۲۰۔ صلہٴ رحم

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
۱۹۔ صدقہ۲۱۔ طیّ الارض

سوال ۱۷۴۸۔ کیا صلہ ارحام حق الله ہے، یا حق الناس شمار ہوتا ہے؟

جواب: یہ ایک طرح کا حق الله ہے کہ جس کو خداوندعالم نے قرابتداروں کے لئے مقرر فرمایا ہے ۔

سوال ۱۷۴۹۔ کیا صلہٴ رحم بھی”لاحرج“ اور ”لاضرر“ قاعدوں کے تحت آتا ہے؟ مثلاً اگر کسی شخص کے لئے صلہ رحم ہتک حرمت یا آزار کا سبب ہو تو کیا اس کا ترک کرنا جائز ہے؟

جواب: جی ہاں، اگر کسی جگہ ضرر یا مہم مشقت کا سبب ہو تو یہ مورد استثناء ہے ۔

سوال ۱۷۵۰۔ ارحام (قربتداروں) کی بے حجابی اور نہی عن المنکر کے شرائط کے فقدان کی صورت میں کیا پھر بھی صلہٴ رحم واجب ہے؟

جواب: اگر ان کے اعمال کی تقویت کا سبب نہ ہو تو صلہ کو انجام دینا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو نرم لہجہ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہیے ۔

سوال ۱۷۵۱۔ اگر نزدیکی رشتہ دار کے پاس بیٹھنے سے اس بات کا خوف ہو کہ وہ خود بھی غیبت میں مبتلا ہوجائے گا یا دوسروں کو غیبت کرتے سنے گا، اور وہ جگہیں بھی ایسی ہوں جہاں نہی عن المنکر کا مذاق اڑایا جاتا ہو، کیا ایسی صورت میں انسان ان سے قطع رحم کرسکتا ہے؟

جواب: جب بھی نہی عن المنکر کی تاٴثیر کی کوئی امید نہ ہو اور آپ کو خود اس گناہ میں پڑنے کا خوف ہو تو آپ رفت وآمد بند کرسکتے ہیں، لیکن کوشش کریں کہ صلہٴ رحم کو خوش کلامی سے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرتے ہوئے ترک نہ کریں ۔

سوال ۱۷۵۲۔ صلہٴ رحم کیا ہے؟ اور کون لوگ ارحام ہے زمرہ میں آتے ہیں؟ اور کن جگہوں میں اسلام نے صلہ رحم کو قطع کرنے کا حکم دیا ہے؟

جواب: صلہ رحم ، یعنی قرابتداروں سے میل جول برقرار رکھنا کہ جو کبھی تو ملاقات سے حاصل ہوتا ہے اور کبھی خط، ٹیلیفون یا ان کو بلانے یا کسی اور طریقہ سے ۔ اور یہ بہت دور کے رشتہ کو شامل نہیں ہوتا اور جب تک شرعی اور عرفی مانع درکار نہ ہو تو اس کو قطع نہ کرنا چاہیے ۔
۱۹۔ صدقہ۲۱۔ طیّ الارض
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma