حدودکے مقدمات

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
چوالیسویں فصل دفاع کے احکاماقسام حدود

الف) اقرار

سوال ۹۰۹ -- زنا اور لواط کی حد ثابت ہونے کے لئے تعدّد اقرار شرط (یعنی متعدد باراقرار کرنا ) ہے کیا عُنْف (یعنی لواط وزنا بالجبر) کی صورت میں بھی تعدُّد اقرار شرط ہے؟

جواب: جی ہاں، تعدُّد اقرار شرط ہے۔

سوال ۹۱۰ -- اس جرم کا اقرار ، جرم سے توبہ کرنے کے بعد جو حد کا سبب ہوتا ہے کیاایسے اقرار کرنا جائز ہے؟ کیا مجازات (سزا) کے اعتبار سے اس کے اقرار کرنے کا کوئی اثر ہوگا ؟

جواب: اقرار اشکال رکھتا ہے اور اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔

سوال ۹۱۱ -- کیا حق الناس، جیسے قذف (کسی پر زنا یا لواطکی تہمت لگانا ) اور قتل عمدوغیرہ کا اقرار کرنا ملزِم پر واجب ہے یا حرام؟

جواب: اقرار واجب نہیں ہے ، لیکن کسی صورت سے حق الناس کو ادا کیا جائے۔

سوال ۹۱۲ -- حدمحاربہ (رعب ووحشت پھیلانے کے لئے کھلے عام اسلحہ لے کر چلنا) اور فساد فی الارض حد کے علاوہ، ہر حدکے ثابت کرنے کے لئے تعدّداقرار شرط ہے، اگر کوئی ملزم حد نصاب سے کم اقرار کرے ، کیا اس کو تعذیر (تنبیہ کے لئے حد سے کم سزا دینا) کیا جائے گا؟

جواب: اس صورت میں تعذیر کرنا اشکال رکھتا ہے۔

سوال۹۱۳ -- کیا قاضی کا وظیفہ ہے کہ مُقِر کو اشارے اور کنایہ میں سمجھادے کہ وہ اپنے اقرار سے عدول یعنی انکار کردے؟ اگر جواب مثبت ہے تو کیا تمام حدود، یہاں تک کہ وہ حدود جو حق الناس سے متعلق ہیں (جیسے حد قذف حد سرقت) ان میں بھی قاضی کا یہی وظیفہ ہے؟

جواب: قاضی کا ایسا کوئی وظیفہ نہیں ہے۔

سوال ۹۱۴ -- جب کوئی زنا کا اقرار کرے اور پھر اس کا انکار کردے، چنانچہ اگر اس کی سزا قتل یا رجم (سنگسار) ہو تو بعد والے انکار کی وجہ سے رجم اور قتل کی حد ساقط ہوجاتی ہے، اس صورت کے علاوہ بعد والے انکار سے حد ساقط نہیں ہوتی ، کیا یہ حکم حد زنا سے مخصوص ہے یا تمام حدود (جیسے حد لواط) میں بھی جاری ہے؟

جواب: یہ حکم حدلواط اور اس جیسی دیگر حدود میں بھی جاری ہے۔
ب) شہادت

سوال ۹۱۵ -- زنا کی گواہی دینے کے لئے مشاہدہ کرنا شرط ہے ، کیا اس شرط میں زنا کے لازمی مقدمات کا مشاہدہ کرنا کافی ہے؟ یا فقط ادخال کا دیکھنا معتبر ہے۔

جواب: مقدمات کا دیکھنا کافی نہیں ہے۔

سوال ۹۱۶ -- زنا کی شہادت پر مشاہدہ کے معتبر ہونے میں،مستقیم مشاہدہ شرط ہے، یا غیر مستقیم مشاہدہ کافی ہے؟ مثلاً اگر شہود یعنی گواہان، آئینہ یا دور سے کنٹرول ہونے والے کیمرے سے ڈائریکٹ دیکھیں، کیا ان کی شہادت شرعی بینہ کے عنوان سے حجت ہے؟

جواب: آئینہ یا کیمرے کے ذریعہ کوئی ممانعت نہیں ہے۔

ج) بلوغ ورشد

سوال ۹۱۷ -- جیساکہ آپ معاملات کی صحت کے بارے میں بلوغ کے علاوہ رشد (عقل وفہم) کو بھی لازم جانتے ہیں، کیا ایسے ہی جرم کی ذمہ داری بھی اس بچے پر اس وقت ڈالی جائے گی جب وہ بچہ بلوغ کے علاوہ جزائی رشد بھی رکھتا ہو؟

جواب: جی ہاں، ان موضوعات میں بھی ان کے لئے رشد کافی لازم ہے۔

سوال ۹۱۸ -- کیا اس بچے پر جو ابھی بالغ ہوا ہے (مثلاً لڑکی ۹/سال کی اور لڑکا ۱۵/سال کا) اسلامی سزاؤں کا اجراء کرنا اس بات پر مشروط ہے کہ اس کا عقلی رشد بھی مُحرَز (معلوم) ہو؟

جواب: جی ہاں، عقلی رشد کے احراز پر مشروط ہے۔

سوال ۹۱۹ -- اسلامی حکومت کے اختیارات ملحوظ رکھتے ہوئے ،کیا ۱۸/ سال سے کم لڑکی اور لڑکے کی سزاؤں میں ، تخفیف کی جاسکتی ہے؟

جواب: تنبیہی سزاؤں میں تخفیف کرناحاکم شرع کے اختیار میں ہے اور ایسے ہی ہے ان حدود (معین سزائیں) میں بھی حاکم شرع اختیار ہے جہاں مجرمنادم ہو اور حد، اقرار کے ذریعہ سے ثابت ہوئی ہو، بیّنہ (گواہوں) کے ذریعہ نہیں ۔

سوال ۹۲۰ -- قانون میں لڑکے کا سن بلوغ ۱۵/سال اور لڑکی کا ۹/سال ذکر ہوا ہے، حالانکہ یہ عمر تو اس پر دینی احکام کے جاری ہونے کا معیار ہے، عدالتی احکام نہیں لہٰذا اس بات پر توجہ رکھتے ہوئے کہ اس عمر میں عقل کم ہوتی ہے اور یہ کہ بچے بُرے لوگوں کے دھوکے میں آجاتے ہیںنیز ان میں سزاؤں کے برداشت کرنے کی طاقت بھی نہیں ہوتی، لہٰذا بچوں کے اوپر عدالتی احکام کے جاری کرنے کے لئے بچے اور بڑے کے درمیان حد واقعی کو مرقوم فرمائیں۔

جواب: اگر ان مسائل عقلی رشد نہ رکھتے ہوں تو اس صورت میں عدالتی احکام ان پر جاری نہیں ہوں گے، فقط ان کو تادیب کیا جائے گا یعنی نبیہ کے طور پر سزا دی جائے گی۔
د) توبہ

سوال ۹۲۱ -- اگر کبھی زنا کا الزام ثابت ہونے کے بعد اور ملزم اور ملزمہ توبہ کا دعوا کریں ، کیا معافی کا تقاضا حکم کے صادر ہونے سے پہلے کرنا چاہیے یا حکم کے صادر ہونے کے بعد بھی وہ یہ حق رکھتے ہیں؟

جواب: اگر توبہ کا یہ دعوا صدور حکم کے بعد کریں اور ان کا یہ دعویٰ ثابت نہ ہوسکے تو اس صورت میں حد ساقط نہیں ہوگی، لیکن اگر وہ گرفتار ہونے سے پہلے ثابت کردیںتو حد ساقط ہوجائے گی۔

سوال ۹۲۲ -- فقہاء امامیہ کے مشہور نظر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ”اگر کافر ذمّی مسلمان عورت کے ساتھ زنا کرنے کے بعد اسلام لے آئے تب بھی حد ساقط نہیں ہوتی ہے“ تو حضور فرمائیں: کیا اس نظریہ کی بنا پر ، اس کے اسلام قبول کرنے کے بعد توبہ، کرنے سے حد ساقط ہوجائے گی، یا اس کو معاف کرنا حاکم شرع کے اختیار میں ہے؟

جواب: اگر اس کا گناہ اس کے اقرار سے ثابت ہوا ہو تو اس صورت میں حاکم شرع توبہ کے بعد اس کو معاف کرسکتا ہے۔

سوال ۹۲۳ -- ہمارے فقہاء نے بہت سی حدود مثل زنا کی حد، لواط ومساحقہ کی حد کے بارے میں فرمایا ہے: ”اس صورت میں جبکہ جرم اقرار سے ثابت ہوجائے اور مجرم اقرار کرنے کے بعد توبہ کرے ، امام ( حاکم ولی امر) کو اختیار ہے کہ اس کو معاف کردے یا اس پر حد جاری کرے“ اور تعزیرات اسلامی کے قانون میں آیا ہے: ”عدالت ، ولی امر سے معافی کا تقاضا کرسکتی ہے“ ذیل میں اسی سے متعلق کچھ سوال ہوئے ہیں:
۱۔ اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ فائیل کا قاضی معمولاً غیر مجتہد ہوتا ہے اور تدوین شدہ قوانین کے مطابق حکم کرتا ہے، کیا ایسے موارد میں قاضی کو اثبات جرم اور حکم صادر کرنے سے پہلے معافی کا تقاضا کرنا چاہیے (اس لئے کہ بہت سے معتقد ہیں انشاء یعنی حکم صادر ہونے کی صورت میں ، تاخیر کی گنجائش نہیں ہے او رحد جاری ہونا چاہیے) یا پہلے حکم صادر کرے اور پھر مجرم کے تقاضے کی بنیاد اور اس کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے معافی کا تقاضا کرے؟

جواب: انشاء حکم اور اور عدم انشاء حکم کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

۲۔ سوال کے فرض میں ، کیا حکم کے صادر ہونے سے پہلے یا حکم کے بعد توبہ کرنے میں کوئی فرق ہے؟ توبہ کا زمانہ کس وقت تک ہے؟ اس بات پر توجہ رکھتے ہوئے کہ بعض روایات میں آیا ہے ،سانس کے گلے تک پہنچ جانے (یعنی دم نکلتے وقت تک) توبہ قبول ہوجاتی ہے، کیا یہا ں بھی ایسا ہی ہے؟ اور یہاں تک کہ اگر حکم کے اجراء کے وقت بھی توبہ کرلے، کیا حاکم کو معافی کا اختیار ہے؟

جواب: کوئی فرق نہیں ہے۔

۳۔ کسی شخص کے گناہ سے پاک ہونے کے اور گناہ پر نا دم ہونے کی صورت میں اقرار اور اس اعتراف کے درمیان جو بازپرس کے ذریعہ عمل میں آیا ہے کہ وہ اقرار واعتراف کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ رکھتا ہو، کوئی فرق نہیں پایا جاتا ہے؟ اور کیا پہلی قسم کااقرار جو ظاہراً ندامت کی رو سے تھا، توبہ کے لئے کفایت کرتا ہے، یا صراحت سے توبہ کرنا جواز عفو کی شرط ہے؟

جواب: توبہ ہر صورت میں عفو کا مجوز ہے۔

۴۔ اس بات پر توجہ رکھتے ہوئے کہ سزایافتہ مجرمکو جرم کی سزا کے علاوہ بعض طبعی سزائیںبھی دی جاتی ہیں (وہ سزائیں جو حد کا نتیجہ ہوتی ہیں) جیسے بعض عہدے اور منصب سے محرومیت منجملہ منصب قضاوت، منصب امامت جمعہ وجماعت وغیرہ ، اب اگر کسی وجہ سے سزا معاف ہوجائے تو کیا احکام اور تبعی سزائیں بھی ختم ہو جائیں گی یا وہ ارتکاب جرم سے متعلق تھیں اور ثابت رہیں گی ؟ اس سلسلہ میں متعلق تائب او ر غیر تائب کے درمیان کوئی فرق ہے؟

جواب: وہ منصب جو عدالت پر مشروط ہیں، توبہ اور ملکہ عدالت کے پلٹ آنے سے، برگشت کے قابل ہیں۔

سوال ۹۲۴ -- اسلامی تعزیرات کے قانون میں آیا ہے کہ: ”اگر زانی اور زانیہ شہود کے گواہی دینے سے پہلے، توبہ کرلیں، ان پر حد جاری نہیں ہوگی، کیا یہ تخفیف زناء عنف (بالجبر) کو بھی شامل ہوگی؟

جواب: حد، جو الله کا حق ہے، گرفتار ہونے سے پہلے توبہ کے ذریعہ ساقط ہوجاتی ہے؛ لیکن حق الناس ، جیسے زناء عنف کے بدلے مہرالمثل کا ادا کرنا، توبہ سے ساقط نہیں ہوتا۔

سوال ۹۲۵ -- جب کبھی زنا کا ملزِم ، تحقیقات کے تمام مراحل میں یہاں تک کہ وکیل کے سامنے جرم اقرارا ور اعتراف نیز توبہ کرنے کا دعویٰ کرے اور رہبر انقلاب سے عفو و بخشش کا تقاضا کرے اور مربوطہ قاضی بھی اس کے تقاضے کا اعلان کرے، کیا اس صورت میں قاضی کے لئے حکم صادر کرنے میں جواب کے حاصل ہونے تک تاخیر میں کرنا جائز ہے ؟

جواب: جرم ثابت ہونے کی صورت میں، قاضی عفو کا منتظر رہ سکتا ہے ۔

سوال ۹۲۶ -- کیا تعزیری جرائم میں گرفتار ہونے سے پہلے مجرم کا توبہ (جبکہ توبہ کرنا ثابت ہوجائے ) کرنا ، تعزیر کے ساقط ہوجانے کا سبب ہوجاتا ہے یا فقط یہ حکم، حدود سے مخصوص ہے؟
برفرض کہ تعزیر ساقط ہوجائے ، کیا ایسے موقعوں پر جب جرم کا ارتکاب نظم میں خلل کا سبب بنے یا اس کے عمل پر دوسروں کی جری ہونے کا خوف ہو، یا بہت زیادہ دہشت پھیل گئی ہوکیا حاکم جرم سے روک تھام اور اجتماعی حقوق سے دفاع کی غرض سے مجرم کو سزا دے سکتا ہے؟
چنانچہ آخری جواب مثبت ہوتو یہ بات ذہن میں آتی ہے ”جیسا کہ محاربہ کی حد، چاہے بہت سے مذکورہ منفی نتائج کا موجب ہو، اس کے مرتکب ہونے والوں کی توبہ کے ساتھ ”قبل اَن تقدروا علیہم“ ساقط ہوجاتی ہے، پس حد سے کم والی سزائیں تو بدرجہ اولیٰ ساقط ہونی چاہیے“
کیا یہ مطلب صحیح ہے یا قیاس مع الفارق ہے؟ جیسا کہ حد الٰہی کا ساقط ہوجانا حق عمومی کے سقوط کا سبب نہیں ہے، اسی طرح چونکہ لوگ اپنے امور میں نظم ونسق قائم کرنے کے لئے خدا کے واجب اور حرام کے علاوہ اپنے درمیان کچھ قوانین مقرر اوران کے لئے اجرا کی ضمانت تعیین کرنے پر مجبور ہیں، لہٰذا قابل قبول نہیں ہے کہ نظم میں خلل ڈالنے والے اور حقیقت میں اجتماعی حقوق کو مختل کرنے والے حق الله کے ساقط ہونے کی وجہ سے اجتماعی قوانین کے توڑنے کی سزا سے رہائی پاجائیں مگر یہ کہ اس حق کا متولی (حاکم) عوام کی نمائندگی میں درگذشت کردے، اس سلسلہ میں حضور کا نظریہ کیا ہے؟

جواب: تعزیرات بھی گرفتار ہونے سے پہلے توبہ کے ذریعہ ساقط ہوجاتی ہیں؛ لیکن شرط یہ ہے کہ آثار توبہ اس کے عمل سے مشاہدہ کیے جائیں، اس شرط کو مدّ نظر رکھتے ہوئے بہت سے توبہ کرنے والے جن کا عمل ان کی ندامت کا پتا نہیں دیتا، اس قانون میں شامل نہیں ہوںگے، مسئلہ کی اجتماعی مشکل کو اس طریقے سے حل کیا جاسکتا ہے ، عناوین ثانویہ ، جیسے نظم عمومی میں خلل ڈالنا، تنہا مجوّز تعزیر نہیں ہوسکتا
ھ) ملاٴ عام میں حد کا جاری کرنا

سوال ۹۲۷ -- آیہٴ شریفہ کو نظر میں رکھتے ہوئے <وَلْیَشْہَدْ عَذَابَہُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُوٴمِنِیْنتازیانے (کوڑا) کی حد کے سلسلے میں ذیل میں دئے گئے سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:
الف) طائفہ سے کیا مراد ہے؟ کیا تازیانے لگاتے وقت ایک بند مکان میں چند اشخاص کا ہونا کافی ہے، یا ملاٴ عام میں ہونا چاہیے؟

جواب: ملاٴ عام میں ہونا لازم نہیں ہے، لیکن ان موارد میں جہاں بہت سے لوگ جرم سے باخبر ہوگئے ہیں اور ملاٴ عام میں سزا کا اجراء مطلوب اثر رکھتا ہوتو اس صورت میں اولیٰ یہ ہے کہ ملاٴ عام میںکوڑے لگائیں جائیں۔

ب) مومن کون لوگ ہیں؟ ایمان بمعنای خاص یا بہ معنای عام؟

جواب: ایما ن سے مراد ، بہ معنای عام ہے۔

ج) فوق الذکر شروط کی رعا یت کرنا واجب ہے یا مستحب؟

جواب: کچھ مومنین کا حاضر ہونا لازمی ہے۔

د) مذکورہ آیہٴ شریفہ کا حکم تعزیری تازیانے لگانے کی طرف بھی سرایت کرتا ہے؟

جواب: تازیانے لگاتے وقت ایک طائفہ کے حاضر ہونے کے وجوب کا حکم لگانا مشکل ہے؛ لیکن اس کے جائز ہونے میں اگر لوگوں کی تنبیہ کے لئے مفید ہوکوئی اشکال نہیں ہے۔
ھ) کشف جرم کی کیفیت

سوال ۹۲۸ -- جیساکہ روایات اور احادیث معصومین ٪سے استفادہ ہوتا ہے کہ شارع مقدس مرداور عورت کے درمیان نامشروع روابط میں عورت اور مرد کی رسوائی اور اس رابطہ کو افشا کرنے پر راضی نہیں ہے لہٰذا عفت کے منافی اعمال کا اثبات چار بار اقرا ریا چار شاہد عادل کی گواہی پر قرار دیا ہے؛ اس وجہ سے بعض محکمے اس جیسے جرائم میں تفتیش اور اثبات جرم پر بنا نہیں رکھتے حاکموں کا کیا وظیفہ ہے؟ جبکہ خصوصی شاکی (شکایت کرنے والا) بھی درمیان میں موجود ہو، کیا اس طرح کے موارد میں قاضی پر اپنے علم کے مطابق عمل کرنا واجب ہے، یا ممکن ہے اپنے علم پر عمل نہ کرے؟

جواب: شاکی کو عدالت میں شکایت کرنے کا حق ہے ، چنانچہ اپنے دعوے کو شرعی دلیل سے ثابت کرسکتا ہوتو حاکم ، مقدس شریعت کے قوانین کے مطابق اپنے وظیفہ پر عمل کرے اور قاضی اس جیسے موارد میں شاکی کے حق کوثابت کرنے کی خاطر لازمی تحقیقات انجام دے اور چنانچہ مقدمات حسی یا حس کے قریب مقدمات سے اس کو علم ہوجائے، اس کا علم حجت ہے۔
ز) سزا کی نوع کا بدلنا

سوال ۹۲۹ -- حکومت اسلامی اور دین مبین اسلام کے خلاف غیر ملکیمیڈیا کی شدید تبلیغات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اگر بعض حدود کا جاری کرنا اسلام کی توہین کا سبب بنے، تو آپ فرمائیں:
اولاً: کیا اس کے اجرا سے صرف نظر کرسکتے ہیں؟
ثانیاً: جواز کی صورت میں ، توہین آمیز ہونے کی تشخیص دینا شخص یا اشخاص کی ذمہ داری ہے؟
ثالثاً:جاری نہ ہونے کی صورت میں کونسی سزائیں حد کی جگہ لےسکتی ہیں؟

جواب: مسئلہ کے فرض میں ، اس کو اس صورت میں انجام دے سکتے ہیں کہ جب مذکورہ اثر نہ رکھتی ہو اور اس کی تشخیص حاکم شرع اور مراجع تقلید کی ذمہ داری ہے؛ لیکن مخالفین کے ہر نعرے اور آواز کے مقابلے میں تسلیم نہیں ہونا چاہیے۔

سوال ۹۳۰ -- ان موارد میں جہاں شارع مقدس نے سزاؤں کے اجرا کے لئے ایک خاص طریقہ یا خاص آلہ معین فرمایا ہے جیسے رجم (سنگسار) یا تلوار سے قتل کرنا، تو آپ فرمائیں:
۱۔ کیا مذکورہ طریقہ یا آلہ موضوعیت رکھتا ہے؟ بعبارت دیگر کیا اس طرح کے موارد میں شارع کا مقصد فقط مجرم کو ختم کرنا ہے، چاہے وہ جدید آلات ہی کیوں نہ ہو، یا اس کام کو مخصوص طریقہ اور آلے سے انجام دینا ضرور ی ہے؟
۲۔ موضوعیت رکھنے کی صورت میں ، چنانچہ سنگسار کرنا یا ایسی سزئیں جیسے لواط کی حد کو منصوص طریقوں سے، خاص شرائط اور حالات میں اسلام اور اسلامی حکومت کی مصلحت میں نہ ہو (مثلاً اسلام ومسلمین کی توہین کا سبب بنے یا اسلام اور اسلامی حکومت کا چہرہ ، خشونت آمیز دکھلائے) کیا اصل حکم کو جاری کرتے وقت اجرا کے خاص طریقے کو تبدیل کیا جاسکتا ہے؟

جواب: دلیلوں کا ظاہر موضوعیت رکھتا ہے؛ لیکن عناوین ثانویہ کی وجہ سے ان (طریقوں) کو تبدیل جاسکتا ہے اور ہمارے زمانے کے بہت سے حالات میں ، رجم یا حد لواط کے طریقہ اجرا کا انتخاب کرنا مشکل ہے۔

چوالیسویں فصل دفاع کے احکاماقسام حدود
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma