طبیب کی ضمانت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
طبابت کی تعلیم حاصل کرناویزٹ فیس

سوال ۱۳۶۶۔ مہربانی فرماکر نیچے دیئے گئے دوسوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:
۱۔ ایک ڈاکٹر مریض کی تنگ دستی کی وجہ سے کہ وہ آپریشن کے خرچ کی ادائیگی پرقادر نہیں تھا اس کی ایمرجنسی بیماری کا علاج او آپریشن نہیں کرتا ہے اس کے نتیجے میں یا بیمار مرجائے گا یا اگلے دنوں میں ہونے والا آپریشن اُس دن کی بہ نسبت مفید ثابت نہ ہوگا، کیا اس صورت میں ڈاکٹر ضامن ہے؟
۲۔ اکثر اسپتال میں پہلے پیسے لیتے ہیں، پھر مریض کو بیمار کے پاس بھیجتے ہیں، اگر اس کام کی وجہ سے دیر ہوجائے اور مریض یا تو مرجائے یا اس کو کوئی اور عارضہ لاحق ہوجائے، کیا یہ کام غیر شرعی نہیں ہے؟

جواب: سوال کے فرض میں ڈاکٹر خون کا ضامن نہیں ہے؛ لیکن اُس نے بہت بڑا گناہ کیا ہے اور عقوبت کے قابل ہے۔

سوال ۱۳۶۷۔ بعض سرجن آپریشن کرتے وقت کچھ ایسی غلطیاں کردیتے ہیں کہ جن سے مریض یا تو مرجاتا ہے یا اس کا کوئی حصّہ ناقص ہوجاتا ہے، کیا ان پر دیت واجب ہے؟ اس صورت میں جب کہ ڈاکٹر نے کوئی ضمانت نہ لی ہو اور موت یا عضو کے نقص کا احتمال ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب: ڈاکٹروں کی غلطیاں، دیت کا سبب ہوتی ہیں، اس کی بہترین راہ یہ ہے کہ آپریشن سے پہلے بیمار سے یا بیمار کے وارثوں سے (جبکہ بیمار کا حال ٹھیک نہ ہو) برائت اور رضایت حاصل کریں، یا یہ کہ طبیب حضرات یا بیمار، اس طرح کے مسائل میں بیمہ شدہ ہوں۔

سوال ۱۳۶۸۔ اسپتال میں علاج کے لئے ضروری وسائل نہ ہونے کی وجہ یا اسپتال میں خون کے فقدان کی وجہ سے بیمار کے بدن کے کسی حصّے کا ناقص ہوجانا یا اس کا فوت کرجانا کس کے ذمّہ ہے؟

جواب: اگروسائل کے مہیّا کرنے کا امکان تھا لیکن اقدام نہیں کیا گیا تو اس شعبے کے عہدہ داران اورسپتال کے عہدہ داران اس طرح کے حوادث کے مقابل میں جواب دہ ہیں۔

سوال ۱۳۶۹۔ کبھی ڈاکٹر کا غرور یا اس کا اپنے کام میں کامیاب ہونے کا اطمینان سبب ہوتا ہے کہ آپریشن کے ضروری وسائل اور کافی شرائط فراہم نہ کئے جائیں،اگر اس کے نتیجے میں بیمار مرجائے--- یا اس کو کوئی نقصان پہنچے، کیا ڈاکٹر ضامن ہے؟

جواب: اگر ڈاکٹر نے تساہلی سے کام نہ لیا ہو اور بیمار یا اس کے اولیاء سے برائت اور رضایت بھی حاصل کرلی ہو تو ضامن نہیں ہے۔

سوال ۱۳۷۰۔ ڈاکٹروں یا ملازموں کی طرف سے آپریشن تھیٹر میں تھوڑی سی بے توجّہی سبب ہوتی ہے کہ بیمار کا دم گھٹنے لگے یا بلڈپریشر کم یا زیادہ ہوجائے اور ممکن ہے کہ وہ مربھی جائے، کیا اس کام میں ان افراد کے لئے توجّہ سے کام لینا ضروری ہے؟

جواب: اس کا میں تساہلی کرنا شدید ذمّہ داری کا باعث ہے۔

سوال ۱۳۷۱۔ انڈوسکوپی کے سامان کا اسٹریل شدہ نہ ہونا بیمار کو کسی دوسرے اسپتال میں منتقل کرنے کا باعث ہوتا ہے، اگر ایسا اتفاق ہوجائے تو کون ضامن ہے؟

جواب: جو کوئی اس کام پر مباشر تھا وہ ہی ضامن ہے۔

سوال ۱۳۷۲۔ ممکن ہے دل کا مریض ورزش کے ٹیسٹ کے وقت دل کی حرکت کے رک جانے کی وجہ سے فوت ہوجائے، اس صورت میں کون ضامن ہے؟

جواب: اگر یہ مسئلہ مریض کو سمجھا دیا گیا تھا کہ ممکن ہے کہ ایسا ایسا ہوجائے اور مریض راضی ہوگیا تھا یا ایسا اتفاق بہت کم ہوتا ہو تو ڈاکٹر ضامن نہیں ہے۔

سوال ۱۳۷۳۔ دانتوں کے علاج کے بہت سے اوزار استریل شدہ نہیں ہوتے اور اُن سے مختلف مریضوں کے علاج کے لئے استفادہ کیا جاتا ہے جس سے ممکن ہے کہ ایک مریض کی بیماری دوسرے کو لگ جائے، کیا یہ کام جائز ہے، کیا بیماری منتقل ہونے کی صورت میں ڈاکٹر گنہگار اور ضامن ہے؟

جواب: اگر بیماری کے منتقل ہونے کا احتمال قابل ملاحظہ ہو تو یہ کام جائز نہیں ہے اور ڈاکٹر کے ضامن ہونے کا امکان بعید ہے۔

سوال ۱۳۷۴۔ ڈاکٹر یا نرس کا کسی بھی شعبے میں صفائی اور صحت کے اصولوں کی رعایت نہ کرنا ممکن ہے بیمار کے لئے نقصان کا باعث ہو، کیا یہ کام ضمان آور ہے؟

جواب: اگر صحت کے اصولوں کی معمولی اور متعارف حد سے کم رعایت کی جائے اور بیماری کے منتقل ہونے کا خطرہ ہو تو ضمان آور ہے۔

سوال۱۳۷۵۔ اگر ڈاکٹر یا اس کا معاون کسی بیماری کا علاج کرتے وقت اس کے بدن کے کسی دوسرے حصّے پر مارے مثلاً دل کو زندہ کرنے کی غرض سے بیمار کی پسلیوں کو زور سے دبائے یا بیمار کا ردّعمل دیکھنے کی وجہ سے اس کے منھ پر طمانچہ مارے اور اس کے کان کا پردہ پھٹ جائے، کیا ڈاکٹر ضامن ہے؟

جواب: اگر اس کے معالجے کے لئے یہ کام ضروری ہو اور مریض یا اس کے اولیاء سے اجازت بھی لی ہو تو ضامن نہیں ہے، اس صورت کے علاوہ ضامن ہے۔

طبابت کی تعلیم حاصل کرناویزٹ فیس
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma