۲۸ گناھان

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
۲۷۔ منحرف گروہ۲۹۔ ساتویں امام(ع) کی ولادت پر جشن منانا

الف) اسمنگلی

سوال ۱۷۷۹۔اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ سرحدی علاقوں میں ہر طریقہ کی اسمنگلی فراوانی کے ساتھ رائج ہے اور معاشرے کو غیر تلافی نقصانات پہنچاتی آرہی ہے، میں کچھ دوستوں اور انشاء الله آپ بزرگوں کی مدد سے اسمنگلی کو ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں اسی غرض سے کچھ سوالات بنائے ہیں اور اُمید ہے کہ حضور ان سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں گے ۔
۱۔ کلّی طور سے اسمنگلی کا اسلام کی مقدس شریعت میں کیا حکم ہے؟ چاہے وہ اسمنگلی شدہ اشیاء باواسطہ فساد آورد ہوں یا بلاواسطہ ہوں ۔
۲۔ کیا اسمنگلی ملک اور لوگوں کے اوپر خیایت شمار ہوتی ہے؟ کیا اسمنگلی اور ہر وہ جو کسی بھی عنوان سے اس میں مدد کرتے ہیں منافقوں کے حکم میں ہیں؟ کیا اس سلسلے میں قرآن مجید اور احادیث معصومین علیہم السلام کا کوئی خاص بیان ہے ؟
۳۔ اسمنگلر کے اموال سے کسی دوسرے شخص کے لئے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے؟ چاہے وہ اس کو پیسوں سے خریدے یا مفت حاصل کرے؟
۴۔ اگر اسمنگلری سے حاصل کئے پیسے سے خود اسمنگلر یا کوئی اور شخص جائز کاروبار کرتے تو اصل پیسہ اور اس سے کمایا گیا مال کا کیا حکم ہے؟
۵۔ اگر زندگی سختی سے گذر رہی ہو تو کیا اسمنگلی کے پیشہ کو بطور شغل اختیار کیا جاسکتا ہے؟
۶۔ معاشرے کے لوگوں کو اسمنگلروں کے ساتھ اور عمومی بطور پر اسمنگلی کے مسئلہ کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہیے؟
۷۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ کچھ سرکاری افسروں کا اسمنگلروں سے رشوت لینا بڑا عام ہوگیا ، ایسے اشخاص کے لئے جنابعالی کیا وصیت فرماتے ہیں؟

جواب: ۱۔ سے آخر تک : اشیاء کی اسمنگلی (یعنی سرحدوں سے غیر قانونی طور پر سامان کا ملک میں وارد کرنا) اسلامی شریعت کے احکام کے خلاف ہے اور اس سے شدّت کے ساتھ پرہیز کرنا چاہیے، خصوصاً اس وقت جب ملک ومعاشرے کے لئے ضرر کا سبب ہو، اور اسلامی ملک کے اقتصاد کو نقصان پہنچائے، اور اسمنگلی میں اسمنگلروں کی مدد کرنا جائز نہیں ہے اور اس کام کے لئے رشوت لینا دُہرا گناہ کناہ ہے، اور سب پر لازم ہے کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کو نہ بھلائیں ۔
ب) خودکشی

سوال ۱۷۸۰۔ افسوس کہ کچھ سالوں سے ہمارے شہر میں خود کشی بڑی عام ہوگئی ہے اور کچھ جوان اس بُرے کام کا اقدام کرتے رہتے ہیں لیکن اگر ایسا ہوجائے کہ اس کا شرعی پہلو اور اس کے معاشرتی نقصانات کو اس سن کے افراد کے لئے تشریح اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا جائے تو ان میں سے بہت کچھ افراد اس عمل سے باز آجائیں گے اور اس کی طرف ان کی سوچ تک بھی نہ پہنچے گی، اس موضوع پر عنایت رکھتے ہوئے، مہربانی فرماکر نیچے دیئے گئے کچھ سوالوں کے جواب مرقوم فرمائیں:
الف) قتل نفس کا شرعی حکم کیا ہے؟
ب) اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ انسان کا بدن خود اس کا بدن ہے نہ کسی دوسرے کا اور اس کی ذمہ داری خود اسی کی طرف پلٹتی ہے تو پھر خود کشی کیوں حرام ہے؟
ج) جو افراد اپنے کو قتل کرتے ہیں ان کا عالم برزخ میں کیا حال ہوگا؟
د) جو شخص خود کشی کرتا ہے، کیا خداوندعالم کی عدالت میں اس کا برا اثر اس کے والدین پر بھی پڑے گا؟
ھ) ایسے اشخاص کا مومنین کے قبرستان میں دفن کرنا اور ان کے لئے سوگ کی مجالس برپا کرنا کیسا ہے ؟
و) بہت سی جگہوں میں متوفی کا غمزدہ اور داغدار گھر اس بہانہ کے ساتھ کہ یہ کام عام اور طبیعی حالات میں انجام نہیں پایا ہے، اس کے لئے طبیعی موت والے سارے رسوم وآداب انجام دیتے ہیں، کیا ان کا یہ عمل صحیح ہے؟
ز) وہ اشخاص جو خودکشی کرتے ہیں کیا اہل بیت علیہم السلام کی شفاعت ان کے شامل حال ہوگی؟
ح) معصومین علیہم السلام کے ارشادات کی روشنی میں کیا خداوندعالم کی بارگاہ میں خود کشی کرنے والوں کے بخشے جانے کا کوئی احتمال ہے؟

جواب: الف سے ح تک: یقیناً خودکشی گناہ کبیرہ ہے اور انسان کا اپنے نفس کا مالک ہونا خودکشی کی دلیل نہیں بن سکتا، ایسے ہی جیسے کہ انسان کا اپنے اموال کا مالک اس میں آگ لگانے کی دلیل نہیں ہوسکتا ہے البتہ ایسے اشخاص کے لئے تمام رسومات دیگر عام مسلمانوں کی طرح انجام دیئے جائیں اور ان کی نجات کی دعا کی جائے شاید عفو الٰہی ان کے شامل حال ہوجائے ۔

سوال ۱۷۸۱۔ بعض جگہوں پر خصوصاً عورتوں میں خودکشی کا زیادہ رواج ہوگیا ہے، گزارش ہے کہ اس کا شرعی حکم بیان فرمائیں؟

جواب: کسی بھی صورت میں خودکشی جائز نہیں ہے اور اس کا شرعی حکم حرام اور یہ ایک گناہ کبیرہ ہے، چھٹے امام علیہ السلام فرماتے ہیں:جو شخص عمداً اپنے آپ کو قتل کرے وہ ہمیشہ کے لئے جہنم کی آگ میں رہے گا اور اس کے لئے اس سے کوئی چھٹکارا نہیں ہے ۔
ج) گناہ کو حقیر سمجھنا

سوال ۱۷۸۲۔ کچھ ایسے کام جیسے گناہ کو حقیر سمجھنا یا گناہ پر خوش ہونا یا گناہ کو آشکار کرنا (چاہے کبیرہ ہو یا صغیرہ) کیا مورد نظر جرم کی سزا میں اضافہ کا سبب ہوتا ہے، یا یہ ایک خود مستقل گناہ شمار ہوتا ہے؟

جواب: اس جیسا کام خود ایک مستقل گناہ ہیں ۔
د)اہانت

سوال ۱۷۸۳۔ اہانت کے کیا معنی ہیں؟ کیا یہ گناہ کبیرہ میں سے ہے؟

جواب: اہانت یعنی مسلمانوں کی توہین کرنا اور ان کو حقیر سمجھنا ہے اور یہ گناہان کبیرہ میں سے ہے ۔
ھ) بدگمانی

سوال ۱۷۸۴۔ میں ایک جلسہ میں شریک تھا، میں نے کہا: ”فلاں جگہ بھی ایک جلسہ ہے آپ لوگ وہاں بھی شرکت کریں“، اس کے چند دنوں بعد میں ایک شخص سے تنہائی نہ کہ سب کے سامنے، میں نے اس سے عرض کیا: ”آپ کیوں اس جلسےمیںنہیں آتے ہیں؟ میرا تجسس کا کوئی قصد نہیں ہے لیکن چونکہ جانتا تھا کہ آپ جلسوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں تو آپ سے یہ توقع تھی کہ آپ جلسہ میں خود بھی آئیں گے اور لوگوں کواس میں شرکت کی تشویق کریں گے“ اس شخص نے کہا: ”تم مجھ پر بدگمانی کرتے ہوکیا میرا یہ برتاؤ شرعی طور سے بدگمان شمار ہوتا ہے؟“

جواب: جتنی مقدار میں آپ نے بیان کیا ہے، بدگمانی نہیں ہے اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے ۔
و) گناہوں کا آشکار کرنا

سوال۱۷۸۵۔ کیا گناہ کا ایسی جگہ آشکار کرنا جہاں پر عقلائی غرض پائی جاتی ہو (جیسے عالم یا طبیب کے سامنے) جائز ہے

جواب: جہاں پر ضرورت ہو اور اس کے بغیر ضرورت برطرف بھی نہ ہوتی ہو تو ایسی جگہوں میں گناہ کو آشکار کیا جاسکتا ہے ۔
ز) گناہ آلود ماحول سے ہجرت

سوال ۱۷۸۶۔ شہر تہران میں فحشا وفساد اور منکرات یا بدحجابی عام ہوگئی ہے، اور افسوس کہ حکومت کے عہدہ داران خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، میں دوران بلوغ ہی سے اجتماعی اور خصوصاً دینی لحاظ سے تہران کے ماحول سے متنفر ہوں اور مجھ میں اس کے برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہے، قرآن مجید کے سورہٴ مبارکہ نساء کی آیت نمبر ۱۰۰ میں خداوندعالم کے سخت حکم کو مدّنظر رکھتے ہوئے کیا مناسب نہیں ہے کہ اپنے آپ کو اس فحشاء وفساد سے محفوظ رکھنے کے لئے مقدس شہروں جیسے قم یا مشہد کی طرف ہجرت کرجاؤں، تاکہ جلد از جلد روحی عذاب سے نجات حاصل کرلوں؟

جواب: اگر آپ دین اور ایمان کی حفاظت کے لئے ہجرت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں پاتے ہیں تو اس صورت میں آپ کا ہجرت کرنا ایک ضروری اور بہتر کام ہوگا؛ لیکن اس کام کوزیادہ مطالعہ کے ساتھ اور ماں باپ کی رضایت سے انجام دیں ۔
ح) گناہ سے توبہ

سوال ۱۷۸۷۔ میں ایک بہت بڑا گناہ کار شخص ہوں اور بہت سے وحشتناک گناہوں کا مرتکب ہوا ہوں، میں نے اپنے گذشتہ اعمال سے توبہ کرلی ہے اور پہلی فرصت میں نادم اور شرمسار ہوں، کیا خدا مجھے بخش دے گا؟ کون سے وہ کام ہیں جن کا اجر زیادہ ہے اور ان کو انجام دوں تاکہ سکون قلب حاصل ہوجائے؟

جواب: سب سے بڑا عمل عفو وبخشش الٰہی پر اُمیدوار رہنا ہے اور ان کاموں سے پرہیز ہے جن کو خداوندعالم نے قرآن مجید میں اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور آئمہ طاہرین علیہم السلام نے اپنے ارشادات میں بیان فرمائے ہیں اور علماء اور مجتہدین نے اپنی کتابوں میں لکھے ہیں، کوشش کریں کہ آئندہ میں اچھے کاموں خصوصاً لوگوں کی زبان یا مال کے ذریعہ خدمت کرنے سے گذشتہ اعمال کی تلافی کریں ۔

سوال ۱۷۸۸۔ اگر انسان بلوغ سے پہلے علم وآگاہی کے ساتھ کچھ ایسے گناہوں کا جو خود اسی سے مربوط ہیں مرتکب ہو، تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: گذشتہ جواب سے معلوم ہے ۔

۲۷۔ منحرف گروہ۲۹۔ ساتویں امام(ع) کی ولادت پر جشن منانا
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma