چوری کی حد کے مستثنیات

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
اقسام حدود۸۔حد محارب

الف)قحط سالی میں سرقت

سوال ۹۶۵ -- اگر سارق قحط کے سال میں غنی اور بے نیاز ہو اور اسی حال میں چوری کرے ، کیا اس پر حد جاری ہوگی؟

جواب: جی ہاں، حد جاری ہوگی۔

سوال ۹۶۶ -- کیا قحط کا سال، حدسرقت کے جاری نہ ہونے میں موضوعیت رکھتا ہے اور ےہ اضطرار کے علاوہ کوئی اور چیز ہے، یا اضطرار کے مصادیق میں سے ایک مصداق ہے؟۔

جواب: ظاہرا مصادیق اضطرار میں سے ایک ہے۔

سوال ۹۶۷ -- کیا قحط کے سال میں اس حالت میں جب کہ غذا اور کھانے پینے والی چیزیں بازارمیں موجود ہوں لیکن ان کی قیمت زیادہ ہو اور اس حالت میں جب خورد ونوش کی اشیاء بازار میں نہ ہو ں یا کم ہوں کوئی فرق ہے؟۔

جواب:کمیابی یا حد سے زیادہ گرانی غیرمتمکن افراد کے لئے فرق نہیں کرتی ۔

سوال ۹۶۸ -- جیساکہ معلوم ہے قحط سالی میں حدّ سرقت کا حکم، ماکولات(خوردونوش کی چیزیں)کی سرقت میں منحصر ہے تو کیا چوری شدہ مال کو ماکول بالفعل ہونا چاہئے یا ماکول بالقوة (ہر وہ چیز جو کھائے اور پیئے جانے کی صلاحیت رکھتی ہو )کو بھی شامل ہے؟۔

جواب: تمام معمولی ماکولات کو شامل ہے۔

سوال ۹۶۹ -- کیا ”عامة المجاعہ“ (بھک مری کا سال) سے مراد، قحطی کا پورا سال ہے یا فقط دوران قحطی ہے؟ واضح بیان کے ساتھ اگر پورے سال میں ملک کی اقتصادی وضعیت اچھی ہو، لیکن ایک تھوڑی مدت (مثلاایک مہینہ) کے لئے ملک کی اقتصادی حالت خراب ہوجائے اور لوگوں کی معیشتی حالت گرجائے اور عمومی ارزاق کمیاب یا نایاب ہوجائیں، کیا اس کے اوپر سال قحطی صادق آئے گا؟۔

جواب: معیار وہ ہی ایک مہینہ ہے ۔

سوال ۹۷۰ -- کیا سال قحطی میں سارق کی تعذیر بھی منتفی ہے ؟۔

جواب: تعذیر بھی نہیں ہے۔
ب۔عورت کا شوہر کی چوری کرنا

سوال ۹۷۱ -- اگر کوئی عورت اپنے شوہرکی اجناس یا اموال کواس کی بغیر اطلاع، بغیر رضایت اور بغیر اجازت کے خرچ کرے یا بیچے ، کیا یہ سرقت شمار ہوگی؟

جواب: سرقت تو شمار نہیں ہوتی لیکن ےہ ایک طریقہ کی خیانت اور حرام ہے اور عورت کو اس کی تلافی کرنا چاہئے ۔
ج ۔ اضطراری حالت میں چوری

سوال ۹۷۲ -- اضطراری حالت میں چوری کی حد کے بارے میں نیچے دئےے گئے دوسوالوں کے جواب عنایت فرمائیں

الف۔ اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ حدسرقت پر عمل درآمد کے شرائط میں سے ایک شرط عدم اضطرار ہے ےہ کہ چوری اضطرار کی وجہ سے واقع ہوئی ہو اور اضطرار کے رفع کرنے میں بلاواسطہ رابطہ رکھتی ہو؟ بعبارت دیگر:آیا ضروری ہے کہ مجرمانہ فعل بلاواسطہ اضطرار اور ضرورت کو رفع کرے؟ مثلا اگر کوئی بھوک مٹانے کے لئے ایک سامان کی چوری کرے تاکہ اسے بیچ کر غذا تہیہ کرے ، کیا احکام اضطرار اس کو شامل ہونگے یا اضطرا ر فقط اس صورت میں رفع مجازات کا سبب ہوگا کہ جب مضطر بھوک مٹانے کے لئے فقط غذا یا کھائی یا پی جانے والی چیز کی چوری کرے ۔

جواب: کوئی فرق نہیں ہے۔

ب۔ کیا اوپر کے فرض میں اس حالت کے درمیان جہاں غذا کا چوری کرنا اور دوسرے سامان کی چوری سے غذا مہیہ کرنا برابر ہو اور اس حالت میں جہاں دو میں سے ایک طریقہ زیادہ سہل ہو یا اس حالت میں جہاں فقط رفع اضطرار اور غذا کا حاصل کرنا دوسرے سامان کی چوری اور ضرورت پر منحصر ہو ، کوئی فرق ہے؟۔

جواب: جب بھی دوطریقہ موجود ہوں اور سارق رفع اضطرار کی نیت سے کسی ایک پر اقدام کرے ، اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔
د۔ باپ کی چوری بیٹے سے

سوال ۹۷۳ -- اگر سارق ، صاحب مال کا باپ یا اس کادادا ہو ، کیا یہ سرقت فقط حد نہیں رکھتی ہے یاکوئی اور مجازات جیسے تعذیر بھی اس پر جاری نہیں ہوگی ؟

جواب:نہ حد رکھتی اور نہ تعذیر ، مگر یہ کہ یہاں پر عناوین ثانویہ آجائیں ۔

سوال ۹۷۴ -- اگر زانی اپنے نامشروع فرزند کے مال کو چرائے تو اس کا حکم کیا ہے؟۔
جواب: سرقت کی حد جاری نہیں ہوگی۔

ھ۔ ان اموال کی سرقت جومالیت نہیں رکھتے

سوال ۹۷۵ -- چنانچہ سارق سے برآمدہ اموال ایسے ہوں جومالیت تو رکھتے ہیں ،لیکن وہ شخص جس کامال چوری کیا گیا ہے وہ قانونی نقطہ نظر سے اس مال سے استفادہ کرنے کا حق نہ رکھتا ہو ، مثلا سارق نے اسلحہ اور مہمات یا وہ چیزیں چرائی ہوں جو ڈش اینٹینا سے حاصل ہوتی ہیں ، کیا یہاں پر مال کے پلٹانے کا حکم کرسکتے ہیں ؟۔

جواب: اگر مذکورہ اشیاء مالیت نہ رکھتی ہوں (مثلا ڈش اینٹیناجو اس زمانے میں ماحول کے خراب کرنے کا سبب ہے ) ان کے چوری کرنے پر حد جاری نہیں ہوگی لیکن اگر اسلحہ کے مانند ہو تو اس کے صاحب کی ملکیت ہے (ہر چند کے اس کا مالک جمہور اسلامی ایران کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہو نا مشروع کام کا مرتکب ہوا ہے ) اوراس صورت میں سرقت صادق آتی ہے۔
و۔ منافع کی چوری

سوال ۹۷۶ -- الف:کیا منافع کا چراناشرعی سرقت ہے اور مجازات کی صلاحیت بھی رکھتا ہے ؟مثلا کوئی کرایہ پر لی ہوئی ٹیکسی کو حرز میں رکھے اور دوسرا اس کو لے جائے اگر ٹیکسی کا مالک عدالت میں شکایت نہ کرے کیا کراےہ پر گاڑی لینے والا شخص شکایت اور مال مسروقہ کے مطالبہ کا حق رکھتا ہے؟۔
ب: کیا حق کا چرانا سرقت شمار ہوگا اور اموال کی چوری کی طرح یہ بھی مجازات کے قابل ہے؟ مثلا”الف“ ”ب“ سے ایک موبائل فون کرایہ پرلے تاکہ اس سے ایک مہینہ استفادہ کرے اور اس کا دس ہزار تومان کرایہ دے،”ج“اس فائدہ کو ”الف“ سے غصب کرلے یعنی موبائل فون کی چوری کا تو قصد نہیں رکھتا تھا لیکن چاہتا تھا کہ ایک مہینہ تک اس کو استعمال کرے پھر اس کے مالک کو پلٹا دے ،کیا”ج“ کا ےہ عمل،موبائیل کو کرایہ پر لینے والے کے حق کی سرقت شمار ہوگی اور اس کی کوئی سزا بھی ہے ؟

جواب :الف و ب۔ منافع اور حق کی سرقت کو اموال کی سرقت کے احکام شامل نہیں ہوتے، لیکن ےہ عمل قابل تعذیر ہے۔
ز۔موقَّت سرقت

سوال ۹۷۷ --۔ کیا دائمی سرقت کا محقق ہونا،محروم کرنے کے قصد پر مشروط ہے؟

جواب: اگر یہ یقین ہو کہ سارق کا تملک کا کوئی قصد نہیں تھا ،بلکہ اس کا قصد یہ تھا کہ استفادہ کرکے پلٹادے گا تو سرقت کے احکام جاری نہیں ہونگے لیکن اس کو تعذیر کیا جائے گا۔
ح۔ چور کی چوری

سوال ۹۷۸ -- کیا چوری ہوئے مال کی چوری کی کوئی سزا ہے ؟ اگر ہاں توکیا ہے۔

جواب: اگر آپ کا سوال یہ ہے کہ چور کئے ہوئے مال کی چوری کی کیا سزا ہے تو جواب یہ ہے کہ اس کام کی کوئی شرعی حد نہیں ہے ، لیکن ےہ کام لوگوں کے اموال میں تصرف کی خاطر تعذیر رکھتا ہے۔
چوری کے دوسرے احکام

سوال ۹۷۹ -- کیا چوری کے مال کا رکھنا، چھپانا، اٹھاناہر ایک جدا جرم شمار ہوگا ، یا عمل واحد کے حکم میں ہے؟۔

جواب: اس صورت میں جب اس پر حد شرعی جاری ہو تو ان امور کی وجہ سے کوئی چیز اس کے اوپر عائد نہیں ہوتی۔

سوال ۹۸۰ -- کیا حدّ سرقت اور حدّ محاربہ کے اجراء کے بعد محکوم علیہ کو اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ ایک

متخصص طبیب سے ہماہنگی کرکے جدا شدہ عضو کے پیوند کے لئے اقدام کرے۔

جواب: سارق کو حق نہیں ہے کہ قطع شدہ عضو کی پیوند کاری کرائے ۔

سوال ۹۸۱ -- کیا مجرم کے قطع عضو یا تازیانوں کی ضرب کے بعد کے مخارج، اسلامی حکومت کے ذمہ ہیں ؟ یا مخارج سے منظور معمولی مخارج ہیں ، یا حتمی الوقوع مخارج ، جیسے پٹی ،ڈریسنگ وغےرہ ۔

جواب: احتیاط یہ ہے کہ قابل توجہ مخارج بیت المال سے ادا کئے جائیں ۔

سوال ۹۸۲ -- اگر ملزم، انتظامیہ کے پاس یا دوسرے ایسے قاضی کے پاس جو رائے کا صادر کرنے والا نہیں ہے، چوری کا اقرار کرلے ،اس کے بعد مقدمہ محلی یا ذاتی عدم صلاحیت کی وجہ سے میرے پاس رسیدگی کرنے والے قاضی کے عنوان سے بھےجا جائے اور ملزم سرقت کا منکر ہوجائے تو حکم کیسے ہوگا؟

جواب: جب بھی دوسرے قاضی کے پاس معتبر شہود ملزم کے اقرار کی شہادت دیں تو مالی حقوق ثابت ہوجائیں گے لیکن حد وتعذےر ثابت نہیں ہوگی۔

سوال ۹۸۳ -- قانون اسلامی کے زمانہٴ تصویب سے لیکر اب تک بہت کم قاضیوں اور عدالتوں کا سراغ لگاسکتے ہیں جنہوں نے چوری میں حد الٰہی کے جاری کرنے پر کوئی اقدام کیا ہو، وہ اپنے اس عمل کی توجیہ میں رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وائمہ اطہار علیہم السلام کی احادیث سے استناد کرتے ہیں کہ جن کا مضمون اس طرح ہے:”چنانچہ قاضی، حد الٰہی کے جاری نہ کرنے کی غلطی ، حد الٰہی جاری کرنے کی غلطی سے بہتر ہے “ کچھ دوسرے قاضی مقام توجیہ میں بیکاری اور ان برے نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو دشمنوں کی طرف سے پروپیکنڈہ کئے جاتے ہیں، خلاصہ یہ کہ ہر ایک خصوصاً سرقت اور محاربہ کی حد کوجاری کرنے سے شانہ خالی کرتا ہے ، نوبت یہاں تک پہونچ گئی ہے کہ گویا ملک میں کوئی بھی ایسی سرقت نہیں ہوتی جو حد الٰہی کا سبب ہو؛ اس سلسلے میں حضور کی نظر کیا ہے ؟

جواب: جب بھی حد سرقت کے شرائط مکمل ہوں تو قاضی کو وسوسہ نہ کرنا چاہئے اور حدود الٰہی جاری کرنا چاہئے . البتہ ضروری نہیں ہے کہ حد ملاٴعام میں جاری ہو تاکہ مخالفین اس کے اوپر منفی پروپیکنڈہ نہ کریں۔

سوال ۹۸۴ -- اس صورت میں کہ جب چوری کی حد جامع الشرائط حاکم کے سامنے چور کے اقرار سے ثابت ہو ، اس کے بعد چور توبہ کرلے ، کیا ولی امر کو اسے معاف کرنا جایز ہے ۔

جواب: جی ہاں، جائز ہے۔

سوال ۹۸۵ -- اگر ایک ہی شخص کے سلسلے میں ایسی چوری ثابت ہو جس میں حدّی سرقت کے تمام شرائط پائے جاتے ہوں اور ایسی چوری میں بھی ثابت ہو جس میں حدّی سرقت کے شرائط نہ پائے جاتے ہوں ، کیا حد جاری کرنا، تعذیر سے کفایت کرے گا ؟ یا واجدالشرائط سرقت کے لحاظ سے حد جاری ہوگی اور فاقد الشرائط کی وجہ سے تعذیر ؟

جواب: مفروضہ مسئلہ میں چونکہ دونوں ایک ساتھ ثابت ہوئی ہیں(ہر چند کہ دونوں چوریاںدو مختلف زمانوں میں واقع ہوئی ہو)فقط حد کا فی ہے۔

اقسام حدود۸۔حد محارب
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma