۱۷۔ ذرایع ابلاغ(میڈیا)

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
۱۶۔ خواب۱۸۔ سیاسی سوالات
الف و ب)اطلاع رسانی اور اطلاع پہنچانے والے ۔

سوال ۱۶۲۳۔ اسلام میں خبر اور تبلیغ کے درمیان حدّفاصل کیا ہے؟

جواب: فقہ اسلامی میں ان دونوں موضوعوں کے لئے کوئی خاص اصطلاح نہیں ہے ۔ اگر فقہاء کے کلمات میں استعمال ہوتو اس کے وہ ہی عرفی اور عام فہم معنی ہیں ۔ خبر کسی واقعیت کو بیان کرتی ہے، لیکن تبلیغ کسی کام کی تشویق یا ترغیب کے مقصد سے انجام دی جاتی ہے ۔

سوال ۱۶۲۴۔ کیا خبر کے لئے طبقہ بندی ہے؟ اہمیت کے پہلو سے نشر اخبار کی کیا اہمیّت ہے؟

جواب: اسلامی معاشرے میں تمام ذرائع ابلاغ کا وظیفہ ہے کہ اُن خبروں کو کہ جو اسلام کی ترقی اور شکوفائی، یا (اندرون ملک یا بیرون ملک سے)احتمالی ضرر وزیان کے رُکنے کا باعث ہو، بغیر کسی کم وزیادتی کے نشر کریں اور ہر وہ خبر جس میں مذکورہ تاثیر زیادہ سے زیادہ ہو اس کی زیادہ اہمیت ہے، اور خبریں ایسی بنیاد پر طبقہ بندی ہوتی ہیں ۔

سوال۱۶۲۵۔ کیا خبر کے سچّا یا جھوٹا ہونے کی بھی اقسام ہیں؟

جواب: جی ہاں، ممکن ہے کوئی خبر پچاس فیصد یا اس سے کم سچّی ہو، لہٰذا صدق وکذب میں درجہ بندی پائی جاتی ہے ۔

سوال ۱۶۲۶۔ کیا اسلام میں خبر کو سینسر کرنا جائز ہے؟ اگر ہے تو اس کی کیا حدود ہیں؟

جواب: ہر طرح کی وہ خبر جو اسلامی معاشرے کے لئے مضر ہو، یا دشمنوں کی بیداری اس سے ان کے لئے سوٴ استفادہ کا سبب ہو، یا مسلمانوں کی صف میں تفرقہ پھیلانے کا باعث ہو، یا مسلمانوں میں وحشت وناامنی ایجاد کرے یا اس کے اور دوسرے نقصانات ہوں، تو ایسی خبروں کو نشر نہیں کرنا چاہیے، ایسے ہی جنگ کے زمانے میں بہت سی خبریں چھپائی جاتی ہیں، اور خطرہ ٹلنے کے بعد نشر کی جاتی ہیں، اسی مطلب کے مانند دیگر موارد میں بھی کاملاً ممکن ہے ۔

سوال ۱۶۲۷۔ ملک کے ذرائع ابلاغ میں ہماری شرعی ریڈلائن کیا ہے؟

جواب: ریڈلائن کہ جس سے نہ گذرنا چاہیے، وہ ہی ہے جس کا نمونہ اوپر بیان ہوچکا ہے ۔

سوال ۱۶۲۸۔ خبر کے میدان میں، تساہل، تسامح، مدارا وغیرہ کہ کیا معنی ہیں؟

جواب: تسامح اور مدارا کے مختلف معنی ہیں، اگر اس سے مراد اسلام کے دشمنوں کے ساتھ میل جول کرنا اور دشمن کو دوست کے لئے نقصان ہنچانے کا موقع فراہم کرنا ہے تو ایسی چیز جائز نہیں ہے؛ لیکن اگر صحیح وسالم گروہ یا دیگر مذاہب کے ساتھ مسالمت آمیز زندگی گذارنا ہو، اس طرح کہ مسلمانوں اور آئین اسلام کو ضرر پہنچانے کا سبب نہ بنے تو جائز ہے ۔

سوال ۱۶۲۹۔ خبروں اور رپورٹوں پر تبصرہ کرنا حوزہٴ علمیہ کی علم تفسیر کے مانند ہے، کیا خبروں اور رپورٹوں کی تبصرے کے لئے کچھ حدودمعیّن کیا جاسکتے ہیں؟ وہ حدود کیا ہیں؟

جواب: خبروں پر تبصرے کے لئے معمولاً قرائن وشواہد اور موجودہ حالات اور اسی طرح کے مسائل سے استفادہ کرنا چاہیے، اگر قطعی نتیجے تک پہونچیں تو بطور قطع اس کی قضاوت کی جاسکتی ہے، اس کے علاوہ عنوان احتمالی کے اوپر تکیہ کرنا چاہیے، تاکہ خلاف واقع کوئی بات نہ کہی جائے ۔

سوال ۱۶۳۰۔ کچھ مواقع ایسے آتے ہیں جن میں ایک خبر ظاہراً اسلام کے خلاف ہو لیکن حقیقت میں وہ اسلامی نظام کے نفع میں ہوتی ہے (اقتصادی وغیرہ خبریں) خبرنگار کو کس خبر کو ترجیح دینا چاہیے؟

جواب: اس پر توجہ رکھتے ہوئے کہ نظام، اسلام کی بنیاد پر استوار ہے لہٰذا ایسا تضاد متصوّر نہیں ہے، مگر ان لوگوں کے لئے جن کی یا تو مسائل اسلامی کی طرف توجہ نہیں ہے یا وہ مصالح نظام سے بے خبر ہیں ۔

سوال ۱۶۳۱۔ ایک خبرنگار کا پیشہ ہمیشہ قضاوت اور رائے دینے کا ہے اس قضاوت اور رائے کی حد وحدود کیا ہیں؟ (خبروں کی نگرانی اور فیلٹر کرنا وغیرہ)

جواب: جو کچھ مذکورہ دو سوالوں کے جواب میں تحریر ہوا ہے اس سے اس سوال کا جواب بھی واضح ہوجاتا ہے ۔

سوال ۱۶۳۲۔ ایک خبرنگار اقدار کی پائمالی کے مقابل میں کس طرح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرسکتا ہے؟

جواب: ایک خبر نگار امر ابالمعروف کے قوانین کے مطابق عمل کرسکتا ہے؛ وہ جگہ جہاں پر تاثیر کا احتمال ہو اور اُس پر کوئی ضرر بھی مترتب نہ ہو اور اس کام کا منکر ہونا بھی مسلّم ہو، تو وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرے، مگر یہ کہ اس کا کام (کہ جو واجب کفائی کے عنوان سے ہے) کو خطرہ ہو؛ اس صورت میں اس کام کو باواسطہ انجام دے؛ یعنی دوسروں کے ذریعہ۔

سوال ۱۶۳۳۔ ایک خبر نگار، کس طرح ثقافتی حملوں کا مقابلہ کرسکتا ہے؟

جواب: ایک خبر نگار اُن لوگوں کو اطلاع رسانی کے ذریعہ جو لوگ اس کام کے مقابلے کے لئے آمادہ ہیں ایسے ہی معاشرے کی سطح پر اس کو نشر کرنے کے ذریعہ سے خصوصاً معاشرے میں اس چیز کی اطلاع پہنچانے کے ذریعہ کہ اس کام کے کتنے بڑے نقصانات ہیں اور معاشرے پر ان کا کتنا بُرا اثر ہوتا ہے، باواسطہ مدد کرسکتا ہے ۔

سوال ۱۶۳۴۔ مصلحت آمیز جھوٹ بہتر ہے یا فتنہ انگیز سچ؟

جواب: وہ سچ کہ جو فتنہ پھیلائے یا کوئی مفسدہ ایجاد کرے، اس سے پرہیز کرنا چاہیے؛ چاہے اس کا جھوٹ مصلحت آمیز ہویا بیہودہ اور چونکہ یہ بات اہم اور مہم قاعدہ کے تحت آتی ہے تو جھوٹ کے نقصانات اور فوائد کا آپس میں مقایسہ کرنا چاہیے، قابل ذکر ہے کہ اگر جھوٹ کی جگہ توریہ سے کام لے سکتے ہیں تو توریہ مقدم ہے، توریہ سے مراد وہ بات ہے جس کے دو معنی ہوتے ہیں؛ سننے والا اُس معنی کو سمجھے جو خلاف واقع ہے اور اس پر یقین بھی کرلے اور مصلحت حاصل ہوجائے، لیکن کہنے والا دوسرے معنی کا تصور کرے کہ جو واقع کے مطابق ہے ۔

سوال ۱۶۳۵۔ تنقید کی حد کیا ہے؟ اگر تنقید پیشنہاد کے ہمراہ ہو تو اس کے کیا نقصانات ہیں؟ کیا ایک خبر نگار بغیر راہ حل پیش کئے، تنقید کرسکتا ہے؟

جواب: اگر تنقید راہ حل کے ساتھ ہو تو یقیناً بہتر ہے؛لیکن اگر تقیدکرنے والا راہ حل نہیں بتا سکتا تو تب بھی امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے باب سے اپنا وظیفہ انجام دے ۔

سوال ۱۶۳۶۔ خبر اور اطلاع رسانی میں کم فروشی کیا ہے؟

جواب: کم فروشی کے خاص معنی ہیں کہ جو معاملات میں قابل تصور ہے اور اس کاایک عام مفہوم ہے، یہ کہ اگر کوئی شخص اپنے کام میں کمی کرے گا (یعنی چوری کرے گا) تو وہ کم فروشی کا مصداق ہے اور خبر میں کم فروشی یہ ہے کہ کوئی خبر نگار بطور ناقص یا لولی لنگڑی خبر نقل کرے یا بعض خبروں کو نقل کرے اور بعض کو نقل نہ کرے تو وہ کم فروشی کے مانند ہے ۔

سوال ۱۶۳۷۔ کیا خبروں اور رپورٹوںکے جمع کرنے میں خواتین سے استفادہ کرنا جائز ہے؟

جواب: اگر عفت کے اصول کی رعایت کی جائے تو خواتین سے استفادہ کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۳۸۔ مسلمان عورتوں کی تصویر اور چہرے سے اگر وہ محجّبہ ہوں، استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: جو شرائط بیان کئے گئے ہیں اگر ان کے ساتھ ہے تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۳۹۔ اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ قرآن شریف الله کا کلام اور اس کا معجزہ ہے، طبعاً خداوندعالم نے لوگوں سے میل جول بڑھانے کے مختلف طریقے بیان فرمائے ہیں کہ جو قطعاً کامل ترین طریقے ہیں، یہ بیانی طریقے کیا ہیں؟ خبر کے سلسلے میں کس طرح ان سے استفادہ کرسکتے ہیں؟

جواب: قران مجید کے فصاحت وبلاغت کے طریقوں کو حاصل کرنے کے لئے اور خبرنگاری میں ان سے استفادہ کرنے کے لئے ”پیام قرآن“ کی آٹھویں جلد کی قرآن مجید، فصاحت وبلاغت کی نظر سے ”معجزہ“ ہونے کی بحث میں صفحہ۸۷ کے بعد دیکھے سکتے ہیں، یا ہماری کتاب ”قرآن وآخرین وپیامبر“ میں مطالعہ کرسکتے ہیں ۔

سوال ۱۶۴۰۔ کچھ اشخاص ایسے ہیں جن کے افکار واندیشے اکثر فقہائے شیعہ کے نظریات اور اسلامی جمہوریہ پر حاکم فقہ کے مخالف ہیں (جیسے ولایت فقیہ کا نظریہ) کیا ہم اُن نظریات وافکار کو معاشرںے میں منتشر کرسکتے ہیں تاکہ لوگ مختلف اقوال کو سن کر ان میں سے بہترین کا انتخاب کریں؟ جواب کے منفی ہونے کی صورت میں، آیہٴ شریفہ (فَبَشِّر عِبَادِ الَّذِینَ یَستَمِعُون الْقَول فَیَتَّبِعُونَ اٴحْسَنَہ) کی کس طرح تفسیر کریں گے؟

جواب: یہ کام اگر بدآموزی کا سبب نہ بنے تو بہت اچھا کام ہے اور عمدتاً یہ مشکل مخالفین کے نظریات کو مناسب طریقے سے بیان کرنے سے حل ہوجاتی ہے، اس طرح کہ ان کے نظریات کو مضر اور مخرّب طریقے سے اور جھوٹ اور تہمت کے ہمراہ بیان نہ کئے جائیں، البتہ توجّہ رکھنا چاہیے کہ مسائل مختلف ہیں؛ کچھ مسائل کو عوام الناس میں بیان کرسکتے ہیں اور کچھ مسائل ایسے ہوتے کہ جن کو فقط حوزہٴ علمیہ، یونیورسٹی اور علمی محافل کی حدود میں رہنا چاہیے؛ کیونکہ اُن مسائل میں تخصصی آگاہی کی ضرورت ہے، یقینا ان دونوں مسائل کا ایک دوسرے سے مشتبہ ہونا معاشرے میں بہت مشکلات کا باعث ہوگا۔

سوال ۱۶۴۱۔ ایک موثق خبر کی کیا خصوصیتیں ہیں؟

جواب: موثق خبر کو چند طریقوں سے پہچان کرسکتے ہیں:
۱۔ راوی کے موثق ہونے کے راستے سے یعنی خبر کا نقل کرنے والا بااعتماد شخص ہو۔
۲۔ عمومی مقبولیت کے ذریعہ، یعنی اگر راوی مجہول ہو، لیکن لوگوں کے درمیان وہ خبر اتنی مشہور ہو کہ اطمینان کا سبب ہوجائے ۔
۳۔ خبر کے مضمون کے ذریعہ، یعنی خبر کا مضمون، اس قدر مستدل اور قرائن کے ساتھ ہو کہ جو اپنی صحت پر خود گواہ ہو۔
خبرنگاروں کی خصوصیات ۵۔۱۳۔۵۰

سوال ۱۶۴۲۔ کیا خبر کے ناقلین اور واقعوں کے بیان کرنے والوں کے کچھ شرائط ہیں؟

جواب: جی ہاں، ان کے بھی کچھ شرائط ہیں؛ وثاقت، امانت، مہم مطلب کو سمجھنے کے لئے بطور کافی ذہانت، مطالب کو حفظ اورنگہداری کے لئے قوی حافظہ، ان میں سب سے مہم اپنی نظر نہ دینا اور حسنِ نیت اور اخبار کو شخصی سلیقہ سے آلودہ نہ کرنا، ان کی شرائط میں سے ہیں ۔

سوال ۱۶۴۳۔ ایک خبر نگار دوسرروں کی نقل کردہ خبر پر کس حد تک اعتماد کرسکتا ہے؟ اس بات پر توجہ رہے کہ وہ خبر حدّ تواتر کو نہیں پہنچی ہے؟

جواب: جب تک کوئی خبر حد تواتر کو نہ پہنچے اور اطمینان بخش قرائن کے ساتھ بھی نہ ہو تو اس کو محتمل خبر کی صورت میں ذکر کرے نہ قطع کی صورت میں ۔

سوال ۱۶۴۴۔ ایک خبر نگار بغیر مشاہدہ کے کس طرح ایک خبر یا واقعہ کے سچّے ہونے یا جھوٹے ہونے کو کشف کرسکتا ہے؟ ان دونوں کی شناخت کی راہ کیا ہے؟

جواب: مذکورہ بالا جواب سے معلوم ہے ۔

سوال۱۶۴۵۔ جب کبھی خبر نگار نے کسی ماجرے کو ہوتے ہوئے اپنی آنکھ سے نہ دیکھا ہو، لیکن اس کی خبر کو نقل کرنا چاہتا ہو تو کتنے شاہدوں کی ضرورت ہے کہ اس خبر کی سچّائی ثابت ہوجائے ۔

جواب: ایک موٴثق شخص خبر کو نقل کرے تو کافی ہے، لیکن احتیاط یہ ہے کہ مہم خبروں میں ایک شخص پر قناعت نہ کرے ۔

سوال ۱۶۴۶۔ کیا نقل خبر یا حادثہ کے وقوع کی شہادت دینے میں عورت اور مرد کے درمیان فرق ہے؟ کیا یہاں پر بھی محکمہٴ عدالت میں معتبر گواہی کے احکام جاری ہوں گے؟

جواب: ان مسائل میں عورت اور مرد کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۴۷۔ بہت سی تقریریں، بیانیے، انٹریوں وغیرہ اتنے طولانی ہوتے ہیں کہ ایک خبر نگار مجبور ہوجاتا ہے کہ ان کا خلاصہ کرے، خلاصہ کرنے میں مضمون کے درمیان فاصلہ اور کبھی کبھی مفہوم کے بدل جانے کا احتمال پایا جاتا ہے، کیا یہ کام امانت میں خیانت شمار ہوتا ہے؟

جواب: مضمون کو بدلنا، جھوٹ بھی اور تہمت بھی شمار ہوگا؛ لیکن تلخیص کرنا یا نقل بمعنی کرنے میں ممانعت نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۴۸۔ کیا حکومت کے نظام میں مفید ثابت ہونے والی وخبروں کو جمع کرنے میں رشوت دی جاسکتی ہے؟

جواب: جب اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ ہو اور خبر کی ضرورت بھی ہو تو کوئی ممانعت نہیں ہے اور اس کو رشوت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔

سوال ۱۶۴۹۔ خبرنگار کے ثقہ ہونے کو کس طرح تشخیص دیا جاسکتا ہے؟

جواب: مخبر کے ثقہ ہونے کو اس کے ساتھ معاشرت یا آگاہ اور مطلع وثقہ افراد کی گواہی سے سمجھا جاسکتا ہے ۔

سوال ۱۶۵۰۔ امام خمینی رحمة الله علیہ فرماتے تھے: ”کبھی کبھی نظام کی حفاظت کے لئے بعض واجبات کو بھی ترک کیا جاسکتا ہے“ کیا یہ موضوع خبر کے سلسلے میں بھی صادق ہے؟ کیا خبر نگار بھی نظام کی حفاظت میں جھوٹ کا سہارا لے سکتا ہے؟

جواب: اگر واقعاً کوئی مسئلہ اہم اور مہم کی صورت اختیار کرلے اور جھوٹ لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے مانند ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے، لیکن چونکہ ممکن ہے کہ یہ حکم سوء استفادہ کا ذریعہ بن جائے اور خبرنگار کسی نہ کسی بہانے سے جھوٹی خبروں کو منتشر کریں، لہٰذا حتی الامکان اس کام سے پرہیز کیا جائے ۔

سوال ۱۶۵۱۔ کبھی کبھی مجبور ہوجاتے ہیں کہ ایک جنگی آپریشن کے لئے ایک ڈرامہ رچیں تاکہ اپنے اہداف کو، جو فقط نظام کی تقویت کے لئے ہیں، آگے بڑھائیں اور شاید اس ڈرامے کا کوئی بھی مسئلہ واقعیت سے سازگاری نہیں رکھتا اور نہ اس کی کوئی بنیاد ہوتی ہے، لہٰذا جنابعالی سے گذارش ہے کہ اس سلسلے میں ہماری حد ّوحدود معین فرمائیں؟

جواب: اہم اور مہم کے قانون کے مطابق عمل کرنا چاہیے ۔

سوال ۱۶۵۲۔ کیا ہم خبریں دینے میں مغربی طرز کو اپنا سکتے ہیں کہ جو مختلف اطلاعات سے لوگوں کے ذہن میں ایک خاص پیغام چھوڑ دیتے ہیں جو حقیقت سے بہت دور ہوتا ہے، جیسے وہ کہتے ہیں: ”ایسا لگتا ہے“ ، ”اس سے آشکار ہوجاتا ہے“ یا اطلاعات کو ایک خاص طریقے سے ملاتے ہیں وغیرہ جملوں کو استعمال کرتے ہیں، اس کی وضاحت اس طرح ہے یہ کہ: ”ایسا لگتا ہے“ سے ایک موضوع کی ایک ہدفدار تصویر کشی کرتے ہیں اور ایک خاص ہدف کے سراغ میں رہتے ہیں، جیسے ”انتہا پسند “ کا کلمہ، کہ جس کو اہل مغرب اسلام کے پائبند افراد کے لئے استعمال کرتے ہیںاور ”اس سے آشکار ہوتا ہے“ کا کلمہ پر اہمیت مورد نظر اطلاعات اولویت بندی میں استعمال کرتے ہیں جس کا ہدف ایک خاص پیغام پہنچانا ہوتا ہے اور اطلاعات کو ایک دوسرے سے ملانے سے ان کا ہدف یہ ہوتا ہے کہ دوسرے موضوعات کے سوابق کو استعمال کرکے اور ان کو جدید موضعات سے چپکاکر، ایک نئے پیغام اور ایک نئی فکر کو لوگوں کے ذہن پر تھوپ دیں، جیسے دنیا میں کوئی بھی بم منفجر ہو اس کو گذشتہ زمانے کے بم دھماکہ سے جوڑ دیتے ہیں کہ جس میں ایران کو متہم کیا گیا تھا، اس جدید بم دھماکہ کا ایران کے اوپر الزام، اس سابقہ بم دھماکہ کی وجہ سے قطعی ہوجاتا ہے، اور وہ لوگوں کے ذہن میں اس الزام کو قطعی کردیتے ہیں

جواب: اگر یہ کام مشروع اور مثبت ہدف کے لئے انجام دیا جائے تو کوئی ممانعت نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۵۳۔ ہم سب کو اطمینان ہے کہ استعماری خبر رساں ایجنسیاں اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کو مخدوش کرنے کے لئے خبروں اور رپورٹوںکے حربوں اور حیلوں کو استعمال کرتے ہیں؛ اور ایسی ایسی رپورٹیں تیار کرتے ہیں کہ اصلاً ان کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی، کیا ہم اپنی حیثیت سے دفاع کی خاطر اس روش کو اپنا سکتے ہیں؟

جواب: اگر دفاع کا راستہ فقط یہی ہو اور اسلام واسلامی جمہوریہ کی توہین کا سبب بھی نہ ہو تو اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۵۴۔ بہت سی خبریں ملک کے نقصان میں ہیں؛ لیکن ان کو بیان نہ کرنا نظام پر بے اعتمادی کا سبب اور اپنی میڈیا سے توجہ ہٹ کر بیرونی ممالک کی خبروں پر متمرکز ہوجاتی ہے، ان حالات میں ہمارا وظیفہ کیا ہے؟

جواب: اگر کسی خبر کا بیان نہ کرنے کا ضرر بیان کرنے سے زیادہ ہو تو، ضروری ہے اس کو بیان کیا جائے ۔

سوال۱۶۵۵۔ ایک خبر کے سننے کے لئے لوگ کس حد تک محرم ہیں، ایک خفیہ خبر پھیلانے کی حد کہاں تک ہے؟

جواب: ایسی خبر کے انتشارکی حد وہاں تک ہے جہاں تک معاشرے کے لئے ضرر کا سبب نہ ہو۔

سوال ۱۶۵۶۔ کن خبروں کو معمولی سمجھے اور کن کو خفیہ؟

جواب: وہ خبریں جن کا نشر کرنا منحرف اشخاص کے لئے سوء استفادہ کا سبب یا دشمن کی آگاہی یا معاشرے کی سطح پر ضرر ونقصان، یا کسی گروہ یا شخص کی بے عزتی ، یا لوگوں کے خصوصی رازوں کے فاش ہوجانے کا باعث ہو تو وہ اختیار خفیہ خبروں میںشمار ہوں گی۔

سوال ۱۶۵۷۔ کبھی کبھی پارٹیوں میں، حکومت کے سیاسی عہدہ داروں میں اختلاف ہوجاتا ہے، اس صورت میں ایک خبر نگار کو اپنے عہدہ کا خیال رکھتے ہوئے ایسے مسائل کو نشر کرنا چاہیے جو نظام اسلامی کا اصلی خط اور بغیر تعصب کے ہو، بالفرض دونوں سیاسی گروہ اسلامی جمہوریہ کے نظام کے لئے مورد قبول ہوں، اس طرح کے مورد میں ایک خبر نگار کا کیا وظیفہ ہے؟

جواب: واقعی خبروں کو جمہوریہ اسلامی کے نظام کی مصلحت میں منتشر کرے ۔

سوال ۱۶۵۸۔ ایک جعلی خبر کو کس حد نشر کیا جاسکتا ہے؟ کیا ایسی خبروں کا اسلامی جمہوریہ کے نظام میں کوئی مقام ہے؟ یہاں تک کہ نظام کی یا اشخاص وغیرہ کی مصلحت مدنظر ہو؟

جواب: اس طرح کے مسائل میں، نظام اور معاشرے کی مصلحت کو مد نظر رکھنا چاہیے ۔

سوال ۱۶۵۹۔ ایک خبر نگار کس حد تک اشخاص کے رازوں کو برملا کرسکتا ہے؟ کیا اس سلسلے میں مرد اور عورت ، مسلم وغیر مسلم کے درمیان فرق ہے؟

جواب: کسی بھی مسلمان کے رازوں کو فاش نہیں کیا جاسکتا؛ علاوہ اُن جگہوں کے جہاں اہم مصلحت درکار ہو۔

سوال ۱۶۶۰۔ ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ ہیں نہ وہ مسلمان ہیں اور نہ ہی انقلاب کو قبول کرتے ہیں، ان کے مسائل، خبریں اور نظریات کو نشر کرنے میں ہمارا کیا وظیفہ ہے؟

جواب: جو چیز نظام کی تضعیف یا عام لوگوں کے ذہن کی تشویش کا سبب ہو اس سے پرہیز کیا جائے، اور جو چیز مفید یالا اقل فاقد ضرر ہو، اس کو منتشر کرسکتے ہیں ۔

سوال ۱۶۶۱۔ دلچسپ اور نشاط آور خبروں کے نشر کرنے کی کیا حدود ہیں؟ کیا نشاط کو ایجاد کرنے کے لئے مصلحتی جھوٹ کا سہارا لیا جاسکتا ہے؟

جواب: نشاط کا ایجاد کرنا جھوٹ کا مجوّز نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۶۲۔ کبھی کبھی بیرونی ممالک سے آئی خبروں کا نقل کرنا مسلمانوں کے عقائد سے مربوط ہوتا ہے، اگر ان کا بیان کرنا ہمارے عقائد کی توہین کا سبب ہو تو کیا ان کا بیان کرنا بہتر ہے یا چھپانا؟ اگر چھپائی جائیں تو کیا ایسے عقائد سے بے خبری کا مفسدہ، زیادہ نہ ہوگا؟

جواب: اس طرح کے مسائل میں اہم ومہم کے قانون کی اتباع کی جائے اور کام کی مصلحت اور مفسدہ کو تولا جائے اور جو ان میں مہم ہے اسی پر عمل کیا جائے ۔

سوال ۱۶۶۳۔ کیا بیرونی میڈیاکی خبروں کو نشر کرکے اُس کے بعد اپنی نظر کو بیان کرسکتے ہیں؟

جواب: خبروں کے اوپر تبصرے کہ جو صحیح استفادہ کا سبب اور سوء استفادہ سے پرہیز ہے، نہ یہ کہ جائز ہو بلکہ کبھی کبھی واجب ہو جاتا ہے ۔

سوال ۱۶۶۴۔ کیا گمان اور ایڈیے کو خبر اور نظر کے عنوان سے منشتر کرسکتے ہیں؟

جواب: جب اس میں یہ قید لگائیں کہ یہ خبر گمان اور احتمال کی صورت میں ہے اور اس پر کوئی مفسدہ بھی مترتب نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔

سوال۱۶۶۵۔ ہم نے ایک خبر (سیاسی،، اقتصادی یا ثقافتی)کو نشر کیا لیکن اس کا سچ یا جھوٹ ہونا ہمارے لئے مشخص نہیں تھا، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: اگر کسی خاص ایجنسی کی طرف منسوب ہو اور اس کا جھوٹ ارو سچ اس کے ذمہ ڈالا جالاسکتا ہو نیزاس کا نشر کرنا مفسدہ کا باعث نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۶۶۔ اگر کوئی حکومت، ظالم ہو تو ایک خبر نگار کس حد تک اس کے رازوں کو فاش کرسکتا ہے؛ اگرچہ وہ اسی حکومت کا شہری ہو؟

جواب: اگر اُن خبروں کا نشر کرنا امربالمعروف اور نہی عن المنکر اور فحشا وفساد سے مقابلہ کا سبب ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۶۷۔ اگر ذرائع ابلاغ کو معاشرے کے تمام امور پر (سیاسی، سماجی، اجتماعی اور اقتصادی؛ ناظر ہونا جانیں، کہ جو ”کلّکم راعٍ“ اور ”کلّکم مسئول عن رعیتہ“ کے باب سے ہے، تو اس نظارت کی حدود کیا ہیں، تاکہ ایک خبرنگار، شرعی اور اخلاقی قوانین کے راستے سے نہ ہٹ پائے اور تمام پہلووں کے اوپر دقیق نظارت سے عمل ہوسکے؟

جواب: اس سوال کا جواب گذشتہ جوابوں سے معلوم ہے ۔

سوال ۱۶۶۸۔ ”استخبارات“ کا فارسی زبان کے لفظ ”خبرنگاری“ سے لغت کے اعتبار سے کیا فرق ہے؟

جواب: ”استخبارات“ جستجو اور اطلاعات کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن ”خبرنگاری“ اُن حادثات کی شرح ہوتی ہے جو آشکار طور پر معاشرے میں رونما ہوتے ہیں ۔

سوال ۱۶۶۹۔ کبھی کبھی ہم دشمن کے قلب میں اپنے مخبرین بھیجتے ہیں طبعاً وہ کام جو مخبرین انجام دیتے ہیں ہمارے اطلاع رسانی اور دشمن کی نظر میں جاسوسی ہے، مخبری اور جاسوسی کے درمیان کیا فرق ہے؟

جواب: مذکورہ بالا جواب سے روشن ہے؟

سوال ۱۶۷۰۔ کیا دشمنان دین اور دشمنان انقلاب کو بُرے اور اہانت آمیز القاب سے یاد کرنا جائز ہے؟

جواب: اس طریقے کے کام مومنوں اور اسلام کے گرویدہ لوگوں کی شایان شان نہیں ہیں ۔

سوال ۱۶۷۱۔ ہمارے دشمن بین الاقوامی سطح پر ہمیشہ، خبروں، گزارشوں اور جھوٹے تبصروں کے ذریعہ ہمارے خلاف پروپیکنڈہ کرتے ہیں، اگر ہم بھی ایسا ہی کریں تو ان کے اور ہمارے درمیان کیا فرق ہوگا؟ کیا ہمارے لئے یہ کام جائز ہے؟ اس کی حدّو حدود کیا ہیں؟

جواب: ضروری ہے کہ صداقت کے ساتھ خبروں کو بیان کیا جائے اور ان کی مکاریوں سے غافل نہ رہیں، اور ان کے جھوٹ کو برملا کریں اور مطمئن رہیں کہ جھوٹ کا انجام برملا ہونا اور بے اعتباری ہے ۔

سوال ۱۶۷۲۔ بیرونی خبرنگاروں اور مصنفوں کو اسلامی نظام حکومت کے نفع میں بیرونی میڈیا میں کوئی مطلب درج کرانے کے لئے رشوت دینے کا کیا حکم ہے؟

جواب: اس کا م کو رشوت کا نام نہیں دے سکتے ہیں؛ بلکہ یہ وہ حقّ الزحمہ ہے کہ جو مثبت، مفید اور مشروع کام کے عوض دیا جارہا ہے اور لینے والے اور دینے والے پر کوئی اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۷۳۔ اجنبی عورتوں کی تصویر اور چہرے سے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: بے حجاب اور بد حجاب عورتوں کے چہروں سے استفادہ کرنا اسلامی جمہوریہ کی شان نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۷۴۔ مسلمان ممالک کی خبروں کے نشر کرنے کے سلسلے میں، چنانچہ یہ ممالک اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کے مخالف ہوں، کیا ان کے ساتھ غیر مسلم ممالک کے جیسا سلوک کیا جاسکتا ہے؟

جواب: بے شک مخالف اسلامی ممالک اور مخالف غیر اسلامی ممالک میں فرق ہے ۔

سوال۱۶۷۵۔ بعض اوقات کچھ اشخاص، عوام میں مقبول ہوتے ہیں لیکن وہ شریعت پر عمل نہیں کرتے اور اسلامی نظام حکومت کے لئے مفید ہوتے ہیں کیا لوگوں کو ان سے بیزار کرنے کے لئے تہمت کا سہارا لیا جاسکتا اور اس طرح ان کی اہمیت کو گرایا جاسکتا ہے؟

جواب: تہمت، جھوٹ وغیرہ کا سہارا لینا ایک مسلمان اور شریعت پر پائبند پرپائبند خبرنگار کے شایانِ شان نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۷۶۔ بہت سے اشخاص سربستہ نظریوں پر عمل کرتے اور فقط اپنے نظریے کے نشر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں، لیکن کچھ دوسرے افراد معاشرے کے افکار کی ترقی کی خاطر غیروں کے نظریوں کوبیان کرتے اور ان کی تنقید کرتے، اور ایک طرح سے نظریوں کے درمیان مقائسہ کرتے ہیں (اگرچہ وہ دوسرے صاحبان نظر بے دین، یا اسلامی حکومت کے مخالف ہی کیوں نہ ہو) آئمہ معصومین علیہم السلام کی سنت کو مدّنظر رکھتے ہوئے (جیسے امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام محمد باقر علیہ السلام اور ان کے اصحاب کا زندیقوں وغیرہ کے ساتھ گفتگو کا طریقہ تھا) ان میں سے کون سی روش اسلامی معاشرے کی مصلحت میں ہے؟

جواب: جب تک غیروں کے نظریوں کا بیان کرنا اور ان کی تنقید کرنا مسلمانوں کی فکری اور تہذیبی ترقی کا سبب ہوتا ہو، تو اس طریقہ کار کو اپنانا چاہیے اور کسی جگہ پر تخریبی صورت اختیار کرلے تو اس سے پرہیز ضروری ہے ۔

سوال ۱۶۷۷۔ نادان سچّے مخبر کا خطرہ زیادہ ہے یا جھوٹے دانا مخبر کا؟

جواب: دونوں ہی خطرناک ہیں ۔

سوال ۱۶۷۸۔ کیا اسلامی نظام حکومت کی تقویت کی خاطر اس کے غیرواقعی چہرے کو دشمن کے سامنے بیان کرنا جائز ہے؟

جواب: حتی الامکان ہر کام کے لئے سچّائی سے کام لیا جائے کہ جو شریعت سے بھی نزدیک ہے اور عقل سے بھی۔

سوال ۱۶۷۹۔ بہت سے اشخاص کہ جوحکومت اسلامی کے معتمد ہیں تو بعض اوقات ان کو لوگوںمیںپہچنوانا ضروری ہے، کیا اس کام کی خاطر ان کو بڑھا چڑھاکر پیش کیا جاسکتا ہے، تاکہ وہ معاشرے کی سطح پر پہچانے جاسکیں؟ اس کام کی حدّشرعی کہاں تک ہے؟

جواب: اگر بڑھا چڑھاکر پیش کرنے سے مراد بے جا مبالغہ اور بلاوجہ بزرگ نمائی ہو تو جائز نہیں ہے لیکن اگر اس سے منظور ناشناختہ با ایمان اور گرانقدر شخصیت کو پہچنوانا ہو تو نہ یہ کہ یہ کام اچھا ہی ہے بلکہ ضروری بھی ہے ۔

سوال ۱۶۸۰۔ اگر ایک خبرنگار کسی موثق خبررساں ایجنسی سے کسی خبر کو زبانی حاصل کرے اور اس کو نشر کردے لیکن بعد میں وہ ایجنسی اپنے ذاتی مفاد، یا اپنے ادارہ کے مفاد کی خاطر اصل خبر سے انکار کردے توکیا اس صورت میں خبرنگار ذمّہ دار ہے، اگرچہ اصل خبر واقعی اور سچّی ہو؟

جواب: خبرنگار ذمّہ دار نہیں ہے اور اس کو اپنی حیثیت کی حفاظت کے لئے حقیقت کو فاش کرنا چاہیے ۔

سوال ۱۶۸۱۔ پیشہ ورانہ خبر رسانی کی خصوصیات کو مدّنظر رکھتے ہوئے کہ جس میں ”تیزی“، ”دقت“ اور ”صحت“ پر ایک ساتھ عمل ہونا چاہیے، اگر خبروں کے مضمون یا ہر طرح کی اطلاعات کے مضمون کہ جن میں ایک خبرنگار خبروں کو منتخب کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور اس انتخاب کو پیشے کے معیار اور کام کے تجربہ کی بنیاد پر انجام پانا ضروری ہوتا ہے، اگر خبروں کے مضمون پر تساہلی سے کام لیا جائے یا اس کو لوگوں تک پہنچانے میں خبروں کی جلدی کواہمیت مدّنظر رکھتے ہوئے نقص یا ضعف وارد ہوجائے تو کیا خبرنگار ذمّہ دار ہے؟ اور کیا مربوطہ اشخاص کی شکایت کی وجہ سے خبرنگار کو ملزم کے عنوان سے عدالت میں حاضر ہونا ضروری ہوگا اوراس کو جواب دہ ہونا پڑے گا؟

جواب: اگر یہ کام تساہلی کی وجہ سے واقع ہوا ہو اور کسی کو حق کے ضائع ہونے کا سبب ہوا ہو تو اس صورت میں خبرنگار ذمّہ دار ہے، لیکن اگر ایسی غلطی کی وجہ سے ہوا ہو کہ جو عموماً غیر معصومین سے سرزد ہوجاتی ہے تو خبر نگار کی کوئی ذمہ داری نہیںہے لیکن اگر اس کا یہ کام دوسروں کے ضرر اور نقصان کا سبب ہوا ہو تو خبرنگار کے اوپر اس کی تلافی ضروری ہے، کیونکہ جانی اور مالی نقصان میں، عمدی اور خطائی دونوں صورتیں ذمہ داری کا سبب ہوتی ہیں، فرق فقط اتنا ہے کہ عمدی صورت میں سزا بھی ہے لیکن خطائی صورت میں سزا نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۸۲۔ تحریری ذرائع ابلاغ، خصوصاً حالیہ زمانہ کی تحریری ذرائع ابلاغ کی شکل پر توجہ رکھتے ہوئے (کہ جو خبروں کے پہنچانے میں وسعت کے لحاظ سے بھی اور عوام میں اس کے گہرے اثر کے چھوڑنے کے اعتبار سے بھی اور اس اور نظارت اور کنٹرول کے اعتبار سے بھی جو عوام اور حکومت میں ایک طرح کا رابطہ ہوتا ہے) آخری صدیوں کے مشینی بدلاؤ کا نتیجہ ہیں، کیا یہ واقعاً گذشتہ آخری صدیوں کی پیداوار ہیں، یا ایک قدیمی حقیقت ہے جو ایک نئی صورت میں ظاہر ہوئی ہے ۔

جواب: بے شک یہ ایک نیا موضوع ہے، لیکن اسلام کے کلی اور عام قوانین سے ماہر بھی نہیں ہے ۔
ج۔ مطبوعات کے جرائم

سوال ۱۶۸۳۔ مطبوعات اور دیگر زبانی ذرائع ابلاغ کے ذاتی فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے، کیا مطبوعات کےجرائم اور دیگر جرائم کو (نام کی شباہت کے باوجود) الگ الگ جرم شمار کیا جاسکتا ہے؟ مثلاً کیا شخصی توہین کے جرم کے ثابت ہونے کے شرائط اور حکمتوں، تنظیموں اور اداروں اور اُ سے منسلک افراد کی توہین جرم کے ثابت ہونے کے شرائط یکساں ہیں؟

جواب: توہیں کسی بھی صورت میں ہو جرم ہے، البتہ اشخاص، زمان اورمکان کے فرق سے اس جرم میں بھی فرق ہوجاتا ہے ۔

سوال ۱۶۸۴۔ جیسا کہ روایات میں اس بات کی تصریح ہوئی ہے کہ جرم کا اثبات اور صدور حکم ایک شخص کے ذریعہ ہونا چاہیے، اب اگر کسی جگہ دونوںمیں فرق پایا جائے یا بعض اوقات فقہی اصول سے مغایرت کا سبب ہو تو اس صورت میں حضور کی نظر کیا ہے؟

جواب: جرم کو ثابت کرنے لئے ممکن ہے کہ حاکم شرع کو اُن مسائل میں جہاں اس کو ماہرین کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے، ان کی نظروں پر تکیہ کرنا پڑے، اور موضوع کے ثابت ہونے کے بعد حکم صادر کرے ۔

سوال۱۶۸۵۔ مطبوعاتی جرائم کو مستحدثہ (جدید) جرم قبول کرنے کی صورت میں کیا اس کے قوانین وہ ہی حکومتی قوانین ہوں گے جو موجود ہیں؟ یا اس کو مستحدثہ قبول نہ کرنے کی صورت میں کیا اسلامی حکومت مصالح حکومتی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس جرم کے لئے دوسرے نئے قوانین بناسکتی ہے؟ جیسے کہ وہ وقوع جرم کے اثبات اور صدور حکم کے ذریعہ میں تفکیک کی قائل ہوسکتی ہے، یا اس صورت میں حاکم کو منصفہ کمیٹی کی اتباع کرنا ضروری ہے ، کیا یہ کام جائز ہے؟

جواب: جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے یہ ایک مستحدثہ موضوع ہے، لیکن اسلام کے کلی اور عام قوانین سے خارج نہیں ہے ۔ ماہرین کے ذریعہ اس جگہ موضوع کا ثابت ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے اور ظاہراً مطبوعاتی جرائم سے مربوط احکام کی وضاحت کے لئے عناوین اولیہ ہی کافی ہیں اور اگر کسی جگہ یہ عناوین کافی نہ ہوں عناوین ثانویہ سے مدد لی جاسکتی ہے ۔
”مقدسات اسلامی“ کی عبارت کی اسلامی قانون میں وضاحت ۱۔۴۔۱۳۔۵۰

سوال ۱۶۸۶۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے بعض قوانین میں ”مقدسات اسلامی“ کی عبارت کو استعمال کیا گیا ہے اور اس پر کچھ احکام بار ہوئے ہیں ان قوانین کو واضح ہونے کی اور سماجی سیاست میں ایک صاف وشفّاف حدود کو معین کرنے کے لئے اور افراط وتفریط سے پرہیز کی خاطر، مہربانی فرماکر نیچے دیئے گئے سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:
الف) ”اسلامی مقدسات“ کی کیا تعریف ہے؟ کیا اس کے لئے کوئی میزان معین کیا جاسکتا ہے اور اختلافی مصادیق کو اس میزان پر تولا جاسکتا ہے؟

جواب: البتہ ”مقدسات اسلامی“ کی عبارت، ہر کلام میں موجود قرائن کے لحاظ سے ایک خاص تشریح اور وضاحت کی محتاج ہوتی ہے؛ لیکن معمولاً جب یہ عبارت استعمال ہوتی ہے تو ان امور کی طرف اشارہ ہوتا ہے جو تمام دینداروں کی نظر میں محترم ہوتے ہیں؛ جیسے ”خدا“ ، ”آئمہ ھدیٰ علیہم السلام“، ”قرآن شریف“، ”مساجد“، ”خانہ کعبہ“، ”اسلام کے مسلّم احکام“، اور انھیں کی جیسی دوسری چیزیں، ممکن ہے کچھ جگہوں پر مقدسات اسلامی کے معنی اس سے بھی زیادہ وسیع ہوں ۔

ب) کیا ”مقدسات اسلامی“ کو تشخیص دینے کا ذریعہ، عرف(معاشرہ) ہے اور اہل عرف کے وجدان کی طرف مراجعہ کرنے سے اس کے مصادیق کو پہچانا جاسکتا ہے، یا وہ ایسے امور میں سے کہ جس کی شناخت ماہرین اور اہل خبرہ کا کام ہے؟ واضح ہے کہ پہلی صورت میں مقدسات اسلامی کی تشخیص کے لئے منصفہ کمیٹی کی حیثیت، عمومی افکار کے نمائندہ کے عنوان سے ہوگی جبکہ دوسری صورت میں اس کی تشخیص ماہرین کے ذمہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ دوسری صورت میں اگر ماہرین کے درمیان موضوع کی تشخیص میں اختلاف ہوجائے تو ایسی صورت میں کیا تکلیف ہوگی؟

جواب: موضوع کی تشخیص دینے والے افراد معاشرے کے دیندار لوگ اور مسائل اسلامی سے اشنا افراد ہیں اور ممکن ہے کہ پیچیدہ موارد میں دانشوروں اور دینی علماء کی نظر کی بھی ضرورت ہو۔

ج) کیا قرآن وعترت اطہار علیہم السلام کی تعلیمات اور احکام، آئمہ اطہار علیہم السلام کی سیرت پر تنقید کرنا توہین کے مصادیق میں سے ہے؟ کیا علمائے دین کے درمیان رائج طریقے کے علاوہ آیات، روایات، سیرت اور فقہی احکام کا تنقیدی جائزہ لینا ایک طرح کی اہانت ہے؟ بہر صورت نقّاد کی سوء نیّت یا اس کا اہانت کا قصد نہ ہونا، اس امر میں کیا اثر رکھتا ہے؟

جواب: اگر تنقید سے مراد قانون اور قانون بنانے والے پر اعتراض ہو تو بے شک یہ توہین کے مصادیق میں سے ہے، اور اگر اس سے مراد ان افراد پر اشکال اور اعتراض ہو جنھوں نے ایسے احکام کو استنباط کیا ہو یا دوسرے لفظوں میں کسی کا استنباط زیر سوال جائے نہ کہ حکم الٰہی، تو مقدسات اسلامی کی اہانت کے مصادیق میں سے نہیں ہوگا۔
بنیادی قانون میں ”مبانی اسلام میں اخلاق “ کی عبارت کی تشریح ۱۔۴۔۱۳۔۵۰

سوال ۱۶۸۷۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے قوانین کی دفعہ نمبر ۲۴ کو مدنظررکھتے ہوئے کہ جس میں اس طرح بیان ہوا ہے: ”نشریات اور مطبوعات، مطالب کو بیان کرنے میں آزاد ہیں، مگر یہ کہ اس سے اسلام کے مبانی یا عمومی حقوق میں خلل واقع ہو“ لہٰذا حضور فرمائیں:
الف) ”اخلال“ اور ”اسلام کے مبانی“ سے کیا مراد ہے؟ کیا اسلام کے مبانی کے معنی اسلام کے بنیادی احکام ہیں، یا اس سے ضروریات دینی یا ضروریات فقہی مراد ہے، یا اس کے کوئی اور معنی ہیں؟

جواب: ”اسلام کے مبانی“ سے مراد دین کے ضروری مسائل ہیں چاہے وہ اعتقادی مسائل ہوں جیسے توحید، معاد، قیامت عصمت انبیاء وآئمہ علیہم السلام اور اسی کے مانند دوسری چیزیں، چاہے فروع دین اور اسلام کے قوانین اور احکام ہوں، اور چاہے اخلاقی اور اجتماعی مسائل ہوں ۔
اور ”اخلال“ سے مراد ہر وہ کام ہے جو مذکورہ مبانی کی تضعیف یا ان میں شک وتردید ایجاد کرنے کا سبب ہو، چاہے وہ مقالہ لکھنے کی وجہ سے یا داستان، یا تصویر بنانے کے ذریعہ ہو یا کارٹون یا ان کے علاوہ کسی اور چیز سے ۔

ب) کیا سوال ایجاد کرنا یا مسائل اسلامی سے جدید چیز نکالنا اخلال شمار ہوتا ہے؟

جواب: اگر سوال پیدا کرنے سے مراد اس کا جواب حاصل کرنا ہے تو اخلال نہیں ہے، لیکن اگر اس سے مراد افکار عمومی میں شبھہ ایجاد کرنا ہو تو اخلال شمار ہوگا اور جدید چیز نکالنے سے مراد، اگر فقط ایک علمی احتمال کو بیان کرنا ہو تاکہ اس پر تحقیق اور مطالعہ کیا جائے تو اخلال نہیں ہے؛ لیکن اگر قطعی طور سے اس پر تکیہ کیا جائے یا اس کو اس طرح نشر کیا جائے کہ جو اسلام کے ضروریات کے مخالف ہو تو مبانی میں اخلال شمار ہوگا۔

ج) علمی اور تخصصی رسالوں میں سوال ایجاد کرنے یا حدید چیز کے نکالنے میں اور ان کا عمومی نشریات میں نشر میں کوئی فرق ہے؟

جواب: بے شک ان دونوں میں فرق ہے، عمومی نشریات میں نشر کرنا ممکن ہے کہ مبانی اسلام میں اخلال کی صورت اختیار کرلے، لیکن خصوصی نشریات میں یہ صورت پیدا نہیں ہوتی۔
د) فلمیں

سوال ۱۶۸۸۔ فیلموں کے سلسلے میں ذیل میں دیئے گئے سوالوں کے جواب مرحمت فرمائیں:
۱۔ خیالی، ڈراؤنی، خشونت آمیز، کمیڈی اور سیکسی فیلم بنانے کا اسلام کا کیا حکم ہے؟
۲۔ فیلم میں نامحرم مرد اور عورت کے احساسات کو بیان کرنا کیساہے؟
۳۔ اگر کوئی دوسرے کی بیوی یا شوہر کا کردار ادا کرے، جبکہ ان کے درمیان کوئی محرمیت بھی نہ ہو تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟
۴۔ کیا فیلم میں مصنوعی بالوں کی وگ کا مردوں سے چھپانا واجب ہے اور اس کا حکم طبیعی بالوںکا حکم ہے؟
۵۔ اہل کتاب اور کافر عورتوں کو دیکھنے میں کیا فرق ہے؟
۶۔ کمیڈی(ہنسنے ہنسانے والی فیلم) کو دیکھنے کا کیا حکم ہے کہ جس میں فقط ہنسانے کا ہی پہلو ہوتا ہے؟
۷۔ فیلموں میں آواز کی تقلید کرنے کا کیا حکم ہے، جیسے کوئی مرد کسی عورت کو آواز کی تقلید کرے یا اس کے برعکس؟

جواب: بد آموز اور ضرر پہنچانے والی فلمیں جیسے سیکسی اور ڈراؤنی فلمیں وغیرہ حرام ہیں، لیکن درس دینے والی فلمیں یا کم از کم بغیر مفسدہ کے سرگرم کرنے والی فلمیں نہ یہ کہ ان کے دیکھنے میںاشکال ہی نہیں بلکہ کبھی کبھی یہ مفید اور موٴثر اور اسلامی مقاصد کی ترقی کا سبب بھی ہوتی ہیں اور کسی مرد کا بغیر محرمیت کے کسی عورت کے شوہر کے کردار کو ادا کرنا اس صورت میں کہ جب اس میں شریعت کے خلاف کوئی چیز نہ ہو تو اس میں ذاتاً کوئی اشکال نہیں ہے، اور مخالف جنس کی آواز کی تقلید کرنے کا بھی یہی حکم ہے ۔

سوال ۱۶۸۹۔ نیچے دیئے حالات میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم اور حضرت فاطمہ زہرا سلام الله علیہا اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے چہرے کو کامل طرح سے دکھانے کا کیا حکم ہے؟
الف) چہرہ پردازی میں بغیر کسی در وبدل کے پورے چہرے کو دکھانا؟

جواب: یہ کام آداب کے خلاف ہے ۔

ب) پورے چہرے کو میکپ کے ساتھ دکھانا اس طرح کے دیکھنے والا تھوڑے غوور کرنے سے اس کے مصنوعی ہونے کو سمجھ لیں ۔

جواب: یہ فض بھی مذکورہ فرض کے مانند ہے ۔

ج) فیلموں میں ایسے اشخاص سے استفادہ کرنا کہ جو ہمیشہ اَئمہَ علیہم السلام کا کردار ادا کرتے ہیں؟

جواب: گذشتہ جواب کے مانند ہے ۔

د) ایسے ادا کاروں سے استفادہ کرنا جو قیلموں میں فقط اچھے کردار ادا کرتے ہیں؟

جواب: اس کا جواب بھی گذشتہ جواب کے مانند ہے، لیکن اگر چہرے کو مبہم اور نا مشخص، یا نور میں غرق دکھائیں تو کوئی مانع نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۹۰۔ ابھی تک امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے وجود مقدس پر اور مومنین اور شیعوں کے درمیان آپ کے حضور اور ان پر عنایت خاص کے بارے کوئی فیلم نہیں بنی ہے ۔ اب ہمارا ارادہ ہے کہ اس سلسلے میں قدم اٹھایا جائے اور ایسی فیلم بنائی جائے جس میں امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو مسجد مقدس جمکران میں مومنین اور متدینین کے درمیان حاضر و ناظر دکھایا جائے ۔ (البتہ چہرہ اور پورے بدن کے بغیر اور فقط زانو سے نیچے حصّے کو اس طرح دکھا جائے کہ معلوم ہو امام زمانہ (عج) چل رہے ہیں) لہٰذا گذارش ہے کہ اس طرح کی فیلم بنانے کے متعلق اپنی مبارک نظر بیان فرمائیں؟ یا مومنین جب دعا پڑھتے ہوئے تو ان کے درمیان ایک سین ایسا دکھایا جائے جس میں فقط امام زمانہ کے دونوں ہاتھ دعا کے لئے اٹھے ہوئے ہوں، چہرہ اور کامل جسم اطہر کے دکھائے بغیر، ایسی فیلم بنانے کا کیا حکم ہے؟

جواب: اگر ضروری احترامات کی رعایت کی جالئے اور دیکھنے والے کے لئے یہ اشتباہ نہ ہو کہ آپ نے امام زمانہ کو واقعاً جمکران کی مقدس مسجد میں اسی طرح دیکھا ہے اور اس کی فیلم بنالی ہے، تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔
انبیاء اور آئمہ طاہرین علیہم السلام کی تصویر سازی کے سلسلے میں اہانت کے صادق آنے کامعیار

 

 

 

 سوال ۱۶۹۱۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ، آئمہَ معصومین علیہم السلام اور انبیاء الٰہی علیہم السلام کی تصویر بنانے کے سلسلے میں حضور کی کیا نظر ہے؟

جواب:اگر تصویر بنانا ان ذوات مقدسہ کی اہانت کا باعث نہ ہو اور ان کی طرف قطعی نسبت بھی نہ دی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۹۲۔ تصویر کشی کے جائز ہونے کی صورت میں کیا غیر مسلم اہل کتاب یا غیر اہل کتاب کا ان کے کردار کو ادا کرنا جائز ہے؟ اسی طرح مسلمانوں کے دوسرے فرقے اگر یہ کردار ادا کریں تو کیا حکم ہے؟

جواب: مذکورہ بالا شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے تصویر بنانے والوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۹۳۔ تصویر بنانے میں توہین کے صادق آنے یا نہ آنے کا معیار ااور ملاک کیا ہے؟ اسلامی جمہوریہ ایران کے میڈیا سے اس کے نشر کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: اس کا معیار یہ ہے کہ اس کو عرف عام میں توہین سمجھا جائے، اور اہانت آمیز ہونے کی صورت میں جائز نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۹۴۔ ابھی کچھ پہلے بیرونی ممالک میں فیلموں میں رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلم یا آئمہعلیہم السلام یا انبیاء الٰہی علیہم السلام کے کردار کو ادا کرنے کا رواج ہوگیا ہے، اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ ممکن ہے اس کام سے ان کی کچھ نامناسب اغراض وابستہ ہوں لہٰذا اس سلسلے میں حضور کی نظر کیا ہے؟

جواب: ان جیسے موارد میں بہت زیادہ دقت سے کام لینا چاہیے، جب بھی دقت کافی کے بعد ایسا محسوس ہو کہ مذکورہ بالا محذورات اس میں نہیں ہے تو کوئی ممانعت نہیں ہے، لیکن معمولاً عام لوگوں کا بلاواسطہ معصومین علیہم السلام کی صورت میں ظاہر ہونا مومنین کے لئے مشکل پیدا کرتا ہے ۔

سوال۱۶۹۵۔ کمیڈی اور تفریحی صحیح وسالم فیلم بنانے کا کیا حکم ہے؟

جواب: کوئی ممانعت نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۹۶۔ دیکھنے والوں کو موت کی یاد دلانے کے لئے ڈراؤنی فیلم کے بنانے کا کیا حکم ہے؟

جواب: اگر نقصان اور ضرر کا سبب نہ ہو تو جائز ہے ۔

سوال ۱۶۹۷۔ مسجدوں میں فیلم بنانا جبکہ اداکار ان میںاداکاری کریں، کیا حکم؟ ایسے ہی مقدس مقامات اور امامزادوں کی درگاہوں کی فیلم بنانا کیسا ہے؟

جواب: اگر یہ کام مسجد کی ہتک حرمت کا سبب نہ ہو اور نمازیوں کی مزاحمت کا باعث بھی نہ ہو تو ممانعت نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۹۸۔ اداکاروں کو علماء کے لباس پہننے کا حکم کیا ہے؟

جواب: اگر لباس کا احترام محفوظ رہے توکوئی مضائقہ نہیں ہے ۔

سوال ۱۶۹۹۔ مستند فیلموں میں مُردوں کی اور اُن میتوں کی فیلمبرداری کرنے کاکیا حکم ہے جو کفن میں ہیں؟

جواب: اگر کفن کو نہ کھولا جائے اور میت کا احترام محفوظ رہے تو کوئی مانع نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۰۰۔ کچھ دنوں سے ہمارے علاقے میں ایک نئے ٹیلیویزن چینل کا افتتاح ہوا ہے جس میں اچھے اور جائز پرگرام بھی دکھائے جاتے ہیں اور بُرے اور حرام پروگرام بھی، کیا اس چینل کی مدد کرنا جائز ہے؟

جواب: اگر اس میں حرام پروگرام دکھانے جاتے ہوں تو اس کی مدد کرنا جائز نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۰۱۔ ایسی فیلموں کے بنانے اور ایسے کرداروں کے ادا کرنے کا کیا حکم ہے جس سے اسلامی مقدسات کی توہین ہوتی ہو، اگرچہ ان میں معصومین علیہم السلام کی تصویر بھی نہ بنائی گئی ہو؟ بنیادی طور سے اس کی تشخیص کی راہ کیا ہے؟

جواب:یقیناً ایسی فیلمیں بنانا جائز نہیں ہیں اور اس کی تشخیص کا معیار متدین اور آگاہ اشخاص ہیں ۔

سوال ۱۷۰۲۔ کیا مذکورہ مسائل میں سنی اور شیعہ علماء کے درمیان فرق پایا جاتا ہے؟

جواب:اگر توہین کا باعث نہ ہو تو علماء اسلام کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۰۳۔ کیا مذکورہ حکم حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام اور حضرت زینب علیہا السلام اور انھیں جیسی دوسری شخصیتوں کے لئے بھی جاری ہے؟

جواب: اسلام کی تمام محترم شخصیتوں کے سلسلے میں ہر وہ چیز جو توہین کا سبب ہوتی ہو جائز نہیں ہے ۔

1704معصومین علیہم السلام کی زندگی کو فلموں میں دکھانے کے لئے حدود کی رعایت کرنا سوال ۱۷۰۴۔ فیلم، ڈرامے اور سیریل کے ذریعہ معصومین علیہم السلام کی زندگی کو پیش کرنے کے لئے فقہی حدود کا خیال رکھتے ہوئے، حضور کیا راہ حل بیان فرماتے ہیں؟

جواب: اس کا بہترین راہ حل یہ ہے کہ معصومین علیہم السلام کو مبہم صورت میں یا نور کے ہالہ کے درمیان دکھایا جائے تاکہ اس رُخ سے مشکل پیدا نہ ہو، لیکن غیرمعصومین کے سلسلے میں اگر ضروری احترام کا لحاظ رکھا جائے تو ان کو دکھانے میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۰۵۔ سینما کے سلسلے میں حضور کی کیا نظر ہے؟

جواب: اگر سینما خلاف شرع باتوں سے خالی ہو اور سماجی، تربیتی اور اخلاقی مسائل کے سیکھنے کا ذریعہ، یا کم از کم صحیح وسالم سرگرمی کا سبب ہو تو جائز ہے ۔

سوال ۱۷۰۶۔ اگر فیلم سازی کے صحیح العقیدہ معلّموںپر دسترسی ممکن نہ ہو، تو کیا ضعیف الاعتقاد معلّموںسے فیلم بنانے کے فن کو سیکھنا جائز ہے؟

جواب: اگر اس سے مفسدہ کا خوف نہ ہو تو ممانعت نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۰۷۔ فیلم سازی کے فن کو سیکھنے کی غرض سے اُن فیلموں کو دیکھنے کا کیا حکم ہے جن میں بدحجاب عورتیں اداکاری کرتی ہیں؟

جواب: اگر فیلم سازی کے فن کو سیکھنا مقدس مقاصد کی غرض سے ہو، اور اُن فیلموں کا دیکھنا فحشاء وفساد کا منشاء بھی قرار نہ پائے تو اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۰۸۔ کیا فیلم بنانے میں عورت اداکارہ سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اسے اس بات کی بھی کی جائے گی اور اس کے ساتھ تمرین بھی ؟

جواب: اگر عِفّت کی حدود سے خارج نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۰۹۔ فیلم سازی کے عناصر میں سے ایک عنصر میکپ ہے، کیا یہ کام جائز ہے؟

جواب: اگر اس کام کو نامحرم انجام نہ دیں تو کوئی مانع نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۱۰۔ مرد اداکاروں کے لئے ڈاڑھی مونڈنا اور عورت اداکاراوٴں کا گلے اور تھوڑے سے بالوں اور سینے کے ابھار اور بدن کے نچلے حصّے کا نمایاں کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: ڈاڑھی کا منڈانا احتیاط کے خلاف ہے؛ مگر یہ کہ اس کی ضرورت ہو، لیکن عورتوں کا بدن کے مذکورہ حصّے کو نامحرموں کے سامنے نمایاں کرنا جائز نہیں ہے؛ مگر اس صورت میں جب محرم شخص اس کی فیلم بنائے اور پھر اس کی فیلم کو دکھایا جائے اس صورت میں بھی اگر کسی فساد کا خوف نہ ہو تو جائز ہے ۔

سوال ۱۷۱۱۔ کچھ دنوں سے ملک میں بہت سے عہدہ داروں کی طرف سے ڈش آنٹینا کے آزاد ہونے کی آوازیں سنائی دینے لگی ہیں، ان کا بہانا یہ ہے کہ اس کی روک تھام ممکن نہیںہے، معاشرے اور گھر کے ماحول میں اس کے برے اور تباہ کن اثرات اور اس پر کامل طور سے کنٹرول نہ ہونے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جنابعالی کی نظر میں ڈش انٹینا کا آزاد ہونا جائز ہے؟ کیا آئندہ میں اس کی روک تھام کا عدم امکان، اس کی آزادی کا قانون پروانہ ہے؟

جواب: بے شک گھر میں ڈش انٹینا کا وجود فحشاء وفساد کو دعوت دینے کے مترادف ہے، خصوصاً گھر کے جوان افراد پر اس کا برا اثر، ایک غیرقابل انکار حقیقت ہے ؛ لہٰذا وہ افراد جو اس کو آسان بنانے کی کوشش کررہے ہیں یقیناً بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں ۔
ھ) فلمیں اور سامان کے اشتہار

سوال ۱۷۱۲۔ کیا غیر ملکی سامان کے اشتہار دینا جائزہے؟

جواب: اگر مسلمانوں کے ضرر اور نقصان کا سبب نہ ہو تو ممانعت نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۱۳۔ کیا ایسے سامان کا اشتہار دینا جس سے عالمی سرمایہ داری نظام اور چند ملتوں کی کمپنی کو تقویت پہنچتی ہو، جائز ہے؟

جواب: مذکورہ بالا شرائط کے تحت کوئی اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۱۴۔ ضرر رساں سامان جیسے سگریٹ وغیرہ کے اشتہار کا کیا حکم ہے؟

جواب: جائز نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۱۵۔ سامان کی زیادہ فروخت اور کثرت استعمال کی غرض سے جھوٹے اشتہار دینے کا نیچے دی گئی دو صورتوں میں کیا حکم ہے؟
۱۔ ایسے اشتہار میں جھوٹ سے کام لینا، جس کے جھوٹے ہونے سے ہر شخص واقف ہے ۔
۲۔ وہ جھوٹ جس سے فقط ماہرین ہی واقف ہوتے ہیں ۔

جواب: جھوٹ جائز نہیں ہے؛ مگریہ کہ اس کے واقعی ہونے پر کوئی قرینہ موجود ہو، یا اس کے مجازی معنی مراد لئے گئے ہوں ۔

سوال ۱۷۱۶۔ کیا سامان کے اشتہار کے لئے اور مخاطبین کی ترغیب کی غرض سے عورتوں کی تصوریوں کو استعمال کیا جاسکتا ہے؟

جواب: یہ کام عورتوں کے شایان شان اور ان کی شخصیت کے لئے مناسب نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۱۷۔ کیا اشتہار میں مبالغہ آمیز عبارتیں استعمال کرنا جائز ہے جب کہ وہ جھوٹ کی مصداق بھی نہ ہوں لیکن آگاہ کرنے کی حدود سے بڑھی ہوئی ہیں اور ان سے لوگوں کو خریدنے اور استعمال کرنے کی طرف ترغیب دلائی گئی ہے؟

جواب: اگر لوگوں کی گمراہی کا سبب ہو تو اس میں اشکال ہے ۔
و) فحش فلموں کا نابود کرنا

سوال ۱۷۱۸۔ ہمارے زمانے کے مہم مسائل میں سے ایک مسئلہ اخلاقی فساد کا مسئلہ ہے کہ جس نے ہمارے جوانوں کو بگاڑ دیا ہے اور ان کو ہلاک کرنے کے درپے ہے، اس کے بہت سے پہلو ہیں ان میں سے سب سے واضح پہلو ویڈیو فلمیں اور کیسٹیںہیں کہ جن کا معاشرے کی تہذیب کو خراب کرنے اور جوانوں کو منحرف کرنے میں بہت بڑا حصّہ ہے، اور افسوس کہ انتظامیہ اور عدلیہ اس سلسلے میںبہت سست عمل کرتے ہیں، کیا ایسی چیزوں کو اس دلیل سے کہ یہ اسلامی تہذیب کو ختم کررہی ہیں، نابود کرسکتے ہیں؟ کیا ان جیسی چیزوں کو جیسے ڈش انٹینا وغیرہ کہ جس کا کردار فحش ویڈیو فلموں جیسا یا اس سے شدید ہے، نابود کیا جاسکتا ہے؟

جواب: یقیناً فحشا اور فساد کے آلات کو نابود کیا جاسکتا ہے اور یہ کام ضمان کا سبب بھی نہیں ہےن لیکن لوگوں کو یہ اجازت نہیں ہے کہ اپنی مرضی سے یہ کام کریں؛ کیونکہ اس صورت میں ہرج ومرج لازم آئے گا، بلکہ منصوبہ بندی اور قوانین کے تحت، اور حاکم شرع اور مربوطہ حکّام کی ریز نگرانی انجام دیا جائے ۔
ز) فلمیں و طنز

سوال ۱۷۱۹۔ کیا اسلام ، انقلاب اور فقہ اسلامی کی قدر وقیمت کو واضح کرنے کے لئے طنز ومزاح، تفریح، کمڈی اور سرگرمی کے پرورگراموں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے؟

جواب: کامل طور سے اس کا امکان ہے؛ بشرطیکہ اس کے مضمون میں زیادہ دقّت سے کام لیا جائے ۔

سوال ۱۷۲۰۔ کیا واقعی اور جدّی مطالب کو لطیفے ، چٹکلے، طنز وغیرہ کی صورت میں پیش کرنا شرعاً جائز ہے؟

جواب: جب تک غلط باتوں سے خالی ہو اور اس میں معاشرے کے سدھارنے کی غرض ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۲۱۔ کیا معصومین علیہم السلام سے منقول روایتوں میں طنز پایا جاتا ہے؟ کیا طنز کو، قرآنی اور روائی طنز میں تقسیم کیا جاسکتا ہے؟

جواب: یہ چیز اسلامی تواریخ اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم اور معصومین علیہم السلام کی سیرت میں، دیکھنے میں آئی ہے ۔

سوال ۱۷۲۲۔ طنز اور تنقید مذموم اور طنز، مزاح اور تنقید ممحدوح کی جدائی کا معیار کیا ہے؟

جواب: اس کا معیار شرعی موازین کی رعایت، اور حلال کو حرام سے جدا کرنا ہے ۔

سوال ۱۷۲۳۔ کیا تفریح اور سرگرم کرنے والے کم فائدہ اور روی مضمون کے پروگراموں جیسے فلموں، ڈراموں، شعر، قصّہ گوئی وغیرہ سے لوگوں کے وقت کو ضائع کرنا شرعاً جائز ہے؟

جواب: اگر ان سے فقط وقت کی تضییع ہو تو یہ کوئی اچھا کام نہیں ہے، لیکن اگر ان میں بدآموزی اور خلاف شرع باتیں ہوں تو جائز نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۲۴۔ حضور کی نظر میں دینی طنز کی کیا خصوصیت ہے؟

جواب: دینی طنز وہ ہے کہ جس میں سب سے پہلے تو صحیح مقصد مضمر ہو، اور دوسرے یہ کہ خلاف شرع باتوں سے خالی ہو۔

سوال۱۷۲۵۔ طنز کے سلسلے میں ذیل میں دیئے گئے سوالوں کے جواب عنیات فرمائیں:
الف) اس جھوٹ کا کیا حکم ہےجو طنز ومزاح کے پروگراموں میں سے بولا جاتا ہے ؟

جواب: اگر اس کے جدّی اور واقعی نہ ہونے پر قرینہ پایا جاتا ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔

ب) طنز ومزاح کے تفریحی پروگراموں میں دوسروں کی توہین کرنے یا مذاق اُڑانے کا کیا حکم ہے؟

جواب: اگر واقعاً توہین ہو تو جائز نہیں ہے ۔

ج) وہ لطیفے جو ایران کے بہت علاقوں کے رہنے والوں کے سلسلے میں بنائے گئے ہیں، کس صورت میں جائز اور کس صورت میں حرام ہیں؟

جواب: اگر ان علاقوں کے ساکنان کی توہین کا باعث ہو تو جائز نہیں ہے ۔

د) اگر معاشرے میں طنز اس قدر رائج ہوجائے کہ اب وہ کسی کی توہین یا ہتک حرمت کا باعث نہ رہا ہو، یا کچھ ایسے حالیہ اور مقالیہ قرائن موجود ہوں کہ جن سے پتہ چلتا ہو کہ یہ دوسروں کی اذیت کا سبب نہیں ہے تو اس صورت میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: اس فرض کی بنیاد پر اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۲۶۔ وہ لطیفے جو غیر مسلم اقوام کے بار ے میں کہے جاتے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ اور ایسے ہی مسلمان اقوام کے بارے میں ان کا کیا حکم ہے ؟

جواب: دونوں کے بارے میں اسلامی آداب کا لحاظ رکھا جائے، اور خیال رہے کسی کی ہتک حرمت اور توہین نہ ہو، مگر وہ اقوام جو مسلمانوں کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں ۔

سوال ۱۷۲۷۔ کیا ٹی وی، فیلموں اور سیریلوں کی نمائش کی طرف لوگوں کی توجہ کو جلب کرنے کے لئے، عناوین ثانویہ اور اہم مصلحتوں کی رعایت کو دلیل بناتے ہوئے طنز کو جائز جانا جاسکتا ہے؟

جواب: طنز کی جو صورت ہم نے اوپر ذکر کی ہے عناوین ثانویہ کی محتاج نہیں ہے اور مشروع طنزوں سے استفادہ کا امکان ہوتے ہوئے حرام طنزوں کی ضرورت نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۲۸۔ اگر طنز آمیز اور ہنسنے ہنسانے والے ڈراموں میں بدآموزی کا پہلو ہو یا اُن کا مضمون بہت سُبکِ بے فائدہ اور گمراہ کنندہ ہو تو کیا حکم ہے؟

جواب: مذکورہ فرض میں جائز نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۲۹۔ اگر طنز میں جھوٹ، توہین اور استہزاء کا جدّی قصد نہ ہو تو شرعی نظر سے اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: جب بھی اس کے ساتھ قرینہ ہو اور بے احترامی اور ہتک حرمت کا سبب نہ ہو تو اشکال نہیں ہے ۔

سوال ۱۷۳۰۔ کیا قرآن مجید اور اہل بیت علیہم السلام کی عملی سیرت میں طنز پایا جاتا ہے؟

جواب: جی ہاں؛ کتاب (قرآن) وسنت میں مذکورہ شرائط کے ساتھ طنز موجود ہے ۔

سوال ۱۷۳۱۔ کیا فنکاری کے میدان میں عورتوں کی آواز اور ان کی اداکاری سے، طنز ومزاح اور ہنسنے ہنسانے کی خاطر استفادہ کرنا جائز ہے؟

جواب: عورتوں کے لئے ضروری ہے کہ ہر حال میں اپنے اسلامی وقار کی حفاظت کریں ۔

 سوال ۱۷۳۲۔ اگر ٹی وی پرگراموں ڈراموں وغیرہ میں فضاء کو دلچسپ بنانے کی غرض سے خواتین اداکارہ ؤں کا قہقہہ کے ساتھ ہنسنا اُن کا آہ وبکا اور فریاد کرنا جائز ہے؟عناوین ثانویہ کے اعتبار سے کیا حکم ہے؟

جواب: گذشتہ جواب سے معلوم ہے ۔

سوال ۱۷۳۳۔ اگر طنز ومزاح ایک کام کی صورت اختیار کرلے یا سرگرمی اور ہنسنے ہنسانے کا ایک بیہودہ اور لغو دھندہ سمجھا جانے لگے تو اس صورت میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: ایسی صورت میںحرام ہے ۔

سوال ۱۷۳۴۔ شرعی موازین کی رعایت کرتے ہوئے طنز ومزاح اور لطیفے کی کیا حقیقت ہے؟

جواب: شرعی طنز اور لطیفہ وہ نشاط آور باتیں ہیں کہ جو کسی حرام کام جیسے توہین،

ہتک حرمت، غیبت اور فساد وفحشاء پر مستمل نہ ہو۔

سوال ۱۷۳۵۔ کیا ایسے اشخاص کا مذاق اُڑانا جو آشکار طور پر فسق وفجور انجام دیتے ہوں، جائز ہے؟

جواب: اگر نہیں عن المنکر کا فقط ایک ہی راستہ ہو تو جائز ہے ۔

۱۶۔ خواب۱۸۔ سیاسی سوالات
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma