۳۳۔ ورزش اور کھیل کود

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 
استفتائات جدید 03
۳۲۔ حیوانات کا پالنا

سوال ۱۸۴۳۔ اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ ورزش نے آدھی دنیا کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے اور کبھی کبھی سیاست اور حکومت میں بڑا کردار ادا کرتی ہے اور ہمارے ملک میں اخلاقی فساد سے مقابلہ کا بہترین ذریعہ شمار ہوتا ہے، گزارش ہے کہ درج ذیل سوالات کے سلسلے میں اپنی مبارک نظر بیان فرمائیں:
۱۔ ورزش کے سلسلے میں مقدس شریعت کا کیا نظریہ ہے ؟
۲۔ پیشہ ورانہ ورزش کے سلسلے میں اسلام کیا کہتا ہے؟
۳۔ ایسے افراد کے سلسلے میں جو لوگ ورزش کو اپنا مستقل شغل قرار دیتے ہیں اور اسی سے درآمد کرتے ہیں، اسلام کا کیا نظریہ ہے؟
۴۔ چیمپین شب والی ورزش کے متعلق اسلام کی کیا نظر ہے؟
۵۔ عوض (وہ پیسہ جو ورزش کرنے والے کے لئے منظور ہوتا ہے) کے ساتھ ورزشی مقابلوں کا کیا حکم ہے؟
۶۔ کیا مخصوص لباس کے ساتھ کھیلوں کا ٹی وی پر ڈائریکٹ دکھانا اور اُن کو مرد اور عورتوں کو دیکھنا جائز ہے؟
۷۔ کھلاڑیوں کا ہارجیت کی شرط لگانے یا کسی تیسرے شخص کے شرط لگانے کا کیا حکم ہے؟

جواب: ا/ سے ۷ تک: بیشک ورزش جسم وروح کی سلامتی کے لئے ضروری ہے اور اسلام میں بھی بامقصد ورزش کی تاکید ہوئی ہے (جیسے گھڑ سواری، تیراکی وغیرہ) لیکن شرط لگانے کی فقط گھڑ سواری اور تیراندازی میں اجازت دی گئی ہے، افسوس کہ آج ورزش اور کھیل کود جیسا کہ آپ نے اس کی طرف اشارہ بھی کیا ہے، بہت سے موارد میں اپنے اصلی راستہ سے ہٹ گئی ہے اور افراط وتفریط کی طرف مائل ہوگئی ہے اور کبھی کبھی زرپرستوں کے تجارتی مسائل کا آلہ یا سیاست بازوں کا لقمہٴ تر بن جاتی ہے، اور اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ورزش کرنے والوں اور اس کے شائقین کے لئے بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے،اُمید کرتا ہوں کہ ورزش اور کھیل کود کے اندیشمندان اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کی روک تھام کے لئے کوئی راستہ تلاش کریں اور اس کو اس کی اصلی جگہ دیں، اور یہ بھی کہ ہمارے کچھ جوان ورزش کے انحرافات کی بھینٹ چڑھتے جارہے ہیں اس کی بھی روک تھام ہونا چاہیے ۔

سوال۱۸۴۴۔ ایک کھلاڑی بیت المال کے پیسے سے چیمپین بنا ہے اور اب غیرملکی ٹیموں نے اس کو بہت زیادہ پیسوں سے خریدلیا ہے، کیا یہ کام جائز ہے؟

جواب: اگر بیت المال کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ تھا تو اس پر عمل کرے اور اگر اس کا کوئی معاہدہ نہیں تھا تو وہ آزاد ہے؛ لیکن انصاف یہ ہے کہ اپنے ملک کے نفع میں کام کرے ۔

سوال۱۸۴۵۔ بہت سے کھیلوں میں بہت زیادہ چوٹیں لگ جاتی ہیں، اس طرح کے بہت سی جگہوں میں تو زخم تک لگ جاتے ہیں یا کھال نیلی یا سرخ ہوجاتی ہے، ان کھیلوں کا کیا حکم ہے؟

جواب: اگر اپنے ذاتی دفاع، یا ملک اور مسلمانوں کی عزت وآبرو کے لئے ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے، لیکن کھلاڑی لوگ کھیل سے پہلے ایک دوسرے سے برائت حاصل کرلیں تاکہ ایک دوسرے کے ضامن نہ ہوں ۔

سوال ۱۸۴۶۔ حیوانوں سے ورزش یا کھیل کا کیا حکم ہے جن کے بعض مورد میں حیوانات بری طرح سے مارے جاتے ہیں؟ مثلاً ایک کھیل ہے جس میں گھڑ سوار ایک بکری کے پیچھے گھوڑا دوڑاتے ہیں تاکہ اس کو پکڑ کر ایک خاص جگہ پر ڈالیں اس میں اکثر ایسا ہوتا ہے وہ بکری جان دے دیتی ہے ایسے کھیلوں کا کیا حکم ہے؟

جواب: اس طرح کے کھیل جائز نہیں ہیں ۔

سوال ۱۸۴۷۔ بہت سے کھیلوں کی مشقوں جیسے جوڈو، کراٹے، وغیرہ میں یہ امکان ہوتا ہے کہ مد مقابل کا جسم سیاہ یا سرخ ہوجائے یہاں تک کہ اس کی ہڈی ٹوٹ جائے، لہٰذا حضور فرمائیں: کیا دشمن کے ساتھ مقابلہ کی غرض سے ایسے کھیل سیکھنا جائز ہے؟

جواب: اگر واقعی یہاں پر دفاع کا پہلو ہو تو جائز ہے، اور طرفین کا ایک دوسرے پر لگنے والی چوٹوں پر راضی ہونے کی صورت میں دیت کا بھی سبب نہیں ہوتا ۔

سوال ۱۸۴۸۔ دو شخص طاقتور بننے اور مہارت حاصل کرنے کے لئے اپنی مرضی سے ایک دوسرے کے ساتھ جنگی ورزش کا مقابلہ کرتے ہیں، اور ایک دوسرے پر مکّے اور لاتے مارتے ہیں، اس کام کا کیا حکم ہے؟

جواب: اگر خطرناک اور ضرر کا باعث نہ تو کوئی حرج نہیں ہے ۔

سوال ۱۸۴۹۔ بھاری کھیل جیسے بوکسینگ کا اسلام کی نظر میں کیا حکم ہے؟

جواب: وہ کھیل جو معمولاً خطرناک ہیں اشکال سے خالی نہیں ہیں ۔

سوال ۱۸۵۰۔ مہربانی فرماکر عورتوں کے کھیل کے سلسلے میں نیچے دیئے گئے سوالوں کے جواب عنیات فرمائیں:
۱۔ ابتدائی مدارس کی لڑکیوں کے لئے حجاب اسلامی کے بغیر ورزش کرنے کا کیا حکم ہے؟
۲۔ عورتوں کا اسلامی حجاب کے ساتھ عمومی جگہوں پر جہاں ان کوسب دیکھ رہے ہوں، ورزش کرنے کا کیا حکم ہے؟
۳۔ انفرادی اور ایسا کھیل جس میں ایک دوسرے کا بدن کونہیں چھُوایا جاتا ہے جیسے (ٹینس، بیڈ منٹن وغیرہ) عورتوں کا مردوں کے ساتھ کھیلنے کا کیا حکم ہے؟
۴۔ کیا اس ہال کے اندر جو عورتوں کے کھیل سے مخصوص ہے عورتوں کا حجاب میں رہنا ضروری ہے؟
۵۔ عورتوں کا پورے اسلامی پردے کے ساتھ سڑکوں اور عمومی راستوں پر سائیکل یا موٹر سائیکل چلانے کا کیا حکم ہے؟
۶۔ کیا سن بلوغ سے پہلے لڑکے اور لڑکیوں کا آپس میں کھیلنا جائز ہے؟
۷۔ مردوں کا عورتوں کے لئے کھیل کا مربّی (کوچ) بننا کس حد تک جائز ہے؟
۸۔ نامحرم کی غیرموجودگی میں عورتوں کا کھیل میں اُچھل کود کرنا (کہ جس میں بدن کے حصّے حرکت میں آتے ہیں) کیسا ہے؟
۹۔ عورتوں کا اپنے محرموں کے ساتھ کھیلنے کا کیا حکم ہے؟
۱۰۔ عورتوں کا مردوں کے کھیل دیکھنے کی حد کہاں تک ہے؟

جواب: ایک سے ۱۰ تک: اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ورزش ہر سنّ کے افراد چاہے وہ مرد ہو یا عورت، بوڑھے ہو ںیا جوان، کی صحت سلامتی وسلامتی کی حفاظت کے لئے بہت ضروری کاموں میں شمار ہوتی ہے، اس کے علاوہ ورزش صحیح وسالم سرگرمی کے لئے بہت سے خالی اوقات کو بھرسکتی ہے اور انسان کو غیر سالم سرگرمیوں سے باز رکھ سکتی ہے، لیکن یہ بات بھی مسلّم ہے کہ عورتوں اور مردوں کی شرعی پابندیوں کا خیال رکھا جائے، اور ورزشی مقابلہ اس چیز کے مجوّز نہیں سکتے ہیں ہم اپنی تہذیب اپنے کلچر کو چھوڑکر اغیار کی تہذیب کو اپنالیں، عام طور سے عورتیں ایسی جگہوں پر جو فقط عورتوں سے مخصوص ہیں مناسب لباس کے ساتھ پردے میں یا بغیر شرعی پردے کے، اس چیز کا خیال رکھتے ہوئے کہ جنس مخالف وہاں پر نہ ہو کھیل کود کرسکتی ہیں، ان کے مربّی اور ریفری بھی عورتوں میںسے چنے جائیں، جیسا کہ مردوں کے سلسلے میں بھی ایسا ہی ہے اور انھیں اسے کھیل کھینا چاہیے جن سے ان کے جسموں کو نقصان نہ پہنچے ۔

۳۲۔ حیوانات کا پالنا
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma