سترہویں فصل : کمپنی کے احکام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
خرید وفروخت کے متفرق مسائلاٹھارہویں فصل : صلح کے احکام

سوال ۵۴۸۔ کمپنی کے ادارے کمپنی بناتے وقت اور لوگوں میں اس کے شیئرز خریدنے کے لئے، ذوق وشوق اور رغبت پیدا کرنے کی غرض سے، شیئرز خریدنے والوں کے لئے درج ذیل خاص امیتاز مدنظر رکھتے ہیں، ”اگر شیئرز خریدنے والا شخص اپنے شیئرز فروخت کرنے کا خواہشمند ہو تو اس صورت میں شیئرز خریدنے والے ادارے کمپنی بننے کے چھ مہینے کے بعد اس کے شیئرز کے ضامن ہوں گے اور دوسالانہ شیئرز کی اصل قیمت کے علاوہ بیس فیصد % شیئرز کی قیمت بڑھی ہوئی قیمت کے عنوان سے اس شخص کو ادا کریں گے“۔
شیئرز خریدنے والے بعض حضرات اس قسم کا خاص امتیاز ہونے کی وجہ سے، مدنظر کمپنی کے شیئرز خرید لیتے ہیں، اب اس بات پر توجہ رکھتے ہوئے کہ بعض اداروں کے بارے میں شرعی حیثیت سے شک وشبہ (بیس فیصد بڑھی ہوئی قیمت کی ضمانت) پایا جاتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ درج ذیل سوالوں کے بارے میں اپنا مبارک نظریہ بیان فرمائیں:
۱۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ کمپنی کے اداروں نے مدنظر منافع کو بڑھتی ہوئی قیمت کے عنوان سے بیس فیصد بیان کیا ہے، یہ بات ملحوظ رکھتے ہوئے کہ اس سلسلہ میں یہ رقم ادا کرتے وقت کہ شیئرز کی قیمت میں بیس فیصد اضافہ ہوگیا ہے یا نہیں؟ کوئی تحقیق یا جستجو نہیں کی جاتی (کہ واقعاً قیمت بڑھی ہے یا نہیں) اور اگر فرض کرلیا جائے کہ تحقیق کی جائے تو دوسرا نتیجہ برآمد ہوگا (اور وہ یہ کہ شیئرز کی واقعی قیمت اصل قیمت اور بیس فیصد دونوں سے کم ہے)اس صورت میں شرعی حیثیت سے مذکورہ وعدے کا کیا حکم ہے؟

جواب: اس وعدے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور وعدے کو وا کرنا لازم ہے ۔

۲۔ ضمانت شدہ بڑھتی ہوئی قیمت کو ادا کرنے یا وصول کرنے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے، جبکہ کسی ایسے معاملہ پر مبنی نہیں ہے کہ اس کا واقعی منافع شمار ہوسکے؟

جواب: اگر انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ شیئرز کو اسی قیمت پر خرید لیں گے تو انھیں اپنے وعدے کے مطابق عمل کرنا چاہیے ۔

سوال ۵۴۹۔ میں نے اپنی زوجہ کے لئے، سلائی کا کام کرنے کے لئے ضروری انتظامات کئے، مشین خرید کر دی، جگہ، لائٹ اور ضروری سامان فراہم کیا ہے کیا اس سلائی کی آمدنی میں، میں بھی شریک ہوں؟ نیز کیا وہ میری اجازت کے بغیر یہ کام کرسکتی ہے؟

جواب: اگر آپ نے وہ سب چیزیں اپنی زوجہ کو بخش دی ہیں تو اس صورت میں آپ کو اس کی آمدنی میں کوئی حق نہیں ہے اور اگر نہیں بخشی ہیں تب طے شدہ معاہدے کے مطابق عمل کرنا ہوگا اور وہ آپ کا حصّہ ادا کرے گی ۔

سوال ۴۵۰۔ دو شخص (خواہ سرمایہ دونوں کا ہو یا سرمایہ کسی اور کا ہو) مختلف سرمایہ سے مثلاً ایک شخص کا سرمایہ ایک اور دوسرے کا دس برابر ہے آپس میں مل کر معیّن مدت کے لئے درج ذیل شرائط کے تحت تجارت کرتے ہیں:
۱۔ معاملہٴ تجارت سے حاصل ہونے والا ممکنہ فائدہ، مدّت ختم ہونے کے بعد دونوں حصّہ داروں کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کیا جائے ۔
۲۔ دونوں کے سرمایہ سے کام کیا جائے گا اور اگر نقصان ہوجائے تو نقصان کا ذمہ دار وہ شخص ہوگا جس کا سرمایہ کم ہے، اس قسم کی تجارت کا کیا حکم ہے؟

جواب: مذکورہ طریقہ سے (تجارت میں) شریک ہونے میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔

خرید وفروخت کے متفرق مسائلاٹھارہویں فصل : صلح کے احکام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma