دوسرے شخص کے چیک سے، چیزوں کی خریداری

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ورود کاربران ورود کاربران

LoginToSite

کلمه امنیتی:

یوزرنام:

پاسورڈ:

LoginComment LoginComment2 LoginComment3 .
ذخیره کریں
 

دوسرے شخص کے چیک سے، چیزوں کی خریداری

سوال: خریدار کچھ ایسے چیک، فروخت کرنے والے یعنی دکاندارکو دیتا ہے جن کا جاری کرنے والا کوئی تیسرا شخص ہے، چیک کی رقم وصول نہ ہونے کی صورت میں (چونکہ اس کے اکاوٴنٹ میں رقم نہیں ہوتی) کیا دکاندار کو خریدار کی طرف رجوع کرنے کا حق ہے، یا یہ کہ اس تیسرے آدمی کے چیک کو، مکان کے قبول کرنے سے، خریدار بریٴ الذمہ ہوجائے گا اور اس کی ذمہ داری صاحب چیک یعنی تیسرے آدمی کی طرف منتقل ہوجائے گی؟ نیز ان دو صورتوں میں کہ جب خریدار کو تیسرے آدمی یعنی صاحب چیک نے اس چیک کو اپنے قرضے کی بابت دیا ہو، یا فقط امانت یا ضمانت کے عنوان سے اس کے حوالہ کیا ہو، کیا کوئی فرق ہوگا؟
جواب دیدیا گیا: چیک ایک حوالہ کے سوا کچھ نہیں ہے لہٰذا جب تک چیک کی رقم وصول نہ نہیں ہوگی اس وقت تک خریدار، دکاندار کا مقروض ہے مگر یہ کہ دکاندار معاملہ کے وقت خریدار کی ذمہ داری کے بجائے، تیسرے شخص یعنی صاحب چیک کی ذمہ داری کو قبول کرلے ۔
CommentList
Tags
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 1781