تغلیظ دیت (دیت کا زیادہ ہونا)

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
منافعہ کے ختم ہوجانے کی خسارت دیات کے دیگر سوالات

سوال ۱۳۱۶۔ ایک شخص نے ماہ مبارک رمضان میں دوسرے کو مارا، مارکھانے والا ماہ ذی القعدہ میں فوت ہوگیا، کیا تغلیظ دیت لازم ہے، یا چونکہ مار، ماہ غیر حرام میں واقع ہوئی ہے لہذا دیت میں تغلیظ لازم نہیں ہے ؟

جواب: اس صورت میں جبکہ مار اور قتل دونوں حرام مہینوں میں واقع ہوئے ہوں تو دیت، تغلیظ ہو گی ۔ اس کے علاوہ دیت کی تغلیظ پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔

سوال ۱۳۱۷۔ اگر ماہ حرام اور خانہٴ خدا کی حریم میں قتل ہو، کیا دیت کے اوپر ایک تہائی ۳/۱ کے علاوہ کوئی اور چیز اضافہ ہوگی ؟

جواب: جی ہاں دونوں عنوانوں سے دیت تغلیظ اور تشدید ہوگی ۔

سوال ۱۳۱۸۔ وہ مسلمان عورت جو ماہ حرام میں قتل ہو اس کی دیت کی کیا مقدار ہے ؟

جواب: کامل دیت کی آدھی دیت عورت ہونے کے اعتبار سے اور اس آدھی دیت کا ایک تہائی حصّہ یعنی کامل دیت کا چھٹا ۶/۱ حصّہ تغلیظ کے عنوان سے ادا کیا جائے گا، کہ جو مجموعی طور سے ایک کامل دیت کا ۶/۴حصّہ ہوتا ہے ۔

سوال ۱۳۱۹۔ ماہ ذی الحجہ میں جنایت واقع ہوئی اور مجنی علیہ ماہ محرم میں انتقال کرگیا اسلامی تعذیر ات کی دفعہ ۲۹۹ میں اس طرح آیا ہے ”جب جنایت اور موت دونوں حرام مہینوں میں واقع ہوں تو تغلیظ کا سبب ہے “ کیا سوال کے مورد میں کہ جس میں جنایت اور موت دو مہینوں میں واقع ہوئی ہیں ، تغلیظ کا حکم جاری ہے ؟

جواب: مفروضہ سوال میں باب تغلیظ ثابت ہے ؛ کیونکہ دونوں حرام مہینوں ہیں واقع ہوئی ہیں ، اور مذکورہ قانونی دفعہ کا بھی یہی مطلب ہے ۔

سوال ۱۳۲۰۔ اس چیز کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے کہ قتل خطا کی شرعاً مقرر کردہ دیت کا ایک تہائی۳/۱ حصّہ پہلے سال کے آخر میں ادا ہونا چاہےے ، اگر اس ایک تہائی کا آدھا حصّہ مقّررہ وعدہ پر ادا کردیا گیا ہوا اور باقی حصّہ اگلے سال اداکیا جائے تو حضور فرمائیں کیا باقی ما ندہ آدھا حصّہ سال جاری کی قیمت کے حساب سے ادا کیا جائے گا یا گذشتہ سال کی قیمت کے حساب سے ؟

جواب: سال جاری کی قیمت سے ادا ہونا چاہےے ۔

سوال ۱۳۲۱۔ قتل خطاء محض جیسے موارد میں قول مشہور کی بناپر دیت تین ۳ سالوں میں اور ہر سال ایک تہائی ادا ہونا چاہےے، بعض فقہاء کے فتوے کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے کہ وہ فرماتے ہیں قیمت کا ملاک یوم الادا ہے ، لہذا حضور فرمائیں کیا ابتدا ہی میں دیت کی کل قیمت کا حساب ہوجائے گا اور جانی اس میں سے ہر سال ایک تہائی ۳/۱ ادا کرے گا ، یایہ کہ ہر تہائی حصّے کو یوم الادا کی قیمت سے ادا کرے گا ، یعنی ہر سال کے حصّے کو اسی سال کی بازار کی قیمت سے ادا کرے گا ؟

جواب: ہر سال کی ایک تہائی قیمت کو محاسبہ کے روز کی قیمت سے ادا کرے گا، مگر یہ کہ ابتداء میں ہی قیمت کے اوپر مصالحہ ہوگیا ہو ۔

سوال ۱۳۲۲۔ کار حادثہ میں ایک شخص قتل غیر عمد کا مرتکب ہو جاتا ہے اور وہ فوری طور سے اپنے آپ کو قانون کے حوالہ کردیتا ہے ۔ مربوطہ قاضی قانونی مراحل کو طے کرنے کے بعد اور دیت کی مقدار کو معین کرنے کے بعد حکم صادر کر دیتا ہے لیکن احکام کے نفاذ پر تعینات افسران اس کی ادائیگی کے ابلاغ کو بیمہ کے افسروں پر ڈال دیتے جس سے تاخیر ہو جاتی ہے اور اگلے سال دیت کی مقدار پڑھ جاتی ہے کیا ملزم قاضی کے ذریعہ معین شدہ دیت کو ادا کرے گا یا اگلے سال میں اضافہ ہوئی مقدار کو بھی ادا کرے گا ؟

جواب: اگر احکام کے نفوذ پر تعتیات افسران نے حکم کے ابلاغ میں کوتاہی کی ہو تو وہ دیت کی اضافہ مقدار کے ضامن ہیں ۔

سوال ۱۳۲۳۔ اگر مذکورہ شخص وقوع حادثہ کے بعد فرار کر جائے اور چند سال بعد اس کو پولس گرفتار کر کے عدالت کے حوالہ کردے اس طرح کہ عدالت کا حکم، دیت کے اضافہ ہونے والے سال میں صادر ہو ، کیا جانی حادثہ کے واقع ہونے والے سال کی قیمت سے دیت ادا کریگا ، یا صدور حکم کے سال کی قیمت سے ؟

جواب: دیت کو سال جاری کی قیمت سے ادا کی جائے گا۔

منافعہ کے ختم ہوجانے کی خسارت دیات کے دیگر سوالات
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma