چوبیسویں فصل : رہن کے احکام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
قرض کا سودپچیسویں فصل : ضامن بننے کے احکام

سوال ۵۹۰۔ ایک شخص نے اپنی ضرورت پوری کرنے کی وجہ سے اپنا مکان یا دکان کچھ رقم کے عوض گروی رکھ دیا، پھر فریقین کی موافقت سے گروی رکھنے والا شخص رہن پر رکھی ہوئی چیز (مکان یا دکان) مالک کو کرایہ پر دے دیتا ہے، جس کے نتیجہ میں وہ مکان یا دکان ، مالک ہی کے تصرف میں رہتی ہے اور وہ رہن پر لینے والے کو ماہانہ کرایہ دیدیتا ہے، کیا یہ معاملہ صحیح ہے ؟

جواب: رہن پر لینے والا اس چیز (مکان یا دکان) کے منافع کا مالک نہیں ہے لہٰذا اس کو کرایہ پر نہیں دے سکتا ۔

سوال ۵۹۱۔ ایک شخص کھیتی کی زمین کو دوسرے شخص کے پاس رہن پر رکھوا دیتا ہے ، رہن اورمعاملہ اس صورت میں ہوتا ہے کہ: ”زمین کا ایک ٹکڑا ، ۱۰۰/تومان کے عوض رہن پر رکھا گیا ہے لیکن بشرطیکہ خود مالک اس میں کھیتی کرے گا اور اس کے کرایہ کی بابت سالانہ دس کلو چاول، رقم دینے والے کو ادا کرے گا“ کیا اس قسم کا معاملہ صحیح ہے ؟

جواب: یہ کام حرام ہے؛ اس لئے کہ رہن پر رکھی ہوئی زمین کے منافع اصل مالک سے مربوط ہوتے ہیں ۔

قرض کا سودپچیسویں فصل : ضامن بننے کے احکام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma