چالیسویں فصل شہادت کے احکام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
انتالیسویں فصل اقرار کے احکاماکتالیسویں فصل وصیت کے احکام

سوال ۸۵۶ -- اگر کوئی عورت عدالت میں اپنے شوہر کے نفع میں اور ایک دوسرے شخص کے ضرر میں شہادت دے، پھر تھوڑی مدت بعد اپنے شوہر کے ساتھ شدید اختلاف پیدا کرلے اور جو شہادت اپنے شوہر کے نفع میں دی تھی اس سے پھرجائے ، کیا شرعی نکتہٴ نظر سے اس کا یہ کچھ اثر ہے؟

جواب: جب اس کا یہ اختلاف دونوں کے اندر دشمنی کا سبب بن جائے تو اس کا شہادت سے پھر جانا کوئی اثر نہیں رکھتا۔

سوال ۸۵۷ -- جب کبھی ملزم کا قتل کے مرتکب ہونے کا اقرار، شہود کی شہادت سے ٹکراجائے تو کیا حکم ہے؟

جواب: ولی دم کو اختیار ہے یا تو مورد شہادت کی بہ نسبت قصاص کرے یا مورد اقرار کی بہ نسبت ، اگر اس نے مورد شہادت کی بہ نسبت قصاص کیا ہے تو آدھی دیت شخص مورد شہادت کے اولیا کو ادا کرے، یہ مسئلہ منصوص اور مفتیٰ بہ ہے۔

سوال ۸۵۸ -- گواہوں کی عدالت کے اثبات اور احراز کا طریقہ کیا ہے؟ خصوصاً محمکہ عدالت کے لئے، ان چیزوں کی طرف دھیان کرتے ہوئے کہ کیس کی فائلیں بہت زیادہ ہیں، شہود اور صاحبان دعوا ، نا شناختہ ہیں، قاضی بھی دوسرے شہر کا رہنے والا ہے، یا شہروں کی آبادی بہت زیادہ ہے، کیا صرف افراد کا ظاہری حلیہ اور مدّمقابل، شہود کے ساتھ جرح نہ کرنا، گواہوں کی عدالت کے اثبات واحراز کے لئے کافی ہے؟

جواب: لازم ہے ان جیسے موارد میں محلے والوں سے، یا ان کے دوستوں سے کچھ تحقیق کی جائے تاکہ ان کا اور ان کے ہمنشینوں کا ظاہری طور پر نیک کردار ثابت ہوجائے ، بس اتنا ہی کافی ہے

سوال ۸۵۹ -- کیا اسلامی قوانین میں اصل قاعدہ یہ ہے کہ عدالت میں آنے والا ہر گواہ، ہ عادل ہے؟ یا شاہد کی عدالت کا ثابت کرنا لازم ہے؟

جواب: شاہد کی عدالت کا ثابت کرنا لازم ہے؛ لیکن اسی کام کے لئے اتناہی کافی ہے کہ اس کے ساتھ نشست وبرخاست رکھنے والا شخص اس سے کوئی غلط کام نہ دیکھے، اس طرح اس کی عدالت ثابت ہو جائے گی۔

سوال ۸۶۰ -- شاہد کو عادل ثابت کرنے کا قانونی طریقہ کیا ہے؟ اور مُذَکِّی کون ہے؟

جواب: قانونی طریقہ یہ ہے کہ مورد اعتماد شخص اس کے ساتھ معاشرت رکھتا ہو اور غلط کام بھی اس سے نہ دیکھتا ہو یا اپنے اردگرد کے افراد میں پاکیزہ اور صاحب تقویٰ شحص کی حیثیت سے معروف ہو، مذکی وہ مورد اعتماد شخص ہے جو ان امور کی کسی کے بارے میں خبر دے اور اس کی وثاقت وعدالت کی گواہی دے۔

سوال ۸۶۱ - کہا گیا ہے کہ: ”جن جگہوں پر مردوں کا مطلع ہونا مشکل ہے، وہاں پر تنہا عورتوں کی گواہی قبول ہے“ اس حکم کی حدود کے بارے میں فرمائیں کہ اس کا دائرہ کس حد تک ہے مثلاً زنانہ حمّام میں خصوصاً قتل عمد کے بارے میں عورتوں کی شہادت کس چیز کو ثابت کرتی ہے؟ یا اگر عورتیں شہادت دیں کہ ایک شخص نے کسی عورت کا بچہ عمداً ساقط کیا ہے اور اسی سے عورت کی موت بھی واقع ہوئی ہے، اس سے کیا چیز ثابت ہوگی؟

جواب: مذکورہ حکم اس طرح کے موارد کو شامل نہیں ہوگا؛ بلکہ اس حکم سے منظور وہ امور ہیں کہ جو بطور طبیعی فقط عورتوں کے ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔

سوال ۸۶۲ - قبائلی زندگی بسر کرنے والوں کے یہاں یہ رسم ورواج ہے کہ اگر ایک خاندان دوسرے خاندان کے ساتھ لڑائی جھگڑے کا قصد رکھتا ہے اور مدمقابل میں کسی کو قتل یا زخمی کرنا چاہتا ہے تو اپنے تمام اہل خاندان سے مشورہ اور ان کو اس ماجرے سے باخبر کرتا ہے ، اس کے بعد سب قسم کھاتے ہیں کہ اس طرح کا جرم انجام دیں گے ، اس بالا مقدمہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ذیل کے سوال کا جواب عنایت فرمائیں:
۱۔ مقتول کا سابقہ دشمنی کی وجہ سے کسی کے ساتھ اختلاف تھا، یہاں تک کہ پہلے چند مرتبہ، مقتول کے خاندان اور قاتلوں کے خاندان کے درمیان لڑائی کی وارداتیں ہوئی تھیں، نیر مقتول کو انھوں نے کئی مرتبہ مارا پیٹا اور دھمکیاں وغیرہ بھی دی تھیں، ایک رات مقابل گروہ کے دو آدمیوں نے اس کے گھر پر حملہ کیا اور اس کو اس کی بیوی اور چھوٹے بچوں کی نظروں کے سامنے قتل کرنے کے بعد ، فرار ہوگئے ! ابھی مقتول میں کچھ جان باقی تھی کہ اس کا چچا اس کے سرہانے حاضر ہوا، مقتول نے اپنے چچا سے کہا: ”فلاں شخص نے مجھے اسلحہ سے زخمی کیا ہے“ دوسری طرف سے قاتلین کے خاندان کے دو تین آدمیوں (بھائی اور چچاکے بیٹے) نے گواہی دی ہے کہ فلاں شخص نے یہ کام نہیں کیا ہے، کیا قاتل کے خاندان والوں کی گواہی جو قتل کے پلان میں شریک تھے اور غرض کے ساتھ گواہی دے رہے ہیں، قابل قبول ہے؟

جواب: ان کا یہ شہادت دینا کہ وہ قاتل نہیں ہے کوئی اثر نہیں رکھتا؛ ہرچند شہود یعنی گواہوں کو قتل کے کیس میں متہم نہیں ہونا چاہیے ، جبکہ اس مقام پر مفروضہ مسئلہ میں شہود متہم بھی ہیں، البتہ مقتول کی شہادت بھی کوئی اثر نہیں رکھتی، مگر یہ کہ قاضی کو مقتول اورمقتول کے عزیزو اقارب کی گواہی کہ جو موقعہ واردات پر حاضر تھے اور اسی طرح کے دوسرے قرائن کے ذریعہ علم ہوجا ئے کہ شخصِ مذکور ہی قاتل ہے۔

سوال ۸۶۳ -- کیا شہود کی شہادت سے، امر عدمی قابل اثبات ہے؟

جواب: اگر اس میں تمام شرائط شہادت پائے جاتے ہیں تو کوئی مانع نہیں ہے ۔

سوال ۸۶۴ -- آیا شاہد کا وظیفہ ہے کہ پوری حقیقت کو بیان کرے، یا اِتنا اقرار کرلینا کافی ہے جو کچھ کہہ رہا ہے وہ حقیقت ہے؟

جواب: شاہد سے جو کچھ پوچھا جائے ، اگر جانتا ہو تو بیان کرنا لازم ہے۔

سوال ۸۶۵ -- کیا شریعت میں ایسے شخص کی گواہی جو اپنی ڈاڑھی کو بلیڈ یا بلیڈ جیسی مشین سے مونڈتا ہو قابل قبول ہے؟

جواب: اگر وہ ایسے مجتہد کی تقلید کرتا ہوے جو اس کام کو جائز جانتا ہوے نیز دوسری جہتوں سے بھی وہ شخص عادل ہے تو شاہد بن سکتا ہے۔

سوال ۸۶۶ -- ذیل کے موارد میں کو نسا فرض صحیح ہے؟
الف) اہل سنت کی گواہی اہل تشیّع کے خلاف دیوانی یا فوجداری کے کیس میں جبکہ خواہاں (گواہوں کے طلب کرنے والے) سنی مذہب اور خواندہ (جس کے خلاف گواہی دی جائے) شیعہ ہوں۔
ب)اہل سنت کی گواہی اہل سنت کے خلاف دیوانی یا فوجداری کے کیس میں جبکہ خواہاں سنی مذہب اور خواندہ شیعہ ہوں۔
ج) اہل سنت کی گواہی دیوانی یا فوجداری کے کیس میںجبکہ خواہاں سنی مذہب اور خواندہ شیعہ ہوں۔
د) اہل سنت کی گواہی اہل تشیّع کے حق میں جبکہ خواہاں سنی مذہب اور خواندہ شیعہ ہوں۔
ھ) اہل کتاب(یہودی ، عیسائی وغیرہ) کی گواہی مسلمان کے حق میں یا نقصان میں۔

جواب: الف سے لے کر ہ تک: اہل سنت کی شہادت اس صورت میں جبکہ وہ اعتقادی نظر سے مستضعف ہوں اور عمل کے اعتبار سے عادل ہوں نیز ان سے فسق نہ دیکھا گیا ہو، تمام مذکورہ صورت میں قبول کی جائے گی؛ (۱)لیکن اہل کتاب کی شہادت چاہے مسلمان کے حق میں یانقصان میں ، قبول نہیں ہے، لیکن ان مخصوص موارد میں کہ جن کی طرف قرآن مجید کی بعض آیتوں (سورہٴ مائدہ/۱۰۶) میں اشارہ ہوا ہے۔
__________________
۱۔ آیة الله العظمیٰ خوئی ۺنے ”مبانی تکملة المنہاج ، ج۱، ص۸۰“ پر اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے.

انتالیسویں فصل اقرار کے احکاماکتالیسویں فصل وصیت کے احکام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma