١۔دینی ترتیب کی آفتوں کی پہچان

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
ڈاکٹری کے سوالات:٢۔ اکراہ کے احکام

سوال ١٤٩١۔ ماڈرن دنیا نے انسان کے تمام احساسات ، عواطف، عقل اور ذہن کو بخوبی روشنی میں دیکھ لیا ہے اور اس کے تمام امکانات کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور حقیقت میں انسان سے ایک مشین کی طرح استفادہ کرتی ہیں، اس درمیان ٹیکنالوجی کہ جس کا اس سلسلے میں سب سے اہم رول ہے ،اس کی ماڈرن زمانہ میں روزافزوں ترقی اور رشد نے پوری حقیقت انسانی کو اپنے اختیار میں لے لیا ہے یہاں تک کہ اس نے بشر کے فکرو اندیشہ کو ایک خاص سمت کی طرف موڑ دیا ہے اور اس کی اجتماعی تہذیب بدل دی ہے اور اس کے اجتماعی نوع اور جامعہ پذیر ہونے کی جہت سے اس کے مقدر کا فیصلہ کرتی ہے ۔ نتیجةً اس نے انسان کو ایک کج فکر اور بیہودہ موجود میں تبدیل کردیا ہے، اس سلسلہ میں سب سے پہلا پروگرام نوجوانوں اور جوانوں کے لئے مرتب کیا گیا ہے کیونکہ وہ جامعہ پذیری اور اہم معاشرتی کردار کو ادا کرنے کے لئے زیادہ آمادہ ہوتے ہیں اس طرح ان پروگراموں کے ترتیب دہندگان ملکوں کو اپنے تسلط میں لے آتے یا ان کی اصلی پہچان اور اصلی ہویت کو ساقط کردیتے ہیں ۔ لہٰذا اب وزارت تعلیم وتربیت نے دوسری پرائیویٹ تنظیموں کے مدد سے اپنی سخت ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے تعلیم وتربیت کے نظام میں دینی تربیت کی آفت شناسی کے عنوان سے ''آسیب شناسی ترتبیت دینی در نظام آموزش وپرورش'' ایک انجمن سے تشکیل دی ہے تاکہ اس طرح صاحبان فکر کی طرف سے دینی تربیت کی آفتوں کے پہچاننے کے لئے، ان کے ریشوں، موانع اور رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کی شناسائی کی جاسکے، انجمن کے اہداف کو مدّنظر رکھتے ہوئے کچھ سوالات آمادہ کئے گئے ہیں امید ہے ان کے جواب دینے سے حضور ہماری اس مہم میں مدد فرمائیں گے ۔
١۔ کیا دینی تربیت کے حوالے سے نوجوانوں اور جوانوں میں کسی آفت کا مشاہدہ ہوتا ہے، اگر ایسی آفتیں موجود ہیں تو ان کا اتفاق، زندگی کس حصے میں ہوتا ہے؟

جواب: بے شک دینی تربیت میں جوانوں اور نوجوانوں کے لئے آفتیں پائی جاتی ہیں کہ جو دو شاخوں میں تقسیم ہوتی ہیں:
١۔ اعتقادی آفتیں ٢۔اخلاقی آفتیں ۔
اگر ان پر جدّی کام نہ کیا جائے تو مستقبل میں بہت زیادہ اور مہم دینی، اجتماعی اور سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔

٢۔ اِن آفتوں کی وجوہات اور عوامل کیا کیا ہوسکتے ہیں؟

جواب: ان آفتوں کے عوامل ذیل میں دیئے گئے امور میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے:
الف) اخلاقی مفاسد کی تشویق دلانے اور ہر چیز کو مباح جاننے والے عوامل کہ جو ہمارے زمانے کی خصوصیات میں سے ہے ۔
ب) آزادی کے مسئلے کی غلط تشریح اور اس چیز پر عدم توجہی کہ ہمیشہ آزادی اقدار کے دائر میں ہونا چاہیے ۔
ج) بموقعہ اور صحیح اطلاع نہ پہچانا اور جوانوں ونوجوان طبقہ کا دائمی اور وسیع دینی تعلیم سے محروم رہنا۔
د) ان میں سب سے مہم دشمنوں کی پوشیدہ اور مُخرّب سیاست ہے کہ جواِن کو دینی تربیت اور مذہبی اعتقادات کے راستے سے ہٹانے میں مختلف طریقوں سے سرگرم عمل ہے اور یہ سیاست معتقد ہے کہ ہمارے ملک کی سیاست میں دراندازی کا اصلی مانع لوگوں کے مضبوط مذہبی اعتقادات اور دینی اخلاق کی پائبندی ہے، سچ ہے کہ اگر وہ اپنے کام میں کامیاب ہوجائیں تو ان کی دراندازی کی راہ میں کوئی دوسرا مہم مانع باقی نہیں رہے گا۔

٣۔ آفتوں کی حالت میں تغییر اور ان کی اصلاح کی راہوں کو اور ایسے ہی ان آفتوں کو دور کرنے کی مطلوبہ وضعیت کو حضور کن کن چیزوں میں جانتے ہیں؟

جواب: اصلاح کی راہیں بھی نیچے دیئے گئے امور میں خلاصہ ہوتی ہیں:
الف) معقول اور خاص روش کے ساتھ جوانوں کی دائمی اور مستمر تعلیم۔
ب) جوانوں کی تعلیم، روز گار اور شادی سے مربوط مشکلوں کا حل۔
ج) معاشرے کو فساد کے عناصر اور فحشاء کے مراکز سے پاک وصاف کرنا۔
د) ایک دوسرے کے ساتھ تمام مواصلاتی اداروں کا باہمی اور شدید تعاون۔

ڈاکٹری کے سوالات:٢۔ اکراہ کے احکام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma