اڑتیسویں فصل احیاء موات کے احکام(بنجر زمینوں کے آباد کرنے کے احکام)

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
سیتیسویں فصل ہبہ کے احکامانتالیسویں فصل اقرار کے احکام

سوال ۸۴۴ -- ہمارے شہر کے اطراف میں بہت سی معادن (کانیں) موجود ہیں یہ معادن نہ کھوج کی جانے والی معادن میں سے ہیں اور نہ زیر زمین واقع ہیں، ان سے فائدہ حاصل کرنا بہت آسان ہے اور نہ ہی ان پر کوئی زیادہ خرچ آتا ہے، مثال کے طور پر ڈولومائیٹ Dolomite(ٹائلس وغیرہ بنانے کی مٹی) سے استفادہ کرنا کہ جو ایک طبیعی پہاڑ کی صورت میں ہے لوگ فقط معمولی فنی آلات، جیسے بلڈوزر یا مکینکی بیلچہ کو استعمال کرکے اس سے منافعہ حاصل کرتے ہیں، مذکورہ معدن جوشہر اور دیہاتوں کا طبعی جز ہے مالکیت اور بستی کی آمدنی کے لحاظ سے ان کی وضعیت کیا ہے؟ کیا دیہات والے ان معاہدوں میں جو خصوصی یا حکومتی شرکتوں (کمپنیوں) کے ساتھ کیے جاتے ہیں مداخلت اور درآمد کا وہ حصہ جو اس معاہدے سے حاصل ہوا ہے اپنے گاؤں کی ترقی کے لئے مخصوص کرسکتے ہیں؟

جواب: اس صورت میں جبکہ معدن (کان) گاؤں کی حریم میں واقع ہو (حریم سے منظور، وہ زمینیں ہیں جو گاؤں والوں کی ضرورتوں میں استعمال کی جاتی ہیں، جیسے وہ زمین جہاں سامان اتارا جاتا ہے، یا پکی ہوئی فصل اور ایندھن جمع کیا جاتا ہے) گاؤں والے اس پر حق رکھتے ہیں اور اپنے حق کے بدلے کوئی چیز لے بھی سکتے ہیں لیکن اگر معدن (کان) گاؤں کے حریم سے خارج ہے سزاوار یہ ہے اس گاؤں کے لوگوں پر مہربانی کی جائے، اگر معدن سے گاؤں والوں کا نقصان ہوتا ہے تو اس کا جبران بھی لازم ہے۔

سوال ۸۴۵ -- میں نے ایک پانی کی ٹنکی اہل دیہات کی طرف سے ہدیہ دی ہوئی زمین میں محض اس نیت سے کہ نلوں کا پانی گاؤں والوں تک پہنچ جائے ، موجودہ اہالی دیہات کے سرمایہ کی مدد سے ،جہادسازندگی (ایک فلاحی ادارہ) کے پروانہ کے ساتھ بنوائی، لیکن اس کے تمام لوازمات اور مخارج جیسے (پانی کا ٹینک، پائپ، بجلی، پمپ ( کہ جس کے ذریعہ سے پانی نکلتا ہے)جہادسازندگی ادارہ نے دیے ہیں، تو حضور فرمائیں :
۱۔مفروضہ سوال میں پانی کا مالک کون ہے اور حکومتی مدد تملیک ہے یا اباحہ؟

جواب: جب قوانین حکومت کے مطابق پروانہ، جہادسازندگی کے نام ہونا چاہیے اور جو کچھ، لوگ دیں وہ بھی اسی ادارہ کی ملکیت ہو، تو اس صورت میں یہ تمام مربوطہ اموال ادارہ جہادسازندگی اور حکومت اسلامی سے متعلق ہوگا۔

۲۔ کیا حکومتی مدد،ٹنکی بنتے وقت موجودہ گھرآنوں سے مخصوص ہے یا بعد والی نسلوں کے افراد بھی اس میں شامل ہیں؟

جواب: اوپر بیان کئے گئے فرض کی بنیاد پر اس ٹنکی کا اختیار حکومت کے ہاتھوں میں ہے۔

۳۔ وہ افراد جو ٹنکی بنوانے والوں کے عزیز واقارب میں سے تھے اور انھوں نے ٹنکی بنوانے میں کچھ دیا بھی نہیں تھا، اس کے بعد انھوں نے گھر بنالئے (اس فرض پر کہ حکومتی مدد ان کو بھی شامل ہوگی) کیا یہ افراد اپنے گھروں میں نل کا کنکشن لے سکتے ہیں؟ اور اگر کنکشن لینے میں کچھ رقم دینا پڑے تو کیا ہر شخص کے حصہ کا حساب ٹنکی بننے کے زمانے کے لحاظ سے ہوگا یا قیمت روز معیار ہے؟

جواب: اس صورت میں جبکہ ٹنکی ، اس کے مطابق جو اوپر ذکر ہوا ہے، حکومت کو واگذار ہو گئی تھی، ٹنکی بنوانے والوں کا اجازہ دوسروں کے کنکشن لینے کے لئے کافی ہے اور کنکشن کے شرائط کو مذکورہ بالا فرض میں حکومت معین کرے گی۔

۴۔ اگر ٹنکی کا پانی خراب ہوجائے اور پینے کے قابل نہ رہے اور دیہات والے ایک دوسرے کی موافقت سے اس پانی کو کھیتی کے لئے استعمال کریں، کیا وہ احکام جو مذکورہ بالا تین سوالوں میں ذکر ہوئے ہیں اس صورت کو بھی شامل ہیں؟

جواب: حکومت کی موافقت کے ساتھ کوئی مانع نہیں ہے ۔

سوال ۸۴۶ -- برائے مہربانی قنات (وہ قدرتی نالی جس سے سینچائی کی جاتی ہے) چشموں اور کنووں کے حریم (حدود) کے بارے میں اپنی مبارک نظر بیان فرمائیں:
۱۔ کیا ان حدود کو ان بنجر زمینوں سے مخصوص جانتے ہیں جن کو ابھی قابل کاشت بنایا ہے ، کہ سابق (جس نے پہلے بنجر زمین کو آباد کیا) لاحق (جو اس کے بعد آباد کرے) کی ممانعت کا باعث بنتا ہے ، یا ان کو یہاں تک کہ برابر والی املاک میں بھی لازم جانتے ہیں (یعنی پہلی زمین سے مخصوص نہیں ہے)

جواب: دلیلوں کا ظاہر یہ بتاتا ہے کہ یہ احکام بنجر زمینوں سے مربوط ہیں، لیکن ملکی زمینوں میں بھی ان سے فائدہ حاصل کرناہر ایک مالک کے لئے اس حد تک ہونا چاہیے جتنا عرفِ عقلاء میں معمول ہے، معمول سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا اس حد تک کہ دوسروں کے لئے باعث ضرر بنے، اشکال رکھتا ہے۔

۲۔ دونوں فرضوں میں، کیا قنات ، چشمے یا پہلے کنویں کے خشک ہوجانے کے بعد پھر بھی یہ حکم باقی ہے؟

جواب: کنویں کے خشک ہوجانے کی صورت میں جبکہ اس کا مالک اس کو دوبارہ بنوانے سے صرف نظر کرجائے، تب دوسری قنات اور چشمہ کو بنانا کوئی مانع نہیں رکھتا۔

۳۔ دونوں مذکورہ بالا سوالوں کے فرض میں، ممانعت کا وجود اور حدود کی رعایت کا لزوم معین ہوگیا ہے، اگر کوئی شخص اس کی رعایت نہ کرے اور اپنی ملکیت یا گھر میں چشمہ یا قنات یا کنواں کھودے اور پانی نکالے، کیا وہ اس پانی کا مالک ہوجائے گا اور کیا یہ اس کے لئے مباح ہے؟

جواب: ممنوعہ موارد میں احتیاط یہ ہے کہ اس پانی پر غصبی پانی کا حکم جاری کریں۔

۴۔ اوپر والے سوال کے فرض میں، اگر اسی مذکورہ پانی سے کچھ اجناس حاصل ہوں جیسے سبزی، میوہ وغیرہ ان کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ اجناس حرام ہیں؟

جواب: جو اجناس اس پانی سے حاصل ہوئی ہیں حرام نہیں ہیں، لیکن احتیاط یہ ہے کہ پانی کے پیسوں کی بہ نسبت اس شخص کے ساتھ جس کو ضرر پہنچا ہے مصالحت کرے۔

سوال ۸۴۷ -- ایک ایسے گاؤں میں جس کی قدمت تقریباً سات سو (۷۰۰)سال ہے ، ایک قنات (قدرتی نالی) جو بہت سے رہائشی گھروں اور باغوں میں سے گذرتی ہے اور کھیتی کے لئے باغوں سے باہر اس کے پانی کو استعمال کیا جاتا ہے، ان آخری سالوں میں خشک سالی کی وجہ سے اس کا پانی کچھ کم ہوگیا ہے، بعض کسان مدّعی ہیں کہ پانی کی کچھ مقدار تو گھروں کے اندر قدیمی نالی کی وجہ سے اور کچھ مقدار باغوں میں درختوں کی جڑوں کی وجہ سے ختم ہوجاتی ہے لہٰذا چاہتے ہیں کہ نالی کو، جو کئی سال سے گھروں کے اندر سے گذرتی رہی ہے اب گھروں کے باہر سے نکالیں اور باغ کے اندر والی نالی کو سمینٹ سے بنائیں، لیکن اس کام پر گھروں اور باغوں کے مالکان نے اعتراض کیا ہے، کیونکہ پانی گھروں کے اندر قطع ہوجائے گا اور باغ کے درخت خشک ہوجائیں گے،فوق الذ کر تمہید کو مدنظر رکھتے ہوئے فرمائیں:
۱۔ کیا پانی کا یہ راستہ جو کئی سالوں سے ان گھروں کے اندر سے گذرتا تھابدلنا جائز ہے؟
۲۔ اس صورت میں کہ نالی گھروں کے اندر بھی ٹھیک کی جاسکتی ہے ، لیکن ادّعا کرنے والے اس بات پر مصرّ ہیں کہ نہیں نالی کو گھروں کے باہر سے گذارا جائے، کیا یہ کام جائز ہے؟
۳۔ کیا باغوں کے اندر نالی پرمالکوں کی مرضی کے بغیر، سیمنٹ کرنا جائز ہے؟
۴۔ اس صورت میںجبکہ مالکوں کی رضایت کے ساتھ نالی کو باغ کے اندر سے باغ کے باہر منتقل کردیا جائے تاکہ درختوں کو نقصان نہ پہنچے، پانی کے راستے کو تبدیل کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: اس صورت میں جبکہ پانی قدیم الایام سے مذکورہ راستے سے گذرتا تھا اور گھروں اور باغوں کے مالکان بھی اسی راستے پر عملاً توافق رکھتے تھے، پانی کے راستے سے کو تبدیل کرنا اشکال رکھتا ہے، اسی طرح پائپ بچھانا یا نالی کو سمینٹ سے بنانا بھی بغیر مالکوںکی رضایت کے اشکال رکھتا ہے، لیکن اگر پانی کے راستے میں کوئی خرابی ہو تو صاحبان باغ اس کو درست کرائیں، ورنہ پانی کے مالکان اپنے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے بندوبست کرسکتے ہیں اور اس پانی کو باغوں کے لئے استعمال کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ اس پانی میں حصہ رکھتے ہوں۔

سوال ۸۴۸ -- جب بھی کوئی کافر بلاد مسلمین میں کسی زمین کو آباد کرلے، کیا اس زمین کا مالک ہوجاتا ہے؟

جواب: حکومت اسلامی کی موافقت کی صورت میں مالک ہوجائے گا بشرطیکہ مسلمانوں کو ضرر نہ پہنچائے۔

سیتیسویں فصل ہبہ کے احکامانتالیسویں فصل اقرار کے احکام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma