بائیسویں فصل :وکالت کے احکام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
اکیسویں فصل ممنوع التصرف (تصرف نافذ نہ ہونے والے اشخاص) کے احکامتئیسویں فصل : قرض کے احکام

سوال ۵۷۳۔ درج ذیل صورت میں قانون وکالت کے خصوصاً بند نمبر ۵۵ کے جائز یا ناجائز ہونے کے بارے میں اپنا مبارک نظریہ بیان فرمائیں: ”وہ وکیل جس کی وکالت کسی چیز پر موقوف ہے یا وہ اشخاص جنھیں وکالت کرنے کی اجازت نہیں یا کلی طور پر ہر وہ شخص جس کے پاس وکالت کی سند نہیں ہے، اس کے لئے وکالت کے کام میں کسی طرح کی بھی دخل اندازی کرنا منع ہے ۔ خواہ وہ کوئی جعلی پیشہ جیسے غیر قانونی مشیر وغیرہ اختیار کرے یا یہ کہ عقد شرکت یا عقود اسلامی میں سے کسی بھی عقد کی بنیاد پر اقتصادی سوسائیٹیوں میں اپنے آپ کو اصلی دعوے دار ظاہر کرے ۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو ایک سے چھ مہینہ تک کی سزائے قید دی جائے گی“

جواب: ان لوگوں کے لئے جنھیں وکالت کی اجازت نہیں ہے، مذکورہ حکم تعزیری سزا کا پہلو رکھتا ہے، البتہ وکالت میں اجازت کی قید لگانا، عنوان ثانوی کی بناپر ہے، اس لئے کہ موجودہ حالات میں وکالت کو آزاد قرار دینا، سوء استفادہ اور عظیم نقصانات کا باعث ہوگا لہٰذا یہاں بیان شدہ مطلب کی بناپر مذکورہ بند کا جائزہونا، بعید نظر نہیں آتا ۔

سوال ۵۷۴۔ مقدموں میں حاکم کے سامنے کسی کو اپنا وکیل بنانے کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے ؟

جواب: ہر شخص اپنا دفاع کرنے کے لئے وکیل اختیار کرسکتا ہے جو اس کا حق ثابت کرنے میں اس کی مدد کرے ۔

سوال ۵۷۵۔ کیا مقدموں اور عدالت میںوکالت کے لئے خاص شرائط معتبرہیں یا تمام وکالتوں کی طرح فریقین (موٴکل اور وکیل) کی مرضی سے وکالت پر اقدام کیا جاسکتا ہے ؟

جواب: فریقین کی مرضی سے اقدام کیا جاسکتا ہے ؟

سوال ۵۷۶۔ فریقین کی جانب سے وکیل قبول کرنے کی صورت میں محکمہ عدالت کا کیا وظیفہ ہے ؟

جواب: ہمارے زمانے میں چونکہ قوانین پیچیدہ ہوگئے ہیں اور بہت سے لوگوں کو ان کے بارے میں معلومات نہیں ہوتی جو اپنا دفاع کرسکیں، لہٰذا محکمہ عدالت کا وظیفہ ہے کہ فریقین کے وکیل کو قبول کرے ۔

سوال ۵۷۷۔ کیا وکیل بننے کے لئے خاص شرائط کا ہونا ضروری ہے ؟

جواب: وکیل اس صورت میں اپنے موٴکل کا دفاع کرسکتا ہے کہ جب اس کے حق پر ہونے سے آگاہ ہو، اور جو کچھ موٴکل کے دفاع میں کہے وہ اس کی نظر میں صحیح اور شریعت کی رو سے جائز ہو۔

سوال ۵۷۸۔ چنانچہ کوئی موٴکل، عقد وکالت سے علیحدہ ایک عقدلازم کے ضمن میں اپنے وکیل کو معزول کرنے کا حق پچاس سال کے لئے ختم کردے کیا اس طرح سے اپنے حق کو ختم کرنا (جو عام طور پر سرکاری وکالت نامہ میں درج ہوتا ہے) معتبر اور نافذ ہوگا؟

جواب: موٴکل وکیل کو معزول کرنے کے بارے میں اپنا حق ختم نہیں کرسکتا، لیکن عقد وکالت سے علیحدہ ایک عقد لازم کے ذیل میں یہ شرط کرسکتا ہے کہ عملی طور پر اس کو معزول نہیں کرے گا، اس صورت میں اُسے اپنی قبول کی ہوئی شرط پر عمل کرنا چاہیے ۔

سوال ۵۷۹۔ کیا مریض آدمی کے وکلاء، ڈاکٹر کے ذریعہ بیہوش ہونے کے بعد، معزول ہوجائیں گے ؟

جواب: بیہوشی، وکالت کے معزول ہونے کا باعث نہیں ہے ۔

سوال ۵۸۰۔ دنیا میں بعض ادارے بنے ہیں جو فروخت کرنے والے شخص کا خریدار سے رابطہ کراتے ہیں، یہ ادارے، خریداری کی وکالت میں اس کے ذریعہ خریدی ہوئی چیزں کی قیمت، فروخت کرنے والے کو ادا کرتے ہیں البتہ اس کی موافقت کی صورت میں، پھر ان شرائط کی بناپر جو وکالت نامہ کے ذیل میں طے ہوئے ہیں، اس قیمت کو خریدار سے وصول کرلیتے ہیں، ان اداروں کی آمدنی عام طور پر قیمتوں میں چھوٹ دینے سے ہوتی ہے جو مال بیچنے والا انھیں اس لئے دیتا ہے کہ وہ خریدار کی جانب سے قیمت ادا کرتے ہیں، جنابعالی کی نظر میں کیا اس قسم کی وکالت اور رابطہ کرانا جائز ہے ؟

جواب: اس طرح کا رابطہ کرانے میں کوئی اشکال نہیں ہے ، لیکن اگر سلسلہ وار رابطہ کرانے کی صورت اختیار کرلے (جیسے الماس اور گولڈ کوئیسٹ کمپنیاں) تو حرام ہے ۔

اکیسویں فصل ممنوع التصرف (تصرف نافذ نہ ہونے والے اشخاص) کے احکامتئیسویں فصل : قرض کے احکام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma