۱۸۔ سیاسی سوالات

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
۱۷۔ ذرایع ابلاغ(میڈیا)۱۹۔ صدقہ

سوال ۱۷۳۶۔ فلسطینی مسلمانوں کی حالیہ حالت اورز دوسرے ممالک میں پہنچ کر جہاد میں شریک ہونے کی عدم امکان کی صورت کو مدّنظر رکھتے ہوئے، فرمائیں: کہ اس مسئلہ میں ہمار اکیا وظیفہ ہے؟ اور حضور فرمائیں ایسی صورت حال میں خصوصاً اسٹوڈینس کا کیا وظیفہ ہے؟

جواب: فسلطین کا مسئلہ یقیناً ایک مہم مسئلہ ہے اور آج کل انتفاضہ کی تحریک ہر زمانے سے زیادہ زور وشور پر ہے اور بین الاقوامی اور اسلامی ممالک کے حالات میں بھی گذشتہ زمانہ کی بہ نسبت بہت زیادہ آیا فرق ہے، جس کی وضاحت کی یہاں پر گنجائش نہیں ہے، اسی وجہ سے جدّی اقدامات کی ضرورت ہے چونکہ متفرق اقدامات خصوصاً ہمارے اس زمانے میں نتیجہ بخش نہیں ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ مختلف تنظیموں کے نمائندے ملکر ایک مضبوط پروگرام ترتیب دیں اور اس کی پشت پر اُن فلسطینیوں کی حمایت بھی ہو جو ہر روز بے رحم اور وحشی دشمنوں کے حملوں کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں منصوبہ بندی کی ترتیب کے لئے ایسے جلسے اور مٹنگ تکشیل دینا واجب اور لازم ہے ۔

سوال ۱۷۳۷۔ بھوک ہڑتال کے بارے میں اسلام کا کیا نظریہ ہے، جس کوسیاسی اور غیر

سیاسی قیدخانہ کی مناسب حالت نہ ہونے پر یا عدالت کے حکم پر بطور اعتراض کرتے ہیں؟
جواب: اگر جان یا جسم پر مہم نقصان کا سبب نہ ہو اشکال نہیں ہے، لیکن اگر قیدی کی جان کا خطرہ ہو اور قید سے چھوٹنے کے لئے بھوک ہڑتال کے علاوہ کوئی دوسری راہ بھی نہ ہو تو اس صورت میں جائز ہے ۔

سوال ۱۷۳۸۔ ظالم حکومت کے ملازمین کا ان احکامات پر ہڑتال کرنے کا کیا حکم ہے جو عدالت کی طرف سے صادر ہوتے اور دین ومذہب کی توہین یا دوسروں کی نظر میں دین کو توہین آمیز دکھانے کا سبب ہوتے ہیں؟

جواب: اس کے موارد مختلف ہیں؛ کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ جس مسئلہ پر اعتراض ہوا ہے وہ اسلام کی نظر میں بہت مہم ہے، جیسے دین کے مقدسات، یا مسلمانوں کے ممالک یا خود مسلمین کو خطرہ ہو، لیکن کبھی اس کی اہمیت جس کے لئے ہڑتال کی گئی ہڑتال کرنے والوں کی جان کے خطرے سے کم ہے خلاصہ یہ کہ اس مسئلہ کے حکم کا دار ومدار اہم اور مہم کے قاعدہ پر ہے ۔

سوال ۱۷۳۹۔ جب بعض حکومتوں کی طرف سے اسلام پر اعتراضات ہوں اوراس کی حرمت پر حرف آئے تو اس وقت مسلمانوں خصوصاً ان لوگوں کا کیا وظیفہ ہے جو معاشرے میں سرشناس ہیں؟ شایان ذکر ہے کہ کبھی کبھی ان کے لئے یہ جملے بلاواسطہ اور بعض اوقات با واسطہ ہوتے ہیں اور اسلام پر ان کا اعتراض کبھی مسلمانوں کو قیدی بنانے، شکنجہ دینے یا شہر بدری اور کبھی کبھی قتل کی صورت میں بھی ہوتا ہے؟

جواب: گذشتہ جواب سے واضح ہے ۔

سوال ۱۷۴۰۔ کیا ظالم کی سیاست پر آرام اور سکون کے ساتھ مظاہرہ کرنا کہ جس کا وظیفہ دینی حکومت ہے، جائز ہے؟ اور اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اعتراض کے دوسرے طریقے مفید نہیں ہوتے اور یہ طریقہ بھی ممکن ہے قتل کی صورت اختیار کرلے، کیا یہ عمل ایک طرح کا دفاعی جہاد شمار ہوگا؟

جواب: جب بھی اسلام کو خطرہ ہو، اور دفاع کے لئے اس راستے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہ ہو تو حاکم شرع کی اجازت سے یہ کام جائز ہے، لیکن اپنی مرضی سے اس کام میں ہاتھ نہ ڈالنا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو تفرقہ یا سستی کا سبب ہوجائے ۔

سوال ۱۷۴۱۔ ابھی کچھ پہلے ایک گروہ اپنے آپ کو حسینی کہتا ہے اور دوسرے گروہ کو یزیدی اور دونوں ہی دینِ ومذہب کا دم بھرتے ہیں، یہ چیز میرے لئے دین کی نسبت بے رغبتی اور سُستی کا سبب ہوئی ہے اور دل چاہتا ہے کہ میں اس دین زدگی آفت سے چھٹکارا پاؤں اور کسی اور راہ ک اختیار کروں؟

جواب: آپ اس آیہ شریفہ <یَااٴَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا عَلَیْکُمْ اٴَنفُسَکُمْ لَایَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اھْتَدَیْتُمْ (مائدہ/۱۰۵) کے مضمون کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے وظیفہ کو اچھی طرح اور خلوص کے ساتھ انجام دیں، خدا آپ کی مدد فرمائے گا، فاسد اور مفسد کتابوں سے پرہیز کریں اور بیکار کی بحثوں میں نہ پڑیں ۔
۱۷۔ ذرایع ابلاغ(میڈیا)۱۹۔ صدقہ
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma