مر تد کی حد

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
۸۔حد محاربحدود کے متفرق مسائل

سوال ۹۹۳ -- ایک شخص جس کے ماں باپ مسلمان تھے وہ بلوغ کے وقت سے نہ کوئی رغبت اسلام کی طرف رکھتا تھا اور نہ ہی اس کو آشکار کرتا تھا ، لیکن دین کے بعض اعمال کو عادت کے مطابق انجام دیتا تھا، اب چاہتا ہے کہ تحقیق کرے اور ثابت عقیدہ کے ساتھ اپنے دین کو انتخاب کرے اور کسی طرح کی بری نیت بھی نہیں رکھتا  اگر یہ شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو انتخاب کرے، کیا مرتد فطری کا حکم رکھتا ہے؟

جواب: اس صورت میں جب بلوغ کے وقت سے اسلام کو قبول نہ کیا ہو اس پر مرتد فطری کا حکم جاری کرنے میں اشکال ہے۔

سوال ۹۹۴ -- ذکر مثال کے ساتھ” محکمات“”ضروریات دین“ اور اس کے مشابہ تمام اصطلاحات جےسے”محکمات فقہ“،”حکم ضروری اسلام“، ”مسلمات مذہب“ کی دقیق تعریف بیان فرمائیں؟ نےز ان میں سے ہر ایک کے انکار کا حکم بھی بیان فرمائیں؟

جواب: اولا: ”ضروریات دین“ سے مراد وہ امور ہیں کہ جن کو عالم وغےر عالم دونوں جانتے ہوں کہ وہ جزء دین ہیں جیسے نماز ،روزہ اور پردہ اور ”محکمات“ وہ مسائل ہیں کہ جو قطعی دلیل سے ثابت ہوئے ہوں؛ ہر چند کہ ضروری نہ ہوں اور ”احکام ضروری اسلام“ وہ ہی دین کے ضروری احکام ہیں اور” مسلمات“و”محکمات مذہب“سے مراد وہ امور ہیں جو مذہب شیعہ میں قطعی دلیل کے ذریعہ ثابت ہوئے ہوں۔
ثانیا: اگر کوئی ضروریات دین کا انکار کرے اور اس کا انکار، نبوت کے انکار کا سبب ہو تو اسلام سے خارج ہوجائے گا، لیکن ضروریات مذہب کا انکار، فقط مذہب سے خارج ہونے کا سبب ہے نہ کہ اسلام سے۔

۸۔حد محاربحدود کے متفرق مسائل
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma