تعذیرات

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
حدود کے متفرق مسائلقتل عمداور شبہ عمد کے مصادیق

سوال ۱۰۰۸-- کہا جاتا ہے”استمناء کا خود کوئی ضرر نہیں ہے، بلکہ لوگوں کو خوف دلانے کی وجہ سے ضرر کا باعث ہوجاتا ہے“ کیا یہ بات صحیح ہے؟

جواب: اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ استمناء غیر طبیعی آسودگی کی ایک قسم ہے، اس کا نقصان دہ ہونا ایک واضح امر ہے اس کے علاوہ بہت سے افراد نے ہماری طرف مراجعہ کیا اور کہا ہے:”ہم نے یہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ استمناء ضرر رکھتا ہوگا، لیکن اچانک اپنے کو اس کے برے آثار کا شکار پایا“ اور یہ بہترین دلیل ہے کہ خوف ان نقصانات کا اصلی عامل نہیں ہے ؛ البتہ خوف ان نقصانات کو شدت بخشتا ہے یہ نکتہ بھی اہمیت کا حامل ہے کہ استمناء کے نقصانات خصوصاً جوانوں میں اس کے ترک کرنے کے بعد تدرےجا ختم ہوجاتے ہیں ، مہم یہ ہے کہ جلد بیدار ہوجائیں اور اس کو ترک کردیں۔

سوال ۱۰۰۹ -- اگر شرعی نقطہ نظر سے تعزیر، تازیانہ کے علاوہ دوسرے مصادیق رکھتی ہو جیسے ، قےد، نقدی جرمانہ، حقوق اجتماعی سے محرومیت وغیرہ تو حضور فرمائیں کیا اس کو ان مصادیق سے تبدیل کیا جاسکتا ہے؟
۱۔ ان موارد میں جہاں شرعیت مقدس یا قانون تعزیر کو فقط تازیانہ میں ہی منحصر کیا ہو تو کیا اس کو تعذیر کی دوسری قسم سے بدل سکتے ہیں؟

جواب : اس صورت میں جب قاضی اس کو اصلح جانے، تبدیل کرنے مےں کوئی مانع نہیں ہے ۔

۲۔ تعذیرات غیر منصوص کے مورد میں، کیا تازیانہ کے حکم کے صدور کے بعد اس کو تازیانہ کی تعذیر کے علاوہ سے تبدیل کرسکتے ہیں؟

جواب : جواب سابق کے مانند ہے۔

سوال ۱۰۱۰ -- اس پر توجہ رکھتے ہوئے ۱۸ سال کے نوجوانوں مےں بحد کفایت عقلی اور فکری رشد نہیں پایا جاتا اور اس طریقے سے وہ ایک خاص توجہ اور کمک کے مستحق ہوتے ہیں تاکہ معاشرے مےں اپنے کردار کوپیش کرسکیں، حال حاضر کے قید خانوں کی وضیعت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس عمر کے افراد دوسرے قیدیوں کے منفی اثر و آسیب کے خطرات میں قرار پاتے ہیں، اور اس چیز پر بھی عنایت رکھتے ہوئے کہ آج دنیانے بچوں کے حقوق کے کنوینش کو ترتیب دےا ہے کہ جس کو ۱۸۶ سے زیادہ ملکوں نے قبول کرلیا ہے اور جلد ہی جمہوری اسلامی ایران بھی حق شرط کے ساتھ اس قانون سے جاملا ہے لہٰذا عہدہ داروں کو یہ فکر ہوگئی ہے کہ ۱۸ سال سے کم عمر بچے کے لئے خصوصی عدالتی نظام کو عمل میں لایا جائے اور عمدتاً اس نظام میں جانشینی نظام سے استفادہ کیا جائے، حضور کی نظر میں قضات کے وسےع اختیار پر توجہ رکھتے ہوئے، خصوصاً تعذیرات میں، کیا ضروری ہے کہ خصوصی عدالتی نظام کو ان کے لئے ترتیب دیا جائے، کہ جو جانشینی نظام کے تعزیراتی موارد میں آسیب دیدہ افراد کی شخصیت کو سنوارنے میں موثر ہو، مثلا زبانی ڈانٹ ڈپٹ پر اکتفا کیا جائے یا مجرم کو ایک خصوصی موسسہ میں یاا یسے مربیوں کے پاس جو اس کام کے لئے منتخب کئے گئے ہیں ، بھیجا جائے، یا ایک طبی اور تربیتی موسسہ میں ایک واجدالشرائط طبیب کی رائے کی بنیاد پر صحیح تربیت کی غرض سے روانہ کیا جائے ، یا فقط نقدی جرمانہ پر اکتفا کی جائے ، یا بغیر اجرت کے عمومی اور حقوقی موسسوں یا انجمنوں کے نفع میں قاضی کے زیر نظر اور اسی کی مراقبت میں کام کرنے پر مجبور کیا جائے . یا کسی بھی جدید طریقہ سے جو اس کی شخصیت کو سدھارنے میں موثر کردار رکھتا ہو ، اور اس کی خوداری کی حالت کو بھی محفوظ رکھے، محکوم کیا جاسکتا ہے؟۔

جواب : بچے جب سن بلوغ کو پہنچ جاتے ہیں تو احکام اسلامی ان کے شامل حال ہوجاتے ہیں مگر یہ کہ ان کا عدم رشد ثابت ہو؛ اس صورت میں ایسے مسائل جن میں رشد کو معتبر جانا گےا ہے وہ ان کو شامل نہیں ہوتے . لیکن اس بات پر توجہ رکھتے ہوئے کہ غالبا ۱۸ سال سے کم عمر کے نوجوانوں میں تخفےف دینے والے عوامل پائے جاتے ہیں لہٰذا تعذیرات میں ان کوقابل ملاحظہ تخفےف دی جاسکتی ہے، اور اگر ان کو عمومی زندان میں بھیجنا اخلاقی فساد کے خطرہ کا باعث ہو تو حکومت اسلامی موظّف ہے کہ ان کے لئے ایک خاص جگہ کا انتظام کرے یا ان کے لئیتعذیرات کی شکل کو تبدیل کرے۔

سوال ۱۰۱۱ -- ان موارد میں جہا ں مجرم بلوغ شرعی کو تو پہنچ گےا ہو لیکن ثابت ہوجائے کہ
اولا : اس کی تشخیص خام اور ناکافی تھی۔
ثانیا : اس کے جرم کا ارتکاب ، ایک جدی، عامدانہ اور آگاہانہ نہیں تھا۔
ثالثا : اس کے شخصی اور خانوادگی اوضاع واحوال کو مد نظر رکھتے ہوئے ، اس کے ارتکاب عمل سے کوئی مجرمانہ قصد ثابت نہیں ہوا ہے . کیا ایسی صورت میں ملزم عدالتی ذمہ داری رکھتا ہے اور مقررہ سزا کا مستحق ہے؟

جواب : اس صورت میں جب کہ اس کی وضع ایسی ہو کہ عنوان عمد اس پر صادق نہ آئے، جرم عمدی کے احکام اس کو شامل نہیں ہوتے اور ان موارد میں جب تعذیر پر محکوم ہوا ہو تو حاکم شرع اوضاع واحوال فوق کو بعنوان عوامل مخفّفہ تلقّی کرسکتا ہے۔

سوال ۱۰۱۲ -- جناب عالی کی نظر سیکسی کیسٹوں کے بارے میں اور ہر ایسی مبتذل اور مستہحن چیزوں سے شخصی یا عمومی استفادہ کرنا کہ جو اخلاقی فساد اور عفت عمومی کے مجروح ہونے کا سبب بنے کے بارے میں جناب عالی کی کیا نظر ہے؟ کیا خلاف ورزی کرنے والا تعذیر شرعی کا مستحق ہے؟

جواب : کیسٹوں یا دوسری مبتذل اشیاء سے شخصی یا عمومی استفادہ کرنا کہ جو فساد اخلاقی کا سبب بنے . بلا اشکال حرام ہے، یہاں تک کہ اس کا رکھنا اور اٹھانا بھی جایز نہیں اور اس سے تخلف کرنا تعذیر کا باعث ہے . البتہ ان مسائل کی روک تھام کے لئے بہت زیادہ ثقافتی کام انجام دینے چاہئے، تاکہ قوانین الٰہی صحیح صورت میں جاری ہو سکیں

سوال ۱۰۱۳ -- چنانچہ مجرم حقیقت بیانی سے منع کرے، کیا قاضی موضوع کے روشن ہونے کی وجہ سے مجرم کو کچھ دن روک سکتا ہے؟

جواب : جائز نہیں ہے، مگر اےسے مورد میں جہاں معاشرے کے مہم مسائل خطرہ میں ہوں، یاوہ کسی اور جرم کا مرتکب ہوا ہو، اس صورت میں اس کو بعنوان تعذیر روکا جاسکتا ہے۔

سوال ۱۰۱۴-- چنانچہ عدالت کا قاضی تشخیص دے کہ قید خانہ کے حفظان صحت کے قوانین کی خاطر ، جلدی امراض کی روک تھام اور وقوع جرم کا سد باب کرنے کے لئے، مجرم کے سدھارنے کا بہترین طریقہ اس کے بال کم کراناہے، کیا یہ کام جائز ہے؟

جواب : اگر واقعاً راستہ اسی میں منحصر ہو تو جائز ہے۔

سوال ۱۰۱۵ -- اگر کوئی شخص کسی دوسرے پر چوری، غےر شرعی رابطہ، اسناد کی جعل سازی وغےرہ کی تہمت لگائے اور اپنے دعوے کو ثابت نہ کرسکے، یا ابتدائی عدالت میں جرم ثابت ہوجائے لیکن تجدید نظر والی عدالت(وہ عدالت جس میں اپیل کی گئی ہے) اس کو بری کرکے ابتدائی عدالت کے حکم کو نقض کردے، نتیجہ مےں مشتکی عنہ(جس کی شکایت کی گئی ہو) شاکی(شکایت کرنے والا) کے اوپر افترا اور تہمت کا دعوا کرکے اس کی سزا کا تقاضا کرے، کیا ایسا شخص فقط سوء نیت کے ثابت ہونے کی صورت میں تعذیر اور مجازات کا مستحق ہوگا، یامطلقاً قابل تعذیر ہے؟

جواب : اس صورت میں جب کوئی شخص عالماً عامداً کسی کی طرف غلط نسبت دے قابل تعذیر ہے، نیت کوئی بھی رکھتا ہو۔

سوال ۱۰۱۶-- چنانچہ تعذیرات کی وجہ سے قانونی دلائل کی بنےاد پر مجرم کو کچھ روز حوالات میں روکا جائے، کیا اس کے تازیانہ کی سزا میں تخفیف کے قائل ہوسکتے ہیں ؟ مثلا ایک شخص نے غیر شرعی رابطہ پر زنا کی حدود تک اقدام کیا تو اس پر ۹۹ کوڑے لگائے جائےں لیکن چونکہ ۱۰ روز ، صدور حکم کے زمانہ تک قید میں رہا، کیا اس کی سزا میں سے ۵۰ یا اس سے کم یا زیادہ تازیانے کم کیے جاسکتے ہیں؟

جواب : تعذیر کی کیفیت اور اس کی مقدار قاضی کے اختیار میں ہے، یہاں تک کہ مصلحت کی صورت میں اس کے قید کے دنوں کو پوری تعذیر کی جگہ شمار کرسکتا ہے۔

سوال ۱۰۱۷-- چنانچہ کسی شخص کو طمانچہ مارا جائے یا اسی کے مانند ستایا جائے جےسے زمین پر پٹک دینا، دھکا دینا، گریبان پکڑناوغیرہ سوء نیت اور معنوی عنصر کے لحاظ سے تو یہ جرم ہو لیکن کوئی ایسے آثار جیسے زخم ، سرخی، نیل پڑ جانا، سیاہی، یا منافع کا زوال، جو دیت یا ارش کا باعث ہوتا ہے، دکھائی نہ دیںتو حضور فرمائیں :
الف : کیا یہ توہین اور اہانت کے موارد میں سے ہے؟
ب : کیا توہین اور اہانت میں علنی ہونا شرط ہے یا خلوت میں بھی ممکن ہے؟
ج : کیا عملی توہین کے مصداق، اشخاص خاص ، یا محل خا ص اور عرف کی نسبت برابر ہیں؟ کیا جواب کے مثبت ہونے کی صورت میں تعذیر ہے؟۔

جواب : یقینا یہ امور ایذاء بھی ہیں اور توہین بھی، بالفرض اگر توہین نہ بھی ہوں توان پر ایذاء مومن ضرور صادق آتا ہے ؛ ہر حال میں تعزیر کا سبب ہیں۔

سوال ۱۰۱۸ -- اگر ایک شخص دوسرے کو قذف کے علاوہ گالی دے کہ جو سننے والے کی اذیت کا باعث ہو، اور سننے والا تحقےر کا مستحق ہو، مثلا کہے ”تو کنجوس ہے“ تو آپ فرمائیں :
الف : کیا ایسا شخص سزا کا مستحق ہے؟
ب : اگر گالی دینے والے کی سزا، عدم استحقاق سے مقید ہو ، تحقیر کے مستحق ہونے یا نہ ہونے کی تشخیص کا ملاک کون ہوگا؟

جواب : الف اور ب : کوئی کسی کی توہین کرنے کا حق نہیں رکھتا، اور اگر توہین کرنے والا جان بوجھ کر یہ کام کرے تو حاکم شرع اس کو تعذیر کرسکتا ہے اور اگر توہین ہونے والا سزا کا مستحق ہو تو وہ حاکم شرع کے ہاتھ سے انجام پانی چاہئے ، عام افراد کو ایسا کوئی حق نہیں ہے۔

سوال ۱۰۱۹ -- اگر کوئی شخص عدالت میں کسی کی شکایت کرے کہ ملزم نے اس کے اموال کو چوری کرلیا ہے لیکن شکایت کرنے والا کوئی شاہد نہ رکھتا ہو اور اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے ملزم سے قسم کا تقاضا کرے، ملزم قسم کو شاکی کی طرف رد کردے، کیا شاکی کی قسم کی وجہ سے ملزم کو تعذیر کیا جاسکتا ہے؟۔

جواب : اس میں اشکال ہے۔

سوال ۱۰۲۰ -- کچھ عرصہ پہلے عدلیہ کے رئےس نے فرماےا تھا :”فقہ اسلامی کی نظر سے چیک اور قرضے زندان کا سبب نہیں بنتے“ اور یہ بھی فرمایا تھا : ”بہت سی وقتی قیدوں کی کوئی فقہی اور حقوقی دلیل نہیں ہے تو“ کیوں مراجع عظام، علماء کرام اور بزرگان دین نے اس طرح کے مسائل کے مقابلہ میں سکوت اختیار کیا؟ اگر کوئی مسئلہ فقہی اور دینی دلیل نہیں رکھتا تو کیوں اجراء ہوتا ہے؟

جواب : بے جا چیک کے سلسلہ میں ، قید کے مسئلہ کی دو دلیلےں ہوسکتی ہیں :
اول : یہ کہ ثابت ہو کہ طر ف مقابل کچھ اموال رکھتا ہے جن کے ذریعہ اپنے قرض کو ادا کرسکتا ہے(مستثنیات دَین کے علاوہ)۔
دوم : یہ کہ حکومت اسلامی ثابت کرے کہ بے جا چیکوں کے سلسلے میں کوئی کار وائی نہ کرنا معاشرے کے اقتصادی نظام کو متزلزل کردے گی۔

سوال ۱۰۲۱ -- ایک شخص عالماً اور عامدا ًدعوا کرے کہ ”میں امام زمانہ ہوں“لیکن کوئی اس کا طرفدار نہ ہو ، ایسے شخص کا حکم شرعی کیا ہے؟

جواب : ایسا شخص منحرف اور مستحق تعذیر ہے اور حاکم شرع پر لازم ہے کہ اس کی تھام کرے لیکن موت کا حکم نہیں رکھتا، مگر بعد میں اس پر مفسد فی الارض کا عنوان صادق آجائے۔

سوال ۱۰۲۲ -- اگر ایک مرد انظار عمومی میں اپنی زوجہ کا بوسہ یا اس کے جیسی حرکت کا اقدام کرے ، کیا یہ عمل گناہ اور موجب تعذیر ہے؟۔

جواب : ایسا عمل گناہ شمارنہیں ہوگا اور اس پر تعذیر بھی نہیں ہے مگر یہ کہ قاضی تشخیص دے کہ ایسے اعمال پردہ دری اور جامعہ میں فساد کے شایع ہونے کا سبب ہوجائےں گے ، اس صورت میں مناسب تعذیر بجا ہے۔

حدود کے متفرق مسائلقتل عمداور شبہ عمد کے مصادیق
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma