سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

اسلامی حکومتوں کے مخالفوں پر تہمت لگانا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: بعض اوقات کچھ اشخاص، عوام میں مقبول ہوتے ہیں لیکن وہ شریعت پر عمل نہیں کرتے اور اسلامی نظام حکومت کے لئے مفید ہوتے ہیں کیا لوگوں کو ان سے بیزار کرنے کے لئے تہمت کا سہارا لیا جاسکتا اور اس طرح ان کی اہمیت کو گرایا جاسکتا ہے؟
جواب دیدیا گیا: تہمت، جھوٹ وغیرہ کا سہارا لینا ایک مسلمان اور شریعت پر پائبند پرپائبند خبرنگار کے شایانِ شان نہیں ہے ۔

لوگوں کے رازوں کو خبرنگار کا برملا کرنا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: ایک خبر نگار کس حد تک اشخاص کے رازوں کو برملا کرسکتا ہے؟ کیا اس سلسلے میں مرد اور عورت ، مسلم وغیر مسلم کے درمیان فرق ہے؟
جواب دیدیا گیا: کسی بھی مسلمان کے رازوں کو فاش نہیں کیا جاسکتا؛ علاوہ اُن جگہوں کے جہاں اہم مصلحت درکار ہو۔

خبرنگار کا ظالم حکومت کی خبروں کو فاش کرنا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: اگر کوئی حکومت، ظالم ہو تو ایک خبر نگار کس حد تک اس کے رازوں کو فاش کرسکتا ہے؛ اگرچہ وہ اسی حکومت کا شہری ہو؟
جواب دیدیا گیا: اگر اُن خبروں کا نشر کرنا امربالمعروف اور نہی عن المنکر اور فحشا وفساد سے مقابلہ کا سبب ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔

خبر نگار کو خبر کے اندراج کے لئے رشوت دینا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: بیرونی خبرنگاروں اور مصنفوں کو اسلامی نظام حکومت کے نفع میں بیرونی میڈیا میں کوئی مطلب درج کرانے کے لئے رشوت دینے کا کیا حکم ہے؟
جواب دیدیا گیا: اس کا م کو رشوت کا نام نہیں دے سکتے ہیں؛ بلکہ یہ وہ حقّ الزحمہ ہے کہ جو مثبت، مفید اور مشروع کام کے عوض دیا جارہا ہے اور لینے والے اور دینے والے پر کوئی اشکال نہیں ہے ۔

اجنبی عورتوں کی تصویروں سے استفادہ کرنا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: اجنبی عورتوں کی تصویر اور چہرے سے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب دیدیا گیا: بے حجاب اور بد حجاب عورتوں کے چہروں سے استفادہ کرنا اسلامی جمہوریہ کی شان نہیں ہے ۔

خبرنگاروں کے ذریعہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا وظیفہ انجام پانا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: ایک خبرنگار اقدار کی پائمالی کے مقابل میں کس طرح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرسکتا ہے؟
جواب دیدیا گیا: ایک خبر نگار امر ابالمعروف کے قوانین کے مطابق عمل کرسکتا ہے؛ وہ جگہ جہاں پر تاثیر کا احتمال ہو اور اُس پر کوئی ضرر بھی مترتب نہ ہو اور اس کام کا منکر ہونا بھی مسلّم ہو، تو وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرے، مگر یہ کہ اس کا کام (کہ جو واجب کفائی کے عنوان سے ہے) کو خطرہ ہو؛ اس صورت میں اس کام کو باواسطہ انجام دے؛ یعنی دوسروں کے ذریعہ۔

خبرنگاران اور ثقافتی حملوں کا مقابلہ [خبرنگار (صحافی)]

سوال: ایک خبر نگار، کس طرح ثقافتی حملوں کا مقابلہ کرسکتا ہے؟
جواب دیدیا گیا: ایک خبر نگار اُن لوگوں کو اطلاع رسانی کے ذریعہ جو لوگ اس کام کے مقابلے کے لئے آمادہ ہیں ایسے ہی معاشرے کی سطح پر اس کو نشر کرنے کے ذریعہ سے خصوصاً معاشرے میں اس چیز کی اطلاع پہنچانے کے ذریعہ کہ اس کام کے کتنے بڑے نقصانات ہیں اور معاشرے پر ان کا کتنا بُرا اثر ہوتا ہے، باواسطہ مدد کرسکتا ہے ۔

خبر اور اطلاع رسانی میں کم فروشی [خبرنگار (صحافی)]

سوال: خبر اور اطلاع رسانی میں کم فروشی کیا ہے؟
جواب دیدیا گیا: کم فروشی کے خاص معنی ہیں کہ جو معاملات میں قابل تصور ہے اور اس کاایک عام مفہوم ہے، یہ کہ اگر کوئی شخص اپنے کام میں کمی کرے گا (یعنی چوری کرے گا) تو وہ کم فروشی کا مصداق ہے اور خبر میں کم فروشی یہ ہے کہ کوئی خبر نگار بطور ناقص یا لولی لنگڑی خبر نقل کرے یا بعض خبروں کو نقل کرے اور بعض کو نقل نہ کرے تو وہ کم فروشی کے مانند ہے ۔

خبروں کو اکھٹا کرنے میں خواتین کی خدمات حاصل کرنا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: کیا خبروں اور رپورٹوںکے جمع کرنے میں خواتین سے استفادہ کرنا جائز ہے؟
جواب دیدیا گیا: اگر عفت کے اصول کی رعایت کی جائے تو خواتین سے استفادہ کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔

اطلاع رسانی میں قرآن کی روشِ بیان سے استفادہ کرنا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ قرآن شریف الله کا کلام اور اس کا معجزہ ہے، طبعاً خداوندعالم نے لوگوں سے میل جول بڑھانے کے مختلف طریقے بیان فرمائے ہیں کہ جو قطعاً کامل ترین طریقے ہیں، یہ بیانی طریقے کیا ہیں؟ خبر کے سلسلے میں کس طرح ان سے استفادہ کرسکتے ہیں؟
جواب دیدیا گیا: قران مجید کے فصاحت وبلاغت کے طریقوں کو حاصل کرنے کے لئے اور خبرنگاری میں ان سے استفادہ کرنے کے لئے ”پیام قرآن“ کی آٹھویں جلد کی قرآن مجید، فصاحت وبلاغت کی نظر سے ”معجزہ“ ہونے کی بحث میں صفحہ۸۷ کے بعد دیکھے سکتے ہیں، یا ہماری کتاب ”قرآن وآخرین وپیامبر“ میں مطالعہ کرسکتے ہیں ۔

دوسروں کے کہنے پر ایک خبرنگار کا اعتماد [خبرنگار (صحافی)]

سوال: ایک خبر نگار دوسرروں کی نقل کردہ خبر پر کس حد تک اعتماد کرسکتا ہے؟ اس بات پر توجہ رہے کہ وہ خبر حدّ تواتر کو نہیں پہنچی ہے؟
جواب دیدیا گیا: جب تک کوئی خبر حد تواتر کو نہ پہنچے اور اطمینان بخش قرائن کے ساتھ بھی نہ ہو تو اس کو محتمل خبر کی صورت میں ذکر کرے نہ قطع کی صورت میں ۔

اُن خبروں کے اطمینان کی راہ جن کو خبر نگارنے اپنی آنکھ سے نہ دیکھا ہو [خبرنگار (صحافی)]

سوال: جب کبھی خبر نگار نے کسی ماجرے کو ہوتے ہوئے اپنی آنکھ سے نہ دیکھا ہو، لیکن اس کی خبر کو نقل کرنا چاہتا ہو تو کتنے شاہدوں کی ضرورت ہے کہ اس خبر کی سچّائی ثابت ہوجائے ۔؟
جواب دیدیا گیا: ایک موٴثق شخص خبر کو نقل کرے تو کافی ہے، لیکن احتیاط یہ ہے کہ مہم خبروں میں ایک شخص پر قناعت نہ کرے ۔

نقلِ خبر میں خواتین کے کہنے پر اعتماد کرنا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: کیا نقل خبر یا حادثہ کے وقوع کی شہادت دینے میں عورت اور مرد کے درمیان فرق ہے؟ کیا یہاں پر بھی محکمہٴ عدالت میں معتبر گواہی کے احکام جاری ہوں گے؟
جواب دیدیا گیا: ان مسائل میں عورت اور مرد کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔

خبر کو خلاصہ کرنے امانت کی رعایت کرنا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: بہت سی تقریریں، بیانیے، انٹریوں وغیرہ اتنے طولانی ہوتے ہیں کہ ایک خبر نگار مجبور ہوجاتا ہے کہ ان کا خلاصہ کرے، خلاصہ کرنے میں مضمون کے درمیان فاصلہ اور کبھی کبھی مفہوم کے بدل جانے کا احتمال پایا جاتا ہے، کیا یہ کام امانت میں خیانت شمار ہوتا ہے؟
جواب دیدیا گیا: مضمون کو بدلنا، جھوٹ بھی اور تہمت بھی شمار ہوگا؛ لیکن تلخیص کرنا یا نقل بمعنی کرنے میں ممانعت نہیں ہے ۔

خبر لینے کے لئے رشوت دینا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: کیا حکومت کے نظام میں مفید ثابت ہونے والی وخبروں کو جمع کرنے میں رشوت دی جاسکتی ہے؟
جواب دیدیا گیا: جب اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ ہو اور خبر کی ضرورت بھی ہو تو کوئی ممانعت نہیں ہے اور اس کو رشوت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔

اسلامی نظام کی مصلحت کا خاطر خبرنگار کا جھوٹ بولنا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: امام خمینی رحمة الله علیہ فرماتے تھے: ”کبھی کبھی نظام کی حفاظت کے لئے بعض واجبات کو بھی ترک کیا جاسکتا ہے“ کیا یہ موضوع خبر کے سلسلے میں بھی صادق ہے؟ کیا خبر نگار بھی نظام کی حفاظت میں جھوٹ کا سہارا لے سکتا ہے؟
جواب دیدیا گیا: اگر واقعاً کوئی مسئلہ اہم اور مہم کی صورت اختیار کرلے اور جھوٹ لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے مانند ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے، لیکن چونکہ ممکن ہے کہ یہ حکم سوء استفادہ کا ذریعہ بن جائے اور خبرنگار کسی نہ کسی بہانے سے جھوٹی خبروں کو منتشر کریں، لہٰذا حتی الامکان اس کام سے پرہیز کیا جائے ۔

خبر رسان اجنسی کا خبروں سے انکار کرنے کی صورت میں خبرنگار کا ذمہ دار ہونا [خبرنگار (صحافی)]

سوال: اگر ایک خبرنگار کسی موثق خبررساں ایجنسی سے کسی خبر کو زبانی حاصل کرے اور اس کو نشر کردے لیکن بعد میں وہ ایجنسی اپنے ذاتی مفاد، یا اپنے ادارہ کے مفاد کی خاطر اصل خبر سے انکار کردے توکیا اس صورت میں خبرنگار ذمّہ دار ہے، اگرچہ اصل خبر واقعی اور سچّی ہو؟
جواب دیدیا گیا: خبرنگار ذمّہ دار نہیں ہے اور اس کو اپنی حیثیت کی حفاظت کے لئے حقیقت کو فاش کرنا چاہیے ۔

خبروں کے انتخاب میں خبرنگار کی لاپرواہی [خبرنگار (صحافی)]

سوال: پیشہ ورانہ خبر رسانی کی خصوصیات کو مدّنظر رکھتے ہوئے کہ جس میں ”تیزی“، ”دقت“ اور ”صحت“ پر ایک ساتھ عمل ہونا چاہیے، اگر خبروں کے مضمون یا ہر طرح کی اطلاعات کے مضمون کہ جن میں ایک خبرنگار خبروں کو منتخب کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور اس انتخاب کو پیشے کے معیار اور کام کے تجربہ کی بنیاد پر انجام پانا ضروری ہوتا ہے، اگر خبروں کے مضمون پر تساہلی سے کام لیا جائے یا اس کو لوگوں تک پہنچانے میں خبروں کی جلدی کواہمیت مدّنظر رکھتے ہوئے نقص یا ضعف وارد ہوجائے تو کیا خبرنگار ذمّہ دار ہے؟ اور کیا مربوطہ اشخاص کی شکایت کی وجہ سے خبرنگار کو ملزم کے عنوان سے عدالت میں حاضر ہونا ضروری ہوگا اوراس کو جواب دہ ہونا پڑے گا؟
جواب دیدیا گیا: اگر یہ کام تساہلی کی وجہ سے واقع ہوا ہو اور کسی کو حق کے ضائع ہونے کا سبب ہوا ہو تو اس صورت میں خبرنگار ذمّہ دار ہے، لیکن اگر ایسی غلطی کی وجہ سے ہوا ہو کہ جو عموماً غیر معصومین سے سرزد ہوجاتی ہے تو خبر نگار کی کوئی ذمہ داری نہیںہے لیکن اگر اس کا یہ کام دوسروں کے ضرر اور نقصان کا سبب ہوا ہو تو خبرنگار کے اوپر اس کی تلافی ضروری ہے، کیونکہ جانی اور مالی نقصان میں، عمدی اور خطائی دونوں صورتیں ذمہ داری کا سبب ہوتی ہیں، فرق فقط اتنا ہے کہ عمدی صورت میں سزا بھی ہے لیکن خطائی صورت میں سزا نہیں ہے ۔
کل صفحات : 1