سروس چارج

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
قرضوں کے احکام بینک کے دیگر احکام

سوال ۱۳۵۲۔ اس قرض الحسنہ سوسائٹی کے اخراجات جیسے نوکروں کی تنخواہ، کاغذات کی چھپائی، دفتر کا کرایہ وغیرہ کو پورا کرنے کے لئے قرض لینے والوں سے مندرجہ ذیل شرح کے مطابق سروس چارج لیا جاتا ہے۔
۱۔ ایک ماہ کی مدت کے قرض پر ایک فیصد۔
۲۔ دو ماہ کی مدت کے قرض پر دو فیصد۔
۳۔ دو ماہ سے زیادہ کی مدت پر سالانہ تین فیصد۔
قابل ذکر ہے کہ اگر قرض کی مقدار کم ہو تو مذکورہ رقم اخراجات کو پورا نہیں کرتی؛ لیکن اگر قرض کی مقدار کم نہ ہو تو ممکن ہے رقم خرچ سے زیادہ ہوجائے، لہٰذا مہربانی فرماکر بتائیں:
۱۔ کیا مذکورہ سروس چارج جائز ہے؟
۲۔ اگر اخراجات کو نکال کر کچھ رقم زیادہ ہوجائے اور اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ آئندہ میں بھی قرض دیا جائے گا تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: سرویس چارج سے مراد وہ حق الزحمہ ہے جوو بینک یا قرض الحسنہ سوسائٹی وغیرہ کے ملازمین کو تنخواہ کے عنوان سے ان زحمتوں کے مقابل میں ادا کیا جاتا ہے کہ جس سے حساب میں خلل واقع نہ ہو اور تمام کامنجوبی انجام پاجائیں، چنانچہ اگر اضافی مقدار کو اسی نیت سے لیا جائے اور تنخواہ کے عنوان سے ملازمین اور دوسرے اخراجات میں صرف ہو تو کوئی ممانعت نہیں ہے اور باقی ماندہ مقدار کو بھی ملازمین اور دوسرے اخراجات میں صرف کریں۔

سوال ۱۳۵۳۔ وہ قرض الحسنہ سوسائٹیاں جو ایک فیصد سروس چارج لیتی ہیں ملازمین کے

اخراجات کے لئے کافی نہیں ہیں، کیا سروس چارج کی مقدار کو زیادہ کیا جاسکتا ہے؟
جواب: اگر پہلا سروس چارج ملازمین کی تنخواہوں کے لئے کافی نہیں ہے تو اس میں ضروری اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

سوال۱۳۵۴۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قرض دار تمام قسطوں کو اپنے وعدے پر ادا نہیں کرسکتا لہٰذا وہ قسطوں کی مدت بڑھانے کا تقاضا کرتا ہے، اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ قرض داروں کی طرف سے مقررہ وقت پر قسطوں کی ادائیگی سبب ہوتی ہے کہ دوسرے افراد کو قرض دینے کے ضمن میں ایک دوسرا چارج لیا جائے، کیا قرض کی مدّت بڑھانے کے لئے دوسرا سروس چارج لیا جاسکتا ہے؟

جواب: دوسرا سروس چارج اس صورت میں لیا جاسکتا ہے جب اس کو تنخواہوں میں خرچ کیا جائے۔

سوال۱۳۵۵۔ کیا سروس چارج کو اصل قرض سے لیا جاسکتا ہے اور باقی ماندہ قرض کو ادا کردیں؟

جواب: کوئی اشکال نہیں ہے؛ بشرطیکہ قرض الحسنہ سوسائٹی کے خرچ سے زیادہ نہ ہو۔

سوال ۱۳۵۶۔ اگر قرض الحسنہ سوسائٹی منحل ہوجائے کیا اس سوسائٹی کے اموال اور سرمایہ کو کہ جو سروس جارچ یا اسلامی معاملات کے فائدوں سے حاصل ہوا ہے ، بیچ کر سوسائیٹی کے حصّہ داروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے؟ کیا ان کے لئے یہ تقسیم ایجاد مالکیت کا سبب ہے؟

جواب: فائدوں اور تنخواہوں کا مسئلہ تو گذشتہ سوالات سے روشن ہوچکا ہے؛ لیکن بقیہ اموال کی نسبت ،قوانین کے مطابق عمل کیا جائے۔

قرضوں کے احکام بینک کے دیگر احکام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma