قرض کا سود

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
تئیسویں فصل : قرض کے احکامچوبیسویں فصل : رہن کے احکام

سوال ۵۸۹۔ ایک شخص نے تقریباً ۷% سات فیصد فائدہ کا حساب کرکے کچھ رقم مجھے دیدی ہے اور اس کے عوض مجھ سے چیک وصول کرلیا ہے اس سلسلہ میں درج ذیل دوسوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:
۱۔ یہ بات ملحوظ رکھتے ہوئے کہ اس شخص نے جو رقم دی ہے اس کے عوض فائدے کا حساب کرکے، مجھ سے چیک وصول کرلیا اور قانون کے لحاظ سے چیک، نقد رقم کی طرح اور ایسی سند ہوتا ہے جس کا اجرا لازم ہے؛ کیا اس شخص کا یہ کام اگرچہ ادا کی گئی رقم کے عوض چیک بھی وصول کرلیا ہو، تب بھی سود میں شمار ہوگا؟
جواب: جب تک چیک وصول نہ کرے اس وقت تک اس نے سود نہیں لیا ہے ۔
۲۔ چانچہ وہ شخص دی گئی رقم کے عوض اس کے فائدہ کا حساب کرنے کے بعد اس کا چیک وصول کرلے اور چیک کے بارے میں اقدام بھی کردیا ہو، کیا اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ اس نے حساب کئے ہوئے فائدہ کو وصول کرنے کا اقدام کیا ہے، اس کا یہ کام سود خوری ہے ؟

جواب: جب تک اس رقم کو وصول نہ کرے، سود خوری شمار نہیں ہوگی اور شریعت کی رو سے ایک سود خور کی حیثیت سے اس کا تعاقب نہیں کیا جاسکتا ۔

تئیسویں فصل : قرض کے احکامچوبیسویں فصل : رہن کے احکام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma