفر گاڑی (جیسے کار یا موٹر سائیکل وغیرہ) کا معاملہ کرلیتے ہیں، بیچنے والا شخص گاڑی کی ہر طرح کی قانونی اور شرعی مشکل کو اپنے ذمہ لیتا ہے، بعد میں پتہ چلتا ہے کہ موٹرسائیکل یا گاڑی کی نمبر پلیٹ میں دستکاری کی گئی ہے، جبکہ ٹریفک پولیس اس طرح کی گاڑیوں کو روک لیتی ہے، تب خریدار قانونی طریقہ سے قیمت کی رقم واپس لینے کا تقاضا کرتا ہے، اس لئے کہ ممکن ہے وہ گاڑی چوری کی ہو، یہاں پر یہ بتا بھی ضروری ہے کہ اس گاڑی کے بارے میں اپنی ملکیت کا دعویدار کوئی دوسرا آدمی بھی موجود نہیں ہے یعنی دوسرے کی ملکیت کا دعویٰ بھی درپیش نہیں ہے لہٰذا اس بات پر توجہ رکھتے ہوئے کہ اس صورت میں قاعدہ ید حاکم ہے، کیا فقط گاڑی کی نمبر پلیٹ میں دستکاری کرنا معاملہ کے فسخ ہونے یامعاملہ کے فضولی ہونے کا باعث ہوجائے گا یا نہیں؟

جواب: مسئلہ کے مذکورہ فرض میں خریدار کو معاملہ فسخ کرنے کا حق ہے ۔

خیارات : 1. خیار شرط۳۔ خیار غبن
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma