بدن کے اعضاء کی خرید وفروش

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
سقط جنینپوسٹ مارٹم (تشریح)

سوال ١٤٥٦۔ غیر مسلم میت کی اسمنگلی اور اس کی خرید وفروش کا کیا حکم ہے؟

جواب: اگر اسمنگلی سے مراد حکومت اسلامی کے قوانین کی خلاف ورزی ہے تو یہ کام شرعاً جائز نہیں ہے ۔

سوال ١٤٥٧۔ کیا مرنے سے پہلے کچھ اعضاء بدن کا فروخت کرنا اور مرنے کے بعد ان کو تحویل دینا جائز ہے؟

جواب: اگر مسلمان کی جان کی نجات کا سبب ہو یا ایک اہم بیماری کا علاج اس پر منحصر ہو تو کوئی مانع نہیںہے ۔

سوال ١٤٥٨۔ کچھ کفا رکے مردہ بدن موجود ہیں کہ جن کے اعضاء کو تحقیقاتی کام یا کسی کے بدن میں پیوند کاری کے لئے بہت زیادہ قیمت پر بیچتے ہیں، کیا ان اعضاء کی خرید وفروخت جائز ہے؟ کیا اُن مردوں میں جن کی پہچان نہیں ہوسکی ہے اور ان کا کوئی ولی بھی نہیں ہے اور دوسرے مردوں میں فرق ہے؟

جواب: جب بھی یہ کام زندہ افراد کی جان بچانے کا سبب ہو یا اہم بیماری کے علاج میں اس کی ضرورت ہو تو ممانعت نہیں ہے، پہچان ہوئے ہوئے مردوںمیں اور پہچان نہ ہوئے مردوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔

سقط جنینپوسٹ مارٹم (تشریح)
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma