معائنہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
ویزٹ فیسعلاج کے متفرق احکام

سوال ۱۳۷۰۔ خواتین ڈاکٹر عورتوں کے علاج کے لئے ان کی شرمگاہوں پر نظر کرتی ہیں، کیا یہ عمل جائز ہے؟

جواب: یہ کام ضروری صورت اور بمقدار ضرورت جائز ہے۔

سوال ۱۳۸۱۔ پوسٹ مارٹم کی وجہ سے بائی لوجی (Biology)کے طالب علموں کا کافر مرد یا عورت کے بدن پر نظر کرنے یا اس کو چھونے کا کیا حکم ہے؟

جواب: فقط بمقدار ضرورت جائز ہے۔

سوال ۱۳۸۲۔ اگر آپریشن یا ڈریسنگ کرنا شرم گاہ کو چھونے پر موقوف ہو تو کیا ہم جنس کو اولویت ہے؟

جواب: ہم جنس کو اولویت ہے۔

سوال ۱۳۸۳۔ بہت سی خواتین علاج کے لئے مرد ڈاکٹر وں کے پاس جاتی ہیں، کیا ڈاکٹر اس علم کے ساتھ کہ یہ خاتون قادر ہے کہ اپنا علاج خاتون ڈاکٹر سے کرائے، کیا اس صورت میں وہ اس کا علاج کرسکتا ہے؟

جواب: مفروضہ سوال میں ڈاکٹر کو چاہیے کہ اس مریضہ کو خاتون ڈاکٹر کی طرف رہنمائی کرے؛ مگر یہ کہ خاتون ڈاکٹر پر اس عورت کو اعتماد نہ ہو اور خود کو مجبور جانیں۔

سوال ۱۳۸۴۔ کیا نرسیں ضروری نہ ہوتے ہوئے بھی غیر ہم جنس مریض کی پٹی کا معائنہ یا اس کو بدل سکتے ہیں؟

جواب: جائز نہیں ہے۔

سوال۱۳۸۵۔ اسپتالوں میں یا مطبوں میں یا ریڈیولوژی اور سونوگرافی کے کمروں میں بیمار کے لئے لازم ہے کہ اپنے بدن کے بعض حصّے یا پورے بدن کو عریان کردے جبکہ وہاں کے ملازموں کی ان جگہوں پر رفت وآمد معمولی ہے، ومعمولاً نامحرم کے بدن پر ان کی نگاہ پڑجاتی ہے، کیا یہ رفت وآمد کہ جو کبھی تو ضروری ہے اور کبھی بیمار سے اس کا رابطہ نہیں ہوتا، جائز ہے؟

جواب: ضروری موارد کے علاوہ جائز نہیں ہے۔

سوال ۱۳۸۶۔ حسّاس مقامات جیسے بیضتین، چھاتی، ہاتھ پاؤں کی رگوں وغیرہ کی سونوگرافی کے لئے ضروری ہے ان جگہوں سے کپڑا ہٹادیا جائے اور یہ جگہیں وہ ہیں جن کو سونوگرافی کا ڈاکٹر دیکھتا ہے، اس چیز پر توجّہ رکھتے ہوئے کہ سونوگرافی کے ڈاکٹر زیادہ تر مرد ہیں اور بہت سے شہروں میں تو خاتون ڈاکٹر بالکل ہے ہی نہیں، تو اس صورت میں عورت کا مرد ڈاکٹر کے پاس جانے کا حکم کیا ہے؟

جواب: فقط علاج کے لئے اور ضروری کی صورت میں جائز ہے۔

سوال ۱۳۸۷۔ گذشتہ مسئلہ میں مذکورہ جگہوں کے معائنہ کے علاوہ اطراف کا حصّہ بھی عریاں ہوتا ہے، اطراف کے حصّے کو عریاں کرنے کا، کیا حکم ہے؟

جواب: جتنی مقدار لازم ہے عریاں ہونا چاہیے۔

سوال ۱۳۸۸۔ کیا عورتوں کے پیٹ یاسینے کی سونوگرافی کے مسئلہ میں ڈاکٹر کے نظر کرنے کے حرام ہونے کی اعتبار سے ہم جنس اور غیر ہم جنس میں فرق ہے؟

جواب: ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

سوال ۱۳۸۹۔ ریڈیولوجی (Radiology)کے لئے بعض موارد میں بیمار کے لئے بالکل عریاں ہونا ضروری ہے اوریہ کام کبھی غیر ہم جنس کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے جیسے ایمرجنسی صورتوں میں کہ جب ہم جنس موجود نہ ہو، ایسے حالات میں نامحرم کے بدن کو دیکھنا کیسا ہے؟

جواب: جب تک قطعی ضرورت کا احساس نہ ہو ، نامحرم کے بدن کو دیکھنا جائز نہیں ہے۔

سوال ۱۳۹۰۔ جب ریڈیولوجی یا سونوگرافی کے مراکز میں بھیڑ ہوتی ہے اگر وہاں پر تعینات افراد پہلے مریض کے لباس پہننے کا انتظار کریں تو ان کو نقصان ہوگا، لہٰذا اس سے پہلے کہ وہ کامل طور سے اپنا لباس پہنے دوسرا مریض تیار ہوجاتا ہے اس صورت میں مریضوں کی نگاہیں نامحرم کے بالوں یا بدن پر پڑتی ہیں، اس حالت کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا ضروری ہے وہاں کے افراد اس ضرر کے متحمل ہوں تاکہ دوسرے لوگ گناہ میںنہ پڑیں؟

جواب: اسلامی اقدار کو باقی رکھنے کے لئے کبھی ضروری ہوتا ہے بہت سے نقصانات کو برداشت کیا جائے۔

سوال ۱۳۹۱۔ ولادت کے وقت کی تشخیص کے لئے دایہ کو حاملہ کے رحم میں ہاتھ ڈالنا ضروری ہوتا ہے، کیا یہ کام جائز ہے؟

جواب: ضروری صورت میں جائز ہے۔

سوال ۱۳۹۲۔ کیا عورتوں کی بیماریوں کے ماہر، مرد ڈاکٹروں کے لئے اس کام کے کرنے کا جواز ہے جو اوپر کے سوال میں مذکور ہے؟

جواب: خاتون ڈاکٹر کی دسترسی کے امکان کی صورت میںےہ کام مرد ڈاکٹر کے لئے جائز نہیں ہے، فقط وقت ضرورت جائز ہے۔

سوال ۱۳۹۳۔ طول تاریخ میں قوموں اور ملتوں کے درمیان اس کام کی عدم ممانعت، کیا اس کام کے جائز ہونے کی دلیل نہیں ہے ؟

جواب: طول تاریخ میں ہمیشہ یہ کام ضرورت کے موقعوں میں انجام دیا گیا ہے۔

سوال ۱۳۹۴۔ شرم گاہ پر نظر کرنے کا فلسفہ اجتماعی خرابیوں کی روک تھام بتایا گیا ہے، کیا اس کام کا غیر اخلاقی پہلو اور کسی کی خصوصی حدود میں داخل نہ ہونا بھی اس کام کے حرام میں اثر انداز نہیں ہے؟

جواب: جی ہاں، یہ پہلو بھی موٴثر ہے۔

سوال۱۳۹۵۔ کیا تعلیم کی غرض سے ڈاکٹروں کا ولادت ہوتے دیکھنا جائز ہے؟ اس چیز پر توجّہ رکھتے ہوئے کہ ممکن ہے آئندہ میں اس کی تعلیم ایک انسان یا بہت سے انسانوں کو حتمی موت سے نجات دلادے، اس کام کا مردوں کے لئے کیا حکم ہے؟

جواب: مسئلہ کے فرض میں ضرورت کے عنوان سے ممانعت نہیں ہے۔

سوال ۱۳۹۶۔ کیا تعلیم کی خاطر ولادت کی کیفیت کا ویڈیو فیلم یا کمپوٹر سی ڈی کے ذریعہ دیکھنا جائز ہے؟

جواب: اُن شرائط کے تحت جو اوپر بیان ہوئے ہیں جائز ہے اور یہ بلاواسطہ مشاہدہ پر مقدم ہے۔

سوال ۱۳۹۷۔ کیا اُستادوں اور طالب علموں کو انسان کے اس مجسمے کا بغیر قصد لذّت کے دیکھنا جو تعلیم کی خاطر پلاسٹک سے بنایا جاتا ہے جائز ہے؟

جواب: ضروری تعلیم کے لئے کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال ۱۳۹۸۔ مثانہ کے معائنات میں آلہٴ تناسل کی دھلائی ہوتی ہے اور ایک مشین کو آلہٴ تناسل میں داخل کرکے مثانہ کا مشاہدہ کیا جاتا ہے، کیا یہ کام آپریشن تھیٴٹر میں تعینات افراد کے لئے (چاہے ہم جنس ہو یا غیر ہم جنس) جائز ہے؟

جواب: فقط بوقت ضرورت جائز ہے۔

سوال ١٣٩٩۔ آپریشن تھیٔٹروں میں شہوت آمیز نظر بہت ہی نادر ہے بلکہ وہاں تو یہ کام معمولی اور عادّی ہوجاتا ہے کیا کسی چیز کا معمولی اور عادّی ہوجانا شرعی حکم کو تبدیل کردیتا ہے؟

جواب: کسی چیز کا معمولی اور عادی ہوجانا شرعی حکم کو نہیں بدلتا؛ لیکن یہ کام بمقدار ضرورت جائز ہے ۔

سوال ١٤٠٠۔ کبھی آپریشن کے لئے ایک دس نفرہ ٹیم ضروری ہوتی ہے اور ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے کام پر تعینات رہنا ہے جیسے بیمار کو تیار کرنا اس کام لباس تبدیل کرنا وغیرہ، کیا پوری ٹیم کے سامنے اس کے کپڑے تبدیل کرنا جائز ہے؟

جواب: فقط ضروری مواقع میں جائز ہے ۔

سوال ١٤٠١۔ کیا نامحرم کے اندورنی اعضاء بدن جیسے پھیپڑے، گردے، دل، معدہ، آنتیں، مثانہ، رحم وغیرہ کا چھونا ظاہری اعضاء کے چھونے کا حکم رکھتا ہے؟

جواب:اندرونی اعضاء کے چھونے یا نظر کرنے کا حکم ظاہر کا حکم نہیں ہے، لیکن بہتر ہے فقط ضروری مواقع پر قناعت کی جائے ۔

سوال ١٤٠٢۔ آپریشن تھیٔٹر میں مریض کو بے ہوش کرنا اور اس کی حیات کی علامتوں کو کنٹرول کرنا معمولاً مرد کے ذریعہ انجام پاتا ہے، آپریشن کے آخری وقت جو چیز سرجن کے سامنے ہوتی ہے وہ چیز بیہوشی کے ڈاکٹر اور کمرے میں موجود دوسرے افراد کے سامنے بھی ہوتی ہے، کیا ان افراد کا غیر ہم جنس مریض کے بدن کو دیکھنا جائز ہے؟

جواب:ضرورت کی صورت میں اشکال نہیں ہے ۔

سوال ١٤٠٣۔ کیا بے ہوش اور باہوش، زندہ، مردہ، مسلمان اور کافر کے بدن کو دیکھنے اور چھونے کا ایک حکم ہے؟

جواب: بوقت ضرورت یہ تمام جائز ہیں ۔

سوال ١٤٠٤۔ چونکہ بے ہوش مریض کے لئے اپنے بدن کو ڈھانپنا ممکن نہیں تو کیا دوسرے افراد جیسے ڈاکٹر، بے ہوشی کی ٹیم، سرجن، آپریشن روم ٹیکنیشن اور اسپتال کے معمولی ملازم مکلّف ہیں کہ مریض کے بدن کو نامحرموں سے چھپائیں؟

جواب: جہاں تک کرسکتے ہوںاور جہاں تک ممکن ہو اس کے بدن کو چھپائیں ۔

سوال ١٤٠٥۔ مریض کے بدن کو پلاسٹک کے دستانوں سے چھونے کا کیا حکم ہے؟

جواب: اگر اس کا پر مفاسد مترتب نہ ہوں تو اشکال نہیں ہے ۔

سوال ١٤٠٦۔ گردوں کا معائنہ بلاواسطہ لمس کے بغیر ممکن نہیں، لیکن نازک لباس اور نگاہ کئے بھی بیماری کو تشخیص دیا جاسکتا ہے، کیا اس صورت میں بغیر لباس یا لباس کے ساتھ لمس کرنا اور نگاہ کرنا جائز ہے؟

جواب: لباس کے ساتھ مانع نہیں ہے ۔

سوال ١٤٠٧۔ بالغ افراد کی ختنہ کرنے کا کیا حکم ہے اور کیونکہ یہ کام بغیر لمس اور بغیر نظر کئے ممکن نہیں ہے؟

جواب: از بابت ضرورت جائز ہے ۔

سوال ١٤٠٨۔ بہت سے موارد میں آپریشن روم میں یا کسی اور جگہ مریض کو کیتھیٹر لگانا ضروری ہوتا ہے اور یہ کام آلہ تناسل کو بغیر دیکھے اور بغیر چھوئے ممکن ہے، کیا اس کام کے لئے چھونا اور دیکھنا جائز ہے؟

جواب: جی، ضروری مقامات پر جائز ہے ۔

سوال ١٤٠٩۔ علاج کے لئے نامحرعورتوں کا دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس جانے کا کیا حکم ہے؟ کہ جو پلاسٹک کے دستانے سے کام کرتے ہیں اور اُن کا نامحرم کے چہرے کو چھونا دستانوں کے ساتھ ہوتا ہے؟

جواب: ہم جنس کے نہ ملنے کی صورت میں جائز ہے ۔

ویزٹ فیسعلاج کے متفرق احکام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma