عاقلہ(وارثین)

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
جنین کی دیت میّت کے اوپر جنایت

سوال ۱۲۹۳۔ جیسا کہ حضور کو معلوم ہے اگر جانی اپنی جنایت کے خطائی ہونے کا اقرار کرے تو عاقلہ (وارثین) ضامن نہیں ہیں ، اسی طرح اگر بچہ کہ جس کی عمد بھی خطا شمار کی جاتی ہے ، اپنی جنایت کا اقرار کرے ، کیا خود بچہ ضامن ہے ؟ یا اُس کے عاقلہ؟

جواب: کسی بھی حال میں بچہ کا اقرار معتبر نہیں ہے۔

سوال ۱۲۹۴۔ چونکہ عاقلہ موضحہ زخم سے بڑے زخم کے ضامن ہوتے ہیں بشرطیکہ خطاء محض ہو، لہذا حضور فرمائیں:

۱۔ چنانچہ ایسا زخم لگائے جو ارش کا سبب ہوتا ہے اور ارش بھی موضحہ زخم یا اس سے بڑے زخم کے برابر ہو، کیا عاقلہ ضامن ہیں؟

جواب: اس لحاظ سے دیت اور ارش میں کوئی فرق نہیں ہے ۔

۲۔ متعدد زخموں کی صورت میں کہ جن کی مجموعی دیت موضحہ زخم یا اس سے بڑے زخم کے برابر ہو لیکن فردی طور سے کم ہو (چاہے دیت معیَّن ہو یا نہ ہو ) تو کس طرح ہے ؟

جواب: وہ مستقل زخم کہ جن میں سے ہر ایک کی دیت موضحہ زخم سے کم ہو تو اس کو عاقلہ کے حکم شامل نہیں ہونگے ۔

۳۔ کچھ زخم ایسے لگائے گئے جس کی دیت موضحہ زخم سے کم ہے لیکن اُنسے حو عیب حاصل ہوا وہ دیت اور اس عیب دونوں کو ملاکہ موضحہ کے برابر یا زیادہ ہوجاتا ہے، کیا اس صورت میں عاقلہ ضامن ہیں ۔

جواب: اس فرض میں چونکہ جنایت ، جنایت واحدہ ہے لہٰذا عاقلہ شامل ہو جائیں گے ۔

سوال ۱۲۹۵۔ جب کبھی قتلِ خطا، فقط قاضی کے علم سے ثابت ہو تو دیت کس کے ذمّہ ہے ؟ عاقلہ کے یا خود قاتل کے ؟

جواب: احتیاط واجب یہ ہے کہ خود قاتل ادا کرے ۔

سوال ۱۲۹۶۔ اگر مجنون یا بچہ اپنے باپ پر ایسی ضرب یا زخم لگائے جس کی دیت عاقلہ پر ہے، تو دیت کے ادا کرنے کا ذمّہ دارکون ہوگا؟ کیا اس خاص مورد میں مجنون یا بچّے کے تمام نسبی اقرباء کہ جو فعلی طور سے اس کے وارئین شمار نہیں ہوتے (جیسے بھائی) جانی کی اقربیت کی ترتیب سے بعنوان عاقلہ، دیت کے ادا کرنے کے ذمّہ دار ٹھہرائے جاسکتے ہیں ؟

جواب: جی ہاں دیت ، عاقلہ پر ہے ، لیکن مجنون یا صغیر کو اس میں سے کچھ نہ ملے گا۔

سوال ۱۲۹۷۔ عاقلہ کی کیفیت اور ان کے ذمّہ دار ہونے کے بارے میں جواب عنایت فرمائیں :

الف : بالغ عاقل شخص کی خطاء محض والی جنایت میں ، اس کے قتل اور موضحہ اور موضحہ زخم سے بڑے زخم کی دیت عاقلہ پر ہوتی ہے اور موضحہ سے کم زخم کی دیت خود جانی پر ہوتی ہے ۔ کیا یہ حکم نا بالغ اور دیوانہ کے اوپر بھی صادق آتا ہے؟ بعبارت دیگر موضحہ زخم سے کم جراحت کہ جس کو نابالغ (ممیز وغیر ممیز) دوسرے پر لگائے، اس کی دیت کس کے اوپر ہے؟

جواب: جی ہاں یہ حکم بچے اور دیوانہ کے مورد میں بھی جاری ہے ، موضحہ سے کم والی دیت ان کے مال سے ادا کی جائے گی ۔

ب : عاقلہ کتنی مدت میں دیت یا ارش ادا کریں گے ؟

جواب: جب دیت زیادہ سنگین ہو جیسے قتل عمد کی دیت تو اس کو مناسب مدَّت میں ادا کیا جائے گا ورنہ یہاں پر فوریت کا پہلو ہے ۔

ج : عاقلہ کے دیت کو ادانہ کرنے یا ان کے ادائیگی پر عاجز ہونے کی صورت میں کیا تکلیف ہے ؟

جواب : اگر آیندہ میں ان کے ادا کرنے کی امید ہو تو نا خیر سے کام لینا چاہےے اور اگر ایسی کوئی امید نہ ہو تو بیت المال سے ادا کی جائے اور اگر وہ عمداً تاخیر کریں جبکہ وہ ادا کرنے کی توانائی رکھتے ہوں تو حاکم شرع ان کو مجبور کرسکتا ہے اور ان کو قید خانہ بھی میں ڈال سکتا ہے ۔

سوال ۱۲۹۸۔بچے کی جنایت کے سلسلے میں جبکہ صدور حکم کے وقت بالغ اور رشید ہو گیا ہو ، اس کی جنایت کی دیت عاقلہ پر باقی رہے گی یا خود اس کے اوپر آجائیگی؟

جواب: دیت عاقلہ پر ہے ۔

جنین کی دیت میّت کے اوپر جنایت
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma