انیسویں فصل : اجارہ (کرایہ) کے احکام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
اٹھارہویں فصل : صلح کے احکامبیسویں فصل : مضاربہ کے احکام

سوال ۵۵۳۔ جب کوئی شخص کسی آدمی کے ساتھ درج ذیل شرح کے مطابق زبانی معاہدے کرے:
”آپ یہ تحقیق کا کام انجام دیں، میں آپ کو فی گھنٹہ ڈیڑھ سو (۱۵۰) تومان دوںگا اور تحقیق سے مراد، مطالب کی دوبارہ کتابت، مطالب کو مناسب جگہ پر رکھنا، جدید، طریقے سے ترتیب دینا، یا اس کی تکمیل اور اصلاح کرنا ہو“۔
طرفین قبول کرتے ہیں اور ابہامات کو دور کرنے کی غرض سے پے درپے نشست رکھتے ہیں، چند مہینہ کام کرنے کے بعد محقق ایک ہزار گھنٹوں سے زیادہ کے کام کی فہرست پیش کرتا ہے، جبکہ کام دینے والا شخص دعویدار ہے کہ جیسے کہاگیا تھا اس نے ویسے کام انجام نہیں دیا ہے اور طے شدہ شرائط کے مطابق کام مکمل نہیں ہوا ہے، برائے مہربانی آپ فرمائیں:
۱۔ تحقیق کا کام دینے والا شخص کس قدر مقروض ہے، یعنی اسے کس قدر رقم ادا کرنا ہوگی؟

جواب: اگر عقد معاملہ میں صراحت کے ساتھ بیان کئے گئے شرائط یا جو معاملہ کی بنیادی بات تھی، اس کے برخلاف عمل کیا گیا ہے تو اس صورت میں اُسے اجرة المثل (اس جیسے کام کی جو اجرت بنتی ہے) ادا کرنا ہوگی البتہ اِس شرط پر کہ اجرة المثل، طے شدہ اجرت سے زیادہ نہ ہو، لیکن اگر ٹائم کی مقدار میں اختلاف ہے تو کام کرنے والا شخص، شرعی دلیل سے ٹائم (گھنٹوں) کی مقدار کو ثابت کرے، مگر یہ کہ ٹائم کی مقدار کا معیّن کرنا خود اسی کے ذمہ قرار دیا گیا ہو ۔

۲۔ کام کے معنوی حقوق، معاہدے میں بیان نہیں ہوئے ہیں، کیا محقق کا نام تعاون کرنے والے کی حیثیت سے مصنف کے ساتھ لکھا جائے؟

جواب: اگر (کتاب پر) محقق لکھنے کا معاہدہ نہیں ہوا ہو اور عام رواج کے مطابق بھی مصنف کو اسی کام پر مجبور نہ کیا جاتا ہو (کہ ایسی صورت اختیار کرلے کہ معاہدے کی بنیادی شرط وہی ہے) تب (کتاب پر)محقق کا نام لکھنا لازم نہیں ہے ۔

سوال ۵۵۴۔ سولہ سال پہلے ایک شخص کو ایک دکان کرایہ پر دی گئی تھی اور ہرسال کرایہ کی مدت تمام ہونے سے پہلے دوبارہ اسی کو دے دی جاتی رہی، تین سال پہلے دکان کی مالکہ کا انتقال ہوگیا جبکہ اس دکان کے موجودہ مالک تین اشخاص ہیں، اس میں ایک تہائی مرحومہ کا حق ہوتا ہے، مرحومہ کے انتقال کے بعد اس کے وصی اور وارثوں نے دکان کے کرایہ کی دوباہر تجدید کردی ہے لیکن اب فی الحال وارثوں نے دکان کے کرائے کی درخواست کی، کرایہ دار کہتا ہے: ”میںدکان کو خالی کردوں گا لیکن ممکن ہے اس میں میرے بچوں کا بھی حق ہو، کہ اگر وہ حق مالکوں کو بخشدوں تو میں ذمہ دار رہوں“ برائے مہربانی درج ذیل دوسوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:
الف) کیا اس کا یہ دعویٰ صحیح ہے؟

جواب: اگر کرایہ دار نے پگڑی نہیں دی ہے تو اسے کوئی حق نہیں ہے اور کرایہ کی مدت ختم ہونے کے بعد اُسے چاہیے کہ دکان کو خالی کردے، لیکن بہتر یہ ہے کہ عام رواج کے مطابق جو دکاندار اور اس پیشہ کا حق شمار ہوتا ہے اس کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ مصالحت کریں ۔

ب) اگر اس کرایہ دار کا حق ہو اور وہ اپنا حق بخشدے تو کیا اس صورت میں اس کے بچّے دعویٰ کرسکتے ہیں؟

جواب: اگر اس کا حق ہو اور وہ بخشدے تب اس کے بچّے کوئی دعویٰ نہیں کرسکتے ۔

سوال ۵۵۵۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے دریائی قانون کے بند ۱۷۴، و۱۸۱ کے بارے میں کچھ سوالات پیش خدمت ہیں، برائے مہربانی ان کے جواب عنایت فرمائیں:
بند نمبر ۱۷۴ میں ایسے آیا ہے: ”ہر قسم کی امداد اور نجات جو مفید نتیجہ کی حامل ہو، اس پر منصفانہ اجرت دی جائے گی، لیکن اگر امداد یا نجات دینے کا کام مفید نتیجہ نہ رکھتا ہو تو اس پر کسی قسم کی اجرت نہیں دی جائے گی، نیز کسی مرتبہ بھی نجات حاصل کرنے والی چیز کی قیمت سے زیادہ رقم ادا نہیں کی جائے گی“۔
اور بند ۱۸۱ میں آیا ہے: ”وہ لوگ جن کی جان بچائی گئی ہے ان کوکسی طرح کی اجرت ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا (یعنی ان کے اوپر کسی طرح کی اُجرت ادا کرنا لازم نہیں ہے) نجات دینے والے حضرات جنھوںنے ایک حادثہ سے مربوط نجات یا امداد کے امور میںلوگوں کو نجات دینے کے لئے خدات انجام دی ہیں، وہ لوگ اس اجرت میں سے مناسب حصّہ وصول کرنے کے حقدار ہیں جو اجرت کشتی، جہاز، سامان اور اس سے مربوط دیگر چیزوں کے نجات دینے والوں کودی جاتی ہے“۔
۱۔ یہ دو بند، اسلامی عقود میں کس عقد (معاہدہ) کے تحت قرار پاتے ہیں؟ اور فقہی قواعد میں سے کس قاعدہ کو شامل ہیں؟

جواب: پہلے بند میں فقط اس موقع پر اجرة المثل کا مطالبہ کرسکتے ہیں کہ جب مال کے مالک یا کشتی اور جہاز کے مالک کی جانب سے درخواست کی گئی ہو، یا کشتی کے مالکان اور ڈوبتے کو نجات دینے والوں کے درمیان ایک عام معاہدہ ہوا ہو اور اس فرض میں کہ ڈوبتے کو نجات دلانے کی درخواست کی گئی ہے، تب اپنی اجرة المثل وصول کرسکتا ہے، اگرچہ اس کی اجرة المثل نجات پانے والی چیز سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو، اور یہ (بند) عقد اجارہ اور عقد جعالہ کے تحت درج ہوتا ہے، البتہ دوسرے بند کے سلسلے میں، انسانوں کو نجات دینے کے عوض اجرت لینا لازم نہیں ہے اس لئے کہ یہ کام واجب ہے، مگر یہ کہ حکومت نے کچھ لوگوں کو اس کام کے لئے ملازم رکھا ہو جو ہمیشہ اس کام پر نگران وناظر ہوں، اس صورت میں ان لوگوں کو اپنی تنخواہ لینے کا حق ہے، لیکن کشتی اور سامان کو غرق ہونے سے بچانے کی اجرت میں سے کچھ حصّہ انسانوں کو نجات کے لئے قرار دینے پر شرعی دلیل نہیں ہے بہرحال بطور کلی ان دونوں بند کا فقہی قوانین پر تطبیق دینا متعدد مشکلات کا حامل ہے ۔

سوال ۵۵۶۔ کیا ایسے مکان کے مشترکہ مالکان، کہ جس کی دو منزلیں ہیں اور ہر منزل مستقل ہے اور دو منزلہ مکان کی ایک منزل ایک حصّہ دار کے تصرّف میں ہے، اپنے حصّہ کا مکان (جس میں وہ نہیں رہتے) کسی دوسرے کو کرایہ پر دے سکتے ہیں؟ نیز اگر کوئی ایک حصّہ دار دوسرے کے حصّہ کا مکان کرایہ پردینے سے منع کرے تو اس کا نقصان کس کے ذمہ ہوگا؟

جواب: دونوں حصّہ دار اپنا اپنا حصّہ دوسرے شخص کو کرایہ پر دے سکتے ہیں اور دوسرا حصّہ دار منع کرنے کا حق نہیں رکھتا، وگرنہ ضامن ہے مگر یہ کہ دوسرے حصہ دار کے لئے نقصان کا باعث ہو ۔

سوال ۵۵۷۔ میرے مرحوم والد نے اپنی کچھ جائداد کسی شخص کواجرت پر دی تھی تاکہ اس کی آمدنی کو اپنے اور اس شخص کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کریں، اب جبکہ میرے والد مرحوم ہوگئے ہیں ان کے وارثین یہ معاہدہ جاری رکھنے پر راضی نہیں ہیں، کیا یہ معاہدہ مالک کی موت کی وجہ سے فسخ نہیں ہوگا؟

جواب: باغ وغیرہ سے متعلق معاہدہ کہ جس کے لئے ایک مدّت معین کی جاتی ہے، مدت کے ختم ہونے تک معتبر ہے اور مالک کے مرنے سے فسخ نہیں ہوتا، نیز وارثوں کووو مدت کے تمام ہونے تک صبر کرنا چاہیے ۔

سوال ۵۵۸۔ کیا کرایہ کی مدت میں کرایہ پر دی گئی چیز، کرایہ دار کے ہاتھ میں امانت لوٹانے کے عنوان سے واپس کرنے کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے؟

جواب: اس مدّت میں امانت کی طرح ہے اور مدت تمام ہونے کے بعد اُسے اصلی مالک یا اس کے وکیل کو لوٹا ینا چاہیے ۔

سوال ۵۵۹۔ ایک شخص کوئی مکان، دس لاکھ تومان قرض الحسنہ (رہن) اور ایک ہزار تومان کرایہ پر لیتا ہے، اسی مکان کو (اس میں کوئی خاص کام جیسے سفیدی کرائے بغیر) تیسرے آدمی کو پچاس ہزار تومان کرایہ پر دینا چاہتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: احتیاط یہ ہے کہ اس مکان میں کوئی چیز اضافہ کرے سفیدی کرے یا مزید فرش بچھادے یا اس طرح کا کوئی اور کام کرادے ۔

سوال ۵۶۰۔ یہ جو آپ نے فرمایا ہے کہ: ”کوئی آدمی کسی مکان کو کرایہ پر لے کر تیسرے آدمی کو زیادہ کرایہ پر دینا چاہتا ہے تو اپسے مکان میں مزید کوئی کام انجام دینا چاہیے“ کیا یہ کام امور غیر ثابتہ جیسے چند بلب لگادینا، یا فریج رکھ دینا، یا فرش بچھادینا، یا بیڈ رکھ دینا، یا ٹیلیویژن رکھ دینا وغیرہ) کو بھی شامل ہوگا؟

جواب: جی ہاں ان کاموںکو بھی شامل ہوجائے گا ۔

اٹھارہویں فصل : صلح کے احکامبیسویں فصل : مضاربہ کے احکام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma