اعتبار بیچنا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
فضول طریقہ سے خرید وفروختپرائز بونڈ

سوال ۵۳۴۔ اگر کوئی شخص محنت انتھک کوشش اور بازار میں بہترین جنس پیش کرکے شہرت اور اعتبار حاصل کرلے اور اعتبار حاصل ہونے کے بعد آسانی سے اپنی چیزوں کو فروخت کرے، کیا اس اعتبار کو دوسرے آدمی کے ہاتھوں فروخت کرسکتا ہے؟
مسئلہ کا جواب درج ذیل دو فرضوں میں بیان فرمائیں:
الف) اپنا کچھ سرمایہ دوسرے آدمی کو دیدے، البتہ اپنے اعتبار کی خاطر دوسرے ممالک میں عام قیمت سے زیادہ قیمت میں فروخت کرے ۔
ب) فقط اپنا اعتبار (نام) فروخت کرے، یعنی دوسرے آدمی کو اجازت دیدے کہ وہ اپنی جنس اور اشیاء کو اس کے نام اور عنوان سے فروخت کرے اور اس اجازت کے عوض کچھ رقم اس سے وصول کرلے ۔

جواب: الف) اور ب): دونوں صورتوں میں جائز ہے ۔

سوال ۵۳۵۔ ایک شخص کے پاس ایک دکان تھی لیکن اس سے کوئی خاص آمدنی حاصل نہیں ہوتی تھی، لہٰذا اس نے دکان کسی دوسرے کو کرایہ پر دیدی، کرایہ دار نے محنت، کوشش اور کچھ رقم خرچ کی نیز پہلے جو اس دکان پر سامان بیچا جاتا تھا اس کے بجائے دوسرے سامان کی دکان بناکر، دکانداری کورونق بخشی اور دکان کے لئے ایک نام اور اعتبار حاصل کرلیا، کیا کرایہ کی مدت تمام ہونے کے بعد کرایہ دار کو حق ہے کہ اپنی محنت اور کام کے نتیجہ کو مفت، مالک کے حوالہ نہ کرے بلکہ دکان کو جورونق حاصل ہوئی ہے اس کے عوض کیا وہ کرایہ دار، مالک سے کچھ رقم کا مطالبہ کرسکتا ہے؟

جواب: اگر پہلے سے کرایہ کی قرار داد میں اس نے یہ شرط کی تھی تو جائز ہے، وگرنہ دوسری صورت میں جائز نہیں ہے ۔

سوال ۵۳۶۔ دور حاضر میں، دکانداری اور پیشہ کے حق کے نام سے جو حق پیش کیا جاتا ہے اور عدالت بھی اسی عنوان کے تحت کرایہ داروں کے لئے کچھ رقم دینے پر، مالکوں کومجبور کرتی ہے، کیا یہ حق شرعاً جائز ہے؟

جواب: اس کے شرعاً جائز ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے اگرچہ بہتر یہ ہے کہ طرفین آپس میں صلح ومصالحت کریں ۔

فضول طریقہ سے خرید وفروختپرائز بونڈ
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma