اقسام حدود

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
حدودکے مقدماتچوری کی حد کے مستثنیات

۱۔ حد زنا

سوال ۹۳۱ -- اسلامی قانون کے دفعہ کے ۶۳ میں اس طرح آیا ہے : ”زنا عبار ت ہے مرد کا اس عورت کے ساتھ جماع کرنا جو اس پر ذاتاً حرام ہے“ کبھی کبھی اس جملے سے یہ استفادہ ہوتا ہے: چنانچہ عورت اور مرد کے درمیان ازدواجی تعلقات ذاتاً حرام نہ ہوں تو یہ زنا حرمت نہیں رکھتا اور جب حرمت نہیں ہوگی تو سنگسار یاکوڑے لگانا ان کے شامل حال نہیں ہوگا“ اسی قانون کی دفعہ ۶۶ میں اس طرح آیا ہے: ”جب کوئی عورت اور مرد مجامعت کے بعد ناآگاہی اور اشتباہ کا دعوا کریں اور مدعی کے سچا ہونے کا احتمال دیا جاسکے، اس صورت میں مذکورہ دعویٰ بغیر قسم کے قبول اور حد ساقط ہوجائے گی“ آخری جملوں کا مفہوم مخالف یہ ہوگا ”اس صورت میں جب مدعی کی سچائی کا احتمال نہ دیا جاسکے، مدعی اس بات پر قسم کھاکر کہ وہ بھول اور لا علمی کا شکار ہوا ہے، اپنے آپ کو حد کے اجرا سے نجات دے سکتا ہے“ کیا وہ ”کلمات جو مادّہ اخیر میں آئے جیسے“ اشتباہ وناآگاہی“ ان کلمات سے اشتباہ حکمی اور اشتباہ موضوعی دونوں مراد ہیں یا فقط اشتباہ موضوعی مقصود ہے؟ بقیہ مذکورہ موارد کو بھی واضح فرمائیں۔

جواب: ”ذاتاً حرام ہے“ اس جملے سے مقصود اس مورد کو خارج کرنا ہے جو بالعرض حرام ہو، مثلاً عورت حیض کی حالت میں، یا رمضان المبارک کے دنوں میں حرام ہوجاتی ہے، یہ حرمت ذاتی نہیں ہے، لہٰذا اس کے ساتھ ہمبستری زنا میں شمار نہیں ہوگی؛ لیکن اگر آپس میں عقد نکاح نہ پڑھا ہو تو ذاتاً حرام ہے لیکن ”بغیر شاہد اور قسم“ کے جملے سے منظور ، اشتباہ کا دعویٰ کافی ہے اور اس کو قسم پر آمادہ کرنا لازم نہیں ہے اور اگر صدق کا احتمال موجود نہ ہو تو قسم بے فائدہ ہے، اشتباہ اور غلطی کا دعویٰ چاہے حکم کے اعتبار سے ہو یا موضوع کی حیثیت سے برابر ہے۔
زنای محصنہ

سوال ۹۳۲ -- ایک عورت دائمی اور شرعی شوہر اور باعزت زندگی کے تمام امکانات ،نیز شوہر کے ساتھ ہمخوابی کا حق رکھتے ہوئے، زنا کے برے فعل کی مرتکب ہوئی ہے اور یہ عمل عدالت کے سامنے چار بار اقرار اور سرکاری ڈاکٹر کی گواہی کے ذریعہ ثابت ہوگیا ہے، حالانکہ اس کا شوہر اس سے فقط ۲۴ گھنٹے کے لئے دور ہوا تھا اور وہ سفر سے ایک رات پہلے اس کے ساتھ ہمخواب تھی، اس مسئلہ کا حکم کیا ہے؟

جواب: اگر شوہر ایک رات اس سے دور تھا تو اس کے اوپر زناء محصنہ کی حد کا جاری کرنا مشکل ہے۔

سوال ۹۳۳ -- ایک لڑکی ایک نابینا شخص کے عقد میں آتی ہے، شادی، مشترک زندگی اور شوہر کو تمکین دینے کے تقریباً ۴۵ روز بعد وہ لڑکی شوہر کو چھوڑکر چلی جاتی ہے اور دعوا کرتی ہے کہ اس آدمی نے اس کو دھوکا دیا ہے چونکہ اس نے اپنے بھائی کو جو بینائی کی نعمت سے کاملاً بہرہ مند ہے، عقد کے وقت شوہر کے عنوان سے پہچنوایا تھا! نیز یہ لڑکی ملک کی عدالت عامہ میں متعدد بار فسخ نکاح اور طلاق کا تقاضا کرچکی ہے، عدالت کے ایک کیس میں اس کی جانب سے فریب اور دھوکا دھڑی کے مقدمے کی پیروی ہوئی، لیکن عدالت نے دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے ان کے درمیان دائمی زوجیت کے صحیح اور شرعی ہونے کا حکم صادر کردیا ہے اور اس کے طلاق کے مطالبہ کو بھی شوہر کے امتناع اور بہت سے اشکالات کی وجہ سے رد کردیا ہے۔
زوجہ تقریباً ۴ سال کی مدت گذرجانے کے بعد کسی دوسرے مرد سے شادی کرلیتی ہے اور زنا کی مرتکب ہوجاتی ہے، زانی میں بھی احصان کے شرائط موجود تھے ، انجام شدہ تحقیقات کے مطابق زانی شخص اس عورت (زانیہ) کے حالات سے باخبر تھا، کیا مذگورہ عورت غیر محصنہ ہونے کے لحاظ سے (شوہر سے ۴سال کی دوری البتہ اپنے اختیار سے) زناء غیر محصنہ کی حد کی مستحق ہے؟ کیا مرد کی مذکورہ وضعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ رجم کی حد کا مستحق ہوگا؟ یاشبہہ کا لحاظ رکھتے ہوئے رجم کی حد سے بری ہوجائے گا؟ کیا آخری صورت میں لگے کوڑوں کی سزا یا تعذیر اس کے اوپر جاری ہوگی؟

جواب: فرض مسئلہ میں ، عورت پر شوہر سے ایسی جدائی کی خاطر محصنہ ہونے کے احکام جاری نہیں ہونگے ، ایسے ہی مرد بھی چونکہ وہ عقد نکاح سے متمسک ہوا ہے اور یہ خود شبہہ کی دلیلوں میں سے ایک ہے، محصن ہونے کا حکم اس کو شامل نہیں ہوگا، لیکن دونوں مسئلہ کے حکم کے دریافت کرنے میں مقصر اور ممنوعہ عمل کے مرتکب ہونے کی وجہ سے تعذیر کے مستحق ہیں۔

سوال ۹۳۴ -- کیا زانی ذیل کے موارد میں رجم کا مستحق ہے؟
۱۔ احصان سے بچنے کے لئے سفر کیا اور زنا کا مرتکب ہوگیا۔
۲۔ ایسے حالات میں زنا کا مرتکب ہوا ہے جبکہ بیوی یا شوہر بیماری کی وجہ سے جماع کی آمادگی نہیں رکھتے تھے، اگرچہ تمام دیگر لذتیں ممکن تھیں۔
۳۔ زنا اس وقت واقع ہوا جب شوہر بیوی میں ناراضگی اور گھریلو اختلاف کی وجہ سے مجامعت ممکن نہیں تھی۔
۴۔ زنا کا ارتکاب بیوی یا شوہر کے روزے کی حالت میں ہوا۔
۵۔ عورت طلاق رجعی کی عدت میں زنا کی مرتکب ہوئی ہے (ملحوظ رہے کہ عورت کو رجوع کرنے کا حق نہیں ہوتا)
۶۔ مرد اپنی بیوی کے ایام حیض یا نفاس میں زنا کا مرتکب ہوا ہے۔

جواب: تمام بالا صورتوں میں سے کسی صورت میں بھی زناء محصنہ ثابت نہیں ہے، مگر روزے کے موارد میں ؛ کیونکہ روزہ کی ممنوعہ مقدار احصان پر ضرر انداز نہیں ہوتی، ہرچند کہ فقہاء کے درمیان مشہور یہ ہے کہ طلاق رجعی کی عدت میں مرد اور عورت کی طرف سے زنا کرنا، زناء محصنہ شمار ہوتا ہے؛ لیکن ان کی دلیل قانع کنندہ نہیں ہے۔

سوال ۹۳۵ ---- ایک شخص کو ایک چھوٹی بچی کے ساتھ زنا جیسے بدترین عمل کے مرتکب ہونے کب وجہ سے رجم کی سزا ہوئی ، قاضی کی دلیل اس شخص کا عدالت کی مختلف تاریخوں میں اقرار کرنا تھا جو علم قاضی کا موجب ہوا، مجرم حد کے جاری کرتے وقت گڑھے سے نکل جاتا ہے، اس بات پر توجہ کرتے ہوئے کہ حکم کی دلیل مجرم کا اقرار نیز قاضی کا علم تھا (علم قاضی احتمالاً اس کے اقرار سے حاصل ہوا تھا) کیا مجرم دوبارہ گڑھے میں لایا جائے گا، یایہ سمجھا جائے گا کہ اس پر حکم جاری ہوچکا ہے؟

جواب: اگر حکم کی دلیل تنہا اقرار تھا تو مجرم کو دوبارہ نہیں پلٹایا جائے گااور اگر دلیل قاضی کا علم تھا (وہ کسی بھی راستے سے حاصل ہوا ہو) پلٹانا بعید نہیں ہے ، لیکن مسئلہ چونکہ” تدرء الحدود بالشبہات“ (شبہات کی وجہ سے شرعی سزائیں دور ہوجاتی ہیں)کے مصادیق میں سے ہے لہٰذا احتیاط واجب کی بناپر اس کو ترک کیا جائے۔
حد وتعذیرکا تداخل

سوال ۹۳۶ -- اگر کوئی شخص زناء غیر محصنہ کے الزام میں گرفتار ہو اور اقرار کے تیسرے اور چوتھے مرحلے میں عدول کرنے کی وجہ سے اس کے لئے تعذیر کا حکم منظور ہوجائے جبکہ اسی دوران ، عدالت کے دوسرے شعبہ میں مذکورہ جرم میں اس شخص کو حد کی سزا ہوجائے ، مسئلہ کا حکم شرعی کیا ہے؟

جواب: اگر دوسرے مورد میں اس پر حد کا حکم ثابت ہوتو تو تعذیر ساقط ہوجائے گی۔
محرم عورتوں کے ساتھ زنا کا حکم

سوال ۹۳۷ -- اگر کوئی شخص نعوذبالله اپنی محارم مثلاً باپ کی بیوی کے ساتھ یہ جانتے ہوئے کہ اسلام میں زنا حرام ہے، منھ کالا کرے، لیکن محارم کے ساتھ زنا کی شدید حرمت اور اس پر سزائے موت کے حکم سے بے خبر ہو، اس مطلب کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر چار بار اقرار کرے، کیا اس کا حکم بھی سزائے موت ہے؟

جواب: جی ہاں اس کا حکم سزائے موت ہے ۔

سوال ۹۳۸ -- ایک خاتون نے اپنی۲۰/سالہ بیٹی کے ساتھ آکر اپنے شوہر کے خلاف جو اس وقت قید میں ہے، اپنے دفاع کی خاطر مجھے وکالت دی ہے، اس کا شوہر ایک سخت مزاج اور گھر کے اندر ڈکٹیٹر اور مطلق العنان حاکم تھا ، نعوذبالله تقریباً ۸/سال تک اپنی بیٹی سے زنا کرتا رہا جس کا نتیجہ ایک بے گناہ بچی ہے جو اس و قت سات سال کی ہوچکی ہے!! آپ سے گزارش ہے کہ باپ اور اس کی بیٹی کے بارے میں جو باپ کے ظلم وزیادتی کی وجہ سے اس کے نامشروع مطالبات مانتی رہی ، شرعی حکم بیان فرماتے ہوئے اس بچی کی شرعی اور قانونی وضعیت کو بھی روشن فرمائیں۔

جواب: چنانچہ باپ کا جرم ثابت ہوجائے، اس کا حکم ۳ بار سزائے موت ہے؛ محارم کے ساتھ زنا کی وجہ سے، عنف (زبردستی) کی وجہ سے اور زناء محصنہ کی وجہ سے اور اگر بیٹی مجبور تھی تو حد نہیں رکھتی، لیکن اگر بیوی اس دعوے کو ثابت نہ کرپائے تو شوہر حدقذف کا تقاضا کرسکتا ہے، مذکورہ بچی باپ کی طرف سے نامشروع ہے لہٰذا اس کی وارث نہیں بن سکتی؛ لیکن اس کا نفقہ وخرچ اس (زانی) کے اوپر ہے۔
زناء عنف (زنابالجبر) کا حکم

سوال ۹۳۹ -- تعذیرات اسلامی کے مادّہ ۸۲ کے بند ”د“ کے مطابق زناء عنف موجب قتل ہوتاہے اورآپ جانتے ہیں کہ اکراہ اور اجبار میں فرق پایاجاتا ہے ، اس لئے کہ اکراہ اس وقت محقق ہوتا ہے جب مکرَہ شخص ، فعل کو انجام دینے کا ارادہ تو رکھتا ہو، لیکن دل سے راضی نہ ہو، جبکہ اجبار میں فعل کو انجام دینے کا ارادہ بھی نہیں ہوتا، التماس ہے کہ زناء مکرَہ کے بارے میں فرمائیں:
الف) کیا ایسی عورت کے ساتھ زنا جو مستی کی حالتمیں ہو، یا خواب آلودہ ہو، یا بیہوش ہو، یا زنا کی حلّیت کی معتقد ہوزنا کرنا اکراہ کے مصادیق میں سے ہیںکہ زانی پر قتل کا حکم لگایا جائے؟
ب) کیا اس صورت میںجب زانی، زانیہ کو زنا کے لئے مست یا بیہوش کرے اور اس صورت میں جب زانی کا زانیہ کے مست یا بیہوش کرنے میں کوئی کردار نہ ہو کوئی فرق پایا جاتا ہے؟
ج) کیا عنف (زور زبردستی) سے مراد، نارضایتی کا اظہار ہے، یا راضی نہ ہونا ہے۔

جواب: الف سے ج تک: اس صورت میں جب عورت زنا کے لئے حاضر نہیں تھی، لیکن مرد نے مستی یا بیہوشی یا سونے کی حالت میں ، اس پر تجاوز کیا، زناء عنف شمار ہوتا ہے اور سزائے موت کا حکم رکھتا ہے نیز اس مسئلہ میں زانی کے زانیہ کو مست یا بیہوش وغیرہ کرنے کے اقدام وعدم اقدام میں کوئی فرق نہیں ہے ، یہ روایات میں زنائے عنف سے تعبیر نہیں ہوا ہے، بلکہ غصب سے تعبیر ہوا ہے جو ان تمام موارد پر صادق آتا ہے۔

سوال ۹۴۰ -- زناء بالجبر میں کیا زانی کا محصّن ہونا، سزا کی نوعیت میں کوئی اثر نہیں رکھتا ہے؟

جواب: ہر صورت میں اس کا حکم سزائے موت ہے۔

سوال ۹۴۱ -- باکرہ لڑکی کے ساتھ زناء عنف کے مورد میں ذیل کے سوالوں کا جواب عنایت فرمائیں:
۱۔ کیا غیر بالغ اور باکرہ لڑکی کے ساتھ زناء عنف مہر المثل کے ضمان کا سبب بنتا ہے؟

جواب: جی ہاں، مہر المثل کے ضمان کا سبب بنتا ہے۔

۲۔ لڑکی کے بالغ ہونے کی صورت میں اوپر دئیے گئے دونوں فرضوں میں کیا کوئی فرق ہے؟

جواب: اس اعتبار سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

۳۔ چنانچہ کوئی شخص شادی کے جھوٹے وعدے کے ساتھ ایک باکرہ لڑکی سے زنا کرے، لڑکی کے مکرَہ نہ ہونے کو ملحوظ رکھتے ہوئے، کیا زانی مہر امثل کا ضامن ہے؟

جواب: مہر المثل کا ضامن نہیں ہے ؛ لیکن حد کے علاوہ لڑکی کے فریب دینے کی وجہ سے تعذیر بھی رکھتا ہے، مذکورہ صورت میں اس کو حاکم شرع یہ پیش کش کرسکتاہے کہ اگر وہ اس لڑکی سے شادی کرے تو اس کی تعذیر کو بخش سکتا ہے، ورنہ سخت سزا دی جائے گی۔

سوال ۹۴۲ -- اگر ڈاکٹر یا کوئی اور شخص بیمار کے ساتھ آپریشن کے لئے بے ہوشی کی حالت میں زنا کرے ، کیا زناء عنف شمار ہوگا؟

جواب: جی ہاں،یہ زنا عنف ہے۔

سوال ۹۴۳ -- اسپتال میں ڈاکٹر یا ماہر نفسیات یا کوئی اور شخص ایسی جوان لڑکیوں کے ساتھ زنا کرے جن کا شعور کامل نہیں ہے یا مختل الحواس ہیںکیا یہ زناء عنف ہے؟

جواب: زناء عنف شمار نہیں ہوگا۔

غیر مسلم کے زنا کا حکم

سوال ۹۴۴ -- اگر غیر مسلم عورت اور مرد اسلامی ملک میں اس آگاہی کے ساتھ کہ اسلامی شریعت میں زنا حرام ہے، زنا کریں، ان کے اثبات جرم کے شرعی اور قانونی طریقے کیاہیں اور ان کا حکم کیا ہے؟

جواب: قاضی کو اختیار ہے کہ ان کو اسلامی قانون کے مطابق یا ان کے مذہب کے قانون کے مطابق سزا دے۔

سوال ۹۴۵ -- اگر غیر مسلم مرد، مسلمان عورت کے ساتھ زنا کرے اور اجرائے حد کے شرائط بھی فراہم ہوں، لیکن زانی مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے ذیل کے دو فرضوں میں مذکورہ قضیہ کا حکم کیا ہوگا اور اس کی سزا کیا ہے؟
الف)اثبات جرم کے بعد مسلمان ہوا ہو؟
ب) اثبات جرم سے پہلے مسلمان ہوا ہو؟

جواب: جب بھی گرفتاری سے پہلے مسلمان ہوجائے ، حد ساقط ہوجائے گی اور اگر گرفتاری اور قیام بیّنہ (گواہ) کے بعد اسلام لائے تو حد ساقط نہیں ہوگی اس کی سزا قتل ہے؛ مگر یہ کہ عناوین ثانویہ اس طرح کے موارد میں مانع ہوں۔
جلاوطنی

سوال ۹۴۶ -- ایک شادی شدہ شخص دخول سے پہلے زنا کا مرتکب ہوا اور حدّ جَلد (کوڑے) ، سر کے مونڈنے اور ایک سال کی شہر بدری پر محکوم ہوا، شہر بدری کا لفظ ذہن انسانی میں متعدد سوالات پیدا کرتا ہے، ان میں کچھ کے جوابات عنایت فرمائیں:
۱۔ چنانچہ شہر بدری مجرم کے زیادہ منحرف ہوجانے اور بگڑجانے کا سبب ہو، کیا پھر بھی اس کو شہر بدر ہی کیا جائے گا؟

جواب: ایسے فرض میں شہر بدری جائزنہیں ہے۔

۲۔ محکوم علیہ (جس کو سزا سنائی گئی ہے) کس جگہ سے شہر بدر ہوگا؟ جائے سکونت، جائے ارتکاب جرم، یا جائے اجرائے حکم سے؟

جواب: احتیاط واجب یہ ہے کہ ایسی جگہ شہر بدر کیا جائے جہاں پر نہ اس کا وطن ہو اور نہ اس کے کوڑے کھانے کی جگہ ہو۔

۳۔ شہر بدری کی جگہ سے شہر بدر ہونے کے مقام تک کتنا فاصلہ ہونا چاہیے؟

جواب: اتنا فاصلہ ہونا ضروری ہے کہ معمولاً شہر بدری صادق آجائے اور آسانی سے اپنے وطن واپس نہ آسکے۔

 

۴۔ اگر اذن کے بغیر شہر بدری کے مقام کو ترک کردے اس کے خلاف کیا ردّعمل ہوگا؟

جواب: اس کو دوبارہ اسی مقام پر پہنچادیا جائے گا اور حاکم شرع اس کو تعذیر بھی کرسکتا ہے۔

۵۔ اگر دوبارہ شہر بدری کے مقام پر بھی ایسے ہی عمل کا مرتکب ہوجائے ، کیا وہاں سے شہر بدر کیا جائے گا؟

جواب: چنانچہ وہاں اس پر حد جاری ہو، تو وہاں سے بھی نکالا جائے گا۔
۲۔ مساحقہ کی حد

سوال ۹۴۷ -- مساحقہ کی حد کو جاری کرنے کی کیفیت کیا ہوگی مثلاً کوڑے مارنے کے طریقے کی حیثیت سے، معمولی لباس ہونے یا نہ ہونے کی حیثیت سے یا کوڑے لگانے میں شدت وضعف کی حیثیت سے؟

جواب: حد زنا کی طرح ہے، بیٹھے ہوئے اور لباس کے ساتھ۔
۳۔حد لواط

سوال ۹۴۸ -- ایک شخص کو ایک چھوٹے بچے کے ساتھ لواط کے جرم میں سزائے موت ہوئی اور عدالت عالیہ سے بھی یہ ہی سزا منظور ہوئی اب اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ مذکورہ حکم پرعمل درآمد کرنا جیسے تلوار سے قتل کرنا، آگ لگادینا، بلندی سے پھینک دینا، محکوم علیہ (مجرم) پر دیوار کا گرادینا وغیرہ ممکن ہے دشمنان اسلام کے غلط فائدہ اٹھانے اور اسلامی حکومت کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کرنے کا سبب بنے، کیا مذکورہ حکم کو پھانسی دینے، یا گولی مارنے کے ذریعہ جاری کرناممکن ہے؟

جواب: مذکورہ فرض میں حد جاری کرنے کے مذکورہ طریقوں میں اگر مہم خطرات درپیش ہوں تو سزائے موت کو کسی دوسری صورت جیسے پھانسی دینا یا گولی مارنے سے انجام دے سکتے ہیں۔
۴۔ حد قوَّادی(دلّالی)

سوال ۹۴۹ -- کیا زنا یا لواط کے لئے قوّاد اور طرفین کے قصد کا ایک ہونا لازم ہے؟

جواب: اگر سوال سے منظور یہ ہے کہ قوّاد مثلاً زنا میںواسطے کا قصد رکھتا ہے لیکن طرفین ازدواج موقت(متعہ) کا قصد رکھتے ہیں، ایسے موارد میں عنوان قوّاد صادق نہیں آتا ہے۔

سوال ۹۵۰ -- اگر واسطہ بننے والے شخص کے طرفین کو ایک دوسرے سے ملانے کے بعد ان میں سے کوئی ایک پشیمان ہوجائے،لیکن العیاذ بالله عمل زنا یا لواط طریقہ عنف (زبردستی) سے واقع ہوجائے، کیا قوّادی محقق ہوجائے گی؟

جواب: یہ مورد شبہہ کے موارد میں سے ہے کہ جو حد کے ساقط ہونے کا سبب بنتا ہے۔

سوال ۹۵۱ -- اگر کوئی شخص دو یا چند افراد کو نامشروع تعلقات کے لئے بوس وکنار اور لپٹناوغیرہ کی حد تک آپس میں ملائے لیکن حالات ایسے بن جائیں کہ نوعاً اور معمولاً اس کام کا نتیجہ زنا یا لواط کی صورت اختیار کرلے، کیا قوادی محقق ہوجاتی ہے؟

جواب: جی ہاں، قوادی صادق آئے گی۔

۵۔ قذف کی حد

سوال ۹۵۲ -- اگر باپ اپنے غیر شرعی بیٹے کو قذف کرے، کیا حد قذف اس پر جاری ہوگی؟

جواب: حد قذف جاری نہیں ہوگی۔

۶۔ شراب پینے کی حد

سوال ۹۵۳ -- اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ مردوں پر شراب پینے کی حد، برہنہ پشت پر جاری ہوتی ہے، اب آپ فرمائیں:
الف) اس صورت میں جبکہ حکم کا جاری کرنے والے نے ، لباس کے اوپر سے حد جاری کی ہے ، کیا اس طرح حد جاری کرنے سے شراب پینے کی حد ساقط ہوجائے گی یا سزا کو صحیح شکل میں دوبارہ جاری کیا جائے گا؟
ب) جواب کے مثبت ہونے کی صورت میں جاری شدہ پہلی حد کا کیا حکم ہے، کیا حکم پر مامور شخص کو اس جاری شدہ حد کی بہ نسبت قصاص کیا جائے گا، یا کوئی اور حکم ہے؟
ج) اس صورت میں کہ جب قاضی نے تصریح کی ہو کہ ننگی پشت پر کوڑے لگائے جائیںاور اگر ثابت ہوجائے کہ اجراء پر مامور اشخاص نے عمداً یا بے توجہی کی وجہ سے اس طرح سے حکم جاری کیا ہے، کیا ان کو تعذیر کیا جاسکتا ہے؟
د) چنانچہ امور فوق ثابت نہ ہوں، یامشخص ہوجائے کہ یہ عمل غفلت وقصور کی بناپر انجام پایا ہے، ان کے اوپر کیا حکم لگایاجائے گا؟

جواب: الف سے د تک: احتیاط واجب یہ ہے کہ مجرمین کو پورا ننگا نہ کریں؛ البتہ ان کا لباس اتنا موٹا نہ ہونا چاہیے کہ ان پر کوڑے کا کوئی اثر ہی نہ ہو۔

سوال ۹۵۴ -- اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ بعض روایات میں میں آیا ہے : ”تازیانے کی شدت شراب پینے کی حد میں قذف کی حد سے زیادہ ہے “ اور دوسری بعض روایت میںآیا ہے: ”حد قذف کے تازیانے معمولی لگائے جائیں“ فرمائیے کہ شراب پینے کی حد کے تازیانوں کی شدت کیسی ہونی چاہیے، کیا زنا کی حد کی طرح ضرب بہت شدید ہونی چاہیے ، یا شدت کے اعتبار سے زنا اور قذف کی درمیانی شدت ہونا چاہیے؟

جواب: شراب پینے کی حد میں ضرب کی شدّت متوسط ہونا چاہیے۔

سوال ۹۵۵ -- مرد پر شراب پینے کی حد جاری کرتے وقت ، بہت سے موارد میں محدود (جس پر حد جاری ہورہی ہو) اپنے کو چند تازیانے کھانے کے بعد زمین پر گرادیتا ہے یا کھڑے ہونے پر قادر نہیں رہتا اور زمین پر گرجاتا ہے، کیا اس پر باقی تازیانے لیٹے ہوئے مارے جائیں، یا کسی سہارے سے ا س کو کھڑا رکھیں (جیسے ستون وغیرہ سے باندھنا) اور حد کو کھڑے ہونے کی حالت میں جاری کریں؟

جواب: لیٹے ہوئے ، حد کا جاری جائز نہیں ہے

سوال ۹۵۶ -- اوپر والے سوال کے فرض میں ، چنانچہ مجرم کے لئے کھڑے رہنا معمولی صورت میں ممکن نہ ہو، اس کے قریبی صورت کی رعایت کرنا جیسے کھڑے ہونے اور بیٹھنے کی درمیانی حالت ، یا اس کو سیڑھی ، بینچ وغیرہ پر ڈال لینا کے لازم یا جائز ہونے کے اعتبار سے کیا حکم ہے؟

جواب: اس صورت میں جبکہ اپنے پیروں یا رانوں وغیرہ پر کھڑے ہونے کی طاقت رکھتا ہے، کوئی اشکال نہیں ہے۔
۷۔ حد سرقت (چوری کی سزا)
حرز کے احکام

سوال ۹۵۷ -- حد کا سبب بن جانے والی سرقت (چوری) میں ہتکِ حرز (مال کے رکھے جانے کی حد کو پار کرجانا) سے مراد کیا ہے ، کیا ہتک حرز، فیزیکل (مادی) فشار اور حرز کو توڑنے کے ساتھ ہونا چاہیے، یا مالک کے اذن واطلاع کے بغیر مال کا خارج کرنا، چاہے وہ چابی ہی سے کیوں نہ ہو، ہتک حرز سمجھا جائے گا؟

جواب: اس مورد اور اس جیسے دیگر موارد میں بھی ہتک حرز کے مصادیق پائے جاتے ہیں۔

سوال ۹۵۸ -- جب کسی ادارے کا خزانچی کسی شخص کو معائنہ کرانے کے لئے تجوری کا دروازہ کھولے اور وہ شخص ، تجوری میں موجودہ رقم کی چوری میں جلدی دکھاجائے ، اگر حزانچی اس کے چوری کرنے کے ارادہ سے واقف نہ ہو ، کیا ہتک حرز محقق ہوجائے گی؟

جواب: ہتک حرز شمار نہیں ہوگی۔

سوال ۹۵۹ -- اگر کسی مال کی دو حرز ہوں اور سارق (چور) مال کو ایک حرز سے نکال لے اور دوسری حرز میں پکڑا جائے ، کیا ایسے موارد میں چوری کی حد جاری ہوگی؟ مثلاً وہ مال جو گھر کی تجوری میں رکھا جاتا ہے، تجوری سے نکال لے لیکن گھر کے صحن میں پکڑا جائے، کیا حرز سے چرانا صادق آئے گا؟

جواب: جب تک وہ گھر میں موجود ہے حرز شما رہوگا اور چونکہ چور حرز سے خارج نہیں ہوا ہے لہٰذا حد بھی نہیں رکھتا۔

سوال ۹۶۰ -- اگر سارق مال کو حرز سے خارج کرنے سے پہلے پکڑا جائے ، کیا قابل تعذیر (حد سے کم سزا) ہے؟

جواب:تعذیر رکھتا ہے۔

سوال ۹۶۱ -- مذکورہ فرض میں کیا چوری کرنے والا شخص دوسرے کی ملکیت میں ناجائز طور پر داخل ہونے یا زبردستی گھسنے یا چوری کو شروع کرنے کے اعتبار سے مجرم شمار ہوگا؟

جواب: جی ہاں مجرم شمار ہوگا۔

سوال ۹۶۲ -- چوری کی حد جاری کرنے کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ ہے کہ مال حرز میں ہوتو آپ فرمائیں:
الف) اگر بیٹا، دوست، پڑوسی، نوکر یا کوئی اور شخص صاحب مال کی اطلاع یا بغیر اطلاع کے مال کو حرز میں رکھ دے، کیا دوسرے شرائط کے ہوتے ہوئے ایسے مال کا اٹھالینا اس چوری میں شمار کیا جائے گا جس پر حد جاری کرنا لازم ہے؟

جواب: چنانچہ صاحب مال کے حکم یااطلاع سے حرز میں رکھا گیا ہوتو سزا والی چوری شمار ہوگی اور اس کی عدم اطلاع کی صورت میں احتیاط یہ ہے کہ حد جاری نہ کی جائے۔

ب) اگر مالک کی دخالت اور اطلاع کے بغیر مال حرز میں رکھا جائے اور چوری ہو جائے، کیا دیگر شرائط کے ہوتے ہوئے سزا والی چوری کا حکم رکھتی ہے؟ مثلاً اگر کوئی حیوان بغیر مالک کی اطلاع کے احاطے میں چلاجائے اور احاطے کا دروازہ بند ہوجائے پھر کوئی حیوان کو لے جائے کیا سرقت حدی شمار ہوگی؟ یا مثلاً کسی شخص کو کوئی مال مل جائے وہ اس کو حرز میں رکھ دے اور یہ مال چوری ہوجائے، اس کا کیا حکم ہے؟
ج) اگر صاحب مال، ما ل کو حرز میں نہ رکھے اور حرز میں رکھنے پر راضی بھی نہ ہو اور مال چوری ہوجائے، کیا دوسرے تمام شرائط کے ہوتے ہوئے حد قطع (انگلیوں کا کاٹنا) جاری ہوگی؟

جواب: جاری نہیں ہوگی۔

سوال ۹۶۳ -- اگر کوئی حرز توڑکر چوری کے قصد سے کسی گھر میں داخل ہو اور گھر کے کمرے میں ایک گراں قیمت لباس دیکھے جس کی قیمت حد نصاب سے زیادہ ہو ، وہ اس کو پہن کر کمرے سے باہر آجائے، پھر صاحب خانہ جاگ جائے اور اس کو دیکھ کر شور مچادے ، شور کی آواز سن کر چور بھاگ جائے صاحب خانہ اس کا تعاقب کرتے ہوئے آخر کار اس کو گھر کے باہر پکڑلے اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: احتیاط یہ ہے کہ تعذیر ہی پر اکتفا کی جائے۔
چوری میں مشارکت

سوال ۹۶۴ -- چوری میں مشارکت کے متعلق فرمائیے:
الف) کیا چوری میں شریک ہونا، شریک کا چوری کرنے پر مشروط ہے؟

جواب: جی ہاں، اس کے چوری کرنے پر مشروط ہے۔

ب) الف کا جواب مثبت ہونے کی صورت میں، کیا سرقت کا اجرائی عمل، فقط ما ل کو حرز سے باہر لانے کوہی شامل ہے؟ یا چوری کے متحقَّق ہونے میں ہر طرح کی مدد موٴثر ہے (جیسے حرز کا توڑنا، یا تجوری کا کھولنا وغیرہ)

جواب: اس صورت میں جب سب لوگوںنے چوری میں مدد کی نیت سے چوری کے عمل کو انجام دیا ہو (چاہے بصورت مباشر ہو یا بصورت تسبیب) اور دوسرے شرائط بھی موجود ہوں تو یہ تمام افراد چور شمار ہوں گے۔

ج) کیا سرقت میں مشارکت فقط اس صورت میں محقَّق ہوگی جب ہر شخص ایک ہی چیز کو چرائے یا ہر شخص ایک جدا جدا چیز کو چرانے پر بھی سرقت میں مشارکت شمار ہوگی ؟ مثلاً اگر دو شخص ایک ساتھ ایک ہی گھر میں داخل ہوں ، ایک جواہرات اور دوسرا قیمتی آرٹ کو چرائے، کیا سرقت میں مشارکت متحقق ہوجائے گی؟

جواب: جب یہ تمام، ایک سرقت شمار ہوںتو ایک ہی سرقت کا حکم رکھتی ہیں۔

سوال:آیا شرعاً ، سارق فقط اس فرد پر اطلاق ہوتا ہے کہ جو ما ل کو مکان سے باہر لائے یا اس کے مددگار اور ساتھی بھی (ہرچند کہ مال کے خارج کرنے میں مباشرتاً دخالت نہ رکھتے ہوں) سارق شمار ہونگے؟ مثلاً کچھ لوگ گھر میں داخل ہوں ایک شخص اسلحہ کے دریعہ افراد خانہ کو قہر وغلبہ کے ساتھ دھمکی دے اور دوسرے کے داخل ہونے کا زمینہ فراہم کرے اور دوسرا تجوری کھولے، تیسرا پیسے کو جمع کرکے ایک تھیلے میں ڈالے، چوتھا پیسے کو گھر سے باہر نکالے، کیا آخری شخص سارق ہے یا تمام کے تمام چور ہیں؟

جواب: حد سرقت فقط ان پر جاری ہوگی کہ جو حرز کو توڑیں اور مال کو حرز سے باہر نکالیں۔

حدودکے مقدماتچوری کی حد کے مستثنیات
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma