قرضوں کے احکام

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
بینکوں میں پیسہ رکھنا سروس چارج

سوال ۱۳۳۸۔ قرض کی خریداری میں اشکالات ، اور خصوصاً قرض کی ادائیگی پر متعدد تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے، کیا عقود اسلامی کے دائرہ میں سود کا حساب اور اس سود کو، قرض کا ہدیہ کے عنوان سے ادا کرنا ، اشکال سے خالی ہے ؟

جواب: اس صورت میں جب کوئی معاہدہ کیا گیا ہو اور قرض لینے والا اپنی مرضی اور رغبت سے کوئی چیز اضافہ کے طور پر دے تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۱۳۳۹۔ کیا ذیل میں درج، شرط جائز ہے: ”میں آپ کو قرض دیتا ہو بشرطیکہ آپ ایک رقم، فلاں خیراتی ادارہ یا امداد کمیٹی کو دیں گے؟

جواب:اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے یہاں پر قرض دینے والا اپنے لئے کسی زیادتی کا مطالبہ نہیں کررہا ہے، بلکہ منافع کو خیراتی ادارہ وغیرہ کے لئے طلب کر رہا ہے لہذ اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۱۳۴۰۔ ایک سو سائٹی اپنی خدمات کو بڑھانے یا متنوع کرنے کے لئے قسطی فروش کے قالب میں ، جہیز خریدنے کے لئے قرض دینے کا اقدام کرتی ہے ۔ کیا معاہدہ کرتے وقت ورقرض دیتے وقت سامان کی نوعیت اور اس کی قیمت کو دقیق طور سے معیَّن کرنا ضرور ہے ، یا فقط جہیزکی خریداری کا بیان ، کافی ہے؟

جواب: سامان کی نوعیت کا معین کرنا ضروری نہیں ہے ۔

سوال ۱۳۴۱۔ بہت سے بینک گھر خریدنے کے لئے قرض دیتے ہیں لیکن دیا گیا قرض غالباً گھر خریدنے کے لئے کافی نہیں ہوتا ، لوگوں کے درمیان یہ رائج ہوگیا ہے کہ اپنے دوستوں سے مکان خریدنے کا ایک فرضی معاملہ کر کے مذکورہ قرض حاصل کر لیتے ہیں ۔ کیا یہ کام جائز ہے ؟

جواب: کیونکہ یہ کام بینک کے قوانین کے خلاف ہے لہٰذا جائز نہیں ہے ۔

سوال ۱۳۴۲۔ ایک شخص دوسرے کو قرض دیتا ہے اور سود وغیرہ سے متعلق کوئی شرط نہیں لگاتا لیکن جب وہ اپنا قرض وصول کرتا ہے تو واضح طور یا کنایہ کی صورت میں اشارہ کرتا ہے کہ کتنا اچھا ہوتا کہ کچھ منافع بھی مل جاتا ، اس صورت میں جب کہ اس نے قرض لینے والے کے لئے کسی خاص رقم کو معین نہیں کیا اور فقط گلہ اور ناراحتی کا اظہار کیا ہے کیا قرض لینے والے کے لئے جائز ہے کہ کچھ رقم اس کو دے دیے کیا یہ رقم ربا (سود) کے حکم میں نہیں ہے ؟

جواب: کیونکہ اس نے شرط نہیں لگائی تھی اور اپنے مافی الضمیر کو گلہ کی صورت میںادا کیا تھا اور کوئی بھی اجبار بھی نہیں تھا لہٰذا کوئی اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۱۳۴۳۔ مومنین کی کچھ تعداد مثلاً ۲۰ نفر نے آپس میں سمجھوتا کیا کہ ایک دوسرے کی مدد اور مالی مشکلات کو حل کرنے کی غرض سے ہر مہینے ایک معین رقم جمع کریں گے اور قرعہ اندازی کے ذریعہ ان میں سے ہر نہینے کسی ایک کو قرض دیدیں گے ، نتیجةً بیس کے بیس افراد کو قرض ملنے کی خاطر سب پر لازم ہے کہ ۲۰ مہینے تک معینہ رقم جمع کریں ۔ اب ان میں سے وہ افراد جن کو قرض مل گیا معینہ رقم کو قسط کے عنوان سے حمع کریں گے اور بقیہ افراد پہلے سمجھوتے کے تحت رقم جمع کریں گے ۔ نتیجہ ایک شخص کو پہلے ہی مہینے قرض مل جاتا ہے، اور آخری شخص حقیقت میں اپنے پس انداز کو وصول کرتاہے ۔ کیا اس طریقہ سے قرض دینے میں سود کی مشکل نہیں ہے ؟

جواب: کوئی اشکال نہیں ہے۔

سوال ۱۳۴۴۔ ایک کو پریٹیو (coprative)بینک نے اپنے اہداف اور مقاصد پر عمل کرتے ہوئے کہ جس کا مقصد مستمندان کی مدد اور اقتصادی اور تعمیراتی کام میں شریک ہونا ہے ، گھر کی خریداری یا اس کی مرمّت اور معاملات کی خاطر قسطی قرض کو بیچنے کے لئے قرض جُعالہ کا اقدام کیا ہے۔ اب اگرجس کام کے لئے قرض لیا ہے اس کام میں خرچ نہ کیا جائے (وہ کسی بھی وجہ سے ہو ) تو اس بینک کا کیا کوظیفہ ہے؟ کیا پہلے معاہدے کو توڑ کر جدید موضوع کی بنیاد پر جدید معاہدہ کرے ، یا وقت کے گذر جانے کی وجہ اس بینک پر کوئی ذمِّہ داری عائد نہیں ہوتی اور پہلے معاہدے کے ذریعہ منافع کی در آمد بلا اشکال ہے ؟

جواب: پہلے معاہدہ کو فسخ کریں اور جدید معاہدہ منعقد کریں۔ ورنہ جو فائدہ لیں گے وہ ربا (سود) ہے۔

سوال۱۳۴۵۔ شمال شرق کے پشتبانی مرکز نے کچھ اقتصادی کمپنیاںکھولنے کا اقدام کیا ہے کہ جس کے حصہ وار غالباً اسی کمپنیمیں کام کرنے والے ہیں ۔ اس لحاظ سے کہ اس امدادی سوسائیٹی کامذکورہ کمپنیوں کو قرض دینا شرعی سود (فائدہ) کے مدّنظر ہے کیا اس سوسائٹی کا سود (فائدہ) لینا عقود اسلامی اور معاملات شرعی کے دائرہ میں ہونا چاہیے یا یہاں پر باپ اور بیٹے کے درمیان سود لینے والا حکم جاری ہوگا کہ جو بغیر اشکال ہو؟

جواب: یہاں باپ بیٹے کے درمیان سود والا حکم جاری نہیں ہے ، لہٰذا ہے یہ فائدہ عقود اسلامی میں سے کسی عقد کے تحت ہونا چاہیے۔

سوال ۱۳۴۶۔ بعض قرض الحسنہ سوسائٹیوں کے قرض دینے کے شرائط اور کیفیت بحسب شرح ذیل ہے مہربانی فرماکر اس کا حکم شرعی بیان فرمائیں :
اس سوسائیٹی کا اعلان ہے ”لوگوں کو اختیار ہے کہ وہ جتنا پیسہ جتنی مدت میں چاہیں بغیر کسی فائدہ کے اس سوسائیٹی میں جمع کرکے اپنا حساب کھلوا سکتے ہیں، مدت کے پورا ہوجانے اور حمع شدہ رقم کی واپسی کے بعد (البتہ کبھی مذکورہ رقم کو قسط کی ادائیگی تک روک لیتے ہیں )اسی رقم کے برابر اتنی ہی مدت کے لئے مزدوری کے معمولی خرچ پر، قرض لے لیں۔“

جواب: اس صورت میں جب یہ جمع شدہ مذکورہ رقم تمام درخواست دہندگان کی سہولتوں میں اضافہ کا سبب ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے۔

سوال ۱۳۴۷۔ کیا ان پر ائیویٹ یا سرکاری بینکوں سے قرض لینا کہ جو سود لیتے ہیں ، اس ترتیب سے کہ سود کو قبول نہ کرے فقط قرض کو قبول کرے ،جائز ہے؛ ہر چند کہ وہ جبراً اس سے سودلیں گے؟ ایسے ہی ادھار معاملات میں کہ جن میں قسطی طور سے سے خریداری کی جاتی ہے اور قسط میں تاخیر کی وجہ سے سود کی شرط لگائی جاتی ہے، کیا جائز ہے کہ تاخیر کی شرط کو نیت میں قبول نہ کرے اور اصل معاملہ انجام دے لے؟

جواب: اگر قرض کو سود کی شرط کے ساتھ لیا ہے تو جائز نہیں ہے؛ ہر چند کہ وہ بغیر اجبار کے سود کے دینے کا قصد نہ رکھتا ہو ۔

سوال ۱۳۴۸۔ قرض الحسنہ سے سوسائٹی کے قرض دینے کا رابطہ، دیے ہوئے قرض کی ادائیگی سے مستقیم ہے ، قرض کی قسطوں میں ہر طرح کی تاخیر جدید قرضوں کے ملنے میں مشکلات کا باعث ہوتی ہے ، اس سلسلے میں ذیل میں دیے گئے دو سوالوں کے جوابات عنایت فرمائیں:
الف۔ کیا اس طرح کا قرض لینا جائز ہے؟
ب۔ کیا سرکاری بینکوں کی طرح وہ بھی قسط میں تاخیر کی وجہ سے ہر روز کے حساب سے جرمانہ لے سکتے ہیں ؟

جواب: قرض لینے والوں کے لئے قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے؛ ایسے ہی تاخیر کے اوپر جرمانہ لینا بھی جائز نہیں ہے۔

سوال ۱۳۴۹۔ عقود اسلامی کے تحت قرض لینے کے لئے (قرض الحسنہ کے علاوہ) تحریری معاہدہ کیا جاتا ہے۔ اگر تحریری معاہدہ منعقدنہ ہو، اور زبانی معاہدے پر قناعت کی جائے، کافی ہے؟

جواب: کوئی اشکال نہیں ہے۔

سوال ۱۳۵۰۔ قرض کے امید واروں سے شرط کی جاتی ہے کہ قرض لینے کے لئے ان کے لئے کھاتہ کھلوانا ضروری ہے اور کھاتہ کھلے رہنے کی کم سے کم رقم کئی مہینے تک ان کے حساب میں رہنا چاہیے ۔ کیا قرض دینے کے لئے اس طرح کی شرطوں میں اشکال نہیں ہے؟

جواب: اگر یہ شرط تمام قرض لینے والوں کے فائدے میں ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے، لیکن اگر قرض دینے والوں کے فائدہ میں ہو تو جائز نہیں ہے۔

سوال ۱۳۵۱۔ کچھ اشخاص نے اسلامی جمہوریہ ایران کے بینکوں سے قرض لیا ، حکم شرعی سے نا آشنائی کی وجہ سے اس کو معاہدے کے علاوہ کسی اور جگہ خرچ کردیا ہے ۔مثلاً کھیتی کے لئے قرض لیا تھا لیکن اس کو کار خریدنے خرچ کردیا ؟ اس کا شرعی حکم بیان فرمائیں؟

جواب: ایسے قرض باطل ہیں ۔ ان کو دوسرے عقود شرعیہ پر منطبق کرنا چاہیے تاکہ ربا(سود)کی مشکل پیش نہ آئے۔

بینکوں میں پیسہ رکھنا سروس چارج
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma