شجاج

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
ارشجنین کی دیت

سوال ۱۲۵۹۔ کیا زخم اور اوپر کے یا نیچے جبڑے کا ٹوٹنا کان یا اور ہونٹوں کا اُکھڑنا سر و صورت کے زخموں کے مصادیق میں سے ہے ، یا چونکہ ان اعضاء کا ایک خاص عنوان ہے لہذا مذکورہ قاعدہ سے خارج ہیں اور خود انھیں اعضاء کی نسبت سے ٹوٹنے یا رخمی ہونے کا ارش معین ہوگا؟

جواب: یہ اعضاء سر و صورت کے مصادیق میں سے ہیں ، ان کو احکام شجاج شامل ہونگے۔

سوال ۱۲۶۰۔ حارصہ جیسی جراحتوں میں یا ایسے ہی رنگ کے بدل جانے جیسے نیلے ہوجانے کی صورت میں کیا زخم ٹھیک ہوجانا ، یا زخم کا سرایت کر جانا دیت کے بڑھنے یا گھٹنے میں موثر ہے ؟

جواب: ٹھیک ہونے کا کوئی اثر نہیں ہے ؛ لیکن زخم بڑھنا اگر عادی نتیجہ یا جنایت سے غیر قابل اجتناب ہو ، تو اسکا اثر ہے ۔

سوال ۱۲۶۱۔ قانونی ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق اس طرح آیا ہے ”داہنے ہاتھ کے گٹّے پر متلاحمہ زخم عضلات کے نقصان پہنچنے کا سبب ہوا ہے “ کیا متلاحمہ کی دیت کے علاوہ عضلات کو نقصان پہنچنے کا ارش بھی اس ارش پر اضافہ ہوگا؟

جواب: اگر اسکا نتیجہ عضو کے نسبةًمعطَّل ہونے کا سبب ہو تو ارش کی نسبت سے حساب ہونا چاہیے۔

سوال ۱۲۶۲۔قانونی ڈاکٹر کی رپورٹ میں یہ جملہ آیا ہے ”جنایت کولہے کے گوشت کے کٹ جانے کا سبب ہوئی ہے “ کیا مذکورہ صدمہ دیت کا باعث ہوگا یا ارش کا کیا کسی بھی چیز کا نہیں؟

جواب: اگر جنایت کا اثر اسی عضو پر تھا تو نہ دیت ہے اور نہ ارش لیکن اگر عضو میں یا ہڈی میں تبدیلی ہر چند وہ ایک مدت کے لئے ہو تو اس کے لئے ارش ہے ۔

سوال ۱۲۶۳۔ قانونی ڈاکٹر کی رپورٹ میں اس طرح مذکور ہے ”دامیہ، کَن اُنگلی کی رگ میں ایجاد ہوا ہے “ یا کَن انگلی کی رگ انگلی کا جزء ہے یا ہاتھ کا ؟

جواب: عرفی طور پر (عام لوگوں کی نظر میں ) اگر انگلی کا جزء ہو تو اُس پر اسی کے احکام جاری ہونگے ۔

سوال ۱۲۶۴۔ استفتآت کی کتاب ج ۱ /ص۴۰۰، سوال۱۳۳۵ میں آپ نے فرمایا ہے : ”گردن کا زخم بعض موارمیں د یت کا باعث ہوتا ہے اور بعض میں ارش کا“ لہٰذا حضور فرمائیں: کن موارد میں دیت ہے اور کن موارد میں ارش ؟ اور جن موارد میں دیت ہے ، گردن کا زخم سر و صورت کے حکم میں ہے یا بدن کے ؟ دیت کے حساب کی کیفیت کیا ہے ؟ گردن کی وہ چوٹیں جن سے رنگ بدل جائے ان کے لئے کیا حکم ہے؟

جواب: ”حارصہ“”دامیہ“ اور سمحاق جیسے زخموں کی دیت گردن میں بھی صادق ہے ۔ لیکن ان کی دیت بدن کی دیت کے مانند ہے ؛ نہ سر و صورت کی دیت کے مانند ، دیت کے علاوہ موار د میں ارش ثابت ہے ۔

سوال ۱۲۶۵۔ ایک شخص نے کسی کے بدن میں کا ٹھا اور اس سے ”حارصہ“زخم مثلاً دوسینٹی میڑ لمباایجاد کردیا ہے ، لیکن جتنا فاصلہ دودانتوں کے درمیان ہوتا ہے اتنا فاصلہ مذکورہ زخم کے درمیان بھی ہوگیا ؛ کیا یہ زخم ایک ”حارصہ “ شمار ہوگا یاد و حارصہ؟

جواب: اس چیز کو مدَّ نظر رکھتے ہوئے کہ یہ رخم ایک دوسرے سے نزدیک ہیں لہذا عرف عام میں ایک ہی زخم شمار ہوتا ہے

سوال ۱۲۶۶۔ کیا عورت اور مرد کے آلہ تناسل اور اس کے اوپری حصّے پر زخم لگانا دیت کا باعث ہوتا ہے یا ارش کا ؟ اگر اسکا تعلق دیت سے ہے تو اس کے حساب کا کیا طرایقہ ہے؟

جواب: عورت اور مرد کے آلہ نتاسل کو زخمی کرنا بدن کے تمام زخموں کی طرح ہے ، کہ جو زخموں کی مختلف اقسام جیسے حارصہ ، دامیہ و غیرہ پر تقسیم ہوتے ہیں۔

سوال ۱۲۶۷۔ کار ایکسیڈنیٹ میں ایک شخص کے بدن کا داہنا حصّہ زمین پر رگڑتا چلا گیا ،جس سے اس کے چہرہ کی ایک سمت پوری طور سے گھس گئی اور اس کے زخم کی گہرائی ”حارصہ“کی حد تک ہے ۔ کیا یہ پوری چوٹ ایک حارصہ شمار ہوگی ، یا کسی اور طرح اس کا حساب کیا جائے گا ؟

جواب: زخم کے عرفی اتصال کو مد نظر رکھتے ہوئے، ایک حارصہ شمار ہوگا ۔

سوال ۱۲۶۸۔ پیشانی ، ہتھیلی اور انگلی کی پشت پر گوشت کی قلت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے ، کیا ”حارصہ“اور ”دامیہ“ زخموں کے علاوہ یہاں پر کوئی اور زخم بھی قابل تصور ہے ؟

جواب: اس جہت سے اشخاص مختلف ہیں ؛ گوشت کے بقدر کافی نہ ہوئے کی صورت میں ”ملتحمہ“ یا اس کے مانند کوئی اور زخم قابل تصور نہیں ہے ، لیکن ”سمحاق“اور ”موضحہ“ جیسے زخم قابل تصور ہو سکتے ہیں ۔

سوال ۱۲۶۹۔ متلاحمہ زخم کے مورد میں ، کہ جو عضو کے مفلوج ہوجانے کا باعث ہو ، لیکن علاج و معالجہ کے ذریعہ فلج کی روک تھام کی جاسکتی ہو ، لہٰذا حضور فرمائیں :
۱۔کیا زخمی شخص پر واجب ہے اپنا علاج کرائے؟

جواب: چنانچہ علاج اتنا سادہ ہو کہ عرف عام میں مفلوج ہونے کی نسبت مجروح ہونے کی طرف دی جاتی ہو، تو علاج کرانا لازم ہے ۔

۲۔علاج کرانے کی صورت میں دیت سے زیادہ خرچ کو جنایت کرنے والے سے لیا حاسکتا ہے ؟

جواب :جی ہاں ، لیا جاسکتا ہے ۔

سوال ۱۲۷۰۔ اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ شکم عرض کے اعتبار سے دوکھالوں سے تشکیل پاتا ہے ایک پیٹ کی کھال دوسرے اس کھال کے نیچے کی کھال اگر کوئی زخم پیٹ کی اوپری کھال کو پھاڑ دے لیکن اندرونی کھال سالم رہے ، تو اس زخم کی نوعیت کیا ہوگی؟ اور اس کی دیت کی مقدار کیا ہے ؟

جواب :چنانچہ مذکورہ زخم اندرونی فضاء کے خالی حصّہ تک پہنچ جائے تو یہ زخم جائفہ ہے۔

سوال ۱۲۷۱۔ فقہاء ”نافذہ“ زخم کی تعریف میں فرماتے ہیں ”نافذہ وہ زخم ہے جو بدن کے اعضاء کے اندر چلا جائے“اور ”موضحہ“ زخم کی حقیقت کو روشن کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”موضحہ وہ زخم ہے جو گوشت سے گذر کر ہڈی کے اوپر نازک کھال کو پھاڑ دے اور ہڈی کو آشکار کردے“ لہٰذا حضور فرمائیں ان دونوں زخموں میں کیا فرق ہے ؟ کیا ان کا فرق یہ ہے کہ ”موضحہ“ ہڈی تک پہنچ جائے اور نافذہ وہ ہے جو اس کے علاوہ ہڈی کے برابر سے گذر جائے ؟ اگر یہ ہی فرق ہے چنانچہ آدھا سینٹی میٹر ہی ہڈی کے برابر سے گذر جائے ، تو یہاں پر موضحہ اور نافذہ کافرق صرف آدھا سینٹی میٹر ہے، لیکن ان کی دیت کا فرق ۵/ اونٹ ہے ! کیونکہ موضحہ کی دیت ۵/ اونٹ اور نافذہ کی دیت (مرد کے لئے)دس اونٹ ہے ۔ یہ کس طرح توجیہ کے قابل ہے ؟

جواب: نافذہ وہ ہے جو کافی مقدار میں بدن کے اندر چلا جائے ، چاہے وہ ماہیچہ کے مثل ہو یا ہڈی کی جگہ ہو ؛اور ہڈی برابر سے تھوڑی مقدار میں گذر جائے کہ جس کو عرف عام میں نفود کہا جاسکتا ہو ۔اور شک کے موارد میں نافذہ کا حکم جاری نہیں ہوگا۔

سوال ۱۲۷۲۔ اگر کوئی چیز بدن کے طرف سے داخل ہوکر دوسری طرف نکل جائے (جیسے کوئی تیر کسی کے بازو کے پار ہوہوجائے) اس کی دیت کی کیا مقدار ہے ؟

جواب: یہ ایک جنابت شمار ہوگی ۔

سوال ۱۲۷۳۔ کیا نافذہ زخم بدن کے تمام حصّوں (ہاتھ ، پاؤں، گردن، آلہٴ تناسل، پستان، کولہے، ہونٹ، زبان، انگلی ، ہتھیلی وغیرہ) کو شامل ہے ؟

جواب: نافذہ کی قدر مسلَّم ان موارد میں ہے جہاں زخم لگانے کا آلہٴ بدن کے اندر قابل ملاحظہ حد تک داخل ہوجائے، جیسے نیزہ، خنجر ، چاقو وغیرہ، لیکن انگلی ، ہونٹ یا اسی کے مانند دوسرے اعضاء نافذہ کے مصداق نہیں ہیں۔

سوال ۱۲۷۴۔ جب کبھی آلہ جراحت بدن کے اندورنی عضو جیسے جگر کو زخمی کردے اور یہ بغیر عیب کے ٹھیک ہوجائے؛ کیا یہ زخم ”جائفہ “ کی ایک تہائی دیت کے علاوہ ارش بھی رکھتا ہے۔

جواب: وہ اضافی زخم ارش کا موجب ہے۔

سوال ۱۲۷۵۔ وہ ضرب جو عضو کے اوپری حصّے کے علاوہ ہڈی کو بھی توڑدے جیسے حارصہ، دامیہ، زخم یا رنگ کا بدلنا وغیرہ کیا ان زخموں کے علاوہ ہڈی کے ٹوٹنے کی دیت بھی اس میں اضافہ ہوگی؟

جواب: جی ہاں، ہڈی ٹوٹنے کی دیت، زخم کی دیت سے جدا ہے۔

سوال ۱۲۷۶۔ میں نے ایک شخص کا سر پتھر سے پھوڑدیا (البتہ میرا قصد پتھر پھینکنے کا تو تھا لیکن سر پھوڑنے کا نہیں) اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کا سر کس قدر زخمی ہوا ہے، بس اتنا جانتا ہوں کہ اس کے سر سے خون جاری ہوگیا تھا اور اب زخمی شخص اس دنیا میں نہیں رہا اور اس کے وارثین پر دسترسی کا بھی کوئی امکان نہیں ہے، اس کی دیت کی مقدار کیا ہوگی؟

جواب: اگر آپ اتنا جانتے ہوں کہ اس کا سر زخمی ہوا ہے اس سے زیادہ کا آپ کو یقیین نہیں ہے تو اس کی دیت ایک اونٹ ہے اور زخمی شخص کے نہ ملنے کی صورت میں اس کی دیت اس کی نیت سے فقراء کو دیدیں، مگر یہ کہ آپ کو یقین ہو کہ وہ آپ سے راضی ہوگیا تھا۔

سوال ۱۲۷۷۔ بارہ بور کی بندوق کے چھرّے سے ایک شخص کا ہاتھ یا ہر وہ عضو کہ جس کی معین دیت ہے زخمی ہوجاتا اور وہ چھرّہ گوشت میں چلا جاتا ہے اور ڈاکٹر نے اس زخم کو دامیہ یا اس جیسے زخم سے تشخیص دیا ہے ، مفروضہ سوال میں کیا ہر ایک زخم ایک نافذہ شمار ہوگا اور اس کی دیت ۱۰۰/ دینار ہوگی؟ یا ان میں سے ہر ایک زخم کی دیت کا میزان اُسی عضو کی نسبت ہوگا جو زخمی ہوا ہے؟

جواب: ہر زخم کی علیحدہ، علیحدہ دیت ہے، لیکن ملحوظ رہے کہ یہاں کے زخموں کی نوعیت نافذہ اور جائفہ جیسی نہیں ہے، بلکہ غالباً دامیہ ہے، ہرچند بہتر ہے کہ آپس میں مصالحہ کرلیں۔

سوال ۱۲۷۸۔ لڑائی میں ایک شخص نے قلم سے دوسرے کے ہاتھ کو اس طرح زخمی کیا کہ کھال اُکھڑ گئی اور خون نکل آیا، اس کا کیا حکم ہے؟ یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ مجھے کوئی اطلاع نہیں ہے تاکہ اُن سے حلالیت طلب کروں؟

جواب: اس جراحت کا نام دامیہ ہے اور اس کی دیت سرو صورت کے عالوہ ایک اونٹ کی آدھی قیمت ہے اور زخمی شخص کے نہ ملنے کی صورت میں اس کی دیت کو اس کی نیت سے کسی فقیر کو دیدیں؛ مگر یہ کہ آپ کویقین ہو کہ وہ آپ سے راضی ہوگیا تھا۔

سوال ۱۲۷۹۔ میں نے لڑائی میں ہتھوڑی کو الٹی طرف سے ایک شخص کے منھ پر ماری اور میں نہیں جانتا کہ اس کا منھ زخمی ہوا، سرخ ہوا، نیلا ہوا یا سیاہ اور اس شخص کی یا اس کے وارثین کی دسترسی کا بھی نہ اب کوئی اور نہ آئندہ میں امکان ہے ، لہٰذا حضور سے خواہشمند ہوں اس کی دیت کو بیان فرمائیں؟

جواب: یہاں پر کم سے کم دیت سرخ ہونے کی دیت کی ہے جس کی مقدار ۵/۱ مثقال ہونا ہے (شرعی مثقال تقریباً ۱۸/چنے کے برابر ہے) اور معمولی مثقال ۲۴/چنے کے برابر ہے اس بنیاد پر اگر معمولی مثقال سے حساب کریں تو جتنا اوپر بیان کیا ہے اُس میں ۴/۱ کم ہوجائے گا۔

سوال ۱۲۸۰۔ ایک چوٹ کی وجہ سے پلک کے اوپری اور نچلے حصّے میں نیل پڑگیا، کیا مارنے والا تین ۳/دینار دے گا یا ۶/ دینار؟

جواب: اگر نیل متصل اور ایک ہو تو ایک ہی جنایت شمار ہوگی اور اگر علیحدہ علیحدہ نیل ہوں تو دو جنایت شمار ہوںگی۔

سوال ۱۲۸۱۔ وہ زخم جو انسان کے اندرونی اعضاء پر لگتے ہیں زخمی شدہ اندرونی عضو کی نوعیت کی بنیاد پر الگ الگ ہوتے ہیں، حالانکہ ان کی دیت تمام موارد میں جائفہ کی حد تک ہے اور برابر ہے (بطور مثال وہ جائفہ جس سے آنتیں پھٹ جائیں اس جائفہ کے برابر نہیں ہے اور نہ ہی دونوں کے علاج کا خرچ برابر ہے، جس سے فقط پردہٴ صفاق (پیٹ کی اندرونی کھال) پارہ ہوجائے( لیکن ان دونوں کی دیت ایک ہے) کیا ان کے احکام یک دوسرے سے جدا کیا جاسکتا ہے؟

جواب: ان جیسے موارد میں جب جائفہ زخم، اعضاء کے اندرونی حصّوںجیسے آنتوں کو نقصان پہنچائے، تو اس اضافی مقدار کی نسبت ارش دینا ہوگا۔

سوال ۱۲۸۲۔ اُن زخموں یا طمانچوں کی دیت جو استاد اپنے شاگرد کو مقام تنبیہ میں لگاتا ہے ، نیچے دی گئی فروع میں کس طرح ہے؟
الف) جب کہ شاگرد نابالغ ہو۔
ب) جب کہ شاگرد بالغ ہو۔
ج) ولی کی اجازت سے ہو۔
ھ) ولی کی بغیر اجزات کے ہو۔

جواب: حتی الامکان بدنی تنبیہ سے پرہیز کیا جائے، ضروری ہونے کی صورت میں ولی کی اجازت سے ہونا چاہیے، البتہ وہ بھی اس قدر کہ زخمی ہوجانے یا سرخ ہوجانے یا ینل پڑجانے کی حد تک نہ ہو۔

سوال ۱۲۸۳۔ بہت سے بچے ماں باپ سے بہت سے زیادہ مار کھاتے ہیں اور زخمی بھی ہوجاتے ہیں اور کبھی کھبی اس مار پیٹ کے آثار اسپتال میں دیکھے جاتے ہیں لیکن افسوس کہ ان جیسے موارد کو روکنے کے لئے کوئی قانون موجود نہیں ہے اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: اس طرح کی مار پیٹ کا حکم، دیت اور ارش ہے؛ اور ماں باپ اور دوسروں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

سوال ۱۲۸۴۔ کیا بارہ بور کی کاری بندوق کا چھرَّہ کہ جو کسی کے بدن میں گھس جائے، اسلامی تغزیر ات کی دفعہ ۴۸۳/ کا مصداق ہے جو یہ کہتی ہے کہ ”جب کبھی نیزہ یا گولی یا اسی کی طرح کوئی اور چیز کسی شخص کے ہاتھ یا پاؤں میں دھنس جائے ، مجنی علیہ کے مرد ہونے کی صورت میں ایک سو (۱۰۰) دینار دیت اور عورت ہونے کی صورت میں ارش لازم ہوتا ہے “ یا چھرہ گولی شمار نہیں ہوگا اور مذکورہ زخم تعزیر ات اسلامی کی دفعہ ۴۸۰ کو شامل ہوگا اور زخم کی نوعیت (حارصہ، دامیہ، متلاحمہ، سمحاق، موضحہ، منقلہ، مامومہ اور دامغہ ) کے اعتبار سے دیت معین ہوگی ؟

جواب: یہ حکم (نافذہ کا حکم ) چھرّے کو شامل نہیں ہوتا ، اور دیت کے دوسرے عناوین سے جو آپ نے بیان کئے ہیں، استفادہ کیا جائے ۔

سوال ۱۲۸۵۔ ڈاکٹر نے مریض کے بدن کی کھال کا کچھ حصّہ زخم یا جلے ہوئے کی سرجری کرنے کے لئے کاٹ لیا ہے کیا اس حصّے کے لئے علیحدہ دیت یا ارش منطور ہوگا ؟

جواب: اس حصّے کی نہ کوئی دیت ہے اور نہ ارش ۔

سوال ۱۲۸۶۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ دامغہ جرم کے لئے دیت اور ارش ہے ، لیکن قانونی ڈاکٹر نے ہڈی کے برابر میں مضبوطی میںکمی آجانے کی وجہ سے ایک اور ارش کا اعلان کیا ہے ۔ کیا جنایت کرنے والا اس ارش کو بھی ادا کرے گا ؟

جواب: فقط ماٴمومہ کی دیت کے علاوہ مغز کے اوپر کی جھلی پارہ ہوجانے کے ارش دے گا ۔

ارشجنین کی دیت
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma