چھتیسویں فصل وقف کے احکام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
پینتیسویں فصل نذر وعہد کے احکامسیتیسویں فصل ہبہ کے احکام

سوال ۸۱۳ -- رقم ماہ مبارک رمضان کی افطاری کے لئے ایک جائداد وقف ہوئی، چونکہ اس مہینے میں کھانا پکانا مشکل ہے اور موقوفہ جائداد آمدنی بھی اتنی نہیں ہے کہ پکاکر افطاری دی جائے آیا اس صورت میں بغیر پکے چاول اور گوشت ضعیف اور مستحق افراد میں تقسیم کیے جاسکتے ہےں؟

جواب:اگر پکاکر دینے کی صورت ممکن ہے تو یہ ہی مقدم ورنہ بغیر پکے بھی تقسیم کیا جاسکتا ہے

سوال ۸۱۴ -- اگر کوئی شخص موقوفہ زمین کو متولی سے کرایہ پر حاصل کرلے اور پھر اس میں کنواں کھدوائے کیا یہ کرایہ پر لینے والا موقوفہ زمین کے پانی سے مفت استفادہ کرسکتا ہے یا اس کو پانی کا کرایہ بھی ادا کرنا پڑے گا؟

جواب:اگر اجارہ فقط کھیتی کے لئے تھا تو کنواں کھود کر پانی نکالنے کے لئے دوسرے اجارہ کی ضرورت ہے، مگر یہ کہ عرف عام میں زمین کے اجارہ کے ساتھ کنواں کھودکر پانی نکالنا بھی شامل ہو ۔

سوال ۸۱۵ -- مندرجہ ذیل وضاحت کو مدنظر رکھتے ہوئے نیچے دئے گئے سوالوں کے جواب عنایت فرمائیے:
۱۔ وقف کا موضوع اولاد ذکور ”بطناً بعدَ بطنٍ ونسلاً بعدَ نسلٍ“ (اولاد در اولاد،نسل در نسل)ہے ۔
۲۔ حالیہ پیٹ سے موقوف علیہم (جن کے لئے وقف ہوا ہے) دس افراد ہیں۔
۳۔ موقوفہ مال کا متولی اولاد ذکور میں سب سے بڑا اور سب سے سمجھدار شخص ہے۔
۴۔ موقوفہ شئے عبارت ہے ۳۶ گھنٹہ پانی اور ۲۴ قطعہ زمین۔
۵۔ہمارا سوال زمین کے بارے میں ہے نہ کہ پانی کے بارے میں ، زمین بھی وہ کہ جو اس وقت آبادی کے اندر آگئی ہے جن کو یا تو کھیتی باڑی کے بارے میں استعمال نہیں کیا جاسکتا یا کھیتی باڑی کرنا حرج ومرج یا وہاں کے ساکنین کے لئے نارضایتی کا سبب ہے۔
۶۔ وقف نامہ کے متن میں یہ صراحتاً بیان ہوا ہے: متولی کو چاہیے کہ جو املاک مذکورہ کی سعی وکوشش ونظم ونسق کا لازمہ ہے اس پر عمل پیرا ہو۔
۷۔ اور یہ بھی تاکید کی گئی ہے کہ موقوفہ املاک کو نہ خریدا جائے اور نہ بیچاجائے اور نہ ہی رہن ووثیقہ کے طور پر رکھا جائے ۔
اب اس صورت میں نیچے دیے گئے سوالات در پیش ہیں:
الف) ایسی صورت میں جب کہ موقوف علیہم متعدد اور مختلف مراجع کے مقلد ہوں تو وقف کے اختلافی احکام جاری کرنے سے متعلق متولی کا وظیفہ کیا ہے؟

جواب: متولی کو چاہئے کہ اپنے مرجع تقلید کے فتوے کے مطابق عمل کرے۔
ب) اگر موقوف علیہم کے درمیان کسی بھی فرد میں یہ دو صفتیں ”اسن وارشد“ (یعنی عمر میں بڑا ہونا اور سمجھدار ہونا )پائی جاتی ہوں، کیا اس صورت میں متولی کاعمر میں بڑا ہونا ، یا سمجھدار ہونا کافی ہے یا دونوں صفتوں کا ہونا ضروری ہے؟
جواب: احتیاط واجب یہ ہے کہ فیصلے دونوں کی نظر کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیے جائیں۔
ج) ارشد ہونے کی اصلی صفات اولویت کی ترتیب کے ساتھ کیا ہیں؟ یا ارشد کا مفہوم مختلف موارد وموضوعات کی نسبت زیادہ قیود وشرائط کا حامل ہے؟ مثلاً آیا سوال کے مورد میں کھیتی باڑی میں مہارت رکھنا مفہوم رشد میں دخالت رکھتا ہے؟
جواب: اس جیسے موارد میں ارشد وہ ہے جو امور اقتصادی کی مدیریت اور موقوفہ اشیاء کو صحیح طریقہ سے ادارہ کرنے سے آگاہ ہو۔
د) کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ واقف نے موقوفہ زمین کو صرف کھیتی میں استعمال کے لئے منحصر کیا ہے؟ آیا وقف نامہ کی اس عبارت ”متولی کو چاہیے جو املاکِ مذکور کی سعی وکوشش اور نظم ونسق کا لازمہ ہے اس پر عمل پیرا ہو“ سے معلوم نہیں ہو تاکہ کھیتی باڑی کے علاوہ تمام صحیح شرعی اور عرفی استعمالات، کوئی اشکال نہیں رکھتےخصوصاً جبکہ دیگر استعمالات زیادہ در آمد رکھتے ہوں اور اصل زمین یا ان کا عوض بھی باقی رہے؟
جواب: جب تک اس زمین میں کھیتی باڑی کرنے سے معقول درآمد ہو تو یہ ہی مقدم ہے لیکن اگر کھیتی کرنے میں منافعہ نہ رہے یا بہت کم منافعہ ہو تو اس زمین کو دوسرے کاموں کے لئے جیسے گھر بنانا یا اسی کے مانند دیگر کاموں کے لئے اجارہ پر دیا جاسکتا ہے۔

سوال ۸۱۶ -- ایک گھر کے وقف کاصیغہ اس پر مشروط ہوا تھا کہ واقف ضرورت کے وقت عین وقف کو اپنی طرف استرداد (پلٹانے) کا حق رکھتا ہے، واقف نے وقف سے پہلے اس گھر کو تیس (۳۰) سال کی مدت کے لئے کرایہ (اجارہ) پر دے دیا اور اپنے لئے خیار فسخ کا حق محفوظ رکھا، اب تیس سال گذرجانے پر اس گھر کو موقوف علیہ کے سپرد کرنا چاہیے لیکن حال حاضر میں ابھی اس کے کرایہ کی مدت کے ۱۲ سال باقی ہیں، دوسری طرف سے یہ کہ یہ گھر حضرت معصومہ (س) کے حرم کو توسعہ دینے کے پلان میں آگیا ہے اور عنقریب ٹوٹنے والا ہے تو آپ فرمائیے:
۱۔ کیا اس پیسہ سے جو شہرداری (میونسپلٹی) اس گھر کے انہدام کی بابت ادا کرے گی دوسرا مکان خریدا جائے اور تیس سال پورے ہوجانے کے بعد موقوف علیہ کے سپرد کردیا جائے؟
۲۔ کیا باقی ماندہ مدتِ اجارہ وارث کی طرف منتقل ہوجائے گی؟

جواب: مذکورہ وقف اشکال رکھتا ہے ، وہ مال میّت کے دوسرے اموال کی طرح وارثین میں تقسیم ہوگا اور نیز باقی ماندہ مال الاجارہ میت کے وارثوں سے متعلق ہے۔

سوال ۸۱۷ -- ایک شخص نے اپنا گھر اس شرط پر مسجد کے نام وقف کیا تھا کہ عمر بھر اس گھر میں رہے اور اگر کوئی اس کا بیٹا پیدا ہو تو وہ بھی عمر بھر اسی گھر میں رہے گا، اب معلوم نہیں ہے کہ وہ گھر کب مسجد کے تصرف میں آئے گا اس مطلب کو مدنظر رکھتے ہوئے فرمائیں؟
۱۔ کیا یہ وقف صحیح ہے؟

جواب: جی ہاں، یہ وقف صحیح ہے اور اسی کے مطابق عمل کیا جائے ۔

۲۔ کیا اس گھر کے اوپر مسجد کا مال خرچ کیا جاسکتا ہے؟

جواب: جب گھر مسجد کے اختیار میں آجائے تو مسجد کی درآمد سے اس پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔

۳۔ کیا واقف کے مرنے کے بعد یہ گھر مسجد سے متعلق ہوگا یا وارثوں کی طرف منتقل ہوجائے گا؟

جواب: واقف اور اس کے بیٹے کے مرنے کے بعد یہ گھر ہمیشہ کے لئے مسجد سے متعلق ہوجائے گا۔

سوال ۸۱۸ -- وہ مہر شدہ قرآن جس پر وقف کی مہر لگی ہو، سعودی عرب کے سیاسی عہدہ داروں سے لینا کیسا ہے؟

جواب: جب بھی وہ آگاہی کے ساتھ لوگوں کو ہدیہ کریں کوئی مانع نہیں رکھتا۔

سوال ۸۱۹ -- ان اشخاص کی تکلیف جنھوں نے بطور تبرک خانہ کعبہ کا تھوڑا سا پر دہ پھاڑ لیا ہے ، کیا ہے؟

 

جواب: ا نھوں نے غلط کام کیا ہے؛ لیکن فعلاً ان پر کوئی تکلیف نہیں ہے۔

سوال ۸۲۰ - کچھ رقم مسجد کے لاؤڈسپیکر ، ٹیپ ریکارڈ وغیرہ کے لئے جمع کی گئی تھی، ان وسائل کی خریداری کے بعد کچھ لوگ کہتے ہیں ”ہمارا مقصد یہ تھا کہ ان کو فقط مسجد میں ہی استعمال نہ کیا جائے بلکہ مسجد کے باہر مذہبی محافل ومجالس سیدالشہداء میں استعمال کیا جائے“ کچھ لوگ کہتے ہیں ”کہ ہم نے جو پیسہ ان وسائل کی خریداری کے لئے دیا تھا، مسجد کے وقف کے عنوان سے دیا تھا“ اب آپ فرمائیں کون سی جہت مقدم ہے؟

جواب: ان لوگوں کی نظر جنھوں نے پیسے کو وقف خاص کے عنوان سے دیا تھا، انھیں کی نظر کے مطابق عمل کیا جائے۔

سوال ۸۲۱ -- ایک شخص نے ایک باغ کو وقف کیا، تاکہ اس کی درآمد سے مجالس عزا برپا کی جائیں اور حضرت امام حسین - کے نام پر کھانا بھی کھلایا جائے لیکن اس کی درآمد ان دونوں کاموں کے لئے ناکافی ہے، اب کیا ہونا چاہیے؟

جواب: اگر ممکن ہو تو مجلس اور اطعام (کھانا کھلانا) کو مختصر طور پر انجام دیا جائے تاکہ دونوں کام حاصل ہوجائیں اور اگر یہ ممکن نہیں، اس چیز پر عمل کریں جو پہلے ذکر ہوئی ہے۔

سوال ۸۲۲ - ایک حِصَص (شیئر) والی شرکت (کمپنی) ملک کے قانون کے مطابق وجود میں آئی۔ کچھ مدت کے بعد اس شرکت کے حِصَص کہ ان میں سے کچھ شیئر ایک عمومی موسّسہ (ادارہ) سے متعلق تھے۔ بغیر اس کے کہ حِصَص سے کوئی مال متعلق ہو، یہ حصے تمام حصہ داروں کی طرف سے ایک آئین نامہ اور قانون وضوابط کے مطابق ”وقف عام“ کردیے گئے اور عین موقوفہ (مذکورہ حِصَص ) کو متولی کے قبضہ میں دے دیے گئے، مشروع اقتصادی کارکردگی کے بعد اب موقوفہ شرکت، منقول وغیرمنقول مال کی مالک بن گئی ہے، اس چیز پر نظر رکھتے ہوئے کہ بہت سے معتقد ہیں کہ حِصَص کو وقف کرنا باطل تھا اور اصولاً وقاعدتاً وقف محقق ہی نہیں ہوا اور تمام اموال جو حاصل ہوئے ہیں، وہ پہلے حصہ داروں کو واپس پلٹائے جائیں، آپ سے عرض ہے کہ حصص کے وقف کے صحت وبطلان کے سلسلہ میں نظرشرعی بیان فرمائیں؟

جواب: اس صورت میں جبکہ کوئی شرکت (کمپنی) حصص (شیئر) والی ہو اور یہ حصص اموال کی صورت میں جیسے کارخانہ، عمارت یا اسی کے مانند ہو تو ان حصص کا وقف کوئی مانع نہیں رکھتا اور جب وقف محقق ہوجائے تو اس کا پلٹانا ممکن نہیں ہے؛ یہاں تک کہ اموال حصّہٴ مشاع (وہ مال جس میں حصہ داروں کا حصہ جدا نہ کیا گیا ہو) کا وقف بھی کوئی مانع نہیں رکھتا۔

سوال ۸۲۳ -- فقہائے عظام نے وقف کی تعریف میں فرمایا ہے: ”حفظ العین وتسبیل المنفعہ“ عین (اصل مال) باقی اور منافعہ جاری رہے اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے آج کے دور میں ملک کے نظام اور اقتصاد کے تبدل وتغیّر کے زیر اثر سکہ رائج الوقت نے اپنا ایک خاص مقام حاصل کرلیا ہے ، اکثر وبیشتر افراد قصد رکھتے ہیں کہ اپنے مال کا کچھ حصہ کار خیر کے لئے وقف کردیں ، التماس ہے کہ ذیل میں پوچھے گئے سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں؟
۱۔ کیا بینک کے کھاتے میں موجود ہ نقد رقم اور اس کے منافعہ کو اسلامی بینک داری کے قوانین کے مطابق وقف کرنا جائز ہے تاکہ واقف کی نظر کے مطابق خرچ کیا جاسکے؟

جواب: اس اشکال کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو فقہاء نقد پیسے کے وقف کے سلسلے میں جانتے ہیں احتیاط یہ ہے کہ اس جیسے موارد میں وصیت سے کام لیا جائے یعنی اپنی زندگی میں ایک رقم بینک یا قرض الحسنہ سوسائٹی کے سپرد کرے اور وصیت کرے کہ اس کے مرنے کے بعد اسی طریقے سے جاری رہے (بشرطیکہ وصیت ثلث ۱/۳ مال سے زیادہ نہ ہو، یا اگر ثلث مال سے زیادہ ہے تو اپنی زندگی میں ورثہ سے اجازت لے)

سوال ۸۲۴ - ایک شخص نے ایک باغ وقف کیا حال حاضر میں اس کے درخت کسی وجہ سے سوکھ گئے ہیں، کیا اس باغ کی زمین وقف کا حصہ شمار ہوگی؟ کیا سوکھے درختوں کی جگہ نئے درخت لگانا جائز ہے ؟

جواب: جبکہ اس نے باغ کو وقف کیا ہے تو باغ کی زمین بھی وقف ہوگئی، ضروری ہے کہ اس زمین کو باغ کی صورت میں یا سکونت کی صورت میں استعمال کیا جائے اور اس کی سالانہ آمدنی کو مورد وقف میں خرچ کیا جائے۔

سوال ۸۲۵ -- کیا لقطہ (پائی ہوئی چیز) کا وقف جائز ہے؟

جواب: اس صورت میں جبکہ پانے والا شخص شرعی شرائط کے مطابق اس چیز کو اپنی ملکیت میں لایا ہو، ہر طرح کا تصرف کرنا جائز ہے چاہے وقف عام ہو یا وقف خاص۔

سوال ۸۲۶ -- وہ زمین جس کو دوسروں نے آباد کیا ہے کیا اس کو وقف کیا جاسکتا ہے؟

جواب: آباد کرنے والوں کے اذن اور رضایت کے بغیر اس میں کسی بھی طرح کا تصرف جائز نہیں ہے۔

سوال ۸۲۷ -- کیا موقوفات کے متولی حضرات ، اموال موقوفہ کو ایسی مجالس پر خرچ کرسکتے ہیں جن میں مجلس پڑھنے والا حدیث کے صحت وسقم سے لاپرواہ ہو، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: ایسے خطباء کو مدعو کرنا چاہیے جن کی مجلسیں مشروع ہوں۔

سوال ۸۲۸ -- ایک شخص نے ایک قطعہ زمین کو بغیر اس کے کہ اس کو ”نسلاً بعد نسلٍ“ کی قید سے مقید کرے اپنے اولاد ذکور پر وقف کیا ہے ، پہلا سوال یہ ہے کہ اس وقف کا کیا حکم ہے؟

جواب: حقیقت میں یہ عمری ہے وقف نہیں ہے، فقط پہلی نسل کو شامل ہوگا، اس کے بعد ورثہ کی طرف پلٹ جائے گا۔
دوسرا سوال: اگر واقف کا پہلا بیٹا تین بیٹے رکھتا ہو، دوسرا دو بیٹے، تیسرا ایک بیٹا، کیا بیٹوں کا حصہ ان کے باپ والا حصہ ہوگا یا ان تمام بیٹوں کے درمیان بالسویہ (برابر) تقسیم کیا جائے گا؟ مثلاً مذکورہ فرض میں بیٹوں کے بیٹوں کی تعداد کل چھ نفر ہوتی تھی کیا تمام بیٹے برابر حصہ لیںگے یا ان کے باپ والا حصہ ان کے درمیان تقسیم ہوگا؟

جواب: جو سوال آپ نے اوپر کیا ہے اس کے مطابق ، وقف، اولاد ذکور کے لئے تھا لیکن وہ مال ”طبقة بعد طبقٍ“ میں قانون ارث کے مطابق تمام ورثہ کے درمیان تقسیم ہوگا۔

سوال ۸۲۹ -- ایک زمین کسی کو ہبہ کی گئی ، کیا ہبہ کرنے والا بغیر اس کی اجازت کے جس کو ہبہ کی گئی ہے، مذکورہ زمین کو وقف خاص کرسکتا ہے اور اگر وقف عام کرے تو کیا حکم رکھتا ہے؟

جواب: جب کسی نے ہبہ کردیا اور سپرد بھی کردیا، تو وہ مال موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا گیا ) کی ملکیت میں آگیا لیکن اگر موہوب لہ اس کے عزیزوں میں سے نہ ہو اور ہبہ بھی معوضہ نہ ہو، تو موہوبہ مال کو واپس لے سکتا ہے اور وقف بھی کرسکتا ہے۔

سوال ۸۳۰ -- ایک موٹرکار امور خیریہ کے لئے وقف کی گئی کار کے ڈرائیور کو جو اس مرکز میں کام اور مرکز کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے ایک طولانی سفر پیش آگیا ، کیا وہ اس موٹر کار کو استعمال کرسکتا ہے؟

جواب: اس موٹر کار کا ذاتی استعمال جائز نہیں ہے۔

سوال ۸۳۱ -- وقف کے مال کو کھانے کی روک تھام کا طریقہ بیان فرمائیں؟

جواب: اس کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ جامعہ کی ثقافتی سطح کو مذہبی نقطہ نظر سے بلند مرتبہ تک پہچائی جائے اور موقوفات پر امین افراد کا تقرر کیا جائے۔

سوال ۸۳۲ - ہمارے شہر میں شادی کے جشن ، ختنہ کی تقریب اور بہت سے ذاتی پروگرام، عزاخانوں میں کیے جاتے ہیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ بہت سے کام ان پروگراموں میں خلاف شرع انجام دیے جاتے ہیں،جیسے:
۱۔ جو افراد یہاں پر حاضر ہوتے ہیں وہ آنے سے تھوڑا پہلے شراب پیتے ہیں!
۲۔ فیلم بنوانے کے لئے دولھا جوتوں کے ساتھ عزاخانے کے فرش پر چلتا ہے اور اس طرح اہل بیت عصمت وطہارت ٪ کی حرمت کو پامال کرتا ہے۔
۳۔ پوری رات اور کبھی کبھی دن میں بھی عورت اور مرد کی آواز خصوصاً جوانوں کی آواز، گاڑیوں کا شور ،اطراف میں رہنے والے افراد کے آرام میں خلل ڈالتا ہے، یہ مذکورہ امور اس بات کا سبب بنے کہ بعض لوگوں نے اپنی شخصی جائے سکونت کو فروخت کردیا اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ بعض لوگ ائمہ اطہار ٪ سے بد بین ہوگئے، لہٰذا حضور کی نظر ائمہ اطہار ٪ کے گھروں کو اس طرح استعمال کرنے کے سلسلے میں کیا ہے؟

جواب: گناہوں سے آلودہ محافل کابرپا کرنا کسی بھی مکان (جگہ) میں جائز نہیں ہے؛ اور وہ مکان جو اہل بیت ٪ سے منسوب ہوگئے ہیں وہاں پر گناہ دوبرابر ہوجاتا ہے، اس کام سے منع کیا جائے، اگر کمیٹی کے افراد ان کاموں کی موافقت کریں تو ان کو معزول کردیا جائے، لیکن عزاخانے کے وسائل کا ذاتی استعمال اس صورت میں جائز ہے جب واقفین نے وقف کے وقت اس کو وقف عام کیا ہواور ہمسایوں کے لئے مزاحمت ایجاد کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔

سوال ۸۳۳ - ایک محلے کے کچھ معتمد لوگوں نے ایک زمین کو شہری زمین کے ادارہ سے عزاخانہ بنانے کے لئے حاصل کیا، لیکن نہ اس کی سند عزاخانے کے نام تیار کرائی گئی اور نہ ہی اس کی پےروی کی گئی (کہ سند تیار ہوجائے) اب اگر ایک فرد یا کچھ افراد پےروی کریں اور اس زمین کی سند کو بعنوان عزاخانہ اپنے نام کرالیں لیکن اس سے دوسرے فائدے اٹھائے جائیں، جیسے کتب خانہ، ورزش کے ہال، کلب یا سینما ہال وغیرہ اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: اس زمین کو اسی کام میں استعمال کیا جائے جس کام کے لئے موافقت ہوئی تھی۔

سوال ۸۳۴ -- ایک شخص نے ۱۳۶۲ ہجری شمسی میں ایک زمین کو درج ذیل صورت میں وقف کی ہے ”اگر اس زمین میں کوئی عمارت بنائی جائے تو بعنوان مسجد بنائی جائے اور مسجد تعمیر نہ ہونے کی صورت میں زمین میری رہے گی“ آیا اس صورت میں وقف صحیح ہے؟ بہر کیف کیا مذکورہ زمین کو بیچ کر دوسری جگہ مسجد بنانے کے لئے زمین خریدی جاسکتی ہے؟

جواب: اس طرح کا وقف اشکال رکھتا ہے اور اس طرح وقف کرنے سے صرف نظر کی جائے، لیکن چنانچہ واقف موافقت کرے، اس زمین کواسی جگہ، یا دوسری جگہ مسجد بنانے کے لئے استعمال کیا جائے بہتر ہے۔

سوال ۸۳۵ -- مسجد کے امکانات، جیسے باورچی خانہ، برتن وغیرہ کو فاتحہ کی مجالس میں استعمال کرنا، چاہے یہ مجالس مسجد کے اندر منعقد ہوں یا مسجد کے باہر کیا حکم رکھتا ہے؟

جواب: جائز نہیں ہے؛ مگر یہ کہ واقفین کی نظر (مسجد وغیر مسجد کے لئے)عام تھی، یا وہ جگہ اس کام کی متقاضی ہو۔

سوال ۸۳۶ -- تعلیم وتربیت کے ادارہ نے ایک مسجد کی زمین پر جو اس ادارہ کے برابر میں تھی عمداً یا سہواً قبضہ کرکے اس میں عمارت بنالی ہے، اب اگر یہ طے ہوجائے کہ اس عمارت کو گرادیا جائے تو اس ادارہ کی پوری عمارت ہی ویران ہوجائے گی، یا قابل توجہ ضرر اس مدرسہ کو پہنچے گا ادارہ اوقاف اور متولی اسی بات پر راضی ہیں کہ مذکورہ عمارت کی زمین کو تعلیم وتربیت کے ادارہ کو اجارہ (کرایہ) پر دے دیا جائے اور سند اجارہ تیار کرالی جائے، کیا یہ کام مشروع ہے؟

جواب: چنانچہ اگر یہ کام عمدی (جان بوجھ کر) نہیں تھا تو اجارہ کی سند تیار کی جائے اور اس کی درآمد مسجد کی تعمیرات میں صرف کی جائے۔

سوال ۸۳۷ -- زمین کے ایک ٹکڑے میں کسی کی طرف سے کوئی اعتراض کیے بغیر مدت دراز سے ، مومنین کی میتیں دفن ہورہی ہیں ، کیا یہ کام، قبرستان کے وقف کا حکم رکھتا ہے؟

جواب: جب تک اس زمین کا مالک صریحاً وقف کے عنوان سے دفن کرنے کی اجازت نہ دے، وقف کا حکم نہیں رکھتی۔

سوال ۸۳۸ -- ایک زمین جو ایک خاص آبادی یا شہر کے لئے وقف تھی اور بطور قبرستان استعمال ہورہی تھی ، کیا قبرستان کو منہدم کرکے دوبارہ شخصی عمارت کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے؟

جواب: اس صورت میں جب کہ وقف دفن اموات کے لئے ہوا اس کو بدلا نہیں جاسکتا؛ مگر یہ کہ میتوں کا دفن کرنا وہاں ممکن نہ ہو، اس صورت میں اس زمین کو دیگر کارخیر جیسے مسجد، مدرسہ کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سوال ۸۳۹ -- کاشان میں آران نامی جگہ پر امامزادہ محمد ہلال بن علی - کا مزار، ملک کے دیگر امامزادوں کے مزار کی طرح ایک کمیٹی کے ذریعہ، ادارہ ہوتا ہے، اس امامزادہ کی کمیٹی نے ابتداء سے مزار کے مخارج اور تعمیراتی خرچ کو پورا کرنے کے لئے اطراف کی زمینوں کو فروخت کرنے کا اقدام کیا تھا، اس جگہ کے ساکنین نے اپنے قالین بُنّے کی محنت سے کمائی ہوئی رقم کے ذریعہ زمین کے ایک حصہ کو قبروں کے لئے اپنی ضرورت کے مطابق خریدلیا تھا اور اس زمانے میں نوبت یہ تھی کہ قبروں کو فقط نذورات کے عوض خریداروں کے سپرد کیا جاتا تھا، حال حاضر میں مزار کو توسعہ دینے اور نئے طریقے سے بنانے کا پلان اپنے اجرائی مراحل میں ہے، مذکورہ مزارمحمد ہلال بن علی کی کمیٹی نے پہلے خریدی ہوئی قبور کو بغیر اصلی صاحبان قبور کی رضایت کے دوبارہ سے دوسرے خریداروں کے ہاتھ بیچنا شروع کردیا ہے، جب کمیٹی کے سامنے قبروں کے اصلی مالکین کے اعتراض پیش ہوئے تو جواب میں کہنے لگے کہ مزار کا اپنا ایک خرچ ہے اس کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان قبروں کو بیچاجائے، اس کے علاوہ یہ کہ پہلے معاملوں کا کوئی اعتبار نہیں رہا، اس وضاحت کو مدنظر رکھتے ہوئے نیچے دیے گئے سوالات کا جواب عنایت فرمائیں:
۱۔ صاحبان اصلی کی رضایت کے بغیر قبروں کے بیچنے کا کیا حکم ہے؟
۲۔ ان قبروں کے بیچنے کی رقم سے مزار کے خرچ کے پورا کرنے یا تعمیراتی مخارج یا دوسرے مصارف میں صرف کرنے کا کیا حکم ہے؟
۳۔ صاحبان اصلی کی عدم رضایت کی صورت میں اس مزار کے صحن میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
۴۔ دوبارہ خریدی ہوئی قبروں میں نئے مالکین کی طرف سے سپردخاک کئے گئے مردوں کا کیا حکم ہے؟
۵۔ کیا مزار کی کمیٹی کا صرف یہ دعویٰ کہ قبروں کو چند طبقوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے (حالانکہ پہلی فروخت کے وقت طبقوں کی کوئی محدودیت نہیں تھی) کچھ قبروں کو پہلے خریداروں سے لے لینے کی شرعی دلیل بن جاتا ہے؟

جواب: پہلے سے آخری سوال تک: وقف کی خرید وفروش جائز نہیں ہے، لیکن پہلے اگر کچھ پیسہ اباحہٴ دفن کے عوض لے لیا گیا تھا، اس پر کوئی اور چیز نہیں بڑھائی جاسکتی۔

سوال ۸۴۰ -- مشہور یہ ہے کہ زمین کا فلاں ٹکڑا زردشتی کا وقف ہے، ایک آگاہ زردشتی کے اظہار نظر کے مطابق، زمین کے منافع کو وقف کیا گیا تھا تاکہ ہر سال ایک خاص دن لوگوں کو مدعو کریں اور ان کا روحانی پیشوا ، مذہبی امور کو انجام دے اور اس جگہ کے تمام زردشتیوں کو دوپہر کا کھانا کھلایا جائے، کیا ایسا وقف صحیح ہے؟

جواب: مذکورہ وقف اس تشریح کے ساتھ جو آپ نے تحریر کی ہے اشکال نہیں رکھتا؛ بشرطیکہ زردشتی اسلام کے مخالف تبلیغات انجام نہ دیں۔

پینتیسویں فصل نذر وعہد کے احکامسیتیسویں فصل ہبہ کے احکام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma