انتالیسویں فصل اقرار کے احکام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
اڑتیسویں فصل احیاء موات کے احکام(بنجر زمینوں کے آباد کرنے کے احکام)چالیسویں فصل شہادت کے احکام

سوال ۸۴۹ - کبھی کبھی مُقِرّ(اقرار کرنے والا) اور مُقِرّلہ (جس کے نفع میں اقرا ہورہا ہے) کے درمیان اختلاف ہوجاتا ہے، مہربانی فرماکر نیچے دی گئیں چاروں حالت کے بارے میں نورانی شریعت اور اپنا مبارک فتویٰ بیان فرمائیں:
الف) مُقِرّ اور مقرّلہ اصل اقرار میں اختلاف رکھتے ہیں۔
ب) مُقِرّاور مقرّ لہ ، مقرّبہ (جس چیز کا اقرار کیا جارہا ہے) کی ماہیت میں اختلاف رکھتے ہیں۔
ج) مُقِرّومقرّلہ ، مُقِرّبہ کی مقدار میں اختلاف رکھتے ہیں۔
د) مُقِرّومقرّلہ ، مُقِرّبہ کی اوصاف میں اختلاف رکھتے ہیں۔

جواب: ان تمام صورتوں میں مقرّ کا قول مقدم ہے اور اگر ”مقرّلہ“ کوئی اور دوسرا ادعا رکھتا ہے تو وہ بیَّنہ (دوشاہدوں) کے ذریعہ ثابت ہوگا ورنہ مُقر کی قسم کے ذریعہ نزاع کا خاتمہ ہوجائے گا۔

سوال ۸۵۰ -- مردّد شخص کے لئے اقرا رکے آثار (نتائج) بیان فرمائیں:
الف) کیا ایسا اقرار صحیح ہے؟
ب) صحیح ہونے کی صورت میں مقرّلہ کا معین کرنا کس کی ذمہ داری ہے اور یہ کیسے انجام پائے گا؟
ج) اقرار کے معین ہونے کے بعد مقرّ یا مقرلہ یا مخاطبین کے درمیان اختلاف کی صورت میں کیا حکم ہے؟
د) اگر کوئی اور شخص مقرّلہ ہونے کا ادعا کرے، اس کا ادّعا کیا اثر رکھتا ہے؟ کیا اس صورت میں مقرّلہ پر عنوان مدّعی، وطرف دیگر پر عنوان منکر صادق آتا ہے، نتیجةً کیا یہاں پر مخاصمہ (مقدمہ) کی صورت پیدا ہوجائے گی؟
ھ) اگر مقرّلہ کے علاوہ مقرّبہ بھی مردّد ومبہم ہو، تو کیا نتیجہ نکلتا ہے؟
و) اگر مقرّ، مقرّلہ کے معین کرنے سے خودداری کرے یالاعلمی کا اظہار کرے اور وہ دونو ں (یعنی مردّد اشخاص ) اس کی تصدیق کریں تو کیا تعیّن لازمی ہوجائے گا، یا یہاں پر کوئی اور حکم ہے؟
ز) اگر مقرّ معین کرنے سے خودداری کرے یا لاعلمی کا اظہار کرے، وہ دونوں یا ان میں سے ایک مقرّ کے عالم ہونے کا ادعا کریں، کیاقسم کے ذریعہ مقرّ کا ادّعا قبول کیا جاسکتا ہے؟۔
ح) کیا اقرار کے لئے مخاطبین کی تصدیق یا عدم تصدیق ، مقرّ کی لاعلمی کے اظہار کی بہ نسبت کوئی اثر رکھتی ہے؟

جواب: مبہم شخص کے لئے اقرار کرنا جائز ہے ، لیکن حاکم شرع ،مقرّ کو مُلزَم (مجبور) کرے گا کہ اپنے اقرار کے لئے مناسب تشریح بیان کرے، تشریح سے امتناع کی صورت میں حاکم شرع اس کو قید یا تعزیر کرسکتا ہے، بہرحال اس کے اقرار کی قدر متیقّن حجت ہے اور اس کے مطابق عمل بھی کیا جاسکتا ہے، مگر قسم کے حکم کا اجراء ان جیسے موارد کے لئے مشکل ہے۔

 مسئلہ ٨٥١ : اگر کسی متہم سے تلقین یا غافل یا اکراہ اور اجبار کے ذریعہ سوال کرکے اقرار لیا جائے تو اس مقدمہ کے ضمن میں مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:
١۔ اگر مجرم مذکورہ سوالات کی وجہ سے کسی جرم کا اقرار کرلے تو کیا اس اقرار کا کوئی اثر ہوگا ؟
۲۔ کسی بھی صورت میں ، کیا ایسے سوالات کا بنانے والا خلاف شریعت عمل کا مرتکب ہوا ہے؟ اور سزا کا مستحق ہے؟۔
۳۔ اگر ایسے اقرار کا کوئی اثر اور اہمیت ہو تو کیا اس صورت میں جب اقرار، وجدانی علم واقناع کا سبب بنے اور اس صورت میں جب اقرار علم وجدانی اور اقناع کا باعث نہ ہو، کوئی فرق ہے؟
۴۔ سوال کے فرض کی بنیاد پر ، کیا حقوق الناس اور حقوق الله میں فرق ہے (یعنی ایسا اقرار، حقوق الناس میں اثر رکھتا ہو اور حقوق الله میں اثر نہ رکھتا ہو)
۵۔ جس صورت میں ایسا اقرار اثر اور اہمیت رکھتا ہو ، تو کیا یہ اقرار امارات وقرائن میں شمار ہوگا؟

جواب: ایک سے لے کر پانچ تک : اجبار، اکراہ، جھوٹ اور خلاف گوئی کا سہارا لے کر اقرار لینا جائز نہیں ہے، لیکن قرائن وشواہد کو ملزِم سے بازپرس کے وقت ایسے استعمال کرنا کہ وہ واقعیت کے بیان کرنے سے فرار نہ کرسکے ، کوئی اشکال نہیں رکھتابلکہ حقوق الناس (نہ کہ حقوق الله) میں یہ کام شائستہ اور پسندیدہ ہے اور جو کچھ حضرت امیرالمومنین علی - کے بارے میں نقل ہوا ہے ، وہ سب اسی طرح کا ہے، یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ کبھی کبھی ممکن ہے حسّاس اور مہم موارد میں ڈرانے دھمکانے کے ذریعہ کسی سے اقرار لیں؛ لیکن ایسے اقرار کے بعد کچھ ایسا سراغ ملے کہ موضوع جرم کسی دوسرے طریقے سے روشن ہوجائے؛ اس طرح کہ قاضی کی دلیل اس کا اقرار نہیں بلکہ وہ چیزیں ہوں جو بعد میں کشف ہوئی ہوں (یعنی اس اقرار کی بنا پر قاضی فیصلہ نہیں کرسکتا)

سوال ۸۵۲ -- ایک شخص ایک پر جمعیت عمومی جگہ پر ، یا حکومت کے کارکنان کے کام کرنے کی جگہ پر ، بمب گذاری یا دہشت گردی کے عملیات کے جرم میں ملزِم ہے یا اغوا اور فساد فی الارض کے جرم میں ملوث ہے، جب بھی وہ شواہد وقرائن کہ جو قاضی کی فائل میں موجود ہیں، قاضی کے لئے علم آور ہوں، یا ملزم اقرار کرلے اور نتیجةً جرم ثابت ہوجائے، لیکن اس کے باوجود یہ مذکورہ شخص بمب گذاری کے نقشہ کے فاش کرنے ، زمان ومکان کے دقیقاً بتانے اور شرکاء کے نام لینے سے خودداری کرے ، کیا قاضی ،ملزِم سے ان مہم اطلاعات کو حاصل کرنے کے لئے اور دہشتگردی کے عملیات کا سدباب کرنے کے لئے کہ اگر یہ عملیات محقق ہوجائیں تو بہت زیادہ نقصان کا باعث بنیں گے، ان جیسے استدلال ”دفع افسد بہ فاسد“ افسد کو فاسد سے دفع کرنا، ”ترجیح اہم برمہم “ مہم پر اہم کو ترجیح دینا ”الضرورات تبیح المحذورات“ ضرورتیں، ممنوعہ کام کو مباح کردیتی ہیں، ”اوجب بودن حفظ نظام“ نظام کی حفاظت کرنا زیادہ واجب ہے، کے ذریعہ ملزِم کو شکنجہ کرنے کا حکم دے سکتا ہے تاکہ اس قضیہ کی فوریت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کم سے کم وقت میں اقرار کرلے؟ کیا ایسا اقرار حجت ہے؟

جواب: شکنجہ کرنا جائز نہیں ہے۔

سوال ۸۵۳ -- ایک شخص نے عقد نکاح کے ضمن میں اپنی زوجہ کو وکالتِ بلاعزل نیز دوسرے کو وکیل بنانے کا حق دیا کہ جب بھی زوجہٴ اول کی رضایت کے بغیر دوسری شادی کرے گا، یا عدالت کی تشخیص کے بعد اپنی بیویوں کے درمیان انصاف کی رعایت نہ کرے گا تو بیوی عدالت کی طرف رجوع اوراس سے مجوِّز لے کر، نوع طلاق کو منتخب کرنے کے بعد، اپنے آپ کو مطلقہ کرلے گی، اب اس کے ان اقرار جیسے: میں نے شادی کرلی، تشکیل زندگی دے لی، وغیرہ پر کچھ شاہد بھی شہادت دے رہے ہیں، اس کے علاوہ شوہر، قاضی تحقیق اور پولیس کے سامنے بھی ایسا ہی اقرار کرتا ہے ، اب بیوی نے اپنی وکالت کو استعمال کرنے کااذن طلب کیا ہے، شوہر اس اقرار کو قبول کرنے کے ساتھ کہتا ہے : حقیقت میں ، میں نے شادی نہیں کی تھی، بلکہ ان باتوں سے میرا مقصد بیوی کو تمکین کے اوپر اُکسانا تھا، کیا ایسے مورد میں قاضی کے سامنے اقرار کرنا لازم ہے، قاضی تحقیق کے سامنے اس کا اقرار کرنا یا اس کے اقرار پر شہادت ہی کافی ہے؟ کیا ایسے مورد میں مُقِر کو اقرار سے انکار کا حق ہے؟

جواب: شوہر کا اقرار، یا شوہر کے اقرار پر شاہدوں کی شہادت، قاضی کے عدم حضور میں بھی زوجہ کو اس مسئلہ میں طلاق کا حق دیتا ہے، مگر یہ کہ معتبر قرائن وشواہد موجود ہوں کہ شوہر کا قصد زوجہ کو تمکین کے اوپر اکسانا تھا ۔

سوال ۸۵۴ -- خصوصاً نسب کے اقرار کے بارے میں فرمائیں:
الف) اگر نسب کا محقق ہونا برحسب معمول ممکن ہو اور وہ شخص جس کے نسب کا اقرار ہورہا ہے وہ بھی تصدیق کرے، کیا مُقرّ اور مُقرٌلہ میں توارث ایجاد ہوجاتا ہے ؟ ورثا کا عدمِ وجود، مقرّ کے لئے توارث کے ایجاد کی شرط ہے۔
ب) اس صورت میں کہ جب مُقر ، مشہور اور معلوم ورثہ نہ رکھتا ہو اور مقرّلہ بھی اس کی تصدیق کرتاہو کیا ایسا اقرار توارث کا سبب ہوتا ہے؟
ج) اس صورت میں کہ جب اقرار، کسی وارث کو ارث سے محروم نہ کرے، کیا مُقرّ کا اقرار شرائط کے محقق ہوجانے کے بعد، قابل قبول ہے؟ کیا وارثین کا وجود ، فقط اس اقرار سے مانع ہے جو مُقر اور مقرّلہ میں توارث کا سبب بنے؟

جواب: ان تمام موارد میںاقرار قابل قبول ہے ؛ اگر کوئی اور وارث موجود ہو، تو فقط اقرار کو مُقر کے حصے کے مورد میں قبول کیا جائے گا ، باقی وارثین کے حصے میں سے کوئی چیز کم نہیں ہوگی۔

سوال ۸۵۵ -- قانون مدنی (سِوِل لا) کے مادہ ۱۱۶۱ میں آیا ہے: اگر شوہر صراحتاً اپنی ابوّت (باپ ہونے) کا اقرار کرلے تو اس کا نفی ولد کا دعوا قبول نہیں کیا جائے گا، دوسری طرف سے یہ کہ قانون مدنی کے مادہ ۱۲۷۷ میں آیا ہے: ”اقرار کے بعد انکار قبول نہیں ہوگا، لیکن اگر مقرّ ادّعا کرے کہ اس کا اقرار فاسد تھا یعنی اشتباہ اور غلطی پر مبتنی تھا، قبول کیا جائے گا، اسی طرح جب مقر اپنے اقرار کے لئے عذر بیان کرے تو وہ بھی قابل قبول ہے؟“
التماس ہے کہ فرمائیں:
کیا تمام اقراروں میں مُقرّ یہ ادّعا کرسکتاہے کہ اس کا اقرار فاسد اور غلطی پر مبتنی تھا اور اس کا یہ دعوا قبول بھی کیا جاسکتا ہے؟

جواب: اقرار کے بعد انکار قابل قبول نہیں ہے، مگر یہ کہ ثابت ہوجائے واقعاً غلطی ہوگئی تھی؛ مثلاً کسی اجنبی کو اپنے بیٹے کی جگہ تصور کرلیا تھا۔

 

اڑتیسویں فصل احیاء موات کے احکام(بنجر زمینوں کے آباد کرنے کے احکام)چالیسویں فصل شہادت کے احکام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma