نفسیاتی علاج:

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
علاج کے متفرق احکاماعضاء کی پیوند کاری

سوال ١٤٢٤۔کیا نفسیاتی مریض کا اسپتال ایڈمٹ کرنا جائز ہے؟ جبکہ یہ بھی علم ہے کہ ابھی نفسیات کے علاج کا مناسب امکان نہیں ہے اور یہ شعبہ، کبھی بھی مریض کے لئے ایک قید خانہ کے مانند ہوتا ہے جس میں خواب آور دوائیں دے کر مریض کو سلادیا جاتا ہے ۔

جواب: اگر فقط علاج کا طریقہ یہی ہو یا دوسروں کی مزاحمت کی روک تھام اسی میں منحصر ہو تو کوئی مانع نہیں ہے ۔

سوال١٤٢٥۔ بہت سے نفسیاتی مریض کچھ ایسے کام انجام دیتے ہیں جو عفّت اور اخلاق اجتماعی کے خلاف ہوتے ہیں، نفسیاتی ڈاکٹر علاج یا مشورہ دینے کا خاطر ان سے اطلاعات حاصل کرتا ہے، کیا ایسے موارد میں ڈاکٹروں کا تجسّس جائز ہے؟ کبھی ڈاکٹروں کا یہ تجسّس فقط ان کی کنجکاوی حِسّ کی وجہ سے ہوتا ہے اور علاج میں اس کا کردار بہت زیادہ ہے اس طرح کے تجسّس کا کیا حکم ہے؟

جواب: نفسیاتی علاج کے سلسلہ میں ایسا تجسّس کرنا کہ جو علاج کے لئے ضروری ہو تو جائز ہے ۔

سوال ١٤٢٦۔ نفسیاتی مریضوں کے بعض رازوںکو برملا کرنا ممکن ہے بہت سے قانونی جرائم کی روک تھام کرسکے کیا اس طرح کی اطلاعات انتظامیہ کو پہنچانا جائز ، یا واجب ہے؟ جبکہ یہ بھی ہے کہ برملا کرنے کی صورت میں ان سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جائے گا؟

جواب: اگر نہی عن المنکر کے عنوان سے کلی اطلاعات پہنچاسکتے ہوں بغیر اس کے کہ کسی شخص کا نام فاش ہوتو کوئی مانع نہیں ہے، بلکہ کبھی کبھی یہ واجب بھی ہوتا ہے ۔

سوال ١٤٢٧۔ مریضوں کے بہت سے راز فاش کرنا سبب ہوسکتا ہے کہ معاشرے سے فحشاء وفساد کم ہوجائیں، کیا نفسیاتی ڈاکٹر کے لئے جائز ہے کہ ان کے راز فاش کرے اور اس کی اطلاعات انتظامیہ کو پہنچائے؟

جواب: گذشتہ جواب کے مانند ہے ۔

علاج کے متفرق احکاماعضاء کی پیوند کاری
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma