استیفائے قصاص (قصاص کا انجام دینا)

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
اولیاء دمقصاص میں تاخیر

سوال ۱۰۹۰-- کیا قصاص میں حاکم کا اذن شرط ہے یا ولی دم حاکم کے اذن کے بغیر استیفائے قصاص پر اقدام کرسکتا ہے؟

جواب: اذن حاکم شرط ہے۔

سوال ۱۰۹۱ -- استیفائے قصاص میں اذن حاکم کی شرط ہونے کی صورت میں حضور فرمائیں:
کیا اذن حاکم کے بغیر قصاص کی طرف اقدام کرنا تعذیر کا سبب ہے یا فقط گناہ ہے؟

جواب: گناہ بھی ہے اور تعذیر کا سبب بھی ہے۔

سوال ۱۰۹۲ -- استیفاء قصاص تیسرے شخص کے ذریعہ ولی دم کی اجازت سے لیکن بغیر اذن حاکم کے کیاحکم رکھتاہے؟

جواب: جواب سابق کے مانند ہے۔

سوال ۱۰۹۳ -- حاکم کا قصاص کا اذن نہ دینے کی صورت میں ، جانی (قاتل) کی کیا تکلیف ہے؟

جواب: حاکم کو حق نہیں کہ وہ اذن قصاص نہ دے؛ مگر یہ کہ کوئی مہم اجتماعی مفاسد اس کے اوپر مترتب ہوں، لہٰذا قصاص سے خوداری کرنا چاہیے۔

سوال ۱۰۹۴ -- چنانچہ تیسرا شخص (ولی دم کے علاوہ) مستحق قصاص کو بغیر حاکم کے اذن کے اور ایسے ہی بغیر ولی دم کی اجازت کے قتل کردے لیکن پھر پہلا ولی دم اعلان رضایت کردے تو کیا حکم ہے؟

جواب: مسئلہ شبہہ کے مورد میں سے ہے ، قاعدہ درء کو شامل ہوتا ہے۔

سوال ۱۰۹۵ -- چنانچہ ایک شخص ایک قتل عمد اور دواشخاص پر ضرب وجرح کا مرتکب ہوا ہے اگر مقتول کے اولیاء دم قصاص کے خواہاں ہوں اور قاتل کے پاس دو اشخاص کی دیت دینے کے لئے کوئی مال نہ ہوکیا قصاص کا جاری کرنا دیت کی ادائیگی سے پہلے ممکن ہے؟ جواب کے منفی ہونے کی صورت میں دیت کی ادائیگی کس طرح میسر ہے۔

جواب: قصاص اولیاء دم کے تقاضے کے مطابق انجام پائے گا، شخص جانی (قاتل) اگر کوئی مال رکھتا ہوگا تو دیت کو اس کے مال سے ادا کریں گے ، اس صورت کے علاوہ میں دیت میّت کے ذمہ رہے گی اور اگر اعضاء کی جنایت عمدی اور قابل قصاص ہو تو پہلے قصاص عضو کریں گے، بعد میں قصاص قتل انجام پائے گا۔

سوال ۱۰۹۶ -- ملک کی عدالت ومحکموں کے فعلی حالات ایسے ہیں کہ مجرمین یہاں تک کہ قاتلین کابیس سال تک فیصلہ نہیں ہوتا! اس تمام فساد کے ہوتے ہوئے کہ جو قاضیوں کے درمیان پایا جاتا ہے ، قاتل کا قصاص ایک مشکل امر ہے یہاں تک کہ غیر ممکن ہے اور بعض علاقے جو تقریباً خود مختار ہیں ان میں قاتل کی سزا، موت نہیں ہے بلکہ حد اکثر ۱۴/ سال قید ہے، اگر ایسے شرائط میں اولیاء دم انتقام پر اقدام کرتے ہوئے قاتل کو قتل کردیں تو کیا حکم ہے؟

جواب: بغیر حاکم شرع کی اجازت کے قصاص کرنا جائز نہیں ہے۔

سوال ۱۰۹۷ -- کیا موت کی سزا کو جاری کرنے کے لئے ان موارد میں جہاں شارع مقدس نے اس کا کوئی خاص طریقہ مشخص نہ کیا ہو، واجب ہے کہ حکومت ایسے طریقے کو انتخاب کرے کہ سزائے موت پانے والا کم سے کم درد کا متحمّل ہو؟

جواب: معمولی طریقے جائز ہیں اور حکومت سہل ترین طریقے سے استفادہ کرسکتی ہے۔

سوال ۱۰۹۸-- کیا قصاص کا جاری کرنا کسی خاص وقت سے مقید ہے، مثلاً اوّل طلوع آفتاب سے؟

جواب: قصاص کسی خاص وقت سے مقید نہیں ہے۔

سوال ۱۰۹۹ -- ان موارد میں جہاں قصاص شمشیر سے ہونا ضروی ہو، کیا دوسرے وسیلوں سے بھی جائز ہے؟

جواب: جی ہاں، زمانے کے معمولی آلہٴ قتّالہ کے ذریعہ کہ جو خاص شکنجہ کا موجب نہ ہو، قصاص کرسکتے ہیں۔

سوال ۱۱۰۰ -- کیا قصاص عضو کو اس طریقے سے انجام دے سکتے ہیں کہ مجرم درد کوبرداشت نہ کرسکے؟

جواب: کوئی مانع نہیں ہے۔

سوال ۱۱۰۱ -- کیا قطع اعضاء کے موارد میں ، بجلی اور ماڈرن شعاؤں کو استعمال کیا جاسکتا ہے؟ یا قصاص انہی آلات سے ہونا چاہیے جو روایات میں منصوص ہیں ؟

جواب: اوپر والے جواب سے معلوم ہے۔

اولیاء دمقصاص میں تاخیر
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma