قصاص کے شرائط

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
قتل عمداور شبہ عمد کے مصادیقاولیاء دم

سوال ۱۰۳۹ -- کافر کے مقابلہ مسلمان کے عدم جواز قصاص کو مد نظر رکھتے ہوئے فرمائیں : کیا ارتکاب قتل کے بعد قاتل کا اسلام لے آنا اجراء قصاص سے مانع ہوتا ہے؟ جواب کے مثبت ہونے کی صورت میں ، کیا ظاہری اسلام (قصاص سے فرار کی وجہ سے)اور واقعی اسلام کے درمیان کوئی فرق ہے؟

جواب : جی ہاں، مسلمان ہونا اس کے قتل کے لئے مانع ہے اور ہم ظاہر پر مامور ہیں، مگر یہ کہ اس کے جھوٹ پر یقین حاصل ہوجائے۔

سوال ۱۰۴۰ -- اس چیز کو مدّنظر رکھتے ہوئے کہ قصاص نفس کے حق کو ایجاد کرنے کی ایک بنیادی شرط ، دین میں مساوات ہونا ہے لہٰذا ذیل میں دئےے گئے دوسوالوں کے جواب عنیت فرمائیں
۱۔ مساوات کا ملاک ، ارتکاب قتل کا زمانہ ہے یا اجراء حکم کا زمانہ؟

جواب : اس صورت میں جب کسی مسلمان کو قتل کیا ہو، پھر مسلمان ہوجائے تو قصاص ختم نہیں ہوتا اور اگر کافر نے کافر کو قتل کیا ہو تو قصاص ختم ہوجاتا ہے اور وہ قصاص دیت میں تبدیل ہوجاتا ہے؛ لہٰذا یہاں پر دین میں مساوات کا معیار ، حالِ قصاص ہے۔

۲۔ کیا اہل حق اور علیّ اللّٰہی (۱)فرقہ، مسلمان شمار ہوتے ہیں؟

جواب : ان میں بعض خدا کی وحدانیت اور پیغمبر اسلام صلی  کی نبوت کا اظہار کرتے ہیں ؛ یہ گروہ مسلمان ہے؛ ہر چند کہ یہ گروہ منحرف ہے ، لیکن بعض دوسرے ایسے نہیں ہیں۔

۲۔ قاتل مقتول کا باپ نہ ہو

سوال ۱۰۴۱ -- بہت سے فقہاء فرماتے ہیں : ”باپ کا بیٹے کو قتل کرنے کی وجہ سے قصاص نہیں کیا جائے گا لیکن ماں کو قصاص کیا جائے گا“ اس فرق کی دلیل کیا ہے؟

جواب : اس حکم میںباپ اور ماں کے درمیان فرق کی عمدہ دلیل وہ بہت ساری روایات ہیں جو اس سلسلے میں وارد ہوئی ہیں ان میں بہت سی روایات میں کلمہ”رجل“ یا ”اب“ ہے جالب نظر، یہ ہے کہ کلمہ”رجل“ یا ”اب“ راوی کے سوال میں ہی نہیں ہے تاکہ کہہ سکیں کہ راوی نے اپنے محل ابتلاء کے متعلق سوال کیا تھا، بلکہ یہ امام کے کلام میں بھی موجود ہے، جو اس فرق پر بہترین دلیل ہے اور یقینا ”رجل“ یا ”اب“ کو مفہوم اعم پر حمل کرنا بہ حسب متفاہم عرب ممکن نہیں ہے اور ”والد“ کا ظہور بھی یہی معنی رکھتا ہے، مفہوم اعم پر حمل کرنا بہت مشکل نیز فقہی موازین سے بھی سازگاری نہیں رکھتا، اس کے علاوہ یہ مسئلہ تقریباً اجماعی ہے ان تمام روایات اور اقوال کے باوجود اس کی مخالفت کرنا ذوقِ فقہی سے سازگاری نہیں رکھتااور یہاں پر قاعدہٴ ”درء“ سے متمسک ہونا بہت زیادہ مشکل ہے؛ اس لئے کہ قانون قصاص کی عمومیت، متعدد آیات ورویت سے استفادہ ہوتی ہے اور اس حکم سے استثنا کرنے لئے ایک محکم دلیل درکار ہے کہ جو یہاں پر موجود نہیں ہے، ضمناً اس فرق کا فلسفہ نسبتاً روشن ہے جو اہل تحقیق قارئین کے اوپر پوشیدہ نہیں ہے، بہتر تھا کہ اس امتیاز کو باپ سے چھین نے کی کوئی فکر کرتے نہ یہ کہ اس امتیاز کو ماں کو بخشنے کی فکر میں لگے ہیں۔

سوال ۱۰۴۲ -- اگر باپ اپنی ناجائز اولاد کو قتل کردے تو کیا اس کو قصاص کےائے گا؟

جواب : قصاص نہیں کیا جائے گا، مگر دیت دینا ہوگی ۔

سوال ۱۰۴۳ -- ایک نعیم نامی شخص نے اپنے تین بچوں کو قتل کیا اور کچھ کو بہت شدید زخمی کیا جو بعد میں بہبود پاگئے ، لہٰذا حضور فرمائیں :

۱۔ کیا بچوں کی ماں کی موجودگی میں چچا حضرات دیت کا دعوا کرسکتے ہیں؟

جواب : مقتولین کی دیت باپ پر لازم ہے اور پوری دیت ان کی ماں کو پہنچے گی اور مجروحین کی دیت خود انہی سے متعلق ہے، بہر حال چچا اور ماموں حضرات یہاں پر کوئی حق نہیں رکھتے۔

۲۔ اگر مقتولین کی ماں زندگی کو ادامہ دینے کے لئے قاتل سے ڈرتی ہو، کیا ضروری ہے کہ اس کے ساتھ زندگی بسر کرے ، یا حاکم شرع کے ذرےعہ طلاق لے سکتی ہے؟

جواب : جب تک خطرہ کا احساس نہ کرے اس کے ساتھ زندگی بسر کر سکتی ہے، ورنہ حاکم شرع کے ذریعہ طلاق لے سکتی ہے۔

سوال ۱۰۴۴ -- اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ باپ یا دادا کے ذریعہ بچوں کا قتل قصاص نہیں رکھتا، افسوس کہ یہ امر معاشرے میں زیادہ رواج پا گیا ہے! ان افراد کے لئے سزا میں شدت کے لئے کیا حکم صاد ر فرماتے ہیں؟

جواب : ان موراد میں باپ یا دادا دیت ادا کرےں اور آپ جانتے ہیں کہ دیت بہت زیادہ سنگین ہوتی اور ایک مہم سزا شمار ہوسکتی ہے ، اگر حاکم شرع تشخیص دے کہ معاشرہ میں یہ کام بہت زیادہ ہوگیا ہے تو اس کے علاوہ سخت تعذیر بھی کرسکتا ہے البتہ اگر ابھی بچہ شکم مادر میں ہو تو کسی بھی حال میں قصاص نہیں ہے فقط دیت ہے۔
۳۔ عقل میں مساوات

سوال ۱۰۴۵ -- اگر عاقل عمداً کسی مجنون کو قتل کردے تو قصاص کیوں نہیں ہے؟

جواب : اولاً یہ مسئلہ اجماعی ہے اور معتبر روایت سے ثابت ہے۔
دوسرے یہ کہ عاقل اور مجنون کے درمیان کوئی مساوات نہیں ہے، اسی وجہ سے جائز نہیں ہے کہ عاقل کو مجنون کے قتل کی خاطر قصاص کےا جائے ؛ لیکن دیت ثابت ہے۔
۳۔ مقتول محقون الدّم ہو (جس کا خون بہانا جائز نہ ہو)

سوال ۱۰۴۶ -- اگر کوئی شخص اس اعتقاد کے ساتھ کہ ایک شخص بعض اعمال کے ارتکاب یا بعض عقائد کے رکھنے کی وجہ سے واجب القتل ہے اس کے قتل کا اقدام کرے حالانکہ شرعا ًایسے اعمال یا عقائد مجوّزِ قتل نہیں ہوتے تو حضور فرمائیں واقع شدہ قتل کس نوع کا قتل ہے؟

جواب : سوال کے فرضمیں یہ قتل شبہ عمد شمار ہوگا۔
۵۔ جنسیت میں مساوات

سوال ۱۰۴۷ -- اگر کوئی مرد چند محقون الدّم عورتوں کو قتل کردے اور ان کے بعض اولیاء دم (وارثین) قصاص کے خواہاں ہوںاور بعض دیت کے طالب ہوں تو کس ترتیب سے عمل ہوگا؟

جواب : جب بھی بعض وارثین قصاص کرنا چاہیں (مثلاً ایک مقتولہ کے اولیاء دم فاضل دیت کو ادا کرکے قصاص کریں) تو بقیہ مقتول عورتوں کی دیت قاتل کے اموال سے ادا ہوگی۔
لوث اور قسامہ

سوال ۱۰۴۸ -- اگر طرفین کے دعویٰ کا جھگڑا ثابت ہوجائے لیکن مدعی کے پاس اس کے زخمی ہونے کا کوئی گواہ نہ ہو، فقط ایک شخص اس طرح بیان دے کہ میں نے مدعیٰ علیہ(ملزِم) کے ہاتھ میں چاقو دیکھا تھا ، کیا یہ مورد (شک) کے موارد سے ہوگا، یا یہ لازم ہے کہ مدعیٰ علیہ(ملزِم)منکر کے عنوان سے قسم کھائے؟ کیا تھوڑے بہت نقصانات میں بھی منکر یا مدعی قسم کھا سکتے ہیں؟

جواب : فقط ایک شخص کی شہادت پر جس صورت میں آپ نے اوپر ذکر کی ہے، لوث(شک) ثابت نہیں ہوتا جزئی نقصانات میں بھی ( جیسے انگلی کے ایک پورے پر بھی جنایت کا وارد ہونا) قسامہ کا حکم جاری ہوتا ہے۔

سوال ۱۰۴۹-- بعض فقہاء نے لوث میں کچھ عورتوں کی ایک جماعت کی شہادت کو بھی قبول کیا ہے، لیکن امام خمینیۺ نے فرمایا ہے : لوث عورتوں کی شہادت سے حاصل نہیں ہوتالہٰذا آپ فرمائیے جماعت سے منظور کیا ہے؟ کیا ایک عورت کی شہادت سے خصوصاً قتل عمد یا غیر عمد مےں لوث ثابت ہوجاتا ہے؟ اگر ایک عورت کسی ایک شخص کے قاتل ہونے کی شہادت دیتی ہے اور مرد کسی دوسرے شخص کے قاتل ہونے کی شہادت دیتا ہیتو کیا لوث ثابت ہوجاتا ہے؟

جواب : اگرعورتوں کی ایک مورداعتماد جماعت شہادت دے تو لوث ثابت ہوجاتا ہے۔

سوال ۱۰۵۰ -- اگر ایک شخص دعویٰ کرے کہ چند افراد نے اس کو مارا ہے اور قانونی ڈاکٹر بھی گواہی دے کہ اس کے بدن پر کئی جگہ ضرب وجرح کے نشانات ہیں ، اب اگر عدالت کی نظر میں لوث کے موارد میں سے ہو اور مدعی معین نہیں کرسکتا ہوکہ کونسی جراحت یا ضرب کو کس نے مارا ہے تو مقدمہ کا فیصلہ کس طرح ہوگا؛ آیا ظن اجمالی بھی ان موارد میں سے ہیں کہ جو لوث کا سبب ہوتے ہیں؟

جواب : جب بھی قرائن اور شواہد کے ذریعہ لوث ثابت ہوجائے تو علم اجمالی کی وجہ سے ایک یا ایک سے زیادہ اشخاص کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

سوال ۱۰۵۱ -- ایک شخص ایک موٹر سائکل سے ایکسیڈینٹ کی وجہ سے زخمی ہوگیااس نے ایک شخص ، مثلا ًزید کے ڈرایئور ہونے کے حوالے سے عدالت مےں شکایت کی، لیکن زید کا دعویٰ ہے کہ وہ ڈرایئور نہیں تھابلکہ اس کا دوست مثلاً عمرو (کہ جو موٹر سائکل کا مالک تھا اور موٹر سائکل بھی اس کے اختیار میں تھی)ڈرائیور تھا، دوسر ی طرف سے عمرو کہتا ہے :”صحیح ہے کہ موٹر سائکل اس کے اختیار میں تھی لیکن جیسے ہی میں موٹر سائکل سے اترا زید جلدی سے سوار ہوا اور تیزی سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے، مذکورہ شخص سے ٹکرا گیا“ عمرو نے اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے چند اشخاص کو بعنوان شاہد پیش کیا اور وہ شہادت دیتے ہیں کہ ایکسیڈینٹ سے پہلے ہم نے زید کو ڈرایئونگ کرتے ہوئے دیکھا ہے تو حضور فرمائیں :

۱۔ کیا زید کے لئے یہ مورد لوث کے موراد میں شمار ہوگا، نتیجةً مجروح شخص کی قسم کے ذریعہ مذکورہ شخص کو دیت ادا کرنا ہوگی ؟ یا لوث کے موارد میں شمار نہیں ہوگا؟
۲۔ مجروح شخص کے صغےر ہونے کی صورت میں، کیا صغیر قسم کھلانے یا قسم کھانے کی درخواست کا حق رکھتا ہے؟

۳۔ جواب کے کے منفی ہونے کی صورت میں ، کیا اس کا قہری ولی اور قیم ایسا کوئی حق رکھتا ہے؟

۴۔ کیا لازم ہے کہ زید کے دعوے کے مقابل قسم کھائے؟

جواب :اگر معتبر شہود شہادت دیں کہ حادثہ کے وقوع کے وقت زید ڈرائیونگ کررہا تھا، ہر چند کہ انہوں نے ایکسیڈینٹ ہوتے نہ دیکھا ہو تو لوث کے موارد میں سے ہے اور صغےر قسم کا مطالبہ نہیں کرسکتا، بلکہ اس کا ولی یہ کام کرسکتا ہے اور قسم فقط اس کا وظیفہ ہے جس کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہو۔

سوال ۱۰۵۲ -- اسلامی جمہوریہ ایران کے قانون کے مطابق، اسلامی تعذیرات کی دفعہ۲۶۶ میں اس طرح آیا ہے : ان موارد میں جہاں مجنی علیہ کا (جس پر جنیت وارد ہوئی ہو) کوئی ولی دم نہ ہو، یا اس کی پہچان نہ ہو پائے اس کا ولی دم، ولی امر مسلمین ہے اور ولی امر خصوصاً اس ولیت میں اپنے اختیارات قاضی القضاة اور اس کے واسطے سے دوسرے قاضیوں کو تفویض کرسکتا ہے۔ اس کو مد نظر رکھتے ہوئے اب اگر کسی شخص کا کوئی ولی دم نہ ہو، یا اس کی پہچان نہ ہوپائی ہو اور قاضی القضاة یا دوسری عدالت کا قاضی ولی امر مسلمین کی نیابت میں قصاص کا تقاضا کرے، دوسری طرف سے دعویٰ لوث کے باب میں داخل ہوجائے تو قسامہ کے جاری کرنے کی کیفیت کیا ہوگی؟

جواب : اگر قاضی، حسی یا حس سے نزدیک قرائن سے کسی شخص کے ذریعہ وقوع قتل کا علم رکھتا ہو تو وہ اپنے علم کے مطابق عمل کرے گا قسامہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس صورت کے علاوہ قسامہ جاری ہوگا اور دیت بیت المال سے ادا ہوگی۔

سوال ۱۰۵۳ -- پولیس اسٹیشن میں ایک افسر گولی سے زخمی ہوتا ہے اور چند منٹ بعد مرجاتا ہے، نگہبانی پر تعینات افسر کہ جو ملزم بھی ہے اس کا کہنا ہے :”میں مقتول کے نزدیک جانا گیا، چاہتا تھا کہ اپنے اسلحہ کی جگہ بدلوں اسی لمحہ مقتول میری طرف پلٹا اور اس کا ہاتھ اپنے اسلحہ پر پڑا اچانک اسلحہ چل پڑااور یہ حادثہ وجود میں آیا“مقدمہ کے مسلّمات یہ ہیں :
۱۔ قانونی ڈاکٹر نے ملزم کی موجودگی میں حادثہ کی جگہ کا معائنہ کرتے ہوئے بتاےا ہے کہ گولی داخل ہونے کی جگہ (سینہ کے بائیں جانب بغل اور چوتھی پسلی کے تحتانی لب کے نیچے ) اور گولی کا راستہ ( پھیپھڑے اور دل کہ حن کو گولی نے پھاڑ دیا)اور جہاں سے گولی نکالی گئی وہ (سینے کی دائیں جانب پانچویں پسلی کے تحتانی لب کے نیچے) تھی، لہٰذاملزم کا قول نہ مطابق واقع ہے اور نہ قبول کرنے کے قابل ہے۔
۲۔ جرائم کے کشف پر تعینات افراد، کہ جنہوں نے موقع کا معائنہ کیا، وہ ملزم کے قول کی تائید نہیں کرتے۔
۳۔ اسلحہ کے ماہر نے رپوٹ دی کہ گولی کم سے کم آدھا میٹر کے فاصلہ سے چلی ہے۔
۴۔ کوئی بھی ملزم اور مقتول کے علاوہ حادثہ کی جگہ موجود نہیںتھا کہ اس کے مشاہدات سے استفادہ کیا جاسکے۔
وارثین قتل عمد کے دعوے دار ہیں، لیکن ملزم گولی چلانے تک کے قبول کرنے کو حاضر نہیں ہے۔ وہ سوال جو یہاں میرے لئے پیش آیا یہ ہے کہ کیا اس خاص مورد میں نوع قتل کو ثابت کرنے کے لئے اولیاء دم کا حق استحلاف (قسم کے مطالبہ کا حق) کا قاعدہ اور ملزم سے قسم کھلانے کا قاعدہ جاری کریں گے یا مقدمہ کے مسلّمات کی وجہ سے اس مورد کو لوث کے موارد میں شمار کریں گے اور اولیاء دم سے چاہیں گے کہ وہ پچاس آدمیوں کو عدالت میں قسم کھانے کے لئے آمادہ کریں؟

جواب : اس صورت میں جب کہ قاضی کو مذکورہ قرائن سے یقین حاصل ہوجائے کہ قتل ملزم ہی نے کیا ہے (چاہے بصورت عمد ہو یا بصورت خطا) تواپنے علم کے مطابق حکم کرسکتا ہے؛ چونکہ اس مورد میں قاضی کا علمحسّ سے نزدیک مقدمات کے سبب ہے جوکہ حجت ہے اور اگر علم حاصل نہ ہو تو لوث کو بروئے کار لاےا جائے، بشرطیکہ قسامہ واقعا ًقتل عمد یا قتل خطا ء کے وقوع کا علم رکھتا ہو اور اگرقسامہ قسم پر حاضر نہ ہو یا علم نہ رکھتا ہو تو دیت بیت المال سے دینی ہوگی۔

سوال۱۰۵۴ -- کیا جس طرح قسامہ جرائم بالمباشرہ (بغیر واسطہ) میں (اگر لوث کے مورا د میں سے ہو)جاری ہوتا ہے، جرائم بالتبسیب میں بھی جاری ہوگا ؟

جواب : یہاں پر سبب اور مباشرت کے درمیان کوئی فرق نہیں؛ بشرطیکہ قتل کی نسبت سبب کی طرف دی جائے نہ کہ مباشر کی طرف ۔

سوال ۱۰۵۵ -- کیا قسامہ میں قسم کھانے والوں کے عادل ہونے کے شرائط ، شہود کے عادل ہونے کے شرائط کے مانند ہیں؟

جواب : ان کا عادل ہونے کو ثابت کرنا شرط نہیں ہے۔

سوال ۱۰۵۶ -- ایک انسان کا نیم جاں بدن گاؤں جانے والے ایک راستے پر گاؤں سے تقریباً ۳۰۰ میٹر کے فاصلہ پر پڑا ملا، اسپتال جاتے ہوئے فوت ہوگیا، قانونی ڈاکٹرنے گاڑی وغیرہ سے ایکسیڈینٹ کے کوئی نشانات اس کے بدن پر نہیں پائے اور موت کی وجہ سر پر چوٹ لگنے کو بتائی ہے، وارثین میں فقط ایک لڑکا اور ایک بالغ لڑکی ہے انھوں نے فقط گاؤں کے تین آدمیوں کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے جن میں ایک یہ بیان دیتا ہے کہ میں نے چند منٹ پہلے متوفیٰ کو ایک ناشناس شخص کے ساتھ راستے پر پیدل جاتے دیکھا تھا میں موٹر سائکل پر سوار تھا اور مےں مخالف سمت میں ہونے کی وجہ سے متوفیٰ کو فقط اس کے ہاتھ ہلانے سے پہچان پایا تھا، چند منٹ کے بعد پلٹنے پر میں نے دیکھا کہ متوفیٰ خون میں لتھ پتھ تنہا پڑا ہوا ہے، ان دونوں وارثوں نے تین میں سے ایک کو اپنے باپ کے قتل میں مباشر اور دو کو اس کا معاون قرار دیا ہے، لیکن ان کے پاس شاہد نہیں ہیں اور ملزمین بھی قتل کا انکار کرتے ہی اپنے ادعویٰ کو ثابت کرنے کے لئے لیکن وارثین میں سے ہر ایک پورے یقین کے ساتھ ۵۰ قسمیں کھانے پر تیار ہے، متوفیٰ کے دیگر تمام نسبی رشتہ دار مرد، مختلف شہروں میں رہنے کی وجہ سے بطور مستقیم قسامہ میں شرکت نہیں کرسکتے، لیکن مدعین کے سچّے اور موردوثوق ہونے کی قسم کھاتے ہیں اور فقط مدعین کے دعویٰ کی بنا پر ملزمین کو قاتل جانتے ہیں، گذشتہ مطلب پر توجہ رکھتے ہوئے نیچے دئے گئے سوالات کے جواب عنایت فرمائیں :
۱۔ کیا قسامہ کے جاری کرنے کی وجہ سے مذکورہ اولیاء دم کا دعویٰ ثابت ہوجاتا ہے؟

جواب : کےا جب بھی لوث کے شرائط پائے جائیں تو وہاں پر قسامہ کی جگہ ہے۔

۲۔ کیا مدعین قتل دوسرے ذکور رشتہ داروں کے قسامہ مےں عدم شرکت کے فرض پر ، ضروری قسموں کو شخصاً کئی دفعہ میں ادا کرسکتے ہیں؟

جواب : اگر تمام رشتہ دار قسم نہ کھائیں، کےا مدعین قسموں کو تکرار کرسکتے ہیں۔

۳۔ مذکورہ کیفیت میں قسامہ کا جاری ہوناکےا تمام منکرین قتل کو مجرم ثابت کرسکتا ہے، یا فقط مباشر کو مجرم ثابت کرے گا، معاون کو نہیں ؟

جواب : قسامہ کا جاری کرنا معاونین قتل کے مورد میں محل اشکال ہے۔

سوال ۱۰۵۷ -- کیا قسامہ میں (چاہے قتل میں ہو یا جرح میں) وارث فعلی معتبر ہے؟یا دوسرے طبقات کے افراد بھی قسم کھا سکتے ہیں؟

جواب : وارث فعلی شرط نہیں ہے، یہاں تک کہ اگر قوم وقبیلہ کے افراد بھی ہوں تو بھی کوئی مانع نہیں ہے۔

سوال ۱۰۵۸ -- اگر وارثین، موضوع سے واقف ہونے کے باوجود قسم کھانے پر حاضر نہ ہوں، کیا مدعی کا قسم کو تکرار کرنا کافی ہے؟

جواب : کافی ہے۔

سوال ۱۰۵۹-- اگر محکمہ کا قاضی قرائن کے ذریعہ علم حاصل کرلے کہ دوسرے وارثین علم نہیں رکھتے، یا مدعی خود کہے کہ میرے منسوبین علم نہیں رکھتے او ر موقعہ واردات پر کوئی اور شاہد بھی نہیں تھا، فقط میں ہی یقین رکھتا ہوں ، کیا پھر بھی منسوبین کو حاضر کرنا لازم ہے؟

جواب : اگر بقیہ افراد علم نہ رکھتے ہوںتو ان کا حاضر کرنا ضروری نہیں۔

سوال ۱۰۶۰ -- کیا وہ اشخاص جو وقوع قتل کے وقت عاقل نہیں تھے، یا غیر بالغ تھے، لیکن قسامہ کے جاری ہوتے وقت عاقل اور بالغ ہوگئے، کیا قسم کھانے کی خاطر مجلس قسامہ میں شرکت کرسکتے ہیں؟

جواب : اس میں اشکال ہے۔

سوال ۱۰۶۱ -- کیا جراحتوں میں تعدد قسامہ کے لازمیہونے کی صورت میں ، مدعی کے نزدیکی رشتہ داروں کے لئے لازم ہے کہ قسم کھائےں، یا مدعی ہی کے قسامہ کا تکرار کافی ہے؟ ایسے ہی اس صورت میں جب مدعیٰ علیہ(ملزم) قسم کھائے پھر بھی ملزم کا قسم کو تکرار کرنا ےا موضوع سے آگاہ ہونے کی صورت میں رشتہ داروں کے ذریعہ قسامہ کا تکمیل کرنا لازم ہے؟

جواب : جی ہاں، لازم ہے ، مدعین کے منسوبین ، علم کی صورت میں قسم کھائیں، ایسے ہی اس صورت میں جب مدعی علیہ قسم کھائے۔

سوال ۱۰۶۲ -- کیا قسامہ ان جراحتوں میں جو ارش کا سبب بنتی ہیں ، یا غیر جراحت عوامل جو ارش کا سبب ہوتے ہیں، جاری ہوسکتا ہے ؟

جواب : اس طرح کے موارد میں بھی قسامہ ثابت ہے، بشرطیکہ ارش قابل ملاحظہ ہو۔

سوال ۱۰۶۳ -- اگر جراحت یا وہ چیز جو دےت یا ارش کا سبب ہوتی ہے، بچے، مجنون، یا حیوان کی طرف سے ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب: طفل اور مجنون کے مورد میں قسامہ جاری ہے اور اگر حیوان کے مورد میں تسبےب کا پہلو رکھتا ہو تو وہاں بھی قسامہ جاری ہوسکتا ہے۔

سوال ۱۰۶۴ -- جناب عالی سے گذارش ہے کہ بدنی نقصانات میں قسامہ کے جاری ہونے کے سلسلے میں اپنا شریف فتوی بیان فرمائیں:

الف: کیا قسامہ کے ثابت کرنے کے لئے تمام لوگوں کے ساتھ مجروح کا بھی قسم کھانا لازم ہے؟

جواب: جی ہاں، لازم ہے۔

ب: الف کے فرض میں جب کہ مصدوم(جس کو نقصان پہنچا ہے) بچہ یا مجنوں ہو تو قسامہ کیسے جاری ہوگا؟

جواب: اس کا ولی اس کی جگہ قسامہ کو جاری کرے گا۔

ج: قسامہٴ اعضاء کے مورد میں جب کہ جنایت کی دےت پوری دیت کا ۱/۶ یا اس سے کم ہو، کیا فقط مصدوم کی قسم کفایت کرے گی؟

جواب: جی ہاں، فقط اسی کی قسم کافی ہے۔

د: ”ج“ والے فرض میں اگر مصدوم، مجنوں یا صغےر ہو ، کیا اس کے قہری ولی کی قسم کفایت کرے گی؟

جواب: جی ہاں، کفایت کرے گی اور یہ بھی یاد رہے کہ اعضاء میں قسامہ کا جاری کرنا فقط دیت کا سبب بنتا ہے، نہ کہ قصاص کا۔

سوال ۱۰۶۵ -- اگر جانی (جنایت کرنے والا) اور مجنی علیہ(جس پر جنایت ہوئی) دونوں صغیر ہوں، کیا مجنی علیہ کے عاقلہ (اولیاء) کا قسامہ کا تقاضا صغیر کی جنایت کو ثابت کرنے کے لئے قبول کیا جاسکتا ہے؟ کیا اوپر والے فرض میں جانی کے عاقلہ(اولیاء) کو دےت کے ادا کرنے پر محکوم کیا جاسکتا ہے؟

جواب: قسامہ کا تقاضا بچہ کے ولی کی طرف سے ہوگا اور قسامہ کے ہی احکام جاری ہونگے۔

سوال ۱۰۶۶ -- اگر کوئی مورد، لوث (شک) کے موارد میں سے نہ ہو کہ قسامہ جاری ہوسکے اور نوبت منکر کی قسم تک پہنچ جائے اور منکر قسم کو مدّعی کی طرف پلٹادے کہ وہ قسم کھائے، کیا اس کی قسم سے قصاص ثابت ہوجائے گا، ےا فقط دیت ثابت ہوگی؟

جواب: اس طرح کے مورد میں، قسم سے دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔

سوال۱۰۶۷ -- کیا حلف اٹھانے والوں کی قسم کا استماع تمام حالفین اور اولیاء دم کے حضور بلا مانع ہے یا نہ بلکہ شہود کی شہادت کے استماع کی طرح ہے جس میں اولیاء دم اور دیگر حالفین حاضر نہ ہونے چاہئے تاکہ حلف اٹھانے والا نفسیاتی دباؤ میں نہ آسکے گواہی تنہا قاضی کے سامنے انجام پانا چاہئے؟

جواب: اس مسئلہ میں انفراد شرط نہیں ہے۔

سوال ۱۰۶۸ -- اس پر نظر کرتے ہوئے کہ قسامہ، عدالت کے حاکم کے ظن وگمان کی تکمیل اور اس کے شبہہ وتردید کو رفع کرکے مرحلہ یقین تک پہنچانے کی خاطر رکھی گئی ہے، کیا ۵۰ آدمیوں کا قسم کھانا دو علیحدہ علیحدہ قاضیوں کے حضور قسم کھانا اشکال رکھتا ہے؟ کیا دوسرے قاضی کا حکم صادر کرنا پہلے قاضی کی استماعِ قسم اور جلسہ قسامہ کی رپورٹ کی بنیاد پر کہ جو عدالت کے حکم کی غیبت میں تنظیم ہوئی ہو، جائز ہے؟

جواب: قسامہ ایک قاضی کے حضور میں کامل طور سے جاری ہونا چاہیے۔

سوال ۱۰۶۹ -- اگر عدالت کی پہلی تاریخ پر ۵۰/افراد جمع ہونا مشکل ہوں، کیا اولیاء دم (وارثین) کو ایک بار نوٹس بھیجنا کفایت کرتا ہے؟ جبکہ ۵۰/ افراد کا جمع کرنا مشکل ہو تو کےا قسامہ کی نوبت مدّعیٰ علیہ (ملزم) کو پہنچ جاتی ہے، یامتوفیٰ کے اولیاء دم کو دوبارہ نوٹس بھیجنا جائز ہے؟

جواب: اگر ان کا ایک مجلس میں جمع کرنا مشکل ہو تو کوئی مانع نہیں ہے نزدیک نزدیک چند جلسوں میں جمع ہوجائیں اور ہماری نظر میں لازم نہیں ہے کہ قسم کھانے والے نسبی تمام افراد اقرباء میں سے ہوں ، بس ا نتاہی کافی ہے کہ وہ اس کے قوم وقبیلہ یا محلے والے ہوں تو کافی ہے۔

سوال ۱۰۷۰ -- ۵۰/ افراد کے استماع کی قسم کو جلسہ واحدہ میں ثبت کرنا، زیادہ وقت طلب کرتا ہے اور معمولاً ایک جلسہ میں میسّر نہیں ہو سکتا، کیا اولیاء دم (وارثین) کچھ افراد کو پہلے جلسے میں اور بقیہ کو اگلے جلسے یا جلسوں میں عدالت میں اکھٹا کرسکتے ہیں؟ کےا ایسی حالت میں جلسوں کا نزدیک ہونا ضروری ہے مثلاً آج ایک جلسہ ہو اور کل دوسرا جلسہ یا ایک یا ایک مہینے سے زیادہ کا بھی فاصلہ ہوسکتا ہے تاکہ اولیاء دم کو دوسرے افراد کے جمع کرنے کا موقع مل جائے۔

جواب: ایک جلسہ میں قسامہ کا جاری کرنا میں مشکل نہیں ہے اور اس کا ثبت کرنا ایک سادہ کام ہے، لیکن اگر بالفرض میسر نہ ہو تو دو یا چند نزدیکی جلسوں میں انجام دینا کوئی مانع نہیں رکھتا، بشرطیکہ مدعی بہ حسب معمول ان کے جمع کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔

سوال ۱۰۷۱ -- قسامہ کی بحث کے بارے میں فرمائیے:
الف) کیا قسم کھانے والوں کا مرد ہونا شرط ہے؟ کیا اس مورد میں مدَّعی اور اس کی قوم کے درمیان فرق ہے؟
ب) مرد ہونے کی شرط نہ ہونے کی صورت میں ، اگر اس کے مدعیان اور قوم میں بہ تعداد کافی مرد موجود ہوں تو کیا وہ عورت جو مدعی بھی ہے قسم کھانے والوں میں سے ایک ہوسکتی ہے ؟ اگر بہ تعداد کافی مرد موجود نہ ہوں تو کیا؟
ج) قسم کھانے والوں کی تکرار قسم کے جواز کی صورت میں کےا مدعی عورتیں بھی قسم کی تکرار کرسکتی ہیں؟

جواب: قسامہ عورت نہیں ہوسکتی، اسی وجہ سے اگر بہ تعداد کافی مرد نہ ہوں تو قسم کی تکرار کریں۔

سوال ۱۰۷۲ -- موارد لوث میں اگر مدعی قسامہ کے جاری کرنے سے انکار کرے تو حضور فرمائیں:
۱۔ کیا اس صورت میں قسامہ قہراً (خودبخود ) ملزم کو پہنچ جاتا ہے، یا یہ امر مدعی کے مطالبے پر مشروط ہے؟

جواب: مدعی قسم کو مدعیٰ علیہ (ملزم) کی طرف پلٹا سکتا ہے ، اس صورت میں ۵۰/ قسمیں ملزم کے ذمہ ہیں۔

۲۔ مطالبے کے لازمی ہونے کی صورت میں اگر مدعی ملزم کی درخواست سے سرپیچی کرے، یا ملزم کے قسامہ پر راضی نہ ہو تو اس صورت میں فصل خصومت کے لئے عدالت کا وظیفہ کیا ہے؟

جواب: قاعدہ ”البینة علی المدعی و الیمین علیٰ من انکر“ شاہد لانا مدعی کے اوپر اور قسم کھانا منکر (ملزم) کے ذمہ ہے یہاں پر یہ قاعدہ جاری ہوگا ۔

۳۔ مذکورہ فرض میں مقتول کی دیت کی کیا کیفیت ہے؟

جواب: اس فرض میں دیت کسی پر بھی نہیں ہے۔

سوال ۱۰۷۳ -- مورد قسامہ میں کیا فقط طرفین میں سے ایک شخص کا دعویٰ کہ منسوبین موضوع کا علم نہیں رکھتے، قسم کی تکرار میں کافی ہے، یا منسوبین کا حاضر کرنا لازم ہے؟

جواب: منسوبین کا حاضر لازم ہے تاکہ تحقیق عمل میں آئے۔

قتل عمداور شبہ عمد کے مصادیقاولیاء دم
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma