قتل عمداور شبہ عمد کے مصادیق

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
تعذیراتقصاص کے شرائط

سوال ۱۰۲۳ -- ایک شخص کافعل دوسرے شخص کی موت کا سبب ہوا کیا اس کو فقط ترک فعل کی بنےاد پر سزا دی جاسکتی ہے؟ ذیل میں دی گئی مثالوں پر توجہ فرمائیں :
الف : ایک ماں علم رکھتے ہوئے کہ اس کا بیٹا دودھ کی حاجت رکھتا ہے عمدا دودھ نہیں پلاتی نتیجہ بچہ مرجاتا ہے، کیا یہ قتل عمد ہے یا کوئی اور قتل شمار ہوگا؟
ب : اگر ریلوے ملازم جس کا وظیفہ پروگرام کے مطابق ریل لائن کو جابجا کرنا ہے ، خطرہ کا علم رکھتے ہوئے اس فعل کو انجام نہیںدیتااور اس کا یہ کام نہ کرنا دوریل گاڑیوں کے ٹکرانے اور مسافرین کے مرجانے کا سبب ہوجائے ، کیا قتل عمد شمار کیا جائے گا؟
ج : نرس ، جس کا وظیفہ معینہ وقت پر بیمار کو دوا دینا ہے، عمدا اس کام سے خوداری کرے اور بیمار مرجائے ، جب کہ یہ بھی جانتی تھی یا جانتا تھا کہ بیمار کو دوا دینا اس کی زندگی کے مترادف ہے، یہ کس نوع کا قتل شمار ہوگا؟
د : ڈوبنے والے کو نجات دینے والا، ڈوبتے ہوئے شخص کو دیکھ کر بھی نجات نہیں دیتا، جبکہ اس کا یہ ہی وظیفہ تھا، اور ڈوبنے والا مرجائے ، کیا یہ قتل عمد ہے؟۔

جواب : الف سے آخر تک : ان موارد میں جہاں قتل کی نسبت ایسے شخص کی طرف دی جائے، ویا بعبارت دےگر سبب مباشر سے اقوی ہو ، جیسے پہلی اور دوسری مثالوں میں، قتل صادق آتاہے اور اسی کے احکام جاری ہوتے ہیں، تیسری اور چوتھی مثال میں موارد مختلف ہیں۔

سوال ۱۰۲۴ -- قتل کا اصلِ وقوع عدالت کے لئے ثابت ہوگیا، لیکن اس کی نوع مشخص نہیں ہوئی ہے شواہد بھی نوع قتل کے اثبات کے لئے موجود نہیں ہیں ، اس موردمیں عدالت کی کیا تکلیف ہے؟

جواب : شبہ عمد کا حکم لگاےا جائے گا۔

سوال ۱۰۲۵ -- اگر ایک شخص کسی کے پاس سوئے اور دوسرا سوتے ہوئے اسے قتل کردے، نیچے کی صورتوں میںمسئلہ کا حکم کیا ہے؟
الف : اس صورت میں جب کہ احتمال دیتا ہو کہ سوتے ہوئے اس کو قتل کردےگا ۔
ب :اُس صورت مےںجبکہ کسی طرح کا احتمال نہ دیتا ہو-۔
ج : اس صورت مین جبکہ یقےن رکھتا ہے کہ اسکو قتل کر دےگا ، اور قتل کے قصد سے اس کے پاس سوےا ہو ؟

جواب : اس صورت میں جب یقین رکھتا تھا ےا احتمال غالب دیتا تھا کہ اس کو قتل کردےگا، قتل عمد شمار ہوگا ، اس صورت کے علاوہ یہ قتل، شبہ عمد ہے۔

سوال ۱۰۲۶ -- اگر کسی شخص نے خواب آور دوا کھائی اور کسی دوسرے شخص کے پاس پڑ کر سوگیا حالانکہ علم رکھتا تھا کہ سوتے ہوئے وہ اس کو قتل کردے گا ، نیچے دئےے گئے دو فرضوں میں حکم کیا ہوگا۔
الف : اسی مورد نظر شخص کو قتل کرے؟
ب : اتفاقا شخص مورد نظر اٹھ کر چلا جائے اور دوسرا اس کی جگہ سوجائے اور قتل ہوجائے؟

جواب : اگر یقین رکھتا تھا یا احتمال غالب دیتا تھا کہ جو بھی اس کے پا س سوئے گا مارا جائے گا ، قتل عمد شمار ہوگا، بشرطیکہ کہ اپنے پاس کسی شخص کے سونے کو جانتا تھا۔

سوال ۱۰۲۷ - --- ایک خاتون مناسب اخلاق نہیںرکھتی تھی، اپنے بھاےؤں سے مار کھاتی تھی، بھائےوں کی مار کے نشانات اسکے بدن پر دایکھے جا سکتے تھے، پھر اس کے بھائےوں نے مقدمات قتل کی آمادگی کی ، رسی کو کسی چیز میں باندھا اور اپنی بہن کوخودکشی پر مجبور کیا ، بہن نے بھی رسی کو گلے میں باندھ لیا اور پھانسی کھا لی، کیا اس مرحومہ کی مار پیٹ اور اس کے لئے پھانسی کے وسائل کو فراہم کرنا قتل میں اکراہ واجبار کے مصادیق میں سے شمار ہوگا؟ اکراہ واجبار کرنے والوں کا شرعی حکم کیا ہے؟۔

جواب : جب بھی ثابت ہوجائے کہ اکراہ اس حد تک تھا کہ اس خاتون نے شدیدشکنجے کی وجہ سے خودکشی پر اقدام کیا ، اکراہ کرنے والے قاتل عمد کے حکم میں ہیں۔

سوال ۱۰۲۸ -- شوہر اور بیوی کے مشترک گھر میں ایک قتل واقع ہوتا ہے، الزام شوہر اور بیوی اور شوہر کے چچازاد بھائی پر آتا ہے جبکہ مقتول بالکل اجنبی تھا اور کوئی سببی یا نسبی یہاں تک کہ جانکار تک نہ تھا، ملزمہ ابتدا میں ، قتل کی وجہ، اپنے اوپر مقتول کے زبردستی دست درازی کرنے کو عدالت مےں بےان دیتی ہے. اور قتل میں مباشرت کا اقرار کرتی ہے؛ لیکن بعد میں اس کی تکذیب کرتی ہے. ملزمہ کا شوہر کہتا ہے :”ہر چند کہ وہ شخصاً مقتول کی سلب حیات پر موفق نہیں ہوا، لیکن اعتقاد رکھتا ہے ایسا متجاوز شخص شرعاً قتل کا مستحق ہے“تیسرا ملزم ، قتل میں شرکت کا منکر ہے.
ملزمہ کے بیان اور قتل مذکور میں شریفانہ انگیزہ پر توجہ رکھتے ہوئے فرمائےں کیا یہ قتل موارد قصاص میں سے ہے؟

جواب : اگر ثابت ہوجائے کہ قاتل وہ ہی عورت ہے لایکن جب تک ثابت نہ ہوجائے کہ اس کا انگیزہ اپنی عزت کی حفاظت کرنا تھا، تو قصاص ہونا چاہئے۔

سوال ۱۰۲۹ -- پہلا شخص پتھر سے مقتول کے سر پر وار کرتا ہے اور اس کو زمین پر گرادیتا ہے مضروب جاں کنی کی حالت میں تھا کہ وہ شخص دوبارہ پتھر اٹھاتا ہے تاکہ اس کو مارے لیکن دوسرا شخص پتھر کو پہلے شخص سے چھین لیتا ہے اور دونوں ہاتھ مضروب کے سر پر دے مارتا ہے ، مذکورہ شخص سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے مرجاتا ہے اولیاء دم کے وکیل نے دوسرے وار کے مورد میں بحث کرتے وقت کہا : ”دوسرے وار نے متوفیٰ کی آخری رمق حیات کو سلب کیا ہے“ اگر بالفرض دونوں وار سر کے ایک ہی نقطہ وارد ہوئے ہوں تو آپ فرمائیں :
۱۔ کیا یہ قتل عمد ہے یا شبہ عمد ہے اور قاتل کون ہے؟

جواب : یہ دونوں وار چاہے سر کے ایک نقطہ پر وارد ہوئے ہوں یا دونقطوں پر، قتل عمد ہے اور دونوں مشترکا ًقاتل شمار ہوںگے۔

۲۔ تعذیرات اسلامی کے قانون کی دفعہ ۲۱۷یہ ہے : ”جب بھی پہلا شخص کوئی جراحت وارد کرکے مجروح کو مردے کے حکم میں پہنچا دے اور فقط حےا ت کی آخری رمق اس میں باقی رہ جائے ، اس حالت میں دوسرا شخص کوئی ایسا کام انجام دے کہ اس کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے ، پہلے شخص سے قصاص ہوگا اور دوسراشخص مردے پر جنایت کرنے کی وجہ سے دیت ادا کرے گا “ کیا یہ قانون ہمارے اس مسئلہ میں صادق آتا ہے؟

جواب : جو آپ نے اوپر ذکر کیا ہے قانون کے اس مادے کو شامل نہیں ہے مگر یہ کہ پہلے شخص نے اس کا کام تمام کردیا ہو۔

سوال ۱۰۳۰ -- دیہات کے دو شخصوں کے درمیان ایک چوکر کی بوری کے خریدنے پر جھگڑا ہوا گاؤں والوں نے ان کو چھڑا دیا، شہود اور مقتول کے بیانات کے مطابق ان کے درمیان ایسی کوئی لڑائی نہیں ہوئی ، لیکن جدا ہونے کے بعد ملزم مقتول کے گھر کے سامنے تقریباً ۱۰ سے ۱۵ میٹر کے فاصلے پر کھڑا ہوکر ایک پتھر مقتول کی طرف پھینکتا ہے جو اس کے گلے پر پڑتا ہے اس حادثہ کے تین گھنٹے بعد مقتول تھانے میں جاتا ہے اور وہاں سے اسپتال منتقل ہوجاتا ہے اوروہیں پر فوت ہوجاتا ہے. قانونی ڈاکٹر موت کی وجہ کو سخت بدن کے گردن سے ٹکرانے اور اسی سے پیدا شدہ عوارض کو بیان کرتا ہے لیکن ملزم، تحقیقات کے تمام مراحل میں پتھر کے پھینکنے سے انکار کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ خود مقتول کے خلاف شکایت کرنے تھانے گیا ہوا تھا اور وہیں پر گرفتار ہوگےا تھا اس مسئلہ کا حکم بیان فرمائیں :

جواب : چنانچہ دوشاہد عادل کی شہادت کے مطابق ثابت ہوجائے کہ ملزم نے وہ پتھر مقتول کی گردن پر مارا تھا اور موت بھی پتھر لگنے سے واقع ہوئی تھی ، اور ملزم قتل کا قصد بھی رکھتا تھا . یا یہ کہ ایسا پتھر مذکورہ فاصلہ سے غالبا موت کا سبب ہوجاتا ہو، قتل عمد شمار ہوگا اور قصاص رکھتا ہے. اس صورت کے علاوہ (یہاں تک کہ شک کی صورت میں) دیت دینا پڑے گی۔

سوال ۱۰۳۱ -- مجنی علیہ(جس پر جنایت وارد کی جائے) کی رضایت سے ضرب وجرح وارد کرنے کا کیا حکم ہے؟ کسی انسان کو اس کی رضایت سے قتل کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب : ان میں سے کوئی بھی امر جائز نہیں ہے۔

سوال ۱۰۳۲ -- کچھ لوگوں نے دشمنی کی بنا پر ایک دوسرے پر گولی چلائی ہے، ایک بارہ سال کا بچہ جو وہاں سے گذر رہاتھا ایک معینشخص کی گولی سے قتل ہوجاتا ہے، بعضعلماء دین نے دیت کی مقدار کو معین کردیا  دیت کی کچھ مقدار کو قاتل کے اوپر اور کچھ مقدار کو دوسرے اشخاص کے ذمّہ ٹھہرایا،اس قضاوت کا شرعی حکم کیا ہے؟۔

جواب : اگر گولی جلانے والے نے اس بچے کو دیکھا تھا اور دیکھ کر اس کی طرف گولی چلائی تھی تو یہ قتل، قتل عمد شمار ہوگا ؛ ہر چند کہ اس کے قتل کا قصد نہ رکھتا تھا اور اس صورت میں جب کہ دیت پر موافقت کرلی ہو تو تمام دیت قاتل کے ذمہ ہے۔

سوال ۱۰۳۳ -- ایک شخص نے کچھ آدمیوں کی طرف گولی چلائی اور ایک ۱۴ سالہ بچے کو بغیر کسی تقصیر کے قتل کردیا، اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ قاتل کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ اس کے قتل کا قصد نہیں رکھتا تھا تو فرمائیں مذکورہ قتل کس نوع کا قتل ہے اور اس قتل کا حکم کیا ہے؟

جواب : اس صورت میں جب اس نے کچھ آدمیوں کی طرف گولی چلائی تو یہ قتل عمد شمار ہوگا ؛ ہر چند کہ کہے کہ وہ قتل کا قصد نہیں رکھتا تھا۔

سوال ۱۰۳۴ -- چنانچہ کچھ افراد بیرون ملک کچھ جرائم کے مرتکب ہوئے اور اس ملک کے قوانین کے مطابق ان کا محاکمہ بھی ہوگیا اور اس جرم کی مقررہ سزا بھی گذار لی ہے، اس کے بعد وہ ایران پلٹ آئے لہٰذا آپ فرمائیں :
الف : ان جرائم میں جو قصاص کا باعث ہوتے ہیں، اولیاء دم کی درخواست کی صورت میں سزا کے قابل ہیں؟

جواب : ان موراد میں جو قصاص کا سبب بنتے ہیں ، اگر شاکی قصاص کا تقاضا کرے تو قصاص جاری ہوگا اور اگر شاکی قصاص کے بدلے جرمانہ پر راضی ہوگیا تھا تو قصاص کا حکم ساقط ہے اور اگر راضی نہیں ہوا تھا تو جرمانے کی رقم کو واپس کرکے قصاص کا تقاضا کرسکتا ہے ۔

ب : جرائم حدّی کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب : حدود والے جرائم میں حد ساقط نہیں ہوگی؛ کیوں کہ ان میں حد کے جاری کرنے کے شرائط نہیں پائے جاتے لہٰذاوہ حد کے قائل نہیں ہیں۔

ج : تعذیری اور روک تھام والے جرائم میں کیا حکم ہے؟

جواب : اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ تعزیر نظر حاکم سے مربوط ہے اگر وہاں پر ان کو تعذیر کردیا گیا تھا ہر چند کہ تعذیر، زندان کی صورت میں تھی تو حاکم شرع یہاں کی تعذیر میں تخفےف دے سکتا ہے، چاہے تعذیر ملامت اور سرزنش کی صورت میں ہی کےوں نہ ہوئی ہو۔

سوال ۱۰۳۵ -- ایک محارب ، محاربہ کے عمل میں قتل نفس یا نقص عضو کا مرتکب ہوجاتا ہے؛ کیا محاربہ کی سزا کے علاوہ وہ قصاص کا بھی مستحق ہے؟

جواب : پہلے قصاص کیا جائے گا پھر محارب کی حد جاری ہوگی۔

سوال ۱۰۳۶ -- کیا مجرم کی موت سے پہلے حق قصاص کا ایجاد کرنا ممکن ہے تاکہ مجنی علیہ اس کے اسقاط کا حق رکھ سکے؟

جواب : اس طرح کے موضوعات اسقاط مالم یجب میں سے نہیں ہیں اور ہم نے ان کو ان کی جگہ پر مشروحا ًبیان کیا ہے۔

سوال ۱۰۳۷ -- کیا جرم سے پہلے قتل کے قصد کا ثابت ہونا حکم قصاص کی مشروعیت کی شرط ہے؟

جواب : جی ہاں، قتل کے قصد کا ثابت ہونا شرط ہے؛ ہر چند کہ قرائن اور شواہد کے ذریعہ کیوں نہ ہو۔

سوال ۱۰۳۸ -- کیا مجنی علیہ کی اجازت سے اس پر زخم لگانا ، ارش اور دیت کے سقوط کا سبب ہے؟ بعبارت دیگر : ایک شخص کسی کو اجازت دے کہ اس پر جنایت وارد کرے ، کیا جنیت کے بعد مجنی علیہ خسارت کا مطالبہ کرسکتا ہے؟

جواب :ایسا اذن، تکلیفی نقطہ نظر سے جنایت کے وارد کرنے کا مجوز نہیں ہوتا اور دیت بھی رکھتا ہے، مگر یہ کہ مجنی علیہ جنیت کے وقوع کے بعد جانی کو معاف کردے۔

تعذیراتقصاص کے شرائط
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma