۱۱۔ حقوق

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
۱۰۔ نقصان کو پورا کرنا۱۲۔ اسلامی حکومت

الف) حق الطبع (چھپائی کا حق)

سوال ۱۵۳۹۔ مندرجہ ذیل دو سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:
۱۔ کیا فکری مالکیت کے حقوق، جیسے حقّ تاٴلیف، حقّ ترجمہ، حقّ طبع اور حقّ اختراعات شرعی حقوق ہیں؟
۲۔ بنیادی سامان میں تجارت کو منحصر کرنے کے سلسلے میں جناب عالی کا کیا فتویٰ ہے؟

جواب: ۱،اور۲: حق الطبع اور حق تالیف اور اسی طرح اختراعات کے حق سے استفادہ کرنا معتبر حقوق ہیں جن پر تجاوز کرنا جائز نہیں ہے، لیکن تجارت میں انحصار مثلاً اگر ایک کارخانہ کی طرف سے ہو اور وہ کہے کہ ”ہم نے اپنے تیار کردہ سامان کو ایک نمائندہ کے اختیار میں دے دیا ہے“ تو کوئی اشکال نہیں ہے اور اگر اس کا منظور یہ ہو کہ کوئی خاص شخص یا خاص گروہ ہی اُس سامان کے فروخت کا حق رکھتا ہے اور دوسروں ک یہ حق حاصل نہیں تو ایسی چیز غیر شرعی ہے، مگر یہ کہ اسلامی حکومت کسی مصلحت کی وجہ سے ایسی چیز کو لازم اور ضروری شمار کرے ۔

سوال ۱۵۴۰۔ کالجوں اور یونیورستوں میں بہت سی کتابیں بعنوان مرجع پہچانی جاتی ہیں کہ جو بیرونی ممالک میں چھاپی جاتی ہیں، لیکن بہت سے داخلی ناشرین حق طبع کی رعایت کئے بغیر (کہ جو بین الاقوامی عرف میں ناشر کے حقوق سے جانا جاتا ہے اور کتاب کے شروع میں اس موضوع کو واضح الفاظ میں لکھ بھی دیا جاتا ہے)ان کتابوں کو چھاپتے اور کم قیمت پر لوگوں کو فروخت کرتے ہیں، تو نیچے دی گئی صورتوں میں ان کتابوں سے استفادہ کا کیا حکم ہے؟
الف) فنی مضمون میں ان کتابوں سے استفادہ کرنا ضروری ہے اور عدم استفادہ باعث مشقّت ہے، خصوصاً اس جگہ جہاں اصلی کتاب کی قیمت بہت زیادہ ہے ۔
ب) ان کتابوں کے لکھنے والے لازمی طور سے کافر، یا کافر حربی نہیں ہیں؛ یا کم ا ز کم ہم کو ان کی اطلاع نہیں ہے ۔
ج) ہم کو جہاں تک علم ہے کہ ہمارے ملک نے حق طبع کے قانون پر دستخط نہیں کئے ہیں اور اگر دستخط کردے تو حکم کس طرح ہوگا؟
د) ان کتابوں کے مہیّا کرنے کی حرمت کی صورت میں اُن کتابوں کے سلسلے میں جو ہم نے پہلے مہیّا کی ہیں، ہماری تکلیف کیا ہے؟
ھ) یہ حربہ ہمارے ملک کے خلاف ایک سیاسی داؤ پیچ کے عنوان سے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ ان کتابوں کے مولفین وہ دانشمند ہیں جو بے طرف ہیں اور تحصیل علم میں مشغول ہیں، ان کتابوں سے استفادہ کے جائز ہونے کی صورت میں ان کتابوں کے مولّفین کے مقابل، ہماری کیا تکلیف ہے؟

جواب: حقّ التالیف ایک حقّ عقلائی اور حقّ شرعی ہے، اس کی رعایت ضروری ہے، مگر یہ کہ مدّمقابل کفار حربی میں سے ہو یا ان کا مددگار ہو، اس صورت کے علاوہ جس شخص نے ان کتابوں کو چھاپا ہے وہ حرام کام کا مرکتب ہوا ہے، اور شرعی طور سے مولف کا مدیون ہے، لیکن ان کتابوں کی خرید وفروخت کے حرام ہونے کے سلسلے میں تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ۔

سوال ۱۵۴۱۔ اگر علمی اور ادبی مقابلوں میں ایک علمی اور ہنری تخلیقانعام کا مستحق قرار پائے، اور حال حاضر میں اس کے مولِّف پر دسترسی کا امکان نہ ہو، یا وہ فوت ہوگیا ہو تو یہ انعام کس کو دیا جائے گا؟ کیا وہ ناشر جو کتاب کی چھپائی میں پہلے نمبر پر آیا ہے اس انعام میں حصّے دار ہوگا؟

جواب: انعام اس کے وارثین کو دیا جائے گا، اور ناشر اس صورت میں اس انعام میں شریک ہوگا کہ جب انعام فقط کتاب کے مضمون کے اوپر نہ دیا گیا ہو بلکہ نشر کی کیفیت بھی اس میں شامل ہو ۔

سوال ۱۵۴۲۔ دوسروںکی علمی کتابوں اور نشریات کو اسی شکل اور اسی زبان میں بیچنے اور مادی فائدے حاصل کرنے کی غرض سے چھپوانے یا مائکروفیلم لینے کا کیا حکم ہے؟ چھپائی میں مولف کے نام کو خذف کرنایا بدلنا کیسا ہے؟

جواب: حق تالیف اور ایسے ہی حق نشر حقوق عقلائیہ میں سے ہیں اور عقلاء کے معاشرے میں اس کی رعایت نہ کرنا ظلم شمار ہوتا ہے؛ لہٰذا حرام ہے اور اگر مولِّف کے نام کو تبدیل کردیا جائے تو ظلم کے گناہ کے علاوہ جھوٹ کے گناہ کا بھی ارتکاب ہوگا ۔

سوال ۱۵۴۳۔ کیا حق طبع اور حق نشر، شرعی حقوق ہیں اور تملُّک اور نقل وانتقال کے قابل ہے؟

جواب: جی ہاں، حق طبع اور حق نشر، شرعی حقوق ہیں اور عوض اور بغیر عوض کے دوسروں کی طرف منتقل ہونے کے قابل ہے ۔

سوال ۱۵۴۴۔ کیا شرعاً کسی شخص کی تقریر یا خطبوں کو محفوظ کیا جاسکتا ہے ، یا اُن وعظ ونصیحت اور دروس کو کہ جن کی استاد تدریس کرتا ہے جمع کرکے بغیر حوالے کے ذکر کیے اور بغیر مالک کی اجازت کے نشر کیا جاسکتا ہے؟ اس راہ سے جو پیسہ حاصل کیا جائے گا اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: اس میں اشکال ہے ۔

سوال۱۵۴۵۔ کیا حضور کی نظر میں حق تالیف مشروع حق اور انتقال کے قابل ہے ؟

جواب: حق تاٴلیف عقلائی حقوق میں سے ہے، جس پر شارع مقدس نے کتاب وسنت کی بنیاد پر امضاء کیے ہیں، کیونکہ عقلاء کے عرف میں اس کی عدم رعایت ایک طرح کا ظلم شمار ہوتا ہے ۔ اور یہ حق دوسروں کی طرف انتقال کے قابل بھی ہے ۔

سوال ۱۵۴۶۔ کیا اُس کتاب کو جو بازار سے خریدی گئی ہے بغیر مولِّف کی اجازت کے سافٹ ویئر کی صورت میں کمپوٹر میں ڈالی جاسکتی ہے؟ اگر اس پروگرام کے عوض صارفین سے کوئی پیسہ نہ لیا جائے تو کیا حکم ہے؟

جواب: اس کتاب کے مولِّف سے اگر وہ قید حیات میں ہے اور اگر فوت ہوگیا ہے تو اس کے وارثین سے اجازت لینا چاہیے، یہ اس صورت میں ہے جب سافٹ ویئر کو نشر کے لئے بنایا جائے؛ نہ کہ ذاتی استعمال کی خاطر۔
ب) کوپی رائٹ

سوال ۱۵۴۷۔ کیا کمپوٹر کے ان پروگراموں کو کہ جن کو مسلمانوں یا غیر ذمّی کفار نے بنایا ہے، ان کی بغیر اجازت کے کوپی رائٹ کیا جاسکتا ہے؟

جواب: وہ تمام افراد جن کی جان اور مال محترم ہے، ان کا حق امتیاز بھی محترم ہے ۔

سوال ۱۵۴۸۔ کیا کمپوٹر کے پروگراموں کی فروخت کے ضمن میں کوپی نہ کرنے کی شرط لگائی جاسکتی ہے؟ کیا پروگرام کے شروع میں اس شرط کو لکھنا ہی کافی ہے یا فروخت کرتے وقت زبان سے کہنا بھی ضروری ہے؟

جواب: معاملہ کی ضمنی شرط، کسی بھی صورت میں ہو کفایت کرتی ہے، بلکہ جس طرح اوپر ذکر ہوا ہے، بغیر شرط کے بھی کوپی کرنا جائز نہیں ہے ۔

سوال ۱۵۴۹۔ کیا دوسروں کے بنائے ہوئے کارآمد کمپوٹر پروگراموں کو اپنے سافٹ ویئر کے بنانے میں استعمال کرنا اور اُن سے بنے ہوئے نئے پروگراموں کو بیچنا ان کے اصلی صاحبان کی اجازت اور رضایت پر موقوف ہے؟

جواب: مذکورہ بالا جواب سے معلوم ہے ۔

سوال ۱۵۵۰۔ کوپی کرنے یا بعارت دیگر سی ڈیوں کے رائٹ کرنے کے سلسلے میں ایک سوال ہے، وہ یہ کہ کمپوٹری پروگرام جیسے فیلم، تعلیمی اور سرگرمی کے پروگرام جن کو بناکر ایک پرزے بنام CDکمپوٹری ڈیسکٹ میں منتقل کرتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص کمپوٹر کے پروگراموں کے بنانے میں بہت زیادہ پیسہ خرچ کرتا ہے ، پروگرام کے بنانے کے بعد، پروگرام کا بنانے والے کے لئے ممکن ہے چند صورتوں سے عمل کرے:
الف) پروگرام کے اوپر کوئی ایسا کام کرے کہ جس سے پروگرام مُقفَّل ہوجائے، اب نہ اس سے کوپی ہوسکتی ہے اور فقط اصلی CD سے پروگرام سے استفادہ کیا جاسکتا اور CD کو رائٹ کیا جاسکتا ہے ۔
ب) پروگرام کو مقفل نہ کرے، بلکہ اعلان کرے کہ کسی کو رائٹ اور کوپی کرنے کا حق نہیں ہے ۔
ج) نہ لاک کرے اور نہ اعلان کرے کہ کسی کو رائٹ یا کوپی کرنے حق نہیں ہے بعبارت دیگر خاموش رہے، ان وضاحتوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے حضور فرمائیں:
۱۔ کیا پروگرام بنانے والا شخص CD یا ڈیسکٹ کے خریدار سے ایسے حق کو سلب کرسکتا ہے؟ جواب کے مثبت ہونے کی صورت میں کیا یہ حق فقط مسلمان پروگرام ساز کو ہے یا غیر مسلمان ومجہول المذہب شخص کو بھی یہی حق حاصل ہے؟

جواب: جو کوئی پروگرام بنائے اس کی اجازت کے بغیر اس کو کوپی نہیں کیا جاسکتا ہے مگر یہ کہ وہ کفار حربی میں سے ہو ۔

۲۔ کیا یہ کہا جاسکتا ہے ”اگر ذاتی استعمال کے لئے ہو تو اشکال نہیں ہے لیکن اگر کوپی برداری کو درآمد کا ذریعہ بنائے تو اشکال ہے“

جواب: کوئی فرق نہیں ہے ۔

۳۔ کیا ٹیپ ریکارڈ اور ویڈیو کیسٹ، کمپیوٹری CD کے حکم میں ہیں؟

جواب: جی ہاں، ٹیپ ریکارڈ اورویڈیوکیسٹ بھی مذکورہ بالا حکم میں ہیں ۔
ج) حق الاختراع(کھوج کا حق)

سوال ۱۵۵۱۔ کیا اختراع (کھوج) کرنے والا اپنی اختراع کی ہوئی شیٴ کی نسبت کسی خاص حق کا مالک ہے، اس طرح کے اس سے دوسروں کو نمونہ برداری کا کوئی حق نہیں ہے؟

جواب: جی ہاں، عرف عقلاء میں اختراع کچھ خاص شرائط کے ساتھ اختراع کرنے والے کے لئے کچھ حقوق ایجاد کرتی ہے جن کی رعایت کرنا شرعاً واجب ہے ۔
د) ہمسایہ کا حق

سوال ۱۵۵۲۔ دوسرے کی اختصاصی ملکیت یا دیوار میں رفت وآمد کے قصد کے بغیر دروازہ کھولنے کا کیا حکم ہے؟ اور اگر دروازہ کھولنے والا وہاں سے رفت وآمد کا بھی قصد رکھتا ہو تو کیا مالک کو فقط رفت وآمد نہ کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں مثلاً دروازہ کے سامنے کوئی رکاوٹ کھڑی کردیں، یا اس کے دروازہ اکھاڑ کر دیوار کے صحیح کرنے کا خرچ اس کے ذمہ ڈال سکتے ہیں؟

جواب: جائز نہیں ہے، اور دروازہ کو کامل طور سے بند ہونا چاہیے، اور اس کا خرچ اس شخص کے ذمہ ہے جس نے دروازہ لگایا تھا ۔

سوال ۱۵۵۳۔ زید اور عمر کا گھر جدا جدا ہے لیکن ان دونوں گھروں کی دیوار ایک طرف سے مشترک ہے، اب زید چاہتا ہے کہ اپنے گھر کو گراکر نئے طریقے سے بنائے ، مہربانی فرماکر اس سلسلے میں چند سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:
۱۔ اگر اس کام سے عمرو کی عمارت کو نقصان ہوا تو کیا زید اس نقصان کا ضامن ہے؟
۲۔ کیا زید اپنے حق سے پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے حق ہے کہ بغیر ہمسایہ کی مرضی ہے مشترک دیوار میں تصّرف کرے؟

جواب: مشترک دیوار جس کے اوپر دونوں گھر کی چھتیں ٹھہری ہوئی ہیں وہ دونوں کی ملکیت اور مشاع کی صورت میں ہے اور اس میں ایک دوسرے کی مرضی سے تصرف کیا جائے گا اور اگر اپنے حق کو جدا کرنا چاہتے ہیں تو دونوں کے توافق سے انجام پائے گا، اور اگر گھر کے دوبارہ بنانے میں دونوں ہمسایوں کے درمیان اختلاف ہوجائے تو دو مورد اطمینان ماہرین کی نظر کے مطابق عمل کیا جائے گا ۔

سوال ۱۵۵۴۔ اگر کوئی شخص اپنی ملکیت میں چھت پر جانے کے لئے ایک دروازہ کھولے تو ا س کا کیا حکم ہے؟ کیا ہمسایہ کی رضایت کو حاصل کرنا لازمی ہے؟

جواب: کوئی اشکال نہیں ہے؛ مگر یہ کہ دوسرے ہمسایوں کے لئے مزاحمت کا سبب ہو ۔

سوال ۱۵۵۵۔ کیا ضروری ہے کہ اپنے مکان کی چھت ہمسایہ کے مکان کی چھت سے اونچی نہ ہو؟

جواب: کوئی ضروری نہیں ہے ۔

سوال۱۵۵۶۔ اس وجہ سے کہ ایک ہمسایہ دوسرے ہمسایہ کے گھر میں نظر نہ کرسکے، کیا ایک ہمسایہ کے لئے اپنی ملکیت کے چاروں طرف دیوار بنانے کے لئے دوسرے ہمسایہ کی رضایت حاصل کرنا لازم ہے؟

جواب: مسئلہ کے فرض میں ہمسایہ کی رضایت حاصل کرنا ضروری نہیں ہے ۔

سوال ۱۵۵۷۔ ہمسایہ کے صحن کی طرف کھڑکی لگانے کا کیا حکم ہے؟ جبکہ اُس کا گھر دوسرے تمام گھروں سے اونچا ہو، اور مالک نے اپنی کچھ زمین چھوڑکر عمارت بنائی ہو اور اُسی وجہ سے کئی منزلوں میں ایسی ہی کھڑکیاں رکھی ہوں تو کیا اس کا یہ کام کھڑکی لگانے کا مجوّز ہوگا؟

جواب: مفروضہ مسئلہ میں کہ جس میں اُس نے کچھ زمین چھوڑکر عمارت بنائی ہے، اگر دوسروں کے لئے مزاحمت ایجاد نہ کرے تو کوئی ممانعت نہیں ہے ۔

سوال ۱۵۵۸۔ ہمارے شہر کی شہرداری (منسپلٹی) نے حجاب کی حدود پرواہ نہ کرتے ہوئے کئی ایسی بڑی عمارتوں کے بنانے کا لائیسنس دے دیا یا جن پر سے سب کے گھروں میں دیکھا جاسکتا ہے، اس کا یہ کام ان گھروں میں ساکن خواتین کے لئے زحمت کا باعث ہوا ہے، اس مسئلہ کا کیا حکم ہے؟

جواب: عمارتیں اس طرح نہ بنائی جائیں جن سے دوسرے ہمسایہ حضرات اپنے حجاب کو محفوظ رکھنے میں رحمتوں سے دچار ہوں ۔

سوال ۱۵۵۹۔ ہمسایہ کی دیوار کافی حد تک بوسیدہ ہے جس کے گرنے سے دوسرے پڑوسی کو نقصان ہوگا، چنانچہ ہمسایہ کی عمارت کا جائے وقت ایسا ہو کہ اس کے ضرر کو دفع کرنا اس کی دیوار کے بغیر گرائے ممکن نہ ہو، یا اس کے خود گرنے سے پڑوسی کو غیر قابل تحمل ضرر ہوتا ہو تو کیا ہمسایہ کو دیوار گرانے اور دوبارہ بنانے پر مجبور کرسکتے ہیں؟

جواب: اگر ایک ہمسایہ کی دیوار کے گرنے سے دوسرے ہمسایہ کو ضرر ہوتا ہو تو دیوار کے مالک پر ضروری ہے کہ کوئی ایسا کام کرے کہ جس سے اُس کا نقصان رُک جائے، اور اگر دیوار کو گرانے اور دوبارہ بنانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ ہو تو اس کو اس کام پر مجبور کیا جاسکتا ہے؟

سوال ۱۵۶۰۔ اگر کوئی بغیر اجازت کے باپ، ماں، بھائی، بیٹے، خسر، ساس ، داماد اور بہنوئی کے گھر میں داخل ہو تو کیا اس کی سزا وہی ہے جو دوسروں کے لئے مقرر ہے، یا فرق ہے؟

جواب: کوئی فرق نہیں ہے ۔
ھ) والدین کے حقوق

سوال ۱۵۶۱۔ کیا مستحب کے ترک کرنے یا مکروہ کو انجام دینے میں باپ کی اطاعت واجب ہے؟

جواب: اگر ان کی مخالفت ان کی ایذاء کا سبب ہو تو وہ واجب الاطاعة ہیں ۔

سوال ۱۵۶۲۔ والدین کے عاق کردینے کے کیا معنی ہیں؟ یہ کن حالات میں محقق ہوتا ہے؟ اس کے نتائج کیا ہیں؟

جواب: ہر وہ کام جو والدین کے آزار واذیت کا باعث ہو، وہ والدین کے عاق کرنے کے معنی میں ہے، مگر اُن موارد میں جہاں حکم شرعی، واجب ہو یا حرام ہو، اور وہ اولاد کو اس کی مخالفت کا حکم دیں ۔

سوال ۱۵۶۳۔ باپ کا مقام بلند ہے یا ماں کا؟ ماں اور باپ کی اطاعت میں تعارض کے وقت کس کو ترجیح دی جائے گی ۔

جواب: دونوں ہی کا مقام بلند ہے، جہاں تک ہوسکے دونوں کی اطاعت کو جمع کریں اور اگر جمع کا امکان نہ ہو تو موارد کی اہمیت کے اعتبار سے عمل کیا جائے گا اور جو مہم ہوگا وہ ہی مقدم ہے ۔

سوال ۱۵۶۴۔ اگر کوئی عورت اپنے پوتے کوقتل کردے تو مقتول کے باپ (اس عورت کا بیٹا) کو حق ہے کہ وہ قاتل کو قصاص کرے، یہ اس وقت ہے کہ جبکہ آیات قرآنی اور روایات اسلامی کے مطابق بیٹے کو ماں یا باپ کو کم سے کم بھی اذیت دینے کا حق نہیں ہے ۔ اب اگر بیٹا اپنی ماں کے قصاص کی شکایت کرے گا تو یقینا اس کی ناراضگی کا باعث ہوگا، لہٰذا میرا سوال یہ ہے کہ کیا کبھی فقہی احکام محرمات الٰہی کے ساتھ معارض ہیں؟ اگر احکام میں تعارض نہیں ہے تو مندرجہ بالا مثال کس طرح قابل توجیہ ہے؟

جواب: ماں اور پاب کے ظلم کے مقابل میں احقاق حقوق کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور وہ اس قاعدہ سے الگ ہے؛ لیکن جس قدر بھی ہوسکے درگذر کریں یہی بہتر ہے ۔
و) اولاد کا حق

سوال۱۵۶۵۔ میرا بیٹا احکام شرعی کا پائیبند نہیں ہے، اس طرح کہ سب گھر والے اس کے کاموں سے عاجز آگئے ہیں! اس کی آوارگی گھر والوں کے لئے تو کیا پڑوسیوں کے لئے بھی باعث ناراحتی ہے! گھر میں سیکسی فیلم دیکھتا ہے، اور کبھی کبھی میرے دوسرے بچے بھی ان فیلموں کو دیکھ لیتے ہیں! میں نے لاکھ گوشش کرلی ہے لیکن میں کامیاب نہ ہوسکا، اس کی نسبت میرا وظیفہ کیا ہے؟ کیا اس کو گھر سے نکال دوں اور اپنی اولاد کے زمرہ سے خارج کردوں؟

جواب: پھر بھی آپ باتوں کی تاثیر سے ماٴیوس نہ ہوئیے، کوشش کریں کہ تشویق، محبت اور وعدوں وغیرہ سے اس کے دل میں جگہ بنائیں، یا بعض لوگوں سے درخواست کریں کہ اس سے دوستی کریں تاکہ وہ دیکھیں کہ اس کا اصلی درد کہاں ہے؟ ممکن ہے اس کو کوئی ایسی مشکل ہو جس کو وہ صریحاً نہ کہہ سکتا ہو اور یہ مسئلہ اس طرح حل ہوجائے، اگر ان تمام امور کو انجام دے دیا ہو اور کسی نتیجے پر نہ پہنچے ہوں اور ہمیشہ یہ لڑکا فساد سبب ہو تو اس کو گھر سے نکالنے میں کوئی حرج نہیںہے ۔

سوال ۱۵۶۶۔ ناجائز بچّہ کچھ اجتماعی حقوق سے محروم ہوتا ہے، حالانکہ اس میں بچّے کا تو کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ گناہ تو ان کے کاندھوں پر ہے جو اس برے فعل کے مرتکب ہوئے ہیں اور انھیں کو اجتماعی حقوق سے محروم ہوجانا چاہیے، اس حکم کا فلسفہ کیا ہے؟

جواب: وہ اجتماعی حقوق جس سے ولد الزنا محروم ہے بہت کم ہیں اور ان کا بچّے کی تقدیر میں کوئی خاص اثر نہیں ہے ۔
ز) حقّ الناس

سوال ۱۵۶۷۔ کیا امانت میں خیانت حقّ الناس اور قابل گذشت ہے؟ یا حقّ الله ہے اور غیر قابل گذشت؟

جواب: اگر امانت میں خنایت عین مال کے تلف ہونے یا منفعت کے ختم ہونے کا سبب ہوتی ہو تو حق الناس ہے اور اس کی خسارت کو اس کے مالک کو ادا کیا جائے گا ۔

سوال ۱۵۶۸۔ کیا جرم میں کمک کرنا حق الناس ہے یا حق الله تعالیٰ؟

جواب: جگہیں مختلف ہیں کہیں پر حق الناس ہے اور یہ کہیں پر حق الله تعالیٰ۔

سوال ۱۵۶۹۔ اس جرم کا متحقق ہونا جس میں معاونت کی گئی ہے؛ کیا جرم میں معاونت کے متحقق ہونے کی شرط ہے؟

جواب: البتہ جب تک جرم متحقق نہ ہو تو جرم میں معاونت صدق نہیں کرے گی ۔

سوال ۱۵۷۰۔ حق الناس سے گردن خلاصی کی کیا راہ ہے؟

جواب: اگر اس کے مالک کو پہچانتے ہیں تو اس کا حق ادا کریں، یا اس سے حلیت طلب کریں، اور اگر نہیں پہچانتے ہیں تو اس کے برابر اس کے مالک کی طرف سے ضرورتمند کو دے دیں ۔

سوال ۱۵۷۱۔ ردّ مظالم، یعنی کیا؟

جواب: اس سے مراد وہ حرام اموال ہیں جو انسان کے پاس ہیں اور وہ اس کے مالک کو بھی نہیں پہچانتا ہو، اس کو مجتہد کی اجازت سے فقراء پر خرچ کرنا چاہیے ۔

سوال ۱۵۷۲۔ وہ شخص جس کے اوپر مظالم ہیں وہ چونکہ اس کے مالک کو نہیں جانتا تو اس کو صدقہ دے دینا چاہیے، اگر جنس (نہ کہ اس کی قیمت) کو صدقہ دے تو کیا حکم ہے؟

جواب: اگر مظالم جنس ہے، جیسے گھی، تیل، دالیں وغیرہ تو ان کو فقراء کو دے سکتا ہے، لیکن اگر پیسہ تھا تو پیسہ ہی صدقہ دیا جائے گا ۔
ح) حق المارة (راہ گیر کا حق)

سوال ۱۵۷۳۔ اگر ایک انسان ایک باغ میں جائے اور یہ نہ جانتے ہوئے کہ اس کا مالک راضی ہے یا نہیں، اس باغ بحدّ ضرورت کچھ پھل توڑکر کھائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: اگر باغ کی حصار کشی نہ ہوئی ہو یا درختوں کی شاخیں باغ سے باہر آرہی ہوں اور وہ شخص وہاں سے گذرنے کے قصد سے جائے نہ کہ پھل توڑنے کی غرض سے تو اس صورت میں باغ میں سے بقدر حاجت کھانے (نہ کہ لے جانے) میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۱۵۷۴۔ ان درختوں کے میووں کو استعمال کرنے کا کیا حکم ہے جو سڑکوں اور فٹ پاتھ پر ہوتے ہیں؟

جواب: ایسے میووں کو استعمال کرنا جو کسی علاقے کے عرف وعادت میں تمام لوگوں کے لئے مباح سمجھے جاتے ہہوں جیسے بہت سے علاقوں میں شہتوت، تو کوئی اشکال نہیں ہے، لیکن اس کے علاوہ ان کے مالکوں کا مال ہے، اور اگر بیت المال کی ملکیت ہو تو حکومت اس کی مالک ہے ۔
ط) حق ارتفاق (دوستی کا حق)

سوال۱۵۷۵۔ زید نے اپنی مرضی سے مفت اور بطور مطلق عمرو کو اپنی ملکیت میں حق ارتفاق دیا ہے، کچھ مدت بعد وہ پشیمان ہوگیا، کیا عمرو کا حق ارتفاق ساقط ہوجاتا ہے؟

جواب: حق ارتفاق ایک طرح کا منفعت کو مباح کرنا اور پلٹنے کے قابل ہے؛ مگر یہ کہ صاحب حق کو ضرر پہنچے، کہ جس کی تلافی ہونا چاہیے ۔

۱۰۔ نقصان کو پورا کرنا۱۲۔ اسلامی حکومت
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma