پچیسویں فصل : ضامن بننے کے احکام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
چوبیسویں فصل : رہن کے احکامچهبیسویں فصل : کفالت کے احکام

سوال ۵۹۲۔ چند مہینہ پہلے میرا کاروباری شریک میرے پاس آتا ہے اور معین رقم کا ایک چیک مجھے دکھاتا ہے اور مجھ سے کہتا ہے کہ میں اپنے ایک دوست سے اس چیک کے عوض نقد رقم حاصل کرلوں، میں نے اپنے دوسرے دوست (جو بازار میں دوکاندار ہے سے درخواست کی کہ وہ اس کو کام کو انجام دیدے، اس نے چیک کو لے کر رقم دیدی، کچھ دنوں کے بعد جب وہ بینک گیا تو چیک واپس لوٹا دیا گیا چونکہ اس کے کھاتہ میں کوئی رقم موجود ہی نہیں تھی، میں اپنے شریک کے پاس گیا اور اس سے گلہ وشکوہ کیا تو اس نے کہا: ”لاوٴ چیک مجھے دے دو، میں اس کی رقم کا انتظام کردیتا ہوں“ میرے دوست نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے وہ چیک مجھے دے دیا، میں نے بھی اپنے شریک پر بھروسہ کرتے ہوئے چیک اس کے حوالہ کردیا، یہ طے ہوا کہ اسی دن ظہر کے وقت تک وہ رقم دیدے گا، لیکن اس نے نہ یہ کہ فقط رقم نہیں دی بلکہ جس وقت بات اس کی رپورٹ کرنے تک پہونچی تو کہنے لگا: ”میں نے رقم دیدی اور چیک وصول کرلیا ہے“ البتہ بعد میں اقرار کرلیتا ہے کہ اس نے کوئی رقم نہیں دی ہے اور جھوٹ بولا ہے، اس صورت میں اس رقم کا کون شخص مقروض ہے ؟

جواب: اگر تمھارا اس معاملہ کے درمیان پڑنا، ضمانت کے طور پر رہا ہو تو تم بھی ذمہ دار ہو اور تمھارا شریک بھی اور اگر فقط درمیان میں واسطہ بنّا تھا، ضمانت نہیں تھی، تب تمھارا شریک ضامن ہے اور اگر تمھارا کاروباری دوست تمھارے اس شریک کو نہیں جانتا تھا اور تمھارے اعتبار پر اس نے رقم دی تھی تب تمھارا واسطہ بننے کا مطلب اس کی ضمانت لینا ہے ۔

سوال ۵۹۳۔ ایک کمپنی بتاریخ ۱۱/۱۱/۱۳۷۵ش ھ، تقریباً۱۹۹۸عیسوی میں ایک سال کی قسط وار خریداری کا بینک سے معاملہ کرلیتی ہے، بغیر سود کے کام کے سلسلہ میں بینک کے قانون کے مطابق، بینک کی جانب سے سہولت فراہم کرنے کے لئے، اسلامی معاملات اور شرعی مقررات کی رعایت کرنا ضروری ہے، معاہدے کے مطابق، کمپنی کو پاپلین کپڑا بنانے کے کچھ کچّے مال کی خریداری کرنا تھی نیز نقد اور ادھار کے معاملات اور شریک ہونے کے معاملہ کی رو سے ان مال سے پاپلین تیار کرکے بازار تک پہنچانا تھا، کچھ عرصہ گذرنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ معاہدہ واقعی نہیں تھا بلکہ مذکورہ چیزوں کی خریداری کے عنوان سے ایک رسید بنواکر، بینک سے لون (قرض) وصول کیا تھا، رسید بنانے والے شخص نے بھی صاف صاف بتایا کہ معاملہ فسخ ہوگیا تھا اور اسی تاریخ میں مذکورہ رقم واپس دے دی گئی تھی، یعنی حقیقت میں مذکورہ چیزوں میں سے کوئی چیز موجود ہی نہیں تھی۔
جنابعالی کی خدمت میں درخواست ہے کہ اس سلسلہ میں فرمائیں کہ: کیا اس قسم کے معاملہ کی ضمانت کہ جس کا سبب وجود ہی میں نہیں آیا تھا، اپنی جگہ پر باقی ہے ؟

جواب: یہ معاملہ باطل تھا اور اُسے مذکورہ رقم کو بینک میں واپس کرنا چاہیے، اب رہی ضمانت تو اگر ضمانت اصل رقم کے بارے میں تھی تب تو اس پر عمل کرنا چاہیے اور اگر منافع کے بارے میں تھی تو معاملہ نہ ہونے کی صورت میں، ضمانت کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے اور اس کا کوئی منافع ہوتا ہی نہیں ہے ۔

سوال ۵۹۴۔ پھلوں کی خرید وفروخت کے دوران منڈی میں ایک شخص کی پھل فروش سے جان پہچان ہوجاتی ہے، کچھ عرصہ کے بعد پھل فروش آدمی اس شخص سے کہتا ہے کہ: ”میں نے تھوڑے دن پہلے ہی شادی کی ہے اور شادی کے عنوان سے قرض لینے کے لئے مجھے ایک ضامن (گارنیٹر) کی ضرورت ہے اور میری کسی سے جان پہچان نہیں ہے“ پہلا شخص جو پھل فروش کو مکمل طور پر نہیں پہچانتا تھا فقط ہمدردی کے طور پر اس کو ایک ٹیچر کے پاس لے جاتا ہے جو بینک سے اپنی تنخواہ وصول کرتا ہے البتہ مذکورہ معلّم سے اس کے دور کے تعلّقات تھے، معلّم کے سامنے اس پھل فروش کی اپنے سالے کی حیثیت سے پہچان کراتا ہے اور اس طرح وہ معلّم اس پھل فروش کا ضامن بن جاتا ہے ۔
پھل فروش نے قرض لے لیا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ قسطیں ادا نہیں کرتا، اس وجہ سے بینک، ضامن کی تنخواہ میں سے قسط کاٹ لیتا ہے، اب ضامن یعنی وہ معلّم اس شخص سے مذکورہ قسطوں کا مطالبہ کرتا ہے جس نے اس کی پہچان کرائی تھی، برائے مہربانی درج ذیل دوسوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:
۱۔ ان قسطوں کی بابت جو اس جوان پھل فروش نے جمع نہیں کی ہیں اور بینک اس ٹیچر کی تنخواہ میںسے وصول کررہا ہے، کیا وہ شخص ضامن ہے جس نے اس جوان سے آشنائی کرائی ہے ؟

جواب: آشنائی کرانے والا وہی شخص ضامن ہے ۔

۲۔ یہ بات ملحوظ رکھتے ہوئے کہ ٹیچر کے پاس اس پھل فروش کے بارے میں کافی ثبوت ہیں جن کے ذریعہ قانون کے راستے سے وہ اپنا حق وصول کرسکتا ہے کیا پھر بھی سزاوار ہے کہ وہ اس شخص پر زور دے اور اپنی رقم کا مطالبہ کرے کہ جس نے ناتجربہ کاری کی وجہ سے ایسا کردیا تھا؟

جواب: کبھی کبھی ناآگاہی اور تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ خود کو پریشانیوں میں مبتلا کرلیتے ہیں، یہ مورد انہی میںسے ایک ہے لہٰذا وہ شخص شریعت کی رو سے ذمہ دار ہے ۔

سوال ۵۹۵۔ خریدار کچھ ایسے چیک، فروخت کرنے والے یعنی دکاندارکو دیتا ہے جن کا جاری کرنے والا کوئی تیسرا شخص ہے، چیک کی رقم وصول نہ ہونے کی صورت میں (چونکہ اس کے اکاوٴنٹ میں رقم نہیں ہوتی) کیا دکاندار کو خریدار کی طرف رجوع کرنے کا حق ہے، یا یہ کہ اس تیسرے آدمی کے چیک کو، مکان کے قبول کرنے سے، خریدار بریٴ الذمہ ہوجائے گا اور اس کی ذمہ داری صاحب چیک یعنی تیسرے آدمی کی طرف منتقل ہوجائے گی؟ نیز ان دو صورتوں میں کہ جب خریدار کو تیسرے آدمی یعنی صاحب چیک نے اس چیک کو اپنے قرضے کی بابت دیا ہو، یا فقط امانت یا ضمانت کے عنوان سے اس کے حوالہ کیا ہو، کیا کوئی فرق ہوگا؟

جواب: چیک ایک حوالہ کے سوا کچھ نہیں ہے لہٰذا جب تک چیک کی رقم وصول نہ نہیں ہوگی اس وقت تک خریدار، دکاندار کا مقروض ہے مگر یہ کہ دکاندار معاملہ کے وقت خریدار کی ذمہ داری کے بجائے، تیسرے شخص یعنی صاحب چیک کی ذمہ داری کو قبول کرلے ۔

چوبیسویں فصل : رہن کے احکامچهبیسویں فصل : کفالت کے احکام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma