دیت سے معافی

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
دیت کے بیت المال سے ادا کرنے کے مواردمنافعہ کے ختم ہوجانے کی خسارت

سوال ۱۳۱۱۔ اُن موارد میں جہاں قاتل کا قصاص کرنا وارثین کی طرف فاضل دیت کی ادائیگی پر مشروط ہو تو یہاں پر چند سوال ہیں جن کے جواب مطلوب ہیں:
۱۔ فاضل دیت کس کا حق ہے؟ قاتل کا یا اس کے وارثین کا؟

جواب: فاضل دیت قاتل کا ہے اور اس سے ورثہ کی طرف منتقل ہوگا۔

۲۔قاتل کا حق ہونے کی صورت میں کیا وہ اپنے حق سے درگذر کرسکتا ہے؟

جواب: جی ہاں، وہ اپنے حق سے درگذر کرسکتا ہے

۳۔ کیا مذکورہ حکم میں قاتل کے انگیزہ کو دخل ہے؟ مثلاً قاتل کا انگیزہ وارثین کو دیت سے محروم کرنے یا اپنے آپ کو بلاتکلیفی سے خارج کرنے اور زندان سے نجات حاصل کرنے کا ہو، (اس صورت میں وارثین تنگدستی کی وجہ سے فاضل دیت کی ادائیگی پر قادر نہ ہوں دوسری طرف یہ کہ نہ ہی دیت لینے پر راضی ہوں اور نہ قاتل کو معاف کرتے ہوں) کیا معاف کردینا ان تمام موارد میں صحیح ہے؟

جواب: انگیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، معیار معاف کرنا ہے۔

سوال ۱۳۱۲۔ اگر مقتول، مقروض ہو اور اس کی ادائیگی کے لئے دیت کے علاوہ کوئی مال بھی نہ ہو اور وارثین اس غرض سے کہ قرض خواہوں کو کوئی پیسہ ہاتھ نہ لگ سکے یا کسی اور غرض سے قاتل کو معاف کردیں، کیا قرض خواہ افراد دعوا کرسکتے ہیں اور شخص ثالث کے عنوان سے مقدمہ میں داخل ہوسکتے اور اپنے قرضوں کا مطالبہ کرسکتے ہیں؟

جواب: میت کے مطالبات ہرچیز پر مقدم ہیں اور مسئلہ کے فرض میں اولیاء دم (وارثین) کو معاف کرنے کا حق نہیں ہے۔

سوال ۱۳۱۳۔ میں نے اپنی بیٹی کے قاتل کو قصاص کرنے کی خاطر مبلغ ۰۰۰/۳۲۰۰۰ (بتیس میلین ریال) (فاضل دیت) قاتل کے حساب میں اور مبلغ ھ۶۷/۶۶۶/۲۴ (چھبیس میلین لاکھ چھیاسٹھ ہزار چھو سو ستر ریال) ایک عورت کی ۶/۵ کی بابت سہم الدیہ صغیر کے عنوان سے عدالت کے حساب میں ڈالے ہیں، تاکہ قاتل کو قصاص کیا جائے، لیکن قاتل سے زبانی مفاہمت میں یہ طے پایا کہ وہ مقتول کے بچوں (لڑکا لڑکی) کی دیت کی قرض کے بابت جس کاایک تہائی اس کو پہنچتا ہے اور فاضل دیت کے برابر ہے اپنی دیت کے حصّے میں میرے اوپر معاف کردئیے، اس نے قصاص سے پہلے قاضی اور حکم کے جاری کرنے والے دیگر عہدہ داروں کے حضور میں اپنے ہاتھ سے یہ لکھا: اینجانب نے جو قصاص کے اوپر محکوم ہے اپنی دیت کے حصّے کو مقتول کے ولی دم کے اوپر معاف کرتا ہے، اس تحریر پر قاضی اور اجراء حکم پر مامور دیگر عہدہ داروں نے اپنے دستخط کیے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ فاضل دیت کی پوری رقم جو مرحوم نے مجھے بخش دی ہے مجھ سے ہی متعلق ہے؟ قابل ذکر ہے کہ قاتل کے وارثین میں سے فقط ایک چھوٹا بچّہ اور اس کی ماں موجود ہے۔

جواب: جس چیز کو قال نے تمھارے اوپر قرض کے عنوان سے (بچوں کی دیت کی بابت) معاف کیا ہے وہ تمھارا ہی حق ہے اور کسی دوسرے کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔

سوال ۱۳۱۴۔ کیا دادا، وصی، یا بچوں کے کفیل ہر چند وہ بچوں کی ماں ہو ، کو حق ہے کہ ان بچوں کے دیت کے مال کی بابت جو بچّے ان کی کفالت میں ہیں، شرعی دیت سے کم پر جانی سے مصالحہ کریں ، یا کامل طور سے اس کو معاف کردیں ؟

جواب: دادا ، وصی یا کفیل کو حق نہیں ہے کہ وہ بچوں کے حصّے میں آئے دیت کے مال کو بخش دیں ، یا شرعی مقدار سے کم پر مصالحہ کرلیں ۔ مگر یہ کہ وہاں پر کوئی خاص مصلحت ہو اور یہ کام بچّے کے نفع ہیں ہو ۔

دیت کے بیت المال سے ادا کرنے کے مواردمنافعہ کے ختم ہوجانے کی خسارت
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma