ارش

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
منافع کی دیتشجاج

سوال ۱۲۴۳۔ اعضاء بدن کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ارش کے معین ہونے کے بارے میں فرمائیں:
الف) کیا ارش کا حساب نقصان پہنچنے والے عضو کی نسبت سے ہوگا یا انسان کی کامل دیت کی نسبت سے؟
ب) انسان کی کامل دیت کی نسبت سے حساب ہونے کی صورت میں ، کیا نقصان پہنچنے والے عضو کی دیت سے زیادہ ارش معین کیا جاسکتا ہے؟

جواب: الف وب: اس صورت میں جبکہ ضرر فقط عضو کو پہنچا ہو تو اسی نسبت سے ارش کا حساب ہوگا اور اگر بالفرض عضو کی کارکردگی کو تو کوئی نقصان نہ پہنچا ہو لیکن ایک کلی نقصان بدن کو پہنچا ہو تو ارش کا حساب کامل دیت کی نسبت سے کرنا چاہیے؛ چاہے عضو کی دیت سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوجائے۔
۱۔ کاندھے کااندر کی طرف دھنس جانا

سوال ۱۲۴۴۔ ایک شخص نے دوسرے کو اس طرح مارا کہ اس کے کاندھے کی ہڈی اندر دھنس گئی، ٹوٹی ہڈی کا جوڑ تو اپنی جگہ آگیا اور اس کے ٹھیک ہونے میں ایک مہینہ لگا لہٰذا جنابعالی فرمائیں: ہڈی کے دھنسے کی دیت کتنی ہوگی؟ اگر کامل طور سے ٹھیک نہ ہوئی ہو تو اس کی دیت کی کیا مقدار ہے؟

جواب: ٹوٹے بغیر اندر کی طرف دھنسے کی کوئی دیت نہیں ہے، بلکہ اس کے لئے ارش ہے اور اگر عضو میں کوئی نقص پیدا نہ ہوا ہو تو اس کا ارش کم ہے اور اگر عضو ناقص ہوگیا ہو تو اس کا ارش زیادہ ہے اور ارش فیصد کے معیار پر طبیب حاذق کی نظر سے معین ہوگا۔
۲۔ ہاتھ کی عصبی رگوں کا ارش

سوال ۱۲۴۵۔ چنانچہ ہاتھ کی یا کسی بھی ایسے عضو کی ہڈی کے ٹوٹ جانے سے جس کے لئے دیت معیّن ہے، عصبی رگیں ختم ہوجائیں، کیا عضو کے ٹوٹنے کی دیت کے علاوہ مجنی علیہ کو ارش بھی دیا جائے گا؟ اگر ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے عصبی رگیں ختم ہوجائیں اور وہ عضو اپنا کام کرنا چھوڑدے اور اس میں کچھ عیب پیدا ہوجائے جیسے لنگ کرنا، کیا ٹوٹنے کی دیت کے علاوہ اس عضو کا بیکار ہوجانے کی نسبت سے ارش بھی منظور ہوگا؟

جواب: اگر وہ عضو بالکل ناکارہ ہوجائے تو شل ہوجانے کی دیت اس عضو کی دو تہائی (۳/۲) ہے اور اگر کامل طور سے ناکارہ نہ ہوا ہو تو اس نے جس مقدار میں کام کرنا چھوڑدیا ہو اسی مقدار میں اس کی دیت کا حساب ہوگا۔
۳۔ ہڈی ٹوٹنے سے پیدا ہوئے نقص کا ارش

سوال ۱۲۴۶۔ اگر پنڈلی یا دوسرے عضو کی ہڈی غلط جڑجائے تو شریعت میں اس کی ایک خاص دیت کو مدنظر رکھا گیا ہے، اب اگر اس عارضہ کی وجہ سے عضو بھی ناقص ہوجائے تو کیا ہڈی کے معیوب جڑجانے کی معین دیت کے علاوہ ارش بھی لازم ہوگا؟

جواب: اگر عضو کا ناقص ہوجانا ایسا ہو کہ جو معمولاً ہڈی کے ٹوٹنے کی وجہ سے ہو ہی جاتا ہے تو اس کا ارش نہیں ہے، لیکن اگرہڈی ٹوٹنے اور اس کے غلط جڑنے کے علاوہ کوئی اضافی چیز ہوجائے تو اس کے لئے ارش ہے۔
۴۔ مقعد کے پارہ ہونے کا ارش

سوال ۱۲۴۷۔اگر کوئی مرد اکراہ یا اجبار یا دھوکے سے کسی مرد یا بچے کے ساتھ لواط کرے اور مقعد پارہ ہوجائے تو کیا اس جراحت کے لئے ارش ہے؟

جواب: ایسے مورد کے لئے ارش ہے؛ یعنی کامل دیت کو مدنظر رکھ کر دیکھا جاتا ہے کہ نقصان کتنے فیصد پہنچا ہے اسی نسبت کے لحاظ سے ارش معین ہوگا۔
۵۔ چلنے میں نقص کی وجہ سے ارش

سوال ۱۲۴۸۔ ہڈی ایسے ٹوٹی ہے کہ پیدل چلنے میں بھی نقص آگیا ہے؛ کیا مربوطہ ہڈی کے ٹوٹنے کے علاوہ اس نقص کے لئے ارش بھی معین کیا جاسکتا ہے؟

جواب: احتیاط واجب یہ ہے کہ منفعت میں نقص ہوجانے کی وجہ سے ارش بھی ادا کیا جائے۔
۶۔ بکارت کا ارش

سوال ۱۲۴۹۔ بکارت کا زائل کرنا، ارش البکارہ رکھتا ہے یا مہر المثل؟ مہر المثل کی صورت میں اگر بالغ کی بکارت زائل ہوجائے مثلاً ایکسیڈینٹ کی وجہ سے تین سالہ لڑکی کی بکارت زائل ہوجائے اس کی نسبت، مہرالمثل کا محاسبہ کس طرح ممکن ہے؟ کیا مہرالمثل میں حداکثر یا حداقل کا امکان ہے، مثلاًیہ کہ مہر السنة سے کم ہو؟

جواب: بالغ وغیرہ افراد میں مہرالمثل معیار ہے اور چھوٹی بچیوں کے سلسلہ میں ارش البکارہ کو منظور کیا گیا ہے، لیکن اگر بالغ افراد ایکسیڈینٹ کی وجہ سے ایسے نقص سے دچار ہوجائیں اور مہرالمثل اور ارش البکارہ کے فرق کی نسبت میں مصالحہ کریں، لڑکی کے مہرالمثل کے معین کرنے کا معیار اُس جیسی وہ لڑکیاں ہیں جو سن سال، اجتماعی مقام اور دوسری حیثیتوں سے اُسی کے مانند ہوں، جیسے بہنیں، بھانجیاں، پھوپھی اور چچاؤں کی لڑکیاں، اگر عرف کے اعتبار سے ایک دوسرے کے مشابہ ہوں تو ایک دوسرے کے ساتھ مقائسہ کی جائیں گی ۔

سوال ۱۲۵۰۔ ایک عورت اجباری تفخیذ کی وجہ سے حاملہ ہوئی اور وضع حمل کی وجہ سے اس کی بکارت زائل ہوگئی، کیا اس کو دیت، یا ارش البکارہ، یا مہرالمثل دیا جائے گا؟

جواب:وہ فقط مہرالمثل کی حقدار ہے۔

سوال ۱۲۵۱۔ کیا کامل اور ناقص ازالہ میں فرق ہے؟ قانونی ڈاکٹر نے پردہ بکارت کو ۱۲ اجزاء میں تقسیم کیا ہے جس کو ساعت (گھڑی) کہتے ہیں ایک سے شروع ہوتا ہے ۱۲ پر ختم، طبیب حضرات اپنے میڈیکل سرٹیفیکٹ میں لکھتے ہیں: ”بکارت پانچویں اور چھٹے نمبر سے زائل ہوئی ہے“ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ بکارت کے ناقص پردہ کی کوئی قیمت ہو؟ مثلاً اگر ایک شکورا ٹوٹ جائے چاہے وہ ایک جگہ سے ٹوٹے یا کئی جگہ سے اس کی قیمت نہیں ہوتی، لیکن اگر کپڑا پھٹ جائے ، اگر ایک طرف سے پھٹے تو باقی کپڑے کی تو قیمت ہوتی ہے، اب یہاں پر دیکھنا چاہیے کہ پردہٴ بکارت پہلی مثال سے ہے یا یا دوسری مثال سے؟

جواب: ہر صورت میں مہر المثل دینا ہوگا۔

سوال ۱۲۵۲۔ کیا غیر باکرہ عورت کے ساتھ جبراً زنا کرنے سے مہرالمثل لازم ہوتا ہے؟

جواب: جی ہاں، اس کے لئے مہر المثل ہے۔

سوال ۱۲۵۳۔ اُن موارد میں جہاں ازالہٴ بکارت کے لئے مہر المثل معین ہے جیسے اُس جگہ پر جہاں ازالہٴ بکارت انگلی سے کیا گیا ہو، چنانچہ مہرالمثل ایک عورت کی کامل دیت سے زیادہ ہو کیا وہ عورت جس کی بکارت زائل کی گئی ہے کامل دیت کے برابر ہی استحقاق رکھتی ہے، یا دیت سے زیادہ کا بھی مطالبہ کرسکتی ہے؟ ایسے ہی اُس جگہ جہاں عورت کے بالوں کو ختم کردیا گیا ہو لیکن وہ دوبارہ اُگ آئے ہوں اور مقرر شدہ مہرالمثل عورت کی کامل دیت سے زیادہ ہو، کیا دیت کی مقدار بھر ادا کرنا ہوگا، ان سوالوں کا جواب کیا ہے؟
جواب: اس کو دیت سے زیادہ وصول کرنے کا حق نہیں ہے۔

لڑکی کو دھوکہ دینے یا دھوکہ نہ دینے کے فرض میں بکارت کا زائل کرنا (۵۔۲۰۔۵۰) (۶۔۴۲)

سوال ۱۲۵۴۔ ایک لڑکے اور لڑکی کے درمیان ناجائز رابطہ ہوا، نتیجہ میں لڑکی کی بکارت زائل ہوگئی، مہربانی فرماکر نیچے دیئے گئے سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:
۱۔ اگر یہ کام لڑکی کی مرضی اور اس کو بغیر دھوکہ دئے انجام پایا ہو تو مسئلہ کا کیا حکم ہے؟

جواب: مسئلہ کے فرض میں ارش البکارہ یا مہرالمثل لازم نہیں ہوگا۔

۲۔ اگر یہ کام لڑکی کی مرضی لیکن دھوکے سے انجام پایا ہو، کیا ارش البکارہ معین ہوگا؟

جواب:اگر لڑکی کو دھوکہ دینے سے منظور یہ ہو کہ اُس نے دخول کے علاوہ پر رضایت دی تھی، لیکن لڑکے نے دخول بھی کردیا تو اس کو مہرالمثل دینا ہوگا، لیکن اگر رضایت سے منظور یہ ہو کہ لڑکے نے اس کو اطمینان دلایا ہو کہ بکارت زائل نہیں ہوگی تو ارش البکارہ معیّن ہے۔

سوال ۱۲۵۵۔ ارش البکارہ کے سلسلہ میں زانیہ کے بالغ ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں ذیل میں دئےے گئے سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:
۱۔ کیا زانیہ ذیل کے موارد میں ارش البکارہ کی مستحق ہے؟
۲۔ عمل زنا اس کی مرضی اور رغبت سے انجام پایا ہو۔
۳۔ زنا بالجبر کیا گیا ہو۔
۴۔ زنا اس کو شادی کرنے کایقینی وعدہ سے عمل میں آیا ہو۔

جواب: لڑکی کے بالغ ہونے اور راضی ہونے کی صورت میں ارش البکارہ اور مہرالمثل مشروع نہیں ہے، جبر اور عدم بلوغ کی صورت میں مہرالمثل ثابت ہے، مہرالمثل کی موجودگی میں ارش البکارہ کی نوبت نہیں آتی۔

سوال ۱۲۵۶۔ اگر لڑکی کی بکارت انگلی یا کسی دوسری چیز سے زائل ہوگئی ہو، ارش البکارہ کا کیا حکم ہے، کیا لڑکی کی رضایت یا عدم رضایت حکم میں موٴثر ہے؟

جواب: مہرالمثل ثابت ہوگا، لیکن لڑکی کی رضایت کی صورت میں احتیاط مصالحہ کرنے میں ہے۔

سوال ۱۲۵۷۔ اگر ایک مرد ایک بار زنا کا اقرار کرے کیا اس کو ارش البکارة کے ادا کرنے پر محکوم کرسکتے ہیں (البتہ شرائط کے محقق ہونے کی صورت میں)

جواب: احتیاط واجب یہ ہے کہ اگر زنا بالجبر کا اقرار کرے یا ازالہٴ بکارت کا جبری طور سے اقرار کرے تو مہرالمثل ادا کرے۔

سوال ۱۲۵۸۔ اگر زانیہ باکرہ زانی سے چاہے کہ دخول اتنا ہونا چاہیے کہ بکارت زائل نہ ہونے پائے لیکن زانی نے یا عمداً ازالہٴ بکارت کردیا ہو یا اس سے سہواًہوگیا ، کیا وہ ارش البکارہ کا ضامن ہے یا کسی اور چیز کا بھی؟

جواب: مہرالمثل کا ضامن ہے۔

منافع کی دیتشجاج
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma