حدود کے متفرق مسائل

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
مر تد کی حدتعذیرات

سوال ۹۹۵ -- قاعدہ ”درء“ کے بارے میں فرمائیں:
۱۔ کیا یہ قاعدہ باب حدود سے مخصوص ہے ، یا ابواب قصاص ،دیات، اور تعذیرات کو بھی شامل ہے؟

جواب: قصاص اور تعذےرات کو بھی شامل ہے۔

۲۔ حد جاری نہ کرنے کا کیا معیار ہے؟ کیا حلیت میں شک، جواز عمل کا وہم ، فقط اباحہ کا ظن، (چاہے ظن غےر معتبر ہو)یا حرمت کا عدم علم معیار ہے؟

جواب: ثبوت حد یا قصاص کی دلیل حد اقل حجیّت نہ رکھتی ہوبلکہ حد یا قصاص کو جاری کرنے کی دلیل ہر چند ظنی ہولیکن محکم دلیل شمار ہونا چاہئے؛ اس طرح کے عرفاً حد یا قصاص کی نسبت شبہ پیدا نہ کرتی ہو۔

۳۔قائدہ درء میں محل عروض شبہ کون ہے؟ قاضی ہے یا مرتکب عمل یا دونوں؟

جواب: معیار تشخیص قاضی ہے۔

۴۔ آیا شبہات موضوعیہ ، حکمیہ، شبہ عمد وغیر عمد ، اکراہ، اجبار، نسیان وغیرہ کو یہ قاعدہ شامل ہوتا ہے؟

جواب: قاعدہ درء ان تمام موارد کو شامل ہوتا ہے۔

۵۔ شبہات حکمیہ کے شامل ہونے کے فرض میں آیا جاہل قاصر اور جاہل مقصّر کے درمیان فرق پایا جاتا ہے؟

جواب: کوئی فرق نہیں ہے۔

سوال ۹۹۶ -- شبہات موضوعیہ میں قاعدہ قرعہ کے جاری ہونے کو پیش نظر رکھتے ہوئے فرمائیں:
۱۔ کیا یہ قاعدہ شبہ حکمیہ سے مخصوص ہے یا امور جزائیہ میں شبہات موضوعیہ کو بھی شامل ہے؟ بہ عنوان مثال، اس مورد میں جہاں قاتل کے وجود میں علم اجمالی دو یا کئی شخص کے درمیان پایا جائے ،کیا اس قرعہ سے تمسک کے ذریعہ حکم قصاص یا دیت کو جاری کرسکتے ہیں؟

جواب: اس طرح کے موارد میں کبھی کبھی حکم قرعہ کو جاری نہیں کرسکتے اور چاہےئے کہ دیت دو یا چند اشخاص کے درمیان بطور مساوی تقسیم ہو۔

۲۔ عدالتی امور میں اس قاعدہ کے جاری ہونے کے فرض میں ، کیا تمام ابواب جےسے حدود، قصاص، دیات اور تعذیرات میں بھی جاری ہوگا یا کسی ایک باب سے مخصوص ہے؟

جواب: اوپر والے جواب سے معلوم ہوگیا۔

سوال ۹۹۷ -- اگر قانونی ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق (چاہے تازیانہ ہو یا قطع ید وغیرہ) بیمار شخصپر حد جاری کرنا یا ایسے صحیح وسالم شخص پر عضو کا قصاص کرنا جو شدید جسمانی کمزوری سے دوچارہو،اس کی موت یا بیماری میں شدت کا سبب بن جائے تو ایسی صورت میں تکلیف کیا ہے؟

جواب: اگر موت یا معمولی بیماری سے زیادہ کا خطرہ لاحق ہوتو حدود اور قصاص کا جاری کرنا ممنوع ہے، لہٰذا یا تو تاخیر کریں اور اگر ےہ مسئلہ تاخیر کے ذریعہ سے حل نہ ہو تو قصاص کے بدلے دیت لی جائے۔

سوال ۹۹۸ -- کیاحدّ جلد(تازیانہ)کے حکم میں تاخیر یا اس کا ضِغث (چند کوڑوں کو ایک ساتھ باندھ کر مجرم کو لگانا)کی صورت میں جاری کرنا کہ جو حد زنا میں بیان ہوتی ہے ، تعذیرات اور تمام حدودمیں قابل عمل ہے؟

جواب: اس صورت میں جب ان کے شرائط یکساں ہوں تو قابل عمل ہے۔

سوال ۹۹۹ -- کیا حدود کے جاری کرنے کے وقت اُس حصہ کو سن کیا جا سکتا ہے؟ کیا سرقت کی حد قطع اور محاربہ کی حد قطع کے درمیان فرق ہے؟ایسے ہی حد قطع تمام حدود کے درمیان جیسے :جلد، رجم اور قتل ؟

جواب: حدود میں کوئی اشکال نہیں ہے؛ لیکن جلد(تازیانہ)میں سن کرنا جائز نہیں ہے۔

سوال ۱۰۰۰ -- وہ عضو جو حدود یا قصاص میں قطع ہوتا ہے اس کو کس کے اختیار میں دیا جائے گا؟کیا اس کا مالک فروخت یا ہدیہ دینے کا حق رکھتا ہے؟

جواب: قطع شدہ عضو اس کے مالک کا مال ہے۔

سوال ۱۰۰۱-- کیا دور حاضر میں(غیبت امام معصوم علیہ السلام)حدود الٰہی کو جاری کیا جاسکتا ہے؟

جواب: ہم معتقد ہیں حدود کا جاری کرنا کسی ایک زمانہ سے مخصوص نہیں ہے اور بہت سے فقہاء اس رائے کے موافق ہیں ۔

سوال ۱۰۰۲ -- چنانچہ اہل کتاب(عیسائی،یہودی)سے الکحل کے مشروبات یا آلات قمار کشف ہوں کیا شرعا ان کے ختم کرنے کا حکم کیا جاسکتا ہے؟

جواب: اگر ان امور کا تظاہر نہ کریں، توختم کرنا جائز نہیں ہے۔

سوال ۱۰۰۳ -- ایک شخص کو سادہ سرقت، مسلحانہ سرقت اور قتل نفس کے ارتکاب کی وجہ سے دومرتبہ تعذیری قید(پانچ سال اور دس سال) اور پچاس کوڑے اور قصاص نفس کی سزا سنائی گئی قاعدہ جمع مجازات کو مد نظر رکھتے ہوئے (جس کا مضمون یہ کہ ہر ایک سزا کا جاری کرنا ایسے ہونا چاہئے کہ دوسری سزاؤں کے زوال کا زمینہ فراہم نہ ہوسکے )مذکورہ سزاؤں کو شرعا کیسے اجراء کیا جائے گا؟

جواب: اس صورت میں جب تعذیر کو مالی تعذیر میں تبدیل کیا جاسکے، کہ جو قصاص کے ساتھ قابل جمع ہے ، اولویت رکھتا ہے اور جب یہ ممکن نہ ہو،چنانچہ اولیاء دم قصاص کی تاخیر پر راضی ہوں ، زندان کی تعزیر مقدم ہے اور اگر اولیاء دم راضی نہ ہوں تو قصاص کو مقدم کیا جائے گا، تازیانے ہر حال میں انجام پانے چاہئے۔

سوال ۱۰۰۴-- مہدورالدم یعنی کیا؟ مہدورالدم میں ملاک کیا ہے؟ بطور کلی کون سے گروہ یا اشخاص مہدورالدم ہوتے ہیں؟ کیا مہدورالدم افراد کا خون بہانا ضروری ہے کسی بھی حالت میں ہو، یہاں تک کہ ولی امر اور حاکم شرع کی اجازت کے بغیر ؟

جواب: مہدورالدم لغوی اور فقہی نظر سے وہ شخص ہے کہ جس کا خو ن بہانا جائز ہے مختلف گروہ اس حکم میں شامل ہوتے ہیں جیسے: قاتل عمد، مفسدین فی الارض، محاربین کا ایک گروہ اور بعض دوسرے گروہ؛ لیکن یہ کام بہت ذہانت اور لازمی تحقیق اور حاکم شرع کی اجازت سے انجام ہونا چاہئے۔

سوال ۱۰۰۵-- نیچے دئےے گئے سوالات کے جواب عنایت فرمائیں:
الف: اس شخص کے علاج وبہبودی کا خرچ جو حد یا قصاصِ اطراف کی وجہ سے اپنے اعضاء میں سے کسی ایک کو کھو بےٹھا ہو، بیت المال کے ذمہ ہے یا محکوم علیہ(مجرم)کے؟
ب: اس صورت میں جب بیت المال کے ذمہ ہو ،کیا ےہ حکم معالجات اولیہ ،یا بعد والے معالجات کو بھی شامل ہے؟
ج: کیا مذکورہ حکم میں غنی اور فقیر کے درمیان کوئی فرق ہے؟
د: کیا حد اور قصاص میں فرق پایا جاتاہے؟

جواب: الف سے د تک: اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ دلیلوں میں اس مطلب کے بارے میں کوئی چیز بیان نہیں ہوئی ہے، علاوہ اُن رویتوں کے جو اس سلسلے میں حضرت علی علیہ السلام کے فعل پر دلالت کرتی ہیں البتہ ان میں استحباب کے آثار نمایاں ہیں ؛لہٰذا حاکم شرع بطورہمدردی خرچ دے سکتا ہے، لیکن فقیر اور نیازمند افراد کے مورد میں ےہ کام انجام دیا جائے۔

سوال ۱۰۰۶-- کیا معنوی نقصانات قابل مطالبہ ہیں؟ مثلا کوئی شخص کسی کے اوپر چوری یا بے عفتی کی تہمت لگائے اور تہمت لگانے والے کو افترا اور تہمت کے جرم میں سزا مل جائے کیا سزا کے علاوہ ،وہ شخص جس کے اوپر تہمت لگائی گئی ہے اس وجہ سے کہ جامعہ میں اس کے اعتبار کو خدشہ پہنچا ہے ،یا لوگوں کی نظر میں اس کا اعتماد کم ہوگیا ہے، یا اس کی عفت داغدار ہوگئی ہے ،ان معنوی خسارات کی تلافی کا دعوا کرسکتا ہے؟

جواب: اس سوال یااس جیسے سوالات کی سزا کے مورد میں فقط حد وتعذیر ہے ، مجرم کو چاہئے مجنی علیہ(جس کو ستایا گیا ) سے حلیت طلب کرے۔

سوال ۱۰۰۷ -- کیا حدود الٰہی غیر مسلم کے اوپر ہی جاری ہوسکتی ہیں؟ مثال کے طور پر، اگر ایک عیسائی شراب پئے ،یا زنا کرے کیا اس کا حکم مسلمان کے حکم سے جدا ہے اور کیا ان کے آئین کے مطابق ملزم پر حکم صادر ہونا چاہئے؟

جواب: زنا اور لواط جیسے جرم میں اگر دونو ں شخص غیر مسلمان ہوں تو حاکم شرع مخیر ہے کہ اسلام کے قوانین کے مطابق حکم جاری کرے یا ان کو ان کی عدالتوں کی طرف بھیج دے لیکن اگر ایک طرف مسلمان ہو ، چنانچہ اگر زانی مسلمان ہے اسلام کے حکم پر اس کے ساتھ عمل ہوگا، دوسرے شخص کے مورد میں مخیر ہے کہ اسلام کے قوانین کے مطابق عمل کرے یا اس کو اس کی عدالت کی طرف بھیج دے۔
تعذیرات

سوال ۱۰۰۸-- کہا جاتا ہے”استمناء کا خود کوئی ضرر نہیں ہے، بلکہ لوگوں کو خوف دلانے کی وجہ سے ضرر کا باعث ہوجاتا ہے“ کیا یہ بات صحیح ہے؟

جواب: اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ استمناء غیر طبیعی آسودگی کی ایک قسم ہے، اس کا نقصان دہ ہونا ایک واضح امر ہے اس کے علاوہ بہت سے افراد نے ہماری طرف مراجعہ کیا اور کہا ہے:”ہم نے یہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ استمناء ضرر رکھتا ہوگا، لیکن اچانک اپنے کو اس کے برے آثار کا شکار پایا“ اور یہ بہترین دلیل ہے کہ خوف ان نقصانات کا اصلی عامل نہیں ہے ؛ البتہ خوف ان نقصانات کو شدت بخشتا ہے یہ نکتہ بھی اہمیت کا حامل ہے کہ استمناء کے نقصانات خصوصاً جوانوں میں اس کے ترک کرنے کے بعد تدرےجا ختم ہوجاتے ہیں ، مہم یہ ہے کہ جلد بیدار ہوجائیں اور اس کو ترک کردیں۔

مر تد کی حدتعذیرات
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma