پرائز بونڈ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
اعتبار بیچناکسی چیز کا خاص زمانے میں مالک ہونا

سوال ۵۳۷۔ آج کے دور میں ، شیئرز کے علاوہ دیگر پرائز بونڈ بھی دنیا کے اکثر بین الاقوامی شیئر بازار میں، خریدوفروخت کئے جاتے ہیں، اقتصاد دانوں کی جانب سے تمام شیئرز کی ایجاد کا اصل مقصد، سرمایہ لگانے کے لئے مواقع فراہم کرنا اور اس قسم کے سرمایہ لگانے کے لئے جذابیت پیدا کرنا، سمجھا جاسکتا ہے جو معاشرے کے لئے زبردست فائدے تحفہ میں لے کر آتا ہے ۔
ان باؤنڈز کی ایک قسم ”معاملہ کا اختیار“ کے نام سے ہے جو دو قسموں یعنی ’خریداری کے معاملہ کا اختیار“ اور ”فروخت کرنے کے معاملہ کا اختیار“ میں تقسیم ہوتی ہے، تقریباً ہر طریقہ سے سرمایہ لگانے میںریسک اور مختلف طرح کا خطرہ ہوتا ہے، لیکن پرائز بونڈ میں سرمایہ لگانے والے شخص کو جو خطرہ درپیش ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ باوٴنڈ کی قیمت ایک جگہ پر نہیں رہتی بلکہ بے ثباتی کا شکار رہتی ہے(یعنی کبھی قیمت بڑھ جاتی ہے اور کبھی باوٴنڈ کی قیمت ناخواستہ طور پر گرجاتی ہے) اس خطرے سے بچنے کی غرض سے، بیمہ (کہ جس میں انسان اپنی گاڑی کا کسی حادثہ یا ایکسیڈنٹ کے خطرے سے محفوظ کرنے کی غرض سے، بیمہ کراسکتا ہے اور بیمہکے عنوان سے کچھ رقم ادا کرکے ڈرائیونگ حادثہ کے امکانی نقصان سے محفوظ کرلیتا ہے اور ریسک نہیں لیتا) کی طرح کا ایک معاہدہ، ”معاملہ کا اختیار“ کے نام سے کرلیتا ہے اور ”حق شرط“ کے عنوان سے کچھ مبلغ رقم ادا کرکے خود کو اس خطرے اور ریسک کے مقابلہ میں، بیمہ کرلیتا ہے، اس معاہدے کے مطابق اگر شیئرز کی قیمت دوسرے دو مہینوں کی رسید میں مثال کے طور پر ۹۰۰ تومان ہوجاتی ہے، کمپنی اس باوٴنڈ اور شیئرز کو ۱۰۰ تومان کی قیمت پر خرید لیتی ہے، لیکن بیمہ ہی کی طرز پر، کہ جس میں بیمہ کرنے والا شخص کچھ رقم، یہ معاہدہ کرتے وقت مثلاً زید سے وصول کی جاتی ہے، ایک صورت میں ممکن ہے کہ آئندہ دو مہینوں میں باوٴنڈ اور شیئرز کی قیمت بڑھ کر ۱۱۰۰/تومان ہوجائے، اس صورت میں اور معاہدہ کے مطابق کوئی ضروری نہیں ہے کہ زید اپنے باوٴنڈ اور شیئرز کو ۱۰۰/تومان کی قیمت پر کمپنی کو فروخت کرے بلکہ وہ شیئر بازار میں جاکر ۱۱۰۰/تومان کی قیمت پر بیچ سکتا ہے، لیکن حق شرط اس نے پہلے ہی ادا کردیا ہے جیسے بیمہ میں ہوتا ہے کہ بیمہ کرانے سے ایک سال گذر کے بعد اگر کوئی اکسیڈنٹ بھی نہیں ہوا ہے تو بھی بیمہ کرانے والے شخص نے بیمہ کی رقم ادا کردی ہے، یہ معاہدے، شیئر بازار میں ہوتے ہیں اور سب لوگوں کی دسترس میں ہیں، اور سب لوگ ہر وقت اس کو خرید یا فروخت کرسکتے ہیں ۔
معاہدے کی دوسری قسم جو عام طور پر دنیا کے بین الاقوامی پرائز باوٴنڈ اور شیئر بازار میں رائج ہے وہ آئندہ کے معاہدے ہیں جو کچھ سندوں کی شکل میں ہوتے ہیں کہ جن کے مطابق طرفین معاملہ، معاہدہ کرتے ہیں کہ سند اور کاغذات میں درج شدہ معاہدے کے مطابق، معیّن وقت میں معمول کے مطابق ادائیگی کی جائے دوسرے لفظوں میں یہ ایک طرح کی خریدو فروخت ہے جس میں فروخت کرنے والا اور خریدار دونوں معاہدہ کرتے ہیں کہ فروخت کرنے والا شخص آنے والے وقت پر جنس کو خریدار کے حوالہ کرے گا ۔
پرائز بونڈ کی دیگر قسم جو اکثر بین الاقوامی شیئرز بازار میں خریدوفروخت کی جاتی ہے جس کی بنیاد پر، مثال کے طور پر حکومت،میونسپلٹی یا کمپنیاں اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کی غرض سے، مذکورہ باوٴنڈز کی نشر واشاعت کرنے کے اقدامات کرتی ہیں، اس طرح سے سرمایہ لگانے میں اور ان باوٴنڈس کی خریداری سے حاصل ہونے والا منافع پہلے ہی سے معیّن کردیا جاتا ہے (مثال کے طور پر ۱۷/فیصد) جو مقررہ وقت پر مثلاً مہینہ میں باوٴنڈز کے خریداروں کو دیدیا جاتا ہے اور باوٴنڈ کی رسید میں درج اصلی سرمایہ کی رقم بھی سرمایہ لگانے والے کوواپس دے دی جاتی ہے ۔
مذکورہ پیش کردہ موارد کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہر طرح کے بین الاقوامی باوٴنڈ اور شیئرز کی خرید وفروخت کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب: پہلی قسم کا معاہدہ جو بیمہ کے مشابہ ہے، اگر وقت، رقم اور طرفین مشخص ہوں تو اس صورت میں کوئی اشکال نہیں ہے، دوسری قسم کا معاہدہ (یعنی آئندہ کے لئے خریدوفروخت) کہ جس میں نہ تو جنس موجود ہوتی اور نہ قیمت ادا کی جاتی ہے، باطل ہے، تیسری قسم کا معاہدہ (قرضہ کے باوٴنڈ) اس صورت میں صحیح ہے کہ جب اُسے مضاربہ کے عنوان کے تحت کیا جائے یعنی اسی (مضاربہ) عنوان سے سرمایہ لگانے کا کام انجام دیا جائے اور حاصل ہونے والا منافعہ، ادا کرنے والے منافعہ سے زیادہ ہو ۔

اعتبار بیچناکسی چیز کا خاص زمانے میں مالک ہونا
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma