ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہیں ۔

پایگاه اطلاع رسانی دفتر مرجع عالیقدر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
مرتب سازی بر اساس
 
تفسیر نمونہ جلد 03
۔تم پر حرام کی گئی ہیں تمہاری مائیں ، تمہاری بیٹیاں ،حقوق نسواں کا دوبارہ دفاع

شان نزول

اسلام سے پہلے یہ رسم تھی کہ اگر مرد چاہے کہ پہلی بیوی کو طلاق دیں اور نئی شادی کریں تو حق مہر سے بچنے کے لئے اپنی بیوی پر عفت کے منافی تہمت لگاتے اور اس پر سختی کرتے تھے تا کہ وہ اس بات پر تیار ہو جائے کہ اپنا مہر عام طور پر جو پہلے ہی وصول ہو جاتا تھا واپس کر دے اورطلاق لے لے ۔ پھر وہی دوسری بیوی کا حق مہر مقرر کر دیتے تھے ۔ مندرجہ بالا آیت اس برے فعل سے بچنے کا حکم دےتے ہوئے اسے قابل مذمت قرار دیتی ہے ۔ ۱

یہ آیت بھی عورتوں کے بعض حقوق کی حمایت میں نازل ہوئی ہے اور عام مسلمانوں کو حکم دیتی ہے کہ جب وہ پہلی بیوی سے علیحدگی اور نئی بیوی لانے کا ارادہ کریں تو نہیں یہ حق نہیں کہ پہلی بیوی کے حق مہر میں کمی کریں یا اگر اسے ادا کر چکے ہیں تو اس سے واپس لے لیں ۔ قنطار کا معنی ہے بہت زیادہ مال و دولت ، چنانچہ راغب مفردات میں لکھتا ہے کہ قنطار کی اصل قنطرہ ہے جس کا معنی ” پل “ ہے اور چونکہ زیادہ مال بھی پل کے مانند ہے جس سے انسان زندگی بھر فائدہ اٹھاتا ہے ۔ اسی بنا پر اسے قنطار کہا گیا ہے ۔ ۲
اٴَ تَاٴْخُذُونَہُ بُہْتاناً وَ إِثْماً مُبیناً۔
اس کے بعد زمانہ جاہلیت کے اس طرز عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ وہ لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے تھے ، مزید فرماتا ہے : کیا تم حق مہر واپس لینے سے تہمت اور واضح گناہ کا ارتکاب کرنا چاہتے ہو ۔ یعنی ایک تو یہ ظلم ہے اور ایک بزدلانہ اور غلط کام ہے دوسرے کھلم کھلا گناہ ہے ۔
وَ کَیْفَ تَاٴْخُذُونَہُ وَ قَدْ اٴَفْضی بَعْضُکُمْ إِلی بَعْضٍ 3
اس آیت میں مردوں کے جذبہ محبت کو متحرک کرنے کے لئے نئے سرے سے استفہام انکاری سے کام لیتے ہوئے مزید ارشاد فرمایا گیا ہے : تم اور تمہاری بیویا مدتوں خلوت میں ایک دوسرے کے ساتھ رہے اورایک روح و قالب کی طرح آپس میں بھر پور میل ملاپ رکھتے رہے ۔ پھر کس طرح اس نزدیکی کے باوجود بیگانوں اور دشمنوں کی طرح ایک دوسرے سے برتاوٴ کرتے ہو اور ان کے منے ہوئے حقوق کو پامال کرتے رہے ہو ۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے آج کل کی فارسی زبان میں اگر دو جگری دوست ایک دوسرے سے لڑیں جھگڑیں تو انہیں کہا جاتا ہے کہ تم نے مدتوں ایک دوسرے کے ساتھ نان و نمک کھایا اب کیوں جھگڑتے ہو ۔ در اصل ایسے موقع پر شری حیات پر ظلم اپنے آپ پر ظلم کے مترادف ہے ۔ اس کے بعد فرماتا ہے : اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ تمہاری بیویوں نے شادی کے وقت تم سے پختہ عہد و پیمان لیا ہوا ہے ، تم اب کس طرح اس مقدس اور مضبوط عہد کو ٹھکرا سکتے ہو اور واضح عہد شکنی کی طرف قدم بڑھا سکتے ہو۔
وَ اٴَخَذْنَ مِنْکُمْ میثاقاً غَلیظاً۔
ضمناً غور کرنا چاہیے کہ یہ آیت اگر چہ پہلی بیوی کو طلاق دینے ااور نئی شادی کرنے کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے لیکن پھر بھی صرف اسی صورت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی علیحدگی اور طلاق مرد کے ارادے سے ہو اور عورت جدائی نہ چاہے وہاں تمام مہر ادا کیا جائے اور اگر پہلے دیا جا چکا ہے تو اس میں سے کوئی چیز واپس نہ لی جائے چاہے دوسری شادی کا ارادہ ہو نہ ہو ۔ اس بنا پر : ان اردتم استبدل زوج ۔ اگر تم دوسری بیوی انتخاب کرنا چاہتے ہو ۔ یہ جملہ حقیقت میں زمانہ جاہلیت کے بارے میںہے ۔ تا ہم اس سے اصلی حکم متاثر نہیں ہوتا ۔ یہاں اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ”استبدال “ کا معنی ہے ” تبدیلی چاہنا “ اسی لئے اس میں طلب اور ارادہ پایا جاتا ہے ۔ اب اگر ہم دیکھتے ہیں --” اردتم “ ( تم چاہو ) اس کے ساتھ متصل ہے ، تو یہ اس بنا پر ہے کہ کہ آیت چاہتی ہے کہ یہ نکتہ گوش گذارکرے کہ نئی بیوی سے شادی کرنے کے لئے نا جائز اور بز دلانہ جھگڑے اور مقدمے شروع نہ کرو ۔

 

۲۲۔ وَ لا تَنْکِحُوا ما نَکَحَ آباؤُکُمْ مِنَ النِّساء ِ إِلاَّ ما قَدْ سَلَفَ إِنَّہُ کانَ فاحِشَةً وَ مَقْتاً وَ ساء َ سَبیلاً ۔
ترجمہ
۲۲ ۔ اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہیں ۔ مگر وہ جو ہو چکا ہے ( اس حکم کے نازل ہونے سے پہلے ) کیونکہ یہ کام برا ، باعث نفرت اور غلط ہے ۔

 


۱ ۔ تفسیر صافی آیہ زیر بحث ۔
۲ ۔ مزید توضیح کے لئے تفسیر نمونہ کی جلد ۲ میں سورہ آل عمران کی آیت ۱۴ کی تفسیر میں ملاحظہ فرمایئے ( اردو ترجمہ ص ۲۶۷ ) ۔
یہاں گفتگو کی بنیاد یہ ہے کہ طلاق شوہر کے فائدے کے لئے دی جارہی ہے نا کہ عورت کے منافیٴ عفت کاموں کاموں کی وجہ سے ۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں ہے کہ عورت کا تسلیم شدہ حق پامال کیا جائے ۔
3 ۔ افضاء اصل میں مادہ فضا سے ہے ۔ جس کا معنی ہے وسعت و گشادگی ۔ جب ایک شخص دوسرے سے مکمل میل جول قائم کر لیتا ہے تو در اصل وہ اپنے محدود جسم کو ایک وسیع تر جسم اور وجود میں تبدیل کر لیتا ہے ۔ اس لئے افضا کا معنی ہے ربط ضبط ( میل جول ) پیدا کرنا ۔
۔تم پر حرام کی گئی ہیں تمہاری مائیں ، تمہاری بیٹیاں ،حقوق نسواں کا دوبارہ دفاع
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma