خرید وفروخت کے متفرق مسائل

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
اسمنگلنگ (غیرقانونی کاروبار)سترہویں فصل : کمپنی کے احکام

قاعدہٴ ”تلف المبیع قبل قبضہ من مال بایعہ“یعنی چیز بکنے کے بعد خریدار کے ہاتھ میں جانے سے پہلے اگر تلف سوال ۵۴۱۔ قاعدہٴ ”تلف المبیع قبل قبضہ من مال بایعہ“ کے مطابق اگر فروختہ شدہ چیز، خریدار کے قبضہ میں جانے سے پہلے تلف ہوجائے تو قیمت کی رقم خریدار کو واپس مل جائے گی، بعض قانون داںحضرات کا عقیدہ ہے کہ یہ قاعدہ، اصل قاعدہ کے مخالف ہے، برائے مہربانی آپ فرمائیں کہ یہاں پر مذکورہ اصل قاعدہ کیا ہے؟

جواب: اصل قاعدہ یہ ہے کہ معاملہ کے تمام ہونے کے بعد،فروختہ شدہ چیز خریدار کی ملکیت میں آجاتی ہے اور اگر بیچنے والے شخص نے اس چیز کی حفاظت کرنے میں کوتاہی نہیں کی ہے تو ایک امانت دار کی حیثیت سے وہ اس چیز کے تلف ہونے کا ضامن نہیں ہے لہٰذا مالک (خریدار) کا مال تلف ہوگا، لیکن مقدس شارع نے یہاں پر اصل قاعدہ کو توڑدیا اور بیچنے والے کو ضامن شمار کیا ہے ۔

سوال ۵۴۲۔ میں نے برسی (مخصوص گھاس) کا بیج خریدا تھا لیکن سب کا سب گھاس عام نکلا ہے اس صورت میں کیا فروخت کرنے والا شخص کھیتی اور بیج کا ضامن ہوگا، یا فقط بیج کا یا صرف اس کی قیمت اس کے ذمہ ہے؟ آخری صورت میں کیا وہ شخص اس دن کی قیمت ادا کرے گا جس دن خریدا تھا یا موجودہ وقت کی قیمت ادا کرے گا؟

جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر یہ خرید وفروخت کا معاملہ شخصی طور پر ہوا تھا تومعاملہ باطل ہے اُسے چاہیے کہ قیمت واپس دے اور اگر معاملہ کئے ہوئے کافی ٹائم ہوگیا ہواور مہنگائی ہوگئی ہو تو موجودہ قیمت کے مطابق رقم واپس دے اور اگر معاملہ کو کلی صورت میں انجام دیا گیا ہے یعنی فلاں مقدار میں برسی کا بیج بیچا تھا تواسی مقدار میں شبدر کا بیج خریدار کے حوالہ کرے، دوسرے یہ کہ اس کے ذریعہ سے جس قدر بھی کسان (خریدار) کو نقصان ہوا ہے، اُسے پورا کرے یا پھر اس کے ساتھ مصالحت کرے ۔

سوال ۵۴۳۔ ایک شخص اپنا مکان، معین قیمت میں فروخت کردیتا ہے اس کے بعد بیچنے والا اور خریدار دونوں کی مرضی سے معاملہ کو فسخ کردیا جاتا ہے لیکن فسخ کرنے کے ذیل میں یہ شرط رکھتے ہیں کہ اگر اس کی قیمت، جو بینک چیک کے ذریعہ وصول ہونا ہے، وصول نہ ہوئی تو پہلا معاملہ اپنی قوت پر باقی رہے گا ۔
۱۔ کیا مذکورہ شرط کے ذریعہ فسخ کرنا صحیح ہے؟
۲۔ فسخ کے صحیح ہونے کی صورت میں اگر چیک وصول نہ ہو تو کیا وہ فسخ بے اثر تھا اور خریدوفروخت کا پہلا معاملہ اپنی پہلی جگہ پلٹ جائے گا؟ یا فسخ تو صحیح تھا لیکن شرط باطل تھی؟
۳۔ شرط کے باطل اور چیک وصول نہ ہونے کی صورت میں کیا مالک مکان کو قیمت کی رقم واپس کرنا چاہیے یا یہ کہ قانون کے مطابق خریدار چیک کے ذریعہ اقدامات کرے؟

جواب: ۱/ سے ۳/تک: مذکورہ شرط کے ذریعہ فسخ کو مشروط کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے اور اگر شرط حاصل نہ ہوئی تو چیز کا مالک اپنی چیز کو واپس لے سکتا ہے ۔

سوال ۵۴۴۔ جس چیز کو بیچا جارہا ہے کیا اس چیز کی ملکیت کو معاملہ کے وقت سے کچھ مدت بعد پر موقوف کیا جاسکتا ہے یا فقط عقد معاملہ ہوتے ہی اس چیز کی ملکیت بھی دوسرے کی طرف منتقل ہوجائے گی (مثال کے طور پر دو مہینہ یا اس سے زیادہ مدت)

جواب: ملکیت کو بعد کے وقت پر موقوف نہیں کیا جاسکتا ؛ لیکن چیز کو (مثلاً دومہینہ یا زیادہ مدت کے) بعد میں خریدار کے حوالہ کیا جاسکتا ہے ۔

سوال ۵۴۵۔ میں نے کچھ مقدار خرما، اس شرط پرفروخت کیا تھا کہ اپنے دفتر میں خریدار کے حوالہ کروں گا، خریدار نے مجھ سے وہ خرما لے کر باہر ایکسپورٹ کردیا اور پھر چند مہینے گزرنے کے بعد دعویٰ کررہا ہے کہ وہ خرما خراب تھا کیا اس کا یہ دعویٰ قابل قبول ہے؟

جواب: اگر فروخت کرنے والا شخص خرید وفروخت کے وقت پر خرما کے عیب دار ہونے سے انکار کرتا ہے اور خریدار کے پاس اپنی بات پر کوئی دلیل بھی نہیں ہے تو بیچنے والے شخص کی بات قبول کی جائے گی، لیکن خریدار کو حق ہے کہ وہ اس سے مطالبہ کرے کہ حاکم شرع کے سامنے جاکر قسم کھائے ۔
عمارت کی خرید وفروخت کے معاملہ میں عمارت کی ضروری چیزیں

سوال ۵۴۶۔ ایک عمارت کی خرید وفروخت کے معاملہ میں، کیبنیٹ کے بارے میں کوئی خاص شرط نہیں ہوئی تھی، عمارت اور اس کی قیمت کے لین دین کے بعد بیچنے والے اور خریدار کے درمیان اس بات پر اختلاف ہوگیا ہے کہ کیبنیٹ عمارت کا حصّہ تھا یا نہیں ، آخری فیصلہ یہ طے پایا کہ عام لوگوں کے یہاں رجوع کیا جائے کہ وہ کیا سمجھتے ہیں، آیا عام لوگ کیبنیٹ کوعمارت کا حصّہ سمجھتے ہیں یا نہیں، لہٰذا عام لوگوں کے پاس رجوع کرنے کے بعد، گواہوں کی موجودگی میں یہ فیصلہ ہوا کہ کیبنیٹ کو بیچتے والا شخص لے جائے، اب خریدار کہتا ہے: عام لوگوں کے پاس دوبارہ رجوع کرنے نیز شرعی حکم کے مطابق کیبنیٹ ، مکان کا لازمی حصّہ ہوتا ہے حالانکہ ہر اس معاملہ میں جس میں کیبنیٹ یااس جیسی دیگر چیزیں ہوتی ہیں جیسے گیزر، کولر، پردہ وغیرہ تو ان جیسی چیزوں کے بارے میں شرط کی جاتی ہے کہ مکان کے ساتھ رہیں گی، حضرتعالی کی خدمت میں التماس ہے کہ اس مسئلہ کے بارے میں شریعت کا حکم بیان فرمادیں ۔

جواب: عام طور پر کیبنیٹ مکان سے علیحدہ ہوتی ہے مگر یہ کہ صراحت کے ساتھ اس کے برخلاف شرط کریں لہٰذا اس بناپر خریدار نے اگر کوئی خاص شرط نہیں کی ہے تو اس کو کیبنیٹ نہیں لینا چاہیے ۔

سوال ۵۴۷۔ ملائر شہر کی کمپنی نے جس کا کام دودھ، دہی اور دودھ سے بننے والی چیزوں کو فراہم اور سپلائی کرنا ہے، بتاریخ ۴/۶/۱۳۸۰ش، مطابق۲۰۰۲عیسوی کو کچھ چیزیں غیر سرکاری طریقہ سے، اپنے سے مربوط دکانوں اور مارکیٹوں میں سپلائی کرنے کی غرض سے خریدیں تھی، ان میں سے کافی مقدار میں چیزیں فروخت کردیں اور باقی چیزیں ۱۱/۷/۱۳۸۰ش، تک موجود تھیں، اب جو قیمتوں میں تبدیلی آئی یعنی قیمتیں بڑھ گئی ہیں تو چیزوں کی خرید وفروخت اور قیمتوں پر نظارت کرنے والے شہر ملائر کے ادارے نے اعلان کیا کہ جس مقدار میں اضافہ ہوا ہے وہ زیادہ قیمت کی رقم ادا رے میں جمع کریں برائے مہربانی آپ فرمائیں کہ بڑھی ہوئی قیمت کی رقم، مال کے مالک (کمپنی) کی ہے، یا مذکورہ ادارے میں جمع کی جائے؟

جواب: اگر اضافی قیمت کو وصول کرنا، پہلے ہی سے ادارے کے قانون میں شامل تھا تب تو اضافی قیمت ادارے کی ہے اور اگر اس طرح کی انھوں نے کوئی شرط نہیں کی تھی یا ان کے قانون میں شامل نہیں تھی تو پھر وہ اضافی قیمت چیزوں کے مالک کا حق ہے ۔

اسمنگلنگ (غیرقانونی کاروبار)سترہویں فصل : کمپنی کے احکام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma